پرانے مغرب معاشرے کی کچھ یادیں —– مدیحی عدن

0
  • 94
    Shares

آج اکیسویں صدی میں رہتے ہوئے اگر ہم معاشروں پہ سرسری سی نظر ڈورائیں تو بہت ترقی اور جدت دیکھنے کو ملتی ہے۔ بہت سے معاشروں کی بوسیدہ ہوتی روایات اب کہیں اندھیری کوٹھری میں کب کا دم توڑ چکی ہیں۔ روشن خیالی کے نام پہ ایک ایسے نظریے نے جنم لیا، جس کا بہاؤ ایسا تیز نکلا کہ انسانی تاریخ میں اس کی مثال مشکل سے ملتی ہے۔ ایک ایسی ہی مثال آج ہم مغرب معاشرے کی بھی لیں گے جہاں ایسی روشن خیالی کی لہر اٹھی جو بہت کچھ بہا کے لے گئی اور ترقی اور جدت معاشرے کی جھولی میں ڈال گئی۔ سودا گھاٹے کا ہرگز نہیں تھا لیکن ایک صدی گزر جانے کے بعد معاشرے کے بگاڑ نے سوچنے پہ مجبور ضرور کیا کہ

کیا سے کیا ہو گئے ہم

آج جبکہ مغرب کو دینا میں روشن خیال معاشرہ تصور کیا جاتا ہے اور اسی ٹیگ لائن کے باعث وہ کافی جانا اور پہچانا بھی جاتا ہے لیکن اسکا ماضی آج سے کافی مختلف رہا ہے۔ قدامت پسند ی کا ٹائٹل آج کل بڑی آسانی سے کچھ خاص سوچ یا نظریہ رکھنے والے لوگوں کے ساتھ چسپاں کر دیا جاتا ہے، حالانکہ ان روشن خیال معاشروں کا ماضی دیکھا جائے تو بہت سارے ایسے واقعات ملیں گے جن میں ان کی قدامت پسندی کی بےشمار جھلکیاں نظر آئیں گی۔ ایک جائزے میں مغرب معاشرے کی شرم و حیا کے پہلو پہ نظر ڈالی گئی ہے کہ کس طرح ایک انتہائی قدامت پسند مغربی معاشرہ آج کا بھیانک ترین آزاد معاشرہ بن گیا ہے۔

بات چل ہی نکلی ہے تو بات کی شروعات کرتے ہیں 1907 کے ایک ایسے واقعے سے کہ جب مغرب معاشرے میں ایک عورت کو محض اس بات پہ گرفتار کر لیا گیا تھا کہ اس نے سویم سوٹ عوامی جگہ (public place) پر پہن رکھا ہے۔ اس سویم سوٹ کی خاص بات یہ تھی کہ وہ آج کی طرح کا نیم عریاں اور قدرے مختصر نہیں تھا بلکہ سر سے لے کے پیر تک بدن کو ڈھانپے ہوئے تھا۔ لیکن گرفتار کرنے کی دلچسپ وجہ یہ بنی کے وہ لباس بے حد تنگ ہونے کی وجہ سے جسمانی خدوخال کو نمایاں کر رہا تھا۔ محض لباس کی تنگی کے باعث یہ گرفتاری عمل میں لائے گئی جو کہ آج کے دور میں کسی لطیفے سے کم بات نہیں لگتی۔

یہ بھی اسی دور کی بات معلوم ہوتی ہے جب مرد حضرات کو دوران سوئمنگ اپنا سینہ دکھانے کی اجازت نہیں تھی۔ خواتین کو تو حال یہ تھا کہ پیمائش ٹیپ کے زریعے اس بات کی یقین دہانی کی جاتی تھی کہ ان کے لباس لازمی رانوں تک ڈھانپا ہوا ہو۔ اس مقصد کے لیے لباس کو چیک کیا جاتا تھا، اور اگرلباس ا یک دو انچ اوپر ہو جاتا تو جرمانہ عائد کیا جاتا۔

1934 میں مغرب میں میڈیا سکرین پہ پہلی بار ایک مرد بغیر شرٹ کے نمودار ہوا تو ناظرین کی طرف سے بہت شور مچایا گیا جیسا شورآجکل ہمیں آئے دن سوشل میڈیا پہ کسی نئے پھڈے کی صورت میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ خیرلوگوں کی طرف سے شور کرنے کی وجہ یہ معلوم ہوئی کہ ایسا ہونا ان کے معاشرتی روایات اور اقتدار کے خلاف تھا جس پہ وہ کسی صورت سمجھوتا نہیں کر سکتے۔ 1956میں جب بکنی لباس کی تخلیق ہوئی تو اس معاشرے میں کوئی ماڈل میسر نہیں تھی جو اتنا واہیات لباس زیب تن کر سکے۔ اس کے علاوہ اگر تمباکو نوشی (سگریٹ) کی تاریخ دیکھی جائے تو اس کا رحجان عورتوں میں نہ ہونے کے برابر تھا لیکن اس کلچر کو عورتوں میں لانے کے لیے پہلے پہل ماڈلز اور ایکٹرز میں اس رحجان کو عام کیا گیا جو کہ فیشن سمبل سمجھے جاتے ہیں۔ یوں یہ رحجان پروان چڑھا جو کہ پہلے اس معاشرے کا کبھی حصہ نہیں تھا۔

اب آتے ہیں روشن خیالی کے نام پہ کچھ ایسے ذہنوں اور حکمت عملیوں کی طرف جنہوں نے اس نظریے کا بھرپور سہارا لیتے ہوئے اپنی چیز کے خریدار مارکیٹ میں پیدا کیے۔ کاروبار ی نقطہ نظر سے مارکٹینگ میں کچھ ٹیگ لائنز یا اور ایسی حکمت عملی اپنائی جاتی ہے جس سے لوگوں کا رحجان اس پروڈکٹ کو خریدنے کی طرف بڑھایا جاتا ہے۔ اب بکنی بنانے والے نے یہ نہیں دیکھا کہ معاشرے کے اپنے کچھ اصول و قواعد ہیں، اس کی کچھ اپنے معاشرتی اقدار ہیں جس پہ وہ معاشرہ اپنی تہذیب و تمدن کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔۔ اس نے ایک پروڈکٹ بنا دی اب اس کی مارکیٹنگ کے لیے طرح طرح کے طریقے اور حربے اپنائے گئے کہ ” باتھنگ سوٹ” کو سوئمنگ پول میں لے جانا مشکل ہے۔ عوام کی آسانی کے لیے ایک ایسا لباس بنایا جا رہا ہے جسکو سوئمنگ پول لے جانے کی بجائے پہلے پہن لیا جائے۔ جس کو لے کے جانا یا اوڑھنا بالکل آسان ہے۔

اسی طرح اگر سگریٹ کا معاملہ دیکھا جائے تو اس کی مارکیٹنگ ماڈلز اور ایکٹرز کے ذریعے کر وائی گئی۔ اس کو پینے سے عورتیں سلم و سمارٹ ہو سکتی ہیں، ایک عورت ہاتھ میں سگریٹ تھامے اپنی من چاہی زندگی بسر کر سکتی ہے حتی کہ اس کو ایلٹ کلاس کا status symbol سمجھا جانے لگا۔ ظاہر ہے ایک بزنس کی حیثیت سے دونوں پروڈکٹس کی ٹیگ لا ئن بہت ہی لوجیکل (منطقی) تھی۔

اب ماضی سے نکل کر آج کے مغرب کی طرف آتے ہیں جہاں یہ سب باتیں اب لطیفوں سے کم نہیں۔ مادر پدر آزاد معاشرے کو اگر مختصراً کہا جائے کہ صرف عریانی چاہیے تھی تو یہ کوئی غلط بات نہ ہو گئی۔ آزادی کا نام دینے والوں کا قومی شعائر اور پہچان عریانی اور بے حیائی بن چکی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جس میں شرم و حیا تھی آج اس شرم و حیا کو دقیانوسیت کا نام دیا جانے لگا۔ روشن خیالی اور انسانی آزادی کے چکروں میں معاشرے نے سب کچھ قربان کرنے کی ٹھان لی۔ اپنے اقدار، سوچ، رسم و رواج، رویے سب کو کہیں کھو دیا۔ آج مغرب معاشرے کو جہاں روشن خیالی کے نام پہ جانا جاتا ہے وہیں بے حیائی کے نام پہ بھی اسے پہنچانا جانے لگا ہے۔ بہت آہستہ آہستہ سے بے حیا ئی کو متعارف اور تسلیم کرنے کی صلاحیتوں کو پیدا اور اجاگر کیا گیا۔ بے حیائی ان کا کلچر بن کے ابھری ہوئی ہے۔

آج جب ہم سوچتے ہیں کہ مغرب میں ہر چیز کی آزادی ہے تو میرے جیسی احساس کمتری میں ڈوبی قومیں وہاں جا کہ اتنی بے باکی اور عریانیوں کو ہی آزدی سمجھ بیٹھتی ہیں۔ انکی ترقی اور علم و فن سے انکار نہیں لیکن انکی کھوئی میراث پہ افسوس ضرور ہے۔۔!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: