آگ سے کیسے حفاظت کی جائے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ علی عبداللہ

0
  • 2
    Shares

دنیا بھر میں آگ لگنے کے واقعات عام ہیں۔ فیکٹریوں، بجلی گھروں اور دیگر صنعتی اداروں میں آگ سے بچاؤ کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ اسی باعث وہاں آگ کا لگنا محال ہوتا ہے اور اگر آگ لگ جائے تو قبل ازوقت کیے گئے اقدامات سے نقصان کی شرح بہت کم ہوتی ہے۔ عالمی سطح پر باقاعدہ آگ سے بچاؤ کی مہم چلائی جاتی ہے اور بعض ممالک میں اداروں کے نمائندے گھر گھر جا کر آگ سے بچاؤ کی تربیت دینے کے ساتھ ساتھ وہاں پر موجود خطرات کے بارے میں بھی آگاہ کرتے ہیں۔ ہیلتھ اینڈ سیفٹی پروفیشنل ہونے کے ناطے ہمیں سیفٹی کی جتنی ٹریننگز دی جاتی ہیں ان تمام ٹریننگز میں فائر سیفٹی لازماً زیر بحث لائی جاتی ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ پاکستان میں آگ سے بچاؤ کی تربیت کے بارے دلچسپی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ خصوصاً گھروں میں مرد حضرات یہ گوارا ہی نہیں کرتے کہ بچوں اور خواتین کو آگ سے بچاؤ کی کم ازکم بنیادی معلومات فراہم کریں۔ گو کہ مختلف ادارے سکول اور کالج کی سطح پر بنیادی تربیت فراہم کرتے ہیں لیکن ان میں سے اکثر ٹریننگز صرف پاور پوائنٹ پر ہی فراہم کی جاتی ہیں۔ اور عملی سطح پر اس کی کوئی مشق نہیں کروائی جاتی۔

گھروں میں لگنے والی آگ کی 60 فیصد وجہ کچن ہوتا ہے اور ان میں 19.1 فیصد آگ فرائی پین اور اس جیسے دیگر برتنوں کے استعمال کے نتیجیے میں لگتی ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم گھریلو آگ کے بارے میں بات کریں، ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ آگ کی کتنی اقسام ہیں اور انہیں بجھایا کیسے جاتا ہے؟ ماہرین آگ کو پانچ اقسام میں تقسیم کرتے ہیں۔ پہلی آگ کی قسم کلاس اے کہلاتی ہے۔ یہ وہ آگ ہوتی ہے جس کا سبب کچھ ٹھوس چیزیں مثلاً پلاسٹک، کاغذ، لکڑی وغیرہ ہوتی ہیں۔ آگ کی دوسری قسم کلاس بی کہلاتی ہے اور یہ مختلف قسم کے مائعات سے وجود میں آتی ہے۔ مثال کے طور پر پٹرول، مٹی کا تیل وغیرہ۔ تیری قسم کی آگ کلاس سی کہلاتی ہے جو مختلف گیسوں کے نتیجے میں بھڑکتی ہے۔ کلاس ڈی آگ کی چوتھی قسم ہے جو دھاتوں وغیرہ سے لگ سکتی ہے جیسے ایلومینیم اور میگنیشیم وغیرہ۔ پانچویں قسم کی آگ کو کلاس ایف یا کے کہا جاتا ہے۔ یہ آگ کی وہ قسم ہے جو کوکنگ آئلز وغیرہ سے پیدا ہوتی ہے۔ جبکہ برقی آلات سے لگنے والی آگ کو کلاس ای بولا جاتا ہے لیکن بنیادی طور پر مندرجہ بالا آگ کی اقسام ہی بیان کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں عمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ جب بھی آگ لگے اس پر پانی ڈال دو تو وہ بجھ جائے گی۔ آگ کی بعض اقسام کے لیے تو یہ کسی حد تک ٹھیک ہے لیکن تمام اقسام کے لیے یہ بالکل مناسب نہیں اور بعض دفعہ یہ مزید خطرات کا بھی باعث بن جاتا ہے۔

کچن میں کام کرنے والی خواتین کو چاہیے کہ وہ کھانے پکاتے ہوئے محتاط رہیں اور چائے اور دیگر استعمال کی صافیاں چولہے، اوون یا ہیٹر کے قریب بالکل نہ رکھی جائیں۔

آگ بجھانے کے لیے سب سے اہم آلہ جسے فائر ایکسٹنگویشر کہا جاتا ہے استعمال کیا جاتا ہے۔ آگ کی مختلف اقسام کے لیے ایکسٹنگویشر بھی مختلف استعمال کیےجاتے ہیں۔ مثلاً واٹر ایکسٹنگویشرز، فوم ایکٹنگویشرز، ڈرائی کیمیکل ایکسٹنگویشر اور CO2 ایکسٹنگویشرز وغیرہ۔ یہ سب ایکسٹنگویشر مارکیٹ میں عام دستیاب ہیں اور ہر ایکسٹنگویشر پر آگ کی کلاسز کے بارے لیبل موجود ہوتا ہے۔ اور ان کو استعمال کرنا بھی نہایت آسان ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے آلات موجود ہیں جو آگ سے بچاؤ کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں جیسے سموک ڈیٹیکٹرز، ہیٹ ڈیٹیکٹرز اور فائر بلینکٹ وغیرہ۔ ہر گھر میں کم ازکم فائر ایکٹنگویشر لازمی رکھا جانا چاہیے تاکہ آگ لگنے کی صورت میں فوری استعمال میں لایا جا سکے۔ خواتین کو فائر ایکسٹنگویشر استعمال کرنا سکھانا لازمی ہے تاکہ آگ لگنے کی صورت میں وہ فوراً اس کا استعمال کر سکیں۔

کچن میں کام کرنے والی خواتین کو چاہیے کہ وہ کھانے پکاتے ہوئے محتاط رہیں اور جلتے چولہے کو چھوڑ کر کسی اور کام میں مشغول نہ ہوں۔ کوشش کیجیے کہ ڈھیلے ڈھالے کپڑے چولہے کے قریب نہ ہوں کیونکہ یہ بہت جلدی آگ پکڑ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ چائے اور دیگر استعمال کی صافیاں چولہے، اوون یا ہیٹر کے قریب بالکل نہ رکھی جائیں۔ اور یہ بھی کوشش کیجیے کہ چولہے، اوون، کوکر، گرل فین اور دیگر پکانے والے آلات پر کسی قسم کا آئل، گھی یا کچھ اور چکنائی وغیرہ نہ لگی ہو کیونکہ یہ جلدی آگ پکڑ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی اہم ہے کہ چولہے کے لیے ماچس یا لائیٹر کی بجائے سپارک یعنی چنگاری والے آلات استعمال کریں۔ یہ ماچس اور لائیٹر کی نسبت محفوظ ہوتے ہیں۔ ڈیپ فرائی کرتے ہوئے دھیان رکھیے کہ گرم تیل میں جو بھی چیز ڈالیں وہ مکمل خشک ہو۔ اس سے آئل باہر نہیں اڑے گا۔ اگر آپ تھرمو سٹیٹ والا برقی ڈیپ فرائر استعمال کریں تو زیادہ بہتر ہے کیونکہ وہ ایک حد سے زیادہ ہیٹ نہیں کرتے۔ خدانخواستہ اگر آگ بہت زیادہ لگ جائے تو کبھی بھی خود سے بجھانے کی کوشش نہ کریں بلکہ فوری وہاں سے نکل جائیں اور ریسکیو کو فون کریں۔ گھروں میں آگ لگنے کی ایک اور بڑی وجہ برقی آلات ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان پر خصوصی نظر رکھیے اور انہیں خریدنے سے پہلے ان پر برٹش یا یورپین سیفٹی کا نشان لازماً چیک کریں۔ یورپین نشان CE ہوتا ہے جو کہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ متعلقہ برقی آلہ محفوظ ہے۔

ان تمام وجوہات اور ان پر عمل کے باوجود بھی اگر آگ لگ جائے تو کیا کرنا چاہیے؟ اس صورت میں سب سے پہلے خود کو پرسکون رکھیے اور موقعہ پر موجود تمام لوگوں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کیجیے۔ آگ کی وجوہات جاننے اور اپنا سامان بچانے میں وقت ضائع نہ کیجیے اور فوراً کسی محفوظ جگہ پر پہنچ کر ریسکیو کو کال کیجیے۔ اگر کمرے یا ہال میں دھواں بھر رہا ہو تو کوشش کیجیے رینگ کر باہر نکلیں۔ یاد رکھیے دھویں کی صورت میں جتنا آپ زمین کے قریب رہیں گے اتنا ہی نکلنے میں آسانی ہو گی اور سانس نہیں گھٹے گا۔ کوئی بھی دروازہ کھولنے سے پہلے لازماً دروازے کو چیک کیجیے وہ گرم تو نہیں ہے-اگر گرم ہے تو سمجھ جائیے کہ دوسری طرف آگ ہے۔ آگ ہمیشہ پردوں، ٹیبل کلاتھ اور اس جیسی دیگر لٹکنے والی اشیاء کو تیزی سے لگتی ہے۔ خدانخواستہ آپکو یا کسی اور کو آگ لگ جائے تو فوراً بھاگیے مت، یہ آگ کو مزید بڑھائے گی بلکہ زمین پر لیٹ جائیے، اپنے ہاتھوں سے چہرے کو چھپا کر خود کو رول کرنا شروع کر دیجیے۔ اگر قریب کوئی بھاری چادر یا کوٹ موجود ہو تو وہ فوراً جلنے والے پر ڈالیے تاکہ آگ جلد از جلد بجھ سکے۔ یہ بہت اہم تکنیک ہے جسے خواتین اور بچوں کو لازماً سکھانا چاہیے۔

یاد رکھیے ہر سال تقریباً 2500 لوگ گھروں میں لگنے والی آگ کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ لہذا اپنے بچوں اور عورتوں کو آگ سے بچاؤ کی معلومات لازماً دیں تاکہ آگ لگنے کی صورت میں وہ بروقت حفاظتی اقدامات کر سکیں۔

About Author

دو دریاؤں اور سلطان باہو کے شہر جھنگ سے تعلق رکھنے والے علی عبداللہ پیشے کے لحاظ سے ہیلتھ اینڈ سیفٹی پروفیشنل ہیں- کتب بینی اور لکھنے لکھانے کا شوق رکھتے ہیں اور مختلف مجلوں، ویب سائٹس اور اخبارات میں ان کی تحاریر شائع ہوچکی ہیں۔ ادب، تاریخ، مذہب اور ٹیکنالوجی ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں جن پر گفتگو اور تحقیق کرنا پسند ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: