صدقہ خیرات اور مستحقین ۔۔۔۔۔۔۔۔ بشارت حمید

0
  • 16
    Shares

ایک حدیث مبارکہ میں روایت ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالی فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تو تو نے میری عیادت نہیں کی، انسان کہے گا: اے میرے رب! میں کیسے تیری عیادت کرتا جب کہ تو خود ہی سارے جہاں کا پالنہار ہے؟ اللہ تعالی فرمائے گا: کیا تجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا لیکن تم اس کی عیادت کو نہیں گئے، کیا تمہیں یہ علم نہیں تھا کہ اگر تم اس کی عیادت کرتے تو مجھے اس کے پاس پاتے۔

اے آدم کے بیٹے! میں نے تجھ سے کھانا مانگا تھا لیکن تم نے مجھے کھانا نہیں کھلایا، وہ بندہ کہے گا: اے میرے رب میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا جب کہ تو خود ہی تمام دنیا کا پالنہار ہے؟ اللہ تعالی فرمائے گا: کیا تمہیں معلوم نہیں تھا کہ میرے فلاں بندے نے تم سے کھانا مانگا، اگر تم نے اسے کھانا کھلایا ہوتا تو اس کا اجر وثواب میرے پاس پاتے۔

اے آدم کے بیٹے! میں نے تجھ سے پانی طلب کیا تھا تم نے مجھے پانی نہیں پلایا؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! میں تجھے کیسے پانی پلاتا تو تو خود رب العالمین ہے؟ اللہ تعالی فرمائے گا: تجھ سے میرے فلاں بندے نے پانی مانگا تھا مگر تم نے اسے پانی نہیں پلایا، کیا تمہیں علم نہیں تھا کہ اگر تم اس کو پانی پلادیتے تو اس کے اجر وثواب کو میرے پاس پاتے۔

یہ بھی پڑھیے: ملک ریاض، کامیابی، ناکامی اور پارسائی —- عاطف حسین

 

ہمارے دین کی تعلیمات میں، دوسرں پر اپنے مال خرچ کرنے کی بہت ترغیب دی گئی ہے اور اس کو ہر ممکن حد تک اخفا میں رکھنے کو کہا گیا ہے کہ جس کو دیا جا رہا ہے کہیں اس کی عزت نفس مجروح نہ ہونے پائے۔ یہاں تک فرمایا گیا ہے کہ ایک ہاتھ سے دو تو دوسرے ہاتھ کو پتہ نہ چلے اور اللہ کی راہ میں دئیے گئے مال کا ڈھنڈورا مت پیٹو۔ ایک اور حدیث مبارکہ میں روایت ہے کہ قیامت کے دن اللہ کے دربار میں ایک مالدار سخی کو لایا جائے گا اور اللہ اس سے پوچھے گا کہ دنیا سے کیا لائے ہو۔ وہ کہے گا کہ اے میرے رب میں نے ساری زندگی اپنا مال تیرے نام پر خیرات میں دیا اس لئے کہ تو راضی ہو جائے۔ اللہ فرمائے گا کہ تو جھوٹا ہے تو نے اپنا مال اس لئے خیرات میں دیا کہ لوگ تجھے سخی کہیں اور یہ دنیا میں کہا جا چکا۔ لہٰذا اب یہاں تمہارے لئے کچھ نہیں ہے۔

ہم اپنا جائزہ لیں کہ ہم اگر کچھ اللہ کے نام پر دیتے ہیں تو ہمارا رویہ کیسا ہوتا ہے۔ سب سے پہلے تو ہم سائل کا شجرہ نسب جاننا چاہتے ہیں پھر اس کا ذریعہ آمدن اور رہن سہن گھر بار اور پتہ نہیں کیا کیا معلوم کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اس تسلی کے لئے کہ آیا وہ واقعی مستحق ہے بھی یا نہیں۔ پھر اگر وہ ہمارے خیال کے مطابق مستحق ہونا ثابت کر دے تو بھی ہم بہت احسان چڑھا کر کچھ دیتے ہیں اور بعد میں بھی اس کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں کہ وہ کہاں خرچ کر رہا ہے۔ دوسری جانب ہم کسی ہوٹل کے ایک کھانے میں چاہے ہزاروں روپے بنا سوچے سمجھے اڑا دیں تو کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔

مصارف زکات میں جو مدات قرآن مجید میں بیان کی گئی ہیں ان میں ایک مسافر بھی ہے، حدیث میں یہا ں تک ارشاد ہے کہ اگر کوئی مسافر اعلیٰ لباس پہنے ہوئے ہی کیوں نہ ہو ، چاہے اعلیٰ نسل کے عربی گھوڑے پر سوار ہی کیوں نہ ہو، اگر وہ تم سے سوال کرے تو اسے بھی دو، کیا معلوم سفر میں اس کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ گیا ہو یا اس کی رقم چھن گئی ہو۔ قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر لوگوں کے اموال میں سائل اور محروم کے حق کو بیان فرمایا گیا ہے۔ کہیں بھی سائل کی تعریف یہ نہیں کی گئی کہ پہلے اسکی تحقیق کرو کہ واقعی وہ ضرورت مند ہے یا نہیں۔ سائل ہر سوال کرنے والے کو کہتے ہیں چاہے وہ ہماری نظر میں مستحق ہے یا نہیں ہے۔ ہمارا مزاج اکثر یہ ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ کسی کو دیتے ہیں اسے خرچ بھی اپنی خواہش کے مطابق کروانا چاہتے ہیں ورنہ ہمارے خیال میں چیریٹی کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔

اب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ کیا مانگنے والا مستحق ہو تب ہی اسے دیا جائے۔ دیکھئے ہمارا یہ ایمان ہے کہ اللہ روز قیامت اپنی رحمت کے ساتھ ہماری بخشش فرمائے گا۔ لیکن اگر اللہ عدل کرنا چاہے تو کیا میں اور آپ اس قابل ہیں کہ ہمارے اعمال نامے میزان عدل پر تولے جائیں اور پھر ہمارے نیک اعمال زیادہ ہو جائیں۔ ہرگز نہیں۔ تو ہم وہاں عدل کئے جانے کی خواہش کریں گے یا پھر اللہ کی رحمت کے امیدوار ہوں گے۔۔۔؟

جب ہم اس روز جنت کے مستحق ہی نہیں بنیں گے تو پھر عدل کا تقاضا تو یہی ہے کہ میزان کے رزلٹ کے مطابق ہمارے ساتھ معاملہ کیا جائے لیکن ہم میں سے کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ ہم اپنے اعمال کے مطابق جس جزا یا سزا کے مستحق ہیں وہی ہمیں دی جائے۔ تو پھر اللہ کی راہ میں کچھ دیتے وقت اتنی تحقیقات کہ لینے والا مستحق ہے یا نہیں چہ معنی دارد۔۔۔؟ ہم تو اللہ کو راضی کرنے کے لئے دے رہے ہیں اگر لینے والا مستحق ہوا تو بہت اچھی بات۔ اگر اس نے جھوٹ بول کر کچھ مال لے بھی لیا تو اس کا وبال اسی پر آئے گا دینے والے کو اس کی نیت کا اجر مل کر رہے گا۔

یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ میرا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ مانگنے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ سوالی بننا بذات خود ایک پسندیدہ عمل نہیں ہے لیکن اگر کوئی سوالی ہمارے پاس آ ہی گیا ہے تو اس کو حسب توفیق جو دے سکتے دے دیا جائے اور اگر نہیں دے سکتے تو اچھے طریقے سے معذرت کر لی جائے کہ قرآن مجید کی تعلیم یہی ہے۔

کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جو بھی صدقہ خیرات کرنا ہے ساتھ تصاویر اور ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر بھی نشر کرنی ہیں یہ سوچے سمجھے بغیر کہ لینے والے کی بھی کوئی عزت نفس ہے اس کے دل پر کیا بیتے گی۔ یہ تو اللہ کے لئے دے کر اپنی نیکی برباد کرنے والا طرزعمل ہے کیونکہ اس میں ریاکاری کا عنصر شامل ہو جاتا ہے۔ اگر تو اللہ کی راہ میں کچھ دیا ہے تو اللہ کو اس تشہیر کی کوئی حاجت نہیں ہے وہ بخوبی جانتا ہے کہ کون کس نیت سے دے رہا ہے ہاں البتہ اگر کسی پر احسان چڑھایا ہے یا مستقبل میں کوئی بدلہ وصول کرنے کے لئے دیا ہے تو پھر یہ نیکی نہیں ہے بلکہ سودا بازی ہے۔

پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر بھی بہت شور مچا کہ لوگوں نے اپنی مجبوریاں بتا کر بیرون ملک رہنے والوں سے پیسے مانگے اور پھر عیاشیاں کرتے نظر آئے۔ میری ذاتی رائے میں دینے والے کو اس کی نیت کا اجر ملنا ہے یہ ہماری ذمہ داری نہیں کہ لینے والا ان پیسوں کا کیا کرتا ہے۔ اگر وہ غلط استعمال کرے گا تو اس کا وبال اسی پر آئے گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: