میرا علمی و مطالعاتی سفر (2) —– سجاد میر

1
  • 16
    Shares

جہاں تک میری ذہنی اور فکری تربیت کا تعلق ہے تو میرے خیال میں میری ہی نہیں پوری دنیا کی فکر پر جو لوگ اثر انداز ہوئے ہیں۔ 20ویں صدی نہ ہوتی اگر آئن سٹائن فرائڈ اور مارکس نہ ہوتے تو اگرچہ میں ان میں سے دو کے خیال نہ میں حامی ہوں نہ نظریاتی طور پر قائل۔ تاہم میرے خیال میں ان کے بغیر 20ویں صدی کی فکر ادھوری رہ جاتی۔

اگرچہ میں اپنے ہر مطالعہ کو دینی مطالعہ کے تحت ہی رکھتا ہوں۔ مجھے مذھب کا روایتی تصور بہت پسند ہے۔ اور دینی مطالعہ میں برصغیر کے مقامی مکتب فکر کو ترجیح دیتا ہوں۔ جب دین کسی علاقہ میں نفوذ کرتا ہے وہاں پر موجود اداروں کے ذریعے کرتا ہے اور مقامی روایات کو مدنظر رکھا جاتا ہے جس طرح نبی کریمﷺ نے مکہ اور عرب کی بے شمار لوکل روایات کا لحاظ بھی رکھا ہے۔ یعنی اگر تصوف ہے تو اس کو رد نہ کیا جائے۔ ہمارے شاہ ولی اللہ ہیں بجائے محمد بن عبدالوھاب جو کہ دونوں ہم عصر تھے۔ تو میں نے شاہ ولی اللہ کو پڑھا، اثر لیا اور ان کو ترجیح دی اس لیے میں نے اس لیے خیر آبادی اور علمائے فرنگی محل کو پڑھتا ہوں۔ میں شاہ ولی اللہ کی پوری فکر میں عقبات کو ترجیح دیتا اس طرح مولانا اشرف علی تھانویؒ کو ترجیح دیتا ہوں کیوں کہ انھوں نے تزکیہ تصوف کے بارے بہت زبردست علمی، عملی کام کیا۔ برصغیر پاک و ہند میں ان کے اثرات بے شمار ہیں۔ انھوں نے بڑے بڑے علمی جن قابو کیے تھے۔ جیسے عبدالماجد دریابادی، سید سلمان ندوی، مناظر احسن گیلانی عبدالسلام ندوی جیسے لوگ جن کا خود بھی علمی اور ادبی دنیا میں ایک مقام ہے میں نے ان سب کو پڑھا اور اپنی فکر و عمل کا حصہ بنایا۔ سلیم احمد بھی حضرت تھانویؒ کے بہت قائل تھے۔

مولانا اشرف علی تھانویؒ کے بارے کیا بات کی جائے، مولانا مودودیؒ نے ان کے بارے کہا ہے کہ ان کے بارے میں بات کرنا ایسے ہی ہے جیسے کہ سورج کو چراغ دکھانا۔ یہ بھی بتاتا چلوں کہ میں نے قرآن دیوبندی مدرسے میں پڑھا، خاندانی طور پر بریلوی تھا۔ اور سیکولزم اور دینی اقدار کی کش مکش میں میں نے جماعت اسلامی کو پسند کیا اور مولانا مودودیؒ کو پڑھا۔ اقبال کے عشق مصطفیٰ نے مجھے متاثر کیا۔ حضورﷺ تک پہنچنا ہی میرے نزدیک اصل دین ہے، میرے خیال میں مقامی روایات کو دینی تصورات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا بہت ضروری ہے، شاہ عبدالعزیز نے جب شاہ اسماعیل کو مخصوص روایات بیان کرنے سے روکا، اور کہا کہ میں سمجھتا تھا مولوی محمد اسماعیل شاید پڑھ لکھ کر مولوی ہو گیا ہو گا مگر یہ تو جاہل کا جاہل ہی ہے، اور سمجھایا کہ سنت کے مقابلے میں سنت کو پیش کرنا دین کے لیے جدوجہد نہیں ہے، جبدونوں طرف سے دلائل میں حدیث رسولﷺ پیش کی جا رہی تو پھر ترجیح کا مسئلہ ہوتا ہے، اس لیے ہر اس دینی فکر کو رد کرنے میں احتیاط کرنی چاہیے۔ مولانا مودودیؒ نے دین و دنیا کی یک جائی کا تصور پیش کیا اگرچہ یہ بھی کوئی نئی فکر نہ تھی۔ ان سے پہلے جمال الدین افغانی، شاہ ولی اللہ نے اجتماعی نظام کو نہ صرف اہمیت دی بلکہ اس پر ضرورت سے زیادہ زور دیا کہ دین میں اجتماعیت کا کیا مقام ہے بلکہ معاشی اور سماجی اصلاح کے لیے شاہ ولی اللہؒ نے جو تصورات پیش کیے ہیں وہ کارل مارکس سے پہلے ہی معاشرے کے لیے بہترین معاشی نظریات و تصورات ہیں۔ مولانا مودودیؒ نے بیک وقت معاشرت اور سیاست کو بدلنے کی جدوجہد کی، اس طرح مولانا احمد رضا خان کو ان کی فقہی بصیرت کا میں بہت ہی قائل ہوں، جس طرح دارالعلوم دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری صاحب کا برصغیر میں حدیث کے بارے نام ہے، اسی طرح فقہی لحاظ سے امام احمد رضا خان صاحب کا مقام ہے۔ ان کی شدت پسندی اور سخت کلامی کی وجہ ان کا اندر کا پٹھان ہے۔ لیکن فقہی بصیرت بہت ہی قابل ذکر ہے۔ انھوں نے کہا کہ کس طرح کے پانی سے وضو ہو سکتا ہے، 70مختلف طرح کے مسائل لکھوا دیے ہیں، آل رسولﷺ احترام اور اتنا لحاظ کرتے تھے کہ ایک مرتبہ وہ پالکی میں سوار جا رہے تھے اچانک انھوں نے پالکی رکوائی اور کہا کہ اس میں ایسا لگ رہا ہے کہ پالکی اٹھانے والوں میں کوئی سید بھی ہے، کافی تردد کے بعد ایک نے تسلیم کیا کہ میں سید ہوں۔ وہ فوراً نیچے اترے اور سید کو پالکی میں بٹھایا اور خود پالکی کو ایک کونے سے پکڑا، یہ مزاج نبوت اور احترام نسبت کی ایک عمدہ ترین مثال ہے۔

اخبارات پڑھنا میری ضرورت ہے، صبح پروگرام کے لیے 6 بجے سے ساڑھے آٹھ بجے تک 14-13 اخبارات مع اردو انگریزی اداریے، تجزیے، کالم پڑھنے پڑتے ہیں۔ کالم نگار سبھی دیکھتا ہوں۔ہمارے ہاں وہابی طرز فکر شاہ اسماعیل شہیدؒ کی تقویۃ لایمان سے آئی ہے۔ کتاب التوحید کا ترجمہ شائع کیا جا رہا تھا تو دہلی میں علمائے کرام کے ساتھ مشاورت کی گئی، جس میں شاہ محمد اسحاقؒ بھی موجود تھے انھوں نے اس کو شائع کرنے کی اجازت دی تھی، ہمارے مقامی علمائے کرام میں اعتدال کی روایت تھی۔ علمائے فرنگی محل کا مذہب اعتدال کا مذھب تھا، میں پھر اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ ہمارا تہذیبی، سماجی دینی اور علمی تعلق وسط ایشیا سے ہے، براہ راست عرب سے نہیں۔ ہماری سماجی روایات، کھانے پینے کی عادات و آداب اور سلاسل تصوف جنھوں نے برصغیر میں دعوت پھیلائی، اشاعت دین کا کام کیا سب وسط ایشیا کے راستے سے برصغیر میں داخل ہوئے۔ اس لیے ہمیں مقامی سوچ اور فکر کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔ سعودی فکر اور سوچ نے ہمارے ہاں بے شمار مسائل پیدا کر دئیے ہیں۔ باقی مولانا ابوالحسن علی ندویؒ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ، مولانا شبلی نعمانی کو پڑھا۔ مولانا شبلیؒ اور مولانا فراہی نے بہت سے مسائل میں نئی فکر پیش کی تھی۔ مجھے اس میں عصر حاضر کے چیلنجز کا حل بھی نظر آیا، ہمارے علمائے کرام نے مولانا شبلی کو تو قبول کر لیا لیکن مولانا فراہی کو قبول نہیں کیا۔ اسی طرح غامدی صاحب بھی قابل ذکر ہیں ان سے تو خود میری ملاقاتیں اور گفت گو بھی ہوتی رہی۔ اور وہ فکر فراہی و اصلاحی کا دعویٰ بھی کرتے ہیں لیکن میرے خیال میں فراہی صاحب کی صحیح فکر تو تدبر القرآن ہی میں نظر آتی ہے۔ مولانا مودویؒ کی کتب میں مجھے تجدید واحیائے دین، خلافت و ملکویت رسائل و مسائل وغیرہ نے بہت متاثر کیا، عام زندگی کے سوالات کو مولانا مودودیؒ نے بہت اچھے انداز میں جدید اسلوب کے مطابق بیان کر دئیے ہیں۔

جاوید اکبر انصاری فلسفہ کے ایک بڑے آدمی ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام پر ان کا مطالعہ بہت عمدہ ہے۔ لیکن کچھ انتہا پسند دوستوں نے ان کو گھیر لیا ہے جن کی ٹیڑھی فکر نے ان کو بھی متنازع کر دیا ہے۔

اگر انگریزی کو سمجھنا ہے تو ہمیں انگریزی لٹریچر کی تاریخ کے ساتھ بائبل اور برطانیہ کی تاریخ کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔

پاک و ہند کی تجزیاتی اسلوب میں لکھی گئی تاریخ بالخصوص علمی ادبی تاریخ پڑھنی چاہیے، بادشاہوں سے زیادہ معاشرت کی تاریخ میں بہت بہتر تصویر سامنے آتی ہے جیسے ہمارے ہاں شیخ محمد اکرام کی آب کوثر، رود کوثر، موج کوثر اہم ترین کتاب ہے۔ برصغیر پاک و ہند کے عظیم ترین مورخ جناب اشتیاق قریشی سے میں نے بہت استفادہ کیا اور ساتھ ہی ان سے ملاقاتیں اور تبادلہ خیال کا اعزاز بھی حاصل ہوا ان کی کتاب ’’پاک وہند کی ملت اسلامیہ، علما میدان سیاست میں‘‘ بہت قابل ذکر ہیں۔ البتہ مجھے ڈاکٹر مبارک علی بالکل پسند نہیں، بعض اوقات میں حیران ہوتا ہوں کہ ہمارے لوگوں نے کس بنیاد پر ان کو پسند کیا ہے اور ان کی اتنی غیر معمولی پذیرائی کن بنیادوں پر ہو رہی ہے۔ ان سے گفت گو رہی ہے۔ ان کے نقطہ نظر کی غلطی واضح کرنے میں میں بہت اہم اور اچھے دلائل دے سکتا ہوں۔

باقی زندگی کے لیے میں تاریخ کی پاپولر اور اہم ترین کتاب سپنگلر کی زوال مغرب، اور ٹائن بی کی مطالعہ تاریخ اپنے ساتھ رکھنا چاہوں گا۔

میرے پاس تقریباً 20-15 ہزار کتابیں تو ہوں گی ہی، اس میں ہر موضوع پر بہت اہم اور بہترین کتب شامل ہیں۔ بہت سے لکھاری، ادیب، شاعر اور سکالرز جن سے میرے رابطے رہے ہیں، وہ ہدیتہً کتب بھجواتے رہے ہیں۔ جو میرے پاس محفوظ ہیں اور ضرورت کے تحت خریدی بھی بے شمار ہیں۔ البتہ پڑھنے کا کوئی خاص معمول نہیں ہے۔ رات کو، دن کو سفر میں حضر میں جب بھی موقع ملا کتاب سے استفادہ کیا۔ کتابیں لینے اور دینے کے بارے میں تجربات دونوں لحاظ سے اچھے نہیں ہیں۔

فلسفہ میری توجہ کا مرکز رہا ہے، کیوں کہ شروع ہی سے ادب اور تنقید پڑھنے کی عادت ہو گئی تھی اس لیے گہرائی میں جا کر پڑھنے کے شوق نے فلسفہ کی طرف مائل کیا ’’فلسفہ مغرب کی تاریخ، برٹرینڈرسل سے آغاز ہوا۔ پھرول ڈیورنٹ سے ہوتے ہوئے سب اہم مفکرین کو پڑھتے رہے جو بوقت ضرورت ہوتا تھا۔ ژاں پال سارتر، ہائیڈی گر، کانٹ، ہیگل، نطشے، برگساں، ابن عربیؒ امام غزالیؒ وغیرہ کو پڑھا ہے۔ دل چاہتا ہے کہ ایک ایسا نصاب مرتب کروں کہ جو ہر پڑھنے اور مطالعہ کے ذوق رکھنے والے کو پڑھا دوں۔ ہمارے حلقوں میں جاوید اکبر انصاری فلسفہ کے ایک بڑے آدمی ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام پر ان کا مطالعہ بہت عمدہ ہے۔ لیکن کچھ انتہا پسند دوستوں نے ان کو گھیر لیا ہے جن کی ٹیڑھی فکر نے ان کو بھی متنازع کر دیا ہے۔

اس مضمون کی پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. عمدہ تحریر ہے۔ سجاد میر صاحب کا اس سے بہتر تعارف نہیں ہو سکتا۔ ذاتی معلومات اگرچہ کم ہیں لیکن ذوقی، فکری اور علمی حوالوں سے جاندار تعارف ہے۔ بہت سے معاملات میں اپنی کم علمی اور کم فہمی کے باوجود خود کو ان کا ہم خیال پاتا ہوں۔ ابوالکلام آزاد اور مختار مسعود کی نثر اور احمد فراز کی شاعری پر ان کی رائے عمدہ لگی۔برصغیر کے مذہبی رجحان کی درست نشاندہی ، روسی اور فرانسیسی ادب پر اعتبار، اور جدید مذہبی رجحانات کی تفہیم بھی پسند آئی۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: