سیاسی پیش گوئیاں: احسان اخوندزادہ

0

گزشتہ سال جون کے مہینے میں جب ڈاکٹر علامہ طاہر القادری نے موجودہ وفاقی حکومت پر دوسری جبکہ بحیثیت مجموعی ملک کے جمہوری نظام پر تیسری مرتبہ چڑھائی کا اعلان کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت آخری سانسیں لے رہی ہے اور یہ رواں سال ستمبر سے آگے نہیں جائے گی‘۔ انہی کے ہم نوا پاکستانی سیاست کے ایک اور کھلاڑی شیخ رشید نے کہا تھا کہ 2016ء موجودہ حکومت کا آخری سال ہے 2017 شروع ہوچکا  ہے اور اس سال کے آخر تک بھی حکومت کی چھٹی کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔ مذکورہ دونوں صاحبان (اور کئی دیگر سیاسی کھلاڑیوں کا بھی ) موجودہ حکومت کی قبل از وقت رخصتی سے متعلق پیش گوئیاں کرنا معمول کی بات ہے۔ ڈاکٹر قادری نے 2014ء کے وسط میں بھی یہ کہا تھا کہ یہ حکومت کا آخری سال ہوگا جبکہ شیخ رشید کی ’قربانی سے پہلے قربانی ‘ کی بڑھک بھی سب کو یاد ہے جس کا مطلب تھا کہ 2014ء میں بڑی عید سے قبل ہی حکومت رخصت ہو جائے گی۔ مذکورہ دونوں راگ 2014ء کے وسط میں اُس وقت الاپے گئے تھے جب پاکستان عوامی تحریک اورتحریک انصاف کے حکومت مخالف احتجاج نے زور پکڑنا شروع کیا تھا۔ یہ دونوں راگ کئی ماہ تک میڈیا کیلئے نشریات کا پیٹ بھرنے کا سامان فراہم کرتے رہے لیکن جب نہ تو اگست 2014ء موجودہ وفاقی حکومت کا آخری مہینہ ثابت ہوا اور نہ ہی قربانی سے پہلے قربانی ہو ئی بلکہ پی اے ٹی اور پی ٹی آئی کے دھرنے وابستہ توقعات کی تکمیل میں ناکام ہوتے نظر آئے تو مذکورہ سیاسی نجومیوں کو شدید خفت کا سامنا کرنا پڑا یہ خفت مٹانے ‘اپنی ناکامی کا سامنا کرنے سے بچنے اور خود کو میڈیا میں ’ان‘ رکھنے کیلئے انھوں نے ’2015 انتخابات کا سال ہو گا ‘ کے شوشے کا سہارا لیا۔ میڈیا ہاؤسز جو اکثر سیاسی نجومیوں کے اقوال کا تعاقب کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے وقت کئی اہم قومی معاملات نظر انداز کر دیتے ہیں، کئی ماہ تک اس مو ضوع پر بھی طبع آزمائی کرتے نظر آئے۔

اس عمل سے یقیناً وہ وقت ضائع ہوا جو عوامی مفاد کے دیگر ایشوز کو اجاگر کرنے میں خرچ کیا جاسکتا تھا۔ جب2015ء بھی انتخابات کا سندیسہ لائے بغیر گزر گیا تو سیاسی نجومیوں کو نئی پیش گوئیوں کیلئے تازہ موقع کی فکر لاحق ہوئی یہ موقع انہیں پانامہ لیکس نے فراہم کر دیا اور وہ سابقہ شرمندگیوں کے داغ دھونے کیلئے 2016ء کو حکومت کی رخصتی کا سال قرار دینے لگے۔ اب جبکہ 2016ء بھی انکی خواہشات کو تکمیل کی منزل دئیے بغیر رخصت ہو گیا ہے تو انہوں نے2017ء کو انتخابات کا سال قرار دینا شروع کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ڈاکٹر قادری ‘شیخ رشید اور انکے ہم نواؤں کے اقوال کو بنیاد بنا کر میڈیا پر ہیجان انگیز تبصروں اور تجزیوں کا سامان کرنا درست ہے؟ کیا ان عناصرکو نیوز چینلز پرغیر ضروری طور پر وقعت دینے کے بجائے ان سے گریز کی پالیسی اختیار نہیں کی جانی چاہیے؟ میڈیا اداروں کے منتظمین کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا سیاسی نجومیوں کے کہے سے متاثر ہو کر انکے اقوال کو تجزیوں و تبصروں کا محور بنانا اورغیر یقینی صورتحال پیدا کرنے میں حصہ ڈالنا قومی مفاد میں ہے یا پھر ان عناصر کی حوصلہ شکنی کرنا لازم ہے؟ پاکستان میں جمہوریت کی بقاء واستحکام کا تقاضا ہے کہ قیاس آرائیوں کی بنیاد پر غیر یقینی صورتحال کی آبیاری کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

اس سلسلے میں میڈیا اداروں کے منتظمین کو اتفاق رائے سے واضح پالیسی اختیار کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ دوسری جانب تمام جمہوریت پسند سیاسی قوتوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ باہمی اختلافات اور سیاسی ٹکراؤ کی کیفیات میں بھی ایسے عناصر کو حاوی نہ ہونے دیں جن کی دال صرف غیر جمہوری ادوار حکومت میں گلتی ہے اور جو ہمہ وقت جمہوریت کو غیر جمہوری سیٹ اپ کی جھولی میں ڈالنے کیلئے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ جمہوریت کی بقاء و استحکام کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ پارلیمنٹ کے راستے موجودہ جمہوری نظام میں موجود خامیوں کی اصلاح اور اس حوالے سے پائی جانے والی قباحتوں کے خاتمے کو اولیت دی جائے اس سلسلے میں پارلیمنٹ سے نئی قانون سازی اور موجودہ قوانین میں اصلاح کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھانا ناگزیر ہے۔ پچھلے دور حکومت میں جس طرح 18ویں ترمیم نے جمہوریت کو تقویت پہنچائی اسی طرح موجودہ دور حکومت میں جامع انتخابی اصلاحات کا تعین اور انھیں آئینی حیثیت دینا جمہوریت کی جڑیں مضبوط کر سکتا ہے لہٰذا اس فرض کی تکمیل کوپارلیمانی ترجیحات میں اولیت دی جانی چاہئے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: