جدید ذہن کے شبہات اورانکا حل

0

 ایک مرتبہ ایک پڑھے لکھے ذہین نوجوان دوست سے طویل مکالمہ ہوا جو انگلینڈ کے دہریہ ماحول میں تعلیم حاصل کر چکا ہے اور آج کل  پی ایچ ڈی کے سلسلے میں، امریکہ میں مقیم ہے۔ اس مباحثہ سے جدید ذہن کے اشکال، ابہام اور مسائل جاننے کا موقع ملا ۔ ایک لفظ میں اگر اپنے تاثر کو بیان کروں تو وہ ہے ” کنفیوزڈ ” ۔ جدید سوچنے والا ذہن خصوصا مغربی ماحول میں رہنے کے بعد عملا دہریہ بن چکا ہوتا ہے ،چاہے بظاہر کتنا پختہ مسلمان نظر آئے ۔ وہ رسل اور ڈکنز کے زیر اثر ہے ۔ اس میں جہاں مذہبی بیانیہ کے کنفیوزڈ ورژنز ( Confused Versions ) کا عمل دخل ہے وہیں مذہب کی غیر ضروری بحثوں کا بھی حصہ ہے جو ہر معاملہ میں مذہب کو داخل کرنے سے پیدا ہوتی ہیں۔ معاشرتی جبر جو مذھب سے پھوٹتا ھے اس کا عنصر اگر شامل ھے تو دوسری طرف اس دباو کا بھی جو بوسیدہ روایت سے جنم لیتا ھے ۔ اس نشست سے واضح ہوا کہ آ ج کے نوجوان کو جدید معاشرتی تقاضوں اور روایات کے درمیان تطبیق کے لئے کن مشکلات کا سامنا ھے اور اس توازن کو قائم کرنے کا شعور بھی رکھتا ھے وہ ۔ سیکس اور شراب سب سے بڑے موضوع ھیں ۔ انتہا پسندی اس کی فطرت کے خلاف ھے ۔ اس کے دل میں مذھب ، فلسفہ اور سائنس سب میں مہارت کی خواہش امڈتی ھے جب ان تینوں کو علمی دنیا میں برتری کی کشمکش میں مبتلا دیکھتا ھے ۔ وہ انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کے بعد فقہ میں بھی پی ایچ ڈی کرنا چاھتا ہے ۔ میں نے کہا آپ کے پاس کافی عمر پڑی ہے ۔ پہلے اپنی فیلڈ میں مہارت حاصل کر لیں پھر بعد میں جو مرضی پڑھتے رھئے گا ۔ ہر چیز پر سوال اس کی عادت بن چکی ہے اور یہ قابل قدر بات ہے ۔ وہ حساس سے حساس موضوع پر کھلے عام بحث کرنا چاھتا ہے ۔ اسی لئے وہ خوش اور مطمئن ہوا کہ کسی نے اس کے شبہات کو تسلی سے تفصیل سے سنا ۔ ہر چیز کو ایک خاص پیراڈائم میں دیکھتا ہے ۔

مغرب میں علم دوست ماحول پایا جاتا ہے اور وہاں کم عمری آپ کی بات کو بے وزن کرنے کا باعث نہیں بنتی ۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ یہاں تحقیق پر دیگر امور کو اہمیت دی جاتی ہے اور اسی لئے بجائے کوئی تحقیقی کام لینے کے ایسے قابل نوجوانوں کو روزمرہ کے انتظامی مسائل میں ضائع کر دیا جاتا ہے ۔ مزید المیہ یہ کہ ان کی تحقیق کو اپنے نام سے شائع کر کے بد دیانتی اور حوصلہ شکنی کی جاتی ہے جس سے وہ اپنا مستقبل اس ملک سے وابستہ کرنے سے انکار کر دیتا ہے ۔ گفتگو کا محور مذہب کی مابعد الطبیعات اور جدید اسلامی فکر رھا ۔ جدید سیاسیات اور اسلام کا فلسفہ حلال وحرام بھی۔ یہ جدید ذہن فنون لطیفہ، خواتین و اقلیتوں کے حقوق اور آزادی کی قدر کے متعلق بہت حساس ہے۔ ان معاملات پر مطمئن کیے بغیر آپ اس کو دین اسلام کے فطری دلائل کی طرف بھی راغب نہیں کر سکتے۔ معقولیت کا راستہ اپنائے بغیر فلسفہ مذہب پر بھی قائل نہیں کر سکتے۔ روایتی منطق ان کو اطمینان دلانے سے عاجز ہو چکی۔ نئے دور کا تقاضا ہے کہ نئے دلائل دیے جائیں۔ یہ دلائل جدید سماجی علوم کا کماحقہ احاطہ کیے بغیر ممکن نہیں کہ آج کا علم و عقل تہذیب کی چکا چوند سے متاثر ہے۔ تہذیب مغرب کے مقابلے میں تین طرح کے ردعمل اکتیار کیئ جا سکتے ہیں اس تناظر میں۔ ایک کلی انکار اور مخالفت جس کا کوئی فائدہ نہیں الٹا نقصان ہے اور اکثر معاملات میں اس کا اثر متضاد نکلنے کی امید ہے۔ دوم اس کو کلی طور پر ماخذ خیروشر سمجھ کر اس میں ضم ہو جانا۔ ایسا ہمارے خارجی مجموعی ماحول کے بلکل برعکس ہے اور عملا دو رخی و منافقت کو جنم دینے والا رویہ ہے۔ واحد قابل عمل حل اپنی روایت کی حدود کو پہچانتے ہوئے اس میں مجتہدانہ بصیرت سے وسعت پزیری کے عمل کو مہمیز دینا ہے۔ معقولیت پر جانچ کر اس پر جدید ذہن کا اعتماد بحال کرنا ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو الحآد کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا۔ آج کا ذہن اندہے ایمان پر یقین نہیں کرتا کیوں کہ لمحہ بھر میں دنیا کے سب سوال اس کے سامنے آموجود ہوتے ہیں انفارمیشن دورمیں۔ مثال کے طور پہ اس نے بتایا کہ مجھ سے وہاں یہ پوچھا گیا حضور ﷺ کی رسالت کی صداقت کی کیا دلیل ہے تمھارے پاس ۔ تو اس کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور یہاں بھی کوئی نہیں دے سکا۔ میں نے کہا اس کا جواب تو بڑا آسان ہے ۔ کسی بھی شخص کے فن کی صداقت و مہارت اس کی ایجاد سے ناپی جاتی ہے ۔ اس بات پر مشرق و مغرب میں سب متفق ھیں کہ یہ وہی قرآن ہے جو حضور ﷺ نے دنیا کو دیا ۔ اس پر بھی اتفاق ہے کہ اس قرآن میں کوئی تبدیلی نہیں ھوئی اور اس کا کلام ایک معجزہ ہے ۔ کتاب کی صداقت جب مسلم ہے تو صاحب کتاب کیسے جھوٹا ھو سکتا ہے ۔ یہ بات اس کو اپیل کر گی ۔ پس یہ لازم ہے کہ ہم ان کے ذہنی سانچے کو سمجھیں اور اس سے متعلق کھل کر گفتگو کریں۔

 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: