ایک مثالی باپ کی عملی تصویر۔۔۔ عبدالرزاق کھوہارا شہید

0
  • 2
    Shares

ایک باپ کے لیے سب سے بڑی ذمہ داری اولاد کی پرورش ہوتی ہے۔ غریب ہو یا امیر، عالم ہو یا جاہل، بادشاہ ہو یا فقیر۔ ۔ ۔ ہر باپ کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی بہترین پرورش کرے۔ اس حوالے سے اپنے ایک گزشتہ مضمون میں تفصیلاً لکھ چکا ہوں۔

پرورش کے بعد دوسری اہم ترین زمہ داری ہوتی ہے اولاد کی بہترین تربیت۔ ۔ ۔ ۔ تربیت بھی ایسی کہ جس کی زمانہ مثال دے۔ اس حوالے سے بھی والد محترم عبدالرزاق کھوہارا شہید ایک مثالی باپ کے درجے پر فائز تھے۔ کیونکہ انہوں نے اپنی اولاد کی جو تربیت کی وہ پوری برادری، عزیز و اقارب اور جاننے والوں میں ضرب المثل بن چکی ہے۔

مجھے آج بھی یاد ہے کہ کس طرح ہمیں بچپن میں ہی وہ اخلاق و تمیز کے ساتھ ساتھ رہن سہن کے اصول بتایا کرتے تھے۔ کھیل کھیل میں ہی بتاتے کہ محفل میں بیٹھ کر اخلاق و آداب کو کس طرح ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ ۔ ۔ اس وقت غالباً میں دس گیارہ سال کا تھا انہوں نے مجھے بلا کر کہا کہ
“بیٹا آج شام چائے دونوں مل کر اکٹھے پیئیں گے۔ اور کچھ گفتگو بھی کریں گے”

میں بہت خوش ہوا یہ تجسس بھی تھا کہ جانے ابو آج کیا خاص بات کریں گے۔ چائے کا وقت ہوا ہم دونوں باپ بیٹا کرسیوں پر بیٹھے۔ چائے آئی تو میں نے حسبِ عادت سُڑَک سُڑَک کر پینا شروع کر دی۔ چند لمحوں میں کپ خالی کر دیا۔ جبکہ والد صاحب نے کافی دیر سے کپ اٹھایا ایک گھونٹ بھرا اور دوبارہ واپس رکھ کر باتیں کرنے لگے۔ اسی طرح وہ مختلف باتیں کرتے رہے نصیحتیں کرتے رہے۔ میں سنتا رہا۔ بالآخر ان کی چائے ختم ہوئی تو سوال پوچھا۔ ۔ ۔
“بتاؤ آج کیا خاص سیکھنے کو ملا”
میں نے ان کی کچھ نصیحتیں جو یاد تھیں دہرا دیں۔ باقی تو سر کے اوپر سے گزر گئیں تھیں۔ میرا جواب سن کر کہنے لگے۔ ۔ ۔
“بیٹا ضروری نہیں ہوتا کہ اگلا شخص کچھ بولے تب ہی سیکھنے کو کچھ ملے گا۔ بعض اوقات اس کے عمل کو بھی دیکھتے ہیں۔ یہ ہی دیکھ لو کہ آج میں نے چائے کس طرح پی ہے۔ ”
اور تب میرے ذہن سے ان کی تمام باتیں ہوا ہو گئیں۔ رہا یاد تو بس اتنا کہ انہوں نے کس طرح ٹھہر ٹھہر کر چائے پی۔ کس طرح ہر گھونٹ کے بعد پیالی کو ہاتھ میں ہی پکڑے رکھنے کی بجائے واپس میز پر رکھ دیا کرتے تھے۔ یہ دراصل ان کے سکھانے کا انداز تھا کہ ایک فارمل جگہ پر باقاعدہ محفل میں چائے پینے کے آداب کیسے ہوتے ہیں۔ دس گیارہ سال کے بچے کے ذہن میں یہ سبق ایسا راسخ ہوا کہ آج تک بھلا نہیں پایا۔

یہ ایک چھوٹی سی مثال تھی۔ باقی نصیحتیں تو روز کا معمول تھیں تاہم ہزاروں ایسی مثالیں ہیں جن میں انہوں نے بغیر کسی تکلم کے صرف اپنے عمل سے ہی ہماری تربیت کی۔ تربیت بھی ایسی کہ ایک بار کا دیا سبق ہم دوبارہ ساری زندگی بھلا نہیں پائے۔

یہاں میں یہ بھی بیان کرتا چلوں کہ والد محترم کا یہ خاصہ تھا کہ انہوں نے اپنی اولاد کی تربیت عام والدین کی طرح مار کا ڈر اور خوف پیدا کر کے نہیں بلکہ عزت و تکریم کا احساس بیدار کر کے کی۔ حالانکہ ہمارے معاشرے میں یہ معمول ہے کہ اولاد میں ڈر قائم رکھنے کے لیے باپ ان کی مار پیٹ سے بھی گریز نہیں کرتے۔

اپنی پوری زندگی میں صرف ایک بار میں نے انہیں شدید غصے میں دیکھا تھا وہ بھی تب جب بچپن میں سیگریٹ کا ٹکڑا اٹھا کر اسے جلانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ تب میں نے ان کو اتنے غصے میں دیکھا کہ دوبارہ کبھی ویسے نظر نا آئے۔ لیکن اس کے باوجود بھی انہوں نے مار پیٹ کرنے کی بجائے چپ سادھ لی۔ اپنے پیارے ابو کی جانب سے بات چیت کے بائیکاٹ کو میں برداشت نا کر سکا۔ اس خاموش نصیحت کا حاصل یہ کہ آج ادھیڑ عمری کو پہنچ کر سیگریٹ سمیت کسی بھی قسم کی نشہ آور اشیاء سے پاک زندگی گزار رہا ہوں۔ دوبارہ کبھی ہمت ہی نہیں ہوئی کہ ایسی شے کے پاس بھی جاؤں۔

والد صاحب کی تربیت کا ایک اور پہلو یہ تھا کہ وہ ہمیں وہی نصیحت کرتے جس پر خود بھی عمل کرتے تھے۔ نتیجہ یہ کہ جب کبھی ناصحانہ تمہید باندھتے تو پہلے خود سے شروع کرتے کہ دیکھو یہ کام میں نے آج تک نہیں کیا۔ ۔ ۔ یا یہ اچھا کام میرے معمول کا حصہ ہے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ میں نے کبھی تمہیں وہ کام نہیں کہا جو میں خود نا کرتا ہوں۔ تا کہ تمہارے دل میں یہ خیال نا آئے کہ دوسروں کو نصیحت خود میاں فضیحت۔ ۔ ۔ ۔ ۔

بحیثیت ایک مثالی باپ عبدالرزاق کھوہارا شہید کا ایک اور عمل میرے لیے اکثر باعث حیرت ہوا کرتا تھا۔ وہ یہ کہ وہ میری بہت زیادہ عزت کیا کرتے۔ اولاد تو اپنے والدین کی عزت کرتی ہی ہے۔ ۔ ۔ ان پر فرض بھی ہے لیکن ایک والد اپنے بیٹے کی عزت کرے۔ ۔ ۔ ۔ یہ ایک اچنبھے کی بات لگتی ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ والد محترم نے ساری زندگی میرا نام انتہائی عزت اور شفقت سے پکارا۔ وہ کبھی میری جانب پاؤں کرکے نہیں سوتے تھے۔ خواہ میں ان سے میلوں دور ہوتا لیکن انہیں معلوم پڑتا کہ میں کس جانب گیا ہوا ہوں تو اس جانب پاؤں نہیں کرتے۔ مجھے اپنے پاس کھڑا نہیں ہونے دیتے تھے۔ بیٹھنے کو کہتے یا پھر خود کھڑے ہو جاتے۔ کوئی بھی مہمان آیا ہوتا تو اس کے سامنے خصوصاً عزت سے پکارتے۔ مجھے ان کے اس طرز پر شرمندگی محسوس ہوتی تھی۔ ایک بار میں نے پوچھ ہی لیا کہ آخر کیوں میری اتنی عزت کرتے ہیں۔ تو کہنے لگے۔ ۔ ۔ ۔
“دیکھو بیٹا۔ تم میرے سب سے بڑے بیٹے ہو۔ میں چاہتا ہوں کہ تمہاری دنیا بھر میں عزت ہو۔ اسی لیے پہلے خودعزت کرتا ہوں۔ کیونکہ جس شخص کی گھر میں عزت نا ہو اس کی زمانے میں بھی نہیں ہوتی۔ تمہاری قدر کرنے میری عزت کم نہیں ہوتی لیکن اس سے یقیناً تمہاری عزت میں ضرور اضافہ ہو گا”
یہ تھا ان کا میعار۔ ۔ ۔ ۔ ایک مثالی باپ کا میعار

وہ اکثر مجھے کہا کرتے تھے۔ ۔ ۔
“بیٹا! بڑائی اس میں نہیں کہ لوگ تمہیں میرے نام سے جانیں۔ مجھے حقیقی خوشی تب ہو گی جب لوگ مجھے دیکھ کر کہیں کہ وہ دیکھو ندیم کا ابو جا رہا ہے۔ یعنی لوگ مجھے تمہارے حوالے سے پہچانیں۔ اس لیے اپنے آپ کو معاشرے میں اس قدر عظیم بناؤ کہ میری پہچان بن جاؤ”
اب آپ خود اندازہ لگائیے کہ ایک مثالی باپ اپنی اولاد کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا خیال کر سکتا ہے۔

جہاں تک اولاد کے لیے شفقت کا معاملہ ہے تو اس کی مثال بھی بیان کرتا چلوں۔ والد صاحب انتہائی صبر، تحمل، برداشت اور بردباری رکھنے والے انسان تھے۔ انہوں نے ہمیں بھی ہمیشہ صبر اور ضبط کی تلقین کی۔ ان کے صبر و استقلال کا یہ عالم تھا کہ میں نے کبھی انہیں روتے نہیں دیکھا۔ حتی کہ ان کے والد یعنی میرے دادا جان اور دادی جان کی وفات کے موقع پر بھی ان کا حوصلہ چٹان کی طرح تھا۔ میں نے ان کی آنکھ میں آنسو نہیں دیکھا۔ پہلی بار انہیں تب روتے دیکھا جب میری چھوٹی ہمشیرہ ہسپتال میں موت و حیات کی کیفیت میں زیر علاج تھی۔ تب وہ پھوٹ پھوٹ کر روئے تھے۔ انہیں اس حالت میں دیکھ کر مجھے شدید صدمہ ہوا تھا۔ مجھے تب سمجھ آئی تھی کہ بیٹیاں باپ کے لیے کیا ہوتی ہیں۔ خدا کسی باپ کو بیٹی کا دکھ نا دکھائے۔

بحیثیت ایک مثالی باپ والد محترم عبدالرزاق کھوہارا شہید کی جانب سے اولاد کی تربیت کی مثالیں اتنی زیادہ ہیں کہ انہیں لکھتے لکھتے کئی اوراق سیاہ ہو جائیں لیکن تذکرہ ختم نا ہو۔ مختصر یہ کہ جیسا کہ میں نے اپنے ایک گزشتہ کالم میں مثالی باپ کے خصائل میں شفقت، ریاضت، تربیت اور سعی جیسے عوامل کا تذکرہ کیا ہے۔ یہ سب خصائل ان میں کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے تھے۔ اور اگر ہم بھی یہ چاہتے ہیں کہ ہماری اولادہم پر بحیثیت والدین فخر کرے تو ہم درجہ بالا خوبیوں پر عمل کر کے یہ درجہ پا سکتے ہیں۔
دعا ہے کہ اللہ پاک والد محترم عبدالرزاق کھوہارا شہید کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور ہمیں ان کی جانب سے کی گئی تربیت پر مکمل طور پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: