بیگمات کی مختصر تاریخ (2) ——- ڈاکٹر مریم عرفان

0
  • 21
    Shares

جذباتی بیویاں:
ان بیویوں کا ایک ہی کام ہے رونا، دھونا اور پھر رونا۔ ان کی آنکھوں کے کنارے ہمہ وقت تالاب بنے رہتے ہیں۔ کبھی یہ اپنی قسمت پر آنسو بہاتی ہیں اور کبھی سسرال کی طرف سے نہ ہونے والے مظالم کا سوچ کر دل گرفتہ ہو جاتی ہیں۔

یہ اپنے شوہر کے معاملے میں بہت جذباتی بلکہ نفسیاتی ہوتی ہیں۔ وسوسے ان سے جالوں کی طرح چمٹے رہتے ہیں۔ اگر انھیں پیروں، فقیروں کے پاس جانے کی ہوا لگ جائے تو پھر یہ کسی کے روکے نہیں رکتیں۔ انھیں ہر کام کے لیے وظیفہ کرنا ہوتا ہے، حتیٰ کہ قبض توڑنے کے لیے بھی وظیفہ قبض کشا کر لیتی ہیں۔ شک و شبہات میں بھی یہ کافی مہارت رکھتی ہیں، پہلے تو یہ خود اپنے شوہر کو یقین دلاتی ہیں کہ وہ ہینڈسم ہے اور پھر احساس دلایا جاتا ہے کہ محلے کی اکثر عورتیں کنواری اور بیوہ مکس، ان پر مرتی ہیں۔ ایسے میں شوہر نامدار کا آنکھ مٹکا کرنا تو شرعاً بنتا ہے۔ دودھ کی رکھوالی پر بلی کو بٹھا کر یہ محلہ اکٹھا کر لیتی ہیں۔

لَومیرج بیویاں:
بیویوں کا یہ قبیلہ قابل رحم ہوتا ہے کیونکہ ان کی زندگی میں صرف عزت کی کمی آئیوڈین کی کمی سے بھی زیادہ سنگینی اختیار کر لیتی ہے۔ چونکہ یہ محبت کو قربان نہیں کرتیں اس لیے عمر بھر انھیں اپنی قربانی دینا پڑتی ہے۔ انھیں عمر بھر لو میرج کی بڑی قیمت چکانا پڑتی ہے لیکن اگر شوہر ساتھ دینے والا ہو تو دنیا میں ہی جنت مل جاتی ہے ورنہ خواب بھی چکنا چور ہوتے ہیں اور گھر بھی خاک سیاہ ہو جاتا ہے۔ پسند کی شادی کرنا ان کے نزدیک معیوب کام نہیں ہوتا لیکن سہاگن بنتے ہی یہ ستی ساوتری کا روپ دھار لیتی ہیں۔ یہ لو میرج بیوی کہلوانے سے خائف ہو جاتی ہیں اور زمانے کو یقین دلانے میں کفر کی حد تک چلی جاتی ہیں کہ بہن مجھے تو پتہ بھی نہیں محبت کسے کہتے ہیں۔ لو میرج کے حادثے میں بیویوں کو کم ہی بچتے دیکھا ہے ورنہ تو اکثریت اپنی بغاوت کے ملبے تلے ہی دب جاتی ہیں۔

سنجیدہ مزاج بیویاں:
یہ بڑی سفاک بیویاں ہوتی ہیں کیونکہ انھیں معلوم ہی نہیں ہوتا ہنسنا کیسے ہے۔ انھیں خود پسندی کا مرض لاحق ہوتا ہے، انھیں لگتا ہے کہ زمانہ غلط ہے اور ان کا ادراک فہم و فراست سے بھی افضل ہے۔ ان کی زندگی کا مقصد سامنے والے کو شکست فاش دینا ہے۔ یہ مقابلہ کرنا ہی نہیں جانتیں بلکہ جیتنا بھی ان کی زندگی کا مشن ہوتا ہے۔ ان کی زندگی فوجی ہاسٹلز کے اصولوں کے تحت منقسم ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک شادی بس شادی ہوتی ہے کیونکہ یہ کسی کو اپنے آگے بولنے نہیں دیتیں۔ انھیں شور شرابے سے شدید نفرت ہوتی ہے اس لیے ان کے گھروں کاماحول قبرکی خاموشی سے ملتا جلتا ہے۔ یہ بیوی کے روپ میں بھی ماں بن کر شوہر کی اصلاح کا فریضہ سر انجام دیتی ہیں۔ ان کے چہرے سپاٹ اور میک اپ سے عاری ہوتے ہیں اور اگر یہ کسی کو سجا سنورا دیکھ لیں تو فوراً ناگواری سے منہ پھیر لیتی ہیں۔ بھرپور لطیفہ سن کر بھی ان کے گالوں میں ڈمپل نہیں پڑتے بلکہ سنانے والا شرمندگی کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے۔

کم عمربیویاں:
یہ لڑکپن میں ہی بیوی بن جاتی ہیں اس لیے ان میں عقل کی کمی پائی جاتی ہے۔ سسرال والے اس لیے انھیں پسند کرتے ہیں کہ بیویوں کی اس قسم پر جلدی ہی قابو پا لیا جاتا ہے۔ یہ گیلی مٹی کی طرح ہوتی ہیں انھیں جیسا چاہیں گھڑلیں اور اپنی مرضی کا برتن بنا کر استعمال کرتے رہیں یہ چوں بھی نہیں کرتیں۔ یہ پختہ عمر کی بیویوں کی متضاد ہوتی ہیں اس لیے ان کو کنٹرول کرنا ساس کے لیے بھی مشکل نہیں ہوتا۔ یہ کم عمری اور کم تعلیم یافتہ ہوتی ہیں کیونکہ انھیں معلوم ہوتا ہے کوئی بے وقوف ان کے لیے پڑھ رہا ہے۔ یہ نہایت روایتی قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں اور بڑی حسرت و تشنگی سے کماؤ بیویوں کو عیش کرتا دیکھتی ہیں۔

خوش قسمت بیویاں:
یہ بیویاں قسمت کی دیویاں ہوتی ہیں، یہ خاندان بھر میں بس ایک یا دو کے تناسب سے پائی جاتی ہیں۔ یہ پیدا ہوتے ہوئے منہ میں سونے کا چمچ رکھیں یا نہ رکھیں قدرت نے ان کے لیے سامان عیش و عشرت رکھا ہوتا ہے۔ یہ شوہر کے دل، دماغ، جیب اور گھر پر راج کرتی ہیں۔ شاید اس کی وجہ ان کی خوبصورتی بھی ہو سکتی ہے۔ خوش قسمت بیویاں انگڑائیوں سے اپنے دن کا آغاز کرتی ہیں۔ جن کے میکے مالدار ہوں ان کی چال بھی تجاہل عارفانہ کا شکار رہتی ہے اور ’’بھکے دی کڑی کھے اڈان ٹری‘‘ والا معاملہ غریب گھر کی خوش قسمت بیوی کو درپیش آتا ہے۔ یہ بیویاں سر سے پاؤں تک سونے میں لدی پھندی بپی لہری (موسیقار) کی نقل معلوم ہوتی ہیں۔ اگر خدانخواستہ انھیں کسی مرگ پر جانا پڑ جائے تو ہار سنگھار جنازے والا ہو جاتا ہے۔ ان کی آنکھیں پانی کی گہرائی سے نابلد ہوتی ہیں اس لیے بیک گراؤنڈ میں کسی فلم کا سیڈ سانگ یاد کر کے رو لیتی ہیں۔ ان بیویوں کی فصل زیادہ تر ملکوں اور چوہدریوں کے ہاں بوئی اور کاٹی جاتی ہے اس لیے ان کی پنیری لے کر کسی اور جگہ اگائی نہیں جا سکتی۔

نیک بیویاں:
یہ بیویاں اپنے شوہروں پر تن، من اور دھن قربان کرنے والی ہوتی ہیں۔ اگر کوئی اور نون بھی قربان کرنے کو مل جائے تو یہ ایسا کرنے سے بالکل نہیں چوکتیں۔ یہ دراصل پیدائشی بیویاں ہوتی ہیں، یہ نہایت رقیق القلب واقع ہوئی ہیں اور محبت پرستی ان کے اندر وطن پرستی کی طرح پروان چڑھتی ہے۔ یہ ہزار ہا اختلافات کے باوجود جھکنے کو بڑائی سمجھتی ہیں۔ سسرال کی خدمت گزاری ان کا شعار ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ مقدار اور تناسب میں کم ہیں لیکن بہر حال آخری اطلاعات کے مطابق انھیں اسی دنیا میں دیکھا گیا ہے۔ ان پر زیادہ تحقیق اس لیے ممکن نہیں ہے کہ ہو سکتا ہے یہ کسی دوسرے سیارے کی مخلوق ہوں جو جز وقتی طور پر زمین پہ اتر گئی ہیں۔

حاصل بحث:
درج بالا بیویوں کی اقسام آپ کے سامنے ہیں، ہر بیوی میں اچھی عورت ضرور چھپی ہوتی ہے بس کسی نے اسے مار دیا ہوتا ہے، کوئی اپنے اندر کی اچھی عورت کو سلا دیتی ہے، کسی کو اس کے بارے میں آگاہی نہیں ہوتی اور کوئی اسے جگانا ہی نہیں چاہتی۔ ہر بیوی وفا شعار ہے بس اسے ’’اک نظر میری طرف‘‘ کا اشارہ چاہیے۔ نپولین نے کہا تھا کہ مجھے پڑھی لکھی مائیں دو میں تمہیں اچھا معاشرہ دوں گا۔ میں کہتی ہوں کہ آپ خود کو اچھی عورت بنا لیں معاشرہ خود بخود تہذیب یافتہ ہو جائے گا۔ فیصلہ اب آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ کو کون سی بیوی بننا ہے۔

اس دلچسپ مضمون کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: