مہاجر : اردو اسپیکنگ یا سندھی؟ —– محمد فیصل شہزاد

0
  • 12
    Shares

’’جی بیٹا! تو کہاں سے تعلق ہے آپ لوگوں کا؟‘‘
احمد صاحب نے بڑی شفقت سے پوچھا تھا۔
’’جی یہیں کراچی سے… میں سندھی ہوں۔‘‘
’’سندھی…!!!‘‘
احمد صاحب نے بری طرح چونک کر مجھے دیکھا اور میں ہکا بکا علی کو دیکھنے لگا…
’’یہ کیا مذاق ہے علی؟‘‘
میں نے کسی قدر غصے میں مگر دھیرے سے کہا۔
’’نہیں میں سچ کہہ رہا ہوں فیصل بھائی…میں سندھی ہی ہوں… بلکہ اول مسلمان ہوں، پھر پاکستانی، پھر سندھی!‘‘
’’مسلمان اور پاکستانی تو ٹھیک ہے مگر تو سندھی کب سے ہو گیا؟ کیوں میری بات خراب کر رہا ہے… اگر شادی نہیں کرنی تھی تو پہلے بتاتا…‘‘
میں نے دانت چباتے ہوئے کہا تھا۔
احمد صاحب بھی اچانک سنجیدہ نظر آنے لگے، کہنے لگے:
’’بہت معذرت بیٹا! بے شک سندھی ہمارے مسلمان بھائی ہیں… مگر ہماری بٹیا کو تو ایک لفظ سندھی کا نہیں آتا… پھر رسوم و رواج اور ثقافت کے بھی ہزار مسائل ہو جاتے ہیں، آپ لوگوں کو ہی تکلیف ہو گی۔ ویسےاس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ ہماری بٹیا کے لیے کسی بھی مسلمان کا رشتہ آئے مگر ہم فیصل میاں سے پہلے ہی اس بابت صاف کہہ چکے تھے، آپ برا نہیں منانا مگر…‘‘
انہوں نے رک کر مجھے قدرے شکایتی انداز میں دیکھا… مجھے علی پر شدید غصہ آنے لگا۔
’’مم مگر انکل! بات یہ ہے کہ سندھی مجھے آتی تو ہے، مگر میں سندھی نہیں … مم میرا مطلب ہے کہ میں سندھی ہوں، سندھی بولتا ہوں مگر سندھی نہیں ہوں…!‘‘
علی نے لڑکھڑاتی ہوئی زبان سے کہا تو مجھے اس کی ذہنی حالت پر شک ہونے لگا۔ احمد صاحب چہرے پر شدید حیرت کے آثار لیے علی کو اور مجھے دیکھ رہے تھے۔ میں اٹھ کھڑا ہوا کیوں کہ علی مستقل جھوٹ بول رہا تھا۔ میں نے احمد صاحب کو سلام کیا، معذرت چاہی اور تیزی سے علی کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھک سے باہر نکل آیا۔

باہر آتے ہی اس نے میرے خطرناک ارادے بھانپ کر جلدی سےکہا:
’’ایک منٹ فیصل بھائی جان! آپ لوگ میری بات سمجھ نہیں رہے… وہ ایک بھائی نے فیس بک پر فلسفہ بگھارا تھا کہ آپ سندھ میں پیدا ہوئے ہو…تو سندھی ہو… اردو اسپیکنگ یا مہاجر کا ٹائٹل نہ لگاؤ… میں تو اس لیے بولا۔‘‘
’’کیا؟… احمق!… تونے ان دانشوڑوں کی باسی دانش کی وجہ سے مجھے اتنے اچھے پڑوسی کے سامنے شرمندہ کر دیا… ابے ادھر آ…‘‘
میں اسے اگلی گلی میں لے آیا۔
سامنے بہت پیارے پڑوسی دوست محسن بھائی کھڑے ہوئے تھے…’’اب سن…‘‘ میں علی کو ان کے پاس لے گیا۔
’’محسن بھائی! مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ سندھی ہو؟‘‘
’’ہائیں…‘‘ وہ حیرت سے مجھے دیکھنے لگے۔
’’کک کیا کہہ رہے ہو فیصل بھائی!… جیسے ہمیں جانتے ہی نہیں… کوئی بیس سال سے آپ کا پڑوس ہے…اب ہم سندھی ہو گئے سائیں…واہ… چھا تو کرے میرا میڈا سائیں…‘‘
محسن بھائی نے مزاحیہ انداز میں سندھی بولنے کی کوشش کرتے ہوئے جواب دیا۔
’’پھر آپ کون ہو؟
’’کیا ہو گیا بھائی؟… ہم پنجابی ہیں… فیصل آباد کے… کیا آپ ہمارے ساتھ ہمارے گاؤں رائیونڈ اجتماع کے بعد گئے نہیں تھے کیا؟‘‘
اب ان کے چہرے پر الجھن کے آثار نمودار ہوئے۔
’’بس ٹھیک ہے…”
میں مسکرایا اور انہیں الجھتا چھوڑ کر علی کا ہاتھ تھامے کونے میں بنے کوئٹہ وال چائے ہوٹل پر چلا گیا۔

’’ہاں عبدالرحمٰن! میں نے سنا ہے تم سندھی ہو؟‘‘
میں نے چائے بناتے کھلنڈرے سے عبدالرحمن سے پوچھا۔
عبدالرحمٰن نے حیرت سے مجھے دیکھا پھر گویا مذاق سمجھتے ہوئے بولا:
’’زڑ خہ منہ… مچ مچ ٹشن دا ڈغہ… زہ تا سرا مینا کوم… پیسل بھائی!‘‘
وہ مخصوص کوئٹوی لہجے میں پشتو کے پھول نچھاور کرنے لگا۔
’’آداب آداب… میرے چھوٹے خان… میری طرف سے بھی زہ تا سرا مینا کوم…‘‘
میں نے مسکرا کر جواب دیا اور آگے بڑھ گیا۔
قصہ مختصر سرائیکی خالد اعظم نے سرائیکی ہی کہا… ہزارے وال طاہر عابد نے ہزارے وال کی نسبت ہی بتلائی… ادھر علی کا چہرہ برابر رنگ بدل رہا تھا۔
’’دیکھا تو نے یہ سب ہمارے بھائی یہیں پیدا ہوئے، یہ سب سندھی نہیں ہوئے تو کمینے تو کہاں سے سندھی ہو گیا؟
بے شک ہم سندھ میں رہتے ہیں مگر بہت پیارے فلاں بھائی اور فلاں بھائی جو بار بار یہ فلاسفی جھاڑ رہے ہیں ناں کہ سندھ میں رہتے ہو تو سندھی کہلاؤ… تو بیٹا یہ صرف تمہارے میرے لیے لارے لپے ہیں… ان سے پوچھو، باقی ہمارے دوسری زبان سے نسبت رکھنے والوں کے لیے بھی یہی لالی پاپ ہے یا نہیں؟!
بیٹا یہاں کی بات تو چھوڑو… خود پنجاب میں رہنے والے سرائیکی بیلٹ کے ساتھی خود کو پنجابی نہیں کہتے… ہزارے وال خود کو پنجابی نہیں کہتے…

ارے پیارے یہ لفظ ’’مہاجر‘‘ اب صرف پہچان کے لیے بولا جاتا ہے نہ کہ لغوی واصطلاحی طور پر… کہ یہ پوچھا جائے کہ اچھا بتاؤ تم نے کب ہجرت کی؟…یہ سوال کرنا ہی جہالت ہے… ورنہ الزامی جواب کے طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ پھر تم کراچی میں پیدا ہو کر بھی پھر پنجابی کیسےہو کیوں کہ لفظ پنجابی اور پنجاب تو ایک خطہ زمین کی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی وہ خطہ جہاں پنج آب یعنی پانچ دریا بہتے ہوں۔
پھر چلو لفظ مہاجر سے اگر کسی کو تکلیف ہوتی ہے تواردو اسپیکنگ کی اردو انگریزی مخلوط ترکیب باقاعدہ ایجاد کی گئی اور اسے جب اب قبول خاص و عام حاصل ہو گیا ہے تو دانشوڑ اس پر بھی چیں بجیں ہیں… صرف متحدہ جیسی فسطائی تنظیم کی وجہ سے… جب کہ متحدہ خود لفظ مہاجر سے جان چھڑا چکی برسوں قبل…

سو میرے پیارے سجنو! قبیلے علاقے زبان پہچان کے لیے ہوتے ہیں اور شادی بیاہ اور ہزار معاملات میں لوگ علاقہ یا زبان کے بارے میں عام سوال پوچھتے ہی ہیں… یہ کہاں کا انصاف ہے کہ آپ تو اپنی لسانی پہچان امریکا جا کر بھی برقرار رکھو… پنجابی مسلم سوداگران تنظیمیں بناؤ اور ہم اپنے ہی ملک میں اپنی پہچان تلاشتے رہیں…
کوئی پوچھے تو بس یہ راگ الاپتے رہیں کہ میں مسلمان ہوں… میں پاکستانی ہوں… میں سندھی ہوں!
کیا یہ بات سراسر اکرام مسلم کے خلاف نہیں کہ ایک مسلمان جس بات کو پوچھنا چاہ رہا ہے… آپ اس کو سمجھنے کے باوجود اپنے فیس بکی دانشوڑوں کی ہدایت پر “مسلمان ہوں، پاکستانی ہوں، سندھی ہوں…” کی تکرار کرتے رہیں اور نتیجے میں کنوارے ہی رہ جائیں!
پہچان و تعارف کے مختلف دائرے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اوپر پہچان کے حوالے سے ایک تمثیلی کہانی لکھی ہے … اگر اس سے بھی کسی کو بات سمجھ میں نہ آتی ہو تو مزید وضاحت کے ساتھ کچھ عرض کرتے ہیں کہ:
دیکھیں اپنی پہچان ظاہر کرنے کے مختلف دائرے ہوتے ہیں… ہر اگلا دائرہ اپنے سے پہلے والے دائرے سے چھوٹا ہوتا چلا جاتا ہے۔
٭ پہچان و تعارف کا سب سے بڑا اور بنیادی دائرہ دینی پہچان کا ہے… جیسے آپ کسی غیر مسلم کے مقابل اپنی پہچان مسلمان کہہ کر کرواتے ہیں… یہ پہلا دائرہ ہے جس میں دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے انسان نکل جاتے ہیں۔
٭ آپ پاکستان سے باہر ہیں تو آپ دوسرے ملک والوں کے سامنے اپنی وطنیت کی پہچان کروائیں گے یعنی پاکستانی…یہ دوسرا دائرہ ہے… جس میں دوسرے ملکوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان گویا مائنس ہو گئے!
٭ آپ پاکستان میں ہیں تو آپ اپنے شہر کے توسط سے اپنی پہچان کرواتے ہیں… یعنی لاہوری، کراچوی، ملتانی وغیرہ … چاہے کوئی بھی زبان بولتے ہوں… اپنے شہر کی خوبیاں، اپنے شہر کی تعریف، اپنے شہر پر فخر اور کبھی کبھار اپنے شہر کی وجہ سے تعصب بھی اپنائیں گے یہ بھول کر کہ آپ پختون ہیں یا اردو بولنے والے!
یہ پہچان و تعارف کا تیسرا دائرہ ہے… اس میں پاکستان کے دوسرے شہر والے گویا مائنس ہو جاتے ہیں۔
چوتھا دائرہ زبان کا ہے۔
یہاں آ کر ایک عجیب بات مگر یہ سامنے آتی ہے کہ پاکستان میں صوبائی پہچان کرانے کا رواج بالکل بھی نہ چل سکا… پاکستان کے اندر اول شہر کی پہچان ہے… اس کے بعد براہ راست زبان کی بنیاد پر پہچان ہے!
جیسے پنجابی بولنے والے پنجابی اسپیکنگ
سرائیکی بولنے والے سرائیکی اسپیکنگ
سندھی بولنے والے سندھی اسپیکنگ
ہزارہ وال ہزارہ اسپیکنگ
پشتو بولنے والے پختون
اور اردو بولنے والے اردو اسپیکنگ
جی ہے یہ ہے پہچان اور تعارف کا چوتھا دائرہ… اس میں دوسری زبان والے مائنس ہو گئے۔

اس سے چھوٹے بھی کئی دائرے ہیں… ذات وغیرہ کے جیسے پنجابی بھائیوں میں جٹ اور کھوکھر وغیرہ اور اردو بولنے والوں میں علاقائی بہاری، دلی، الہ آبادی وغیرہ کے لیکن انہیں چھوڑئیے۔
یہ چار دائرے تعصب کے بغیر بیان کیے جاتے ہیں اور ان میں کوئی مضائقہ نہیں۔
ان دائروں کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔ یہ حقیقت ہے۔ اس کے خلاف کوئی نکتہور زبردستی یہ کہوے کہ جس صوبے میں رہتے ہو، اس سے اپنی پہچان کرواؤ تو یہ زمینی حقائق کے بالکل خلاف بات ہے۔
جب ہمارے دفتر کے 20 سرائیکی اور تیس ہزارہ وال بھائی کراچی میں عشروں سے رہ کر بھی بلکہ یہیں پیدا ہو کر بھی اپنی پہچان سرائیکی اور ہزارہ وال کہہ کر کراتے ہیں تو ہم بھلا کیوں سندھی سے اپنی پہچان کروائیں؟!
ہیں؟… ارے بولو ناں… منہ میں گھنگھنیاں ڈالےکیوں چپکے بیٹھے ہو!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: