دل والے صحافیوں کی تلاش — حافظ شفیق الرحمن

0
  • 17
    Shares

آزاد صحافت، آزاد معاشروں اور مملکتوں کے وجود میں دھڑکتے دل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ تو ہرکوئی جانتا ہے کہ کسی بھی سانس لیتے وجود کی حیات کا دار و مدار دل ہی پر ہوتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا ”یاد رکھو! انسانی وجود میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے، جب وہ ٹھیک ہوتا ہے تو پورا وجود ٹھیک رہتا ہے اور جب اس میں کوئی خرابی پیدا ہوتی ہے تو پورا وجود اضمحلال و اختلال کی زد میں آ جاتا ہے، یاد رکھو! وہ دل ہے“….دبستان لکھنو کے ایک عظیم شاعر انیس لکھنوی نے انسانی وجود میں دل کی حیثیت کا تعین کرتے ہوئے کیا خوبصورت بات کہی تھی:

اعضاءسب مفلوج ہوئے اک دل کے شہادت پانے سے
فوجوں میں تلاطم برپا ہے سالار کے مارے جانے سے

شاد عظیم آبادی نے تو دل کے حوالے سے ایک ایسی بات کہی جو ہر اہلِ دل کے دل میں تیر کی طرح ترازو ہو جاتی ہے:

فیصلہ ہوتاہے نیکی و بدی کا ہردم
دل کو اس جسم میں چھوٹی سی عدالت سمجھو

ایک عارف بااللہ درویش سے کسی مستفسر نے یہ جاننا چاہا تھا کہ وہ کونسے کام ہیں جنہیں ہم نیکی کے زمرے میں شمار کر سکتے ہیں اور وہ کونسے امور ہیں جو بدی کے دائرے میں شامل ہیں؟مزید برآں اس نے یہ سوال بھی کیا تھاکہ نیک اور بد امور کے مابین امتیازی تعین کرنے کے لیے کونسا مفتی ہے، جس سے رجوع کیا جا سکتا ہے؟ یہ سوالات سن کر درویش کے کشادہ نورانی چہرے پر ایک ملکوتی مسکراہٹ کا دودھیا اجالا پھیل گیا۔ ہونٹوں کو جنبش ہوئی اور فرمایا

”اس باب میں کسی مفتی کے پاس جانے کی ضرورت نہیں، خدا نے ایک مفتی ہر انسان کے سینے کے اندر بٹھارکھا ہے، یہ دل ہے۔ جب کوئی ایسا معاملہ درپیش ہو کہ تم نیک و بد کے درمیان تمیز نہ کر پاؤ تو سینے میں چھپے بیٹھے اس مفتی سے رابطہ کرو“۔

بات آزاد صحافت کی ہو رہی تھی، تو صاحبو! آزاد صحافت وہی ہو گی جو قارئین کو آزادی اور خصوصاً دل کی آزادی کا پیغام دے گی۔ مرشد اقبال نے کہا تھا کہ دل کی آزادی شاہی ہے اور شکم کی آزادی سامان موت۔ آزاد صحافت کا علمبردار قلم کارجب بھی قلم اٹھاتا ہے، قارئین کے دلوں میں خیر،خبر، راستی، روشنی،آزادی اور شعور کی دھڑکنوں کو بیدار کرنے کوشش کرتا ہے۔ اس کی نگارشات اور تحریریں بلاشبہ اعجاز ِمسیحائی کا کام کرتی ہیں۔ مسیحائی کے لیے دل کا بیدار اور ضمیر کا زندہ ہونا ضروری ہوتا ہے۔قلب ِبیدار اور ضمیرِ زندہ کے حامل قلم کاروں اور صحافیوں ہی کی تحریروں میں وہ کرامت خیز استعداد اور اعجاز آفریں اہلیت ہوتی ہے کہ انہیں پڑھتے ہوئے بے پرمخلوق اپنے بازوؤں میں بالِ جبریل کی اڑانوں کو پھڑکتا محسوس کرتی،سرمہ در گلو بے نواؤں کو معنویت سے محروم اپنی صداؤں میں بانگِ درا کی معنی خیزی پرتولتی نظر آتی اورکچلے، پسے اور مسلے ہوئے مفلوج طبقات اپنے دست و بازو میں ضربِ کلیمی کے ہمہموں اور دبدبوں کو انگڑائیاں لیتا دیکھتے ہیں۔

اگر یہ سچ ہے کہ آزاد صحافت معاشرے کی نبض ہوتی ہے تو یہ بھی جھوٹ نہیں کہ اس کی ڈوبتی ابھرتی ضربیں اور پھڑکنیں معاشرتی جوار بھاٹے کی عکاس ہوتی ہیں۔۔۔ آزاد صحافت قارئین کے سامنے حالات و حقائق کی حقیقی تصویر پیش کرتی ہے۔۔۔ ایک ایسی سچی تصویر جو کیمرہ اپنی آنکھ سے دیکھتا، سینے میں محفوظ کرتا اور صفحہ قرطاس پرمن و عن منتقل کر دیتا ہے۔ صحافت کیمرہ کی طرح معاشرتی، سیاسی اور معاشی صورت حال کی نقاش ہوتی ہے۔

صحافت کے لفظ سے قریب ترین لفظ صحیفہ ہے۔ صحیفہ اس الہامی سچائی اور ابدی صداقت کا نام ہے جس میں بال برابر اور رتی بھر جھوٹ کی گنجائش نہیں ہوتی۔ گویا ایک سچا صحافی معاشرہ کے سامنے سوفیصد سچائی اور صداقت کو پیش کرنے کی حتیٰ المقدور کوشش کرتا ہے۔ صداقت اور صحافت کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ صحافت سے جب صداقت کی لطافت روٹھ جائے تو وہ کثافت بن جاتی ہے۔ جس معاشرے میں الفاظ کا آبگینہ بھی کثافت آلود ہو جائے، وہاں ہر چہرہ اور ہر قدر گرد آلود ہو جایا کرتی ہے۔ وہ صحافی جو اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ صحافت صحیفوں کی طرح تقدس مآب ہوتی ہے ان کے ہاتھ اور قلم کبھی غلاظت سے آلودہ نہیں ہوتے۔

آسمانی صحیفہ ہو یا زمینی صحافت دونوں ہمیشہ سے حریت فکر اور حریت اظہار کے نقیب رہے ہیں۔ دونوں انسانوں کو تاریک پستیوں سے اٹھا کر روشن بلندیوں کو چھونے کا درس دیتے ہیں….دونوں شرف انسانیت اور احترام آدمیت کے داعی ہیں….دونوں ممولوں کو شہبازوں پر جھپٹنے پلٹنے اور پلٹ کر جھپٹنے کا پیغام دیتے ہیں….دونوں فرشی طبقات کی سربلندی اورسرفرازی کے لیے ”عرشی طبقات“ کے دامن کو حریفانہ کھینچنے سے دریغ نہیں کرتے۔

برصغیر میں بے باکانہ اردو صحافت کی بنیادیں مدیر الہلال مولانا ابو الکلام آزادؒ نے رکھیں۔ مولانا مرحوم کے سیاسی افکار سے اختلاف کے باوجود ان کا کوئی بدترین دشمن بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ برطانوی عہد ملوکیت میں جب برصغیرکے محکوموں کے لیے سانس لینا بھی سزا تھا۔ جب کچھ کہنے سے پہلے ہی دل، خون ہو جاتا تھا۔ جب سچ کہنے پر زبان کٹتی اور حق لکھنے پر ہاتھ قلم ہوتے تھے۔ اس دور استبداد میں مولانا نے انتہائی جگرداری، بسالت اور شجاعت کے ساتھ ”الہلال“ کے صفحات پر اظہارِ صداقت کے جاودانی نقوش ثبت کئے۔ سچ لکھتے ہوئے ان کے قلم پر کبھی لرزش طاری نہیں ہوئی۔ جلال خسروی کو وہ پاؤں کی ٹھوکر پر رکھا کرتے۔ مولانا صرف خالی خولی صحافی ہی نہیں تھے بلکہ وہ بلااشتباہ عصر حاضر کی ایک عظیم نابغہ اور عبقری شخصیت تھے۔ غیر ملکی غاصب حکمرانوں کی ستم کاریوں کے چہرے پر پڑے مکر و ریا کے نقابوں کو وہ اپنے قلم کی نوک سے اس شیر دلی کے ساتھ نوچا کرتے کہ ادب و صحافت کا کوئی طالب علم آج بھی جب اپنے خلوت خانہ خیال میں ان کی جرا ت مندانہ تحریروں کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کو اپنے رگ و پے میں بجلیاں سی دوڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ وہ حیران ہوتا ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد ہڈسن زادوں اور کلائیو زادوں کے عہد جفاپیشہ میں کیونکر اپنی فگار انگلیوں اور خوں چکاں قلم کو خونِ دل میں ڈبو کر حکایاتِ جنوں خیز لکھنے میں کامیاب ہوئے؟

بلاشبہ آزاد، ابوالکلام بھی تھے اور ابوالقلم بھی اور اس پر مستزاد یہ کہ انہیں غلام ہندوستان میں اپنے ”آزاد“ ہونے پر اصرار تھا۔ غلامی کے دور میں یہ اصرارغیر ملکی حاکمانِ وقت کے نزدیک کوئی معمولی جرم نہ تھا۔ وہ اسے ایک سنگین اور ناقابل معافی جرم قرار دیا کرتے تھے۔ یہ جرم ہی نہیں تھا بلکہ بغاوت تھی۔ مولانا نے بیسیوں مرتبہ بغاوت کے مقدمات کا سامنا کیا۔ یہ جرم وہ بتکرار کرتے رہے اور عمداً کرتے رہے۔

گفتارٍ صدق مایہ آزار می شود
چوں حرفِ حق بلند شود دارمی شود

اسی دور میں رئیس المتغزلین مولانا حسرت موہانی اردوئے معلیٰ کا علم لہراتے ہوئے میدان میں اترے۔ مایہ ِ ِ آزار قرار دی جانے والی گفتارِ ِ صدق اور داربن جانے والے حرفِ حق کو انہوں نے زندگی بھر اپنا شیوہ و شعار بنائے رکھا۔ اس جرم کی پاداش میں رنجیر و تعزیر، صلیب و سلاسل اور طوق و قفس کے دشت کی سیاحی بارہا ان کا مقدر بنی۔

اس شبِ تاریک میں مولانا محمد علی جوہرؒاپنی ہتھیلیوں پر ”ہمدرد“ اور ”کامریڈ“ کی مشعل لے کرنکلے۔ انگریزی اخبار ”کامریڈ“ میں چھپنے والے ان کے مضامین کی دھومیں وائسریگل لاج دہلی سے بکنگھم پیلس لندن تک پہنچیں۔ انہیں انگریزی اور اردو بیک وقت دونوں زبانوں پر یکساں قدرت کاملہ حاصل تھی۔ اگر انگریزی ان کے ہاتھ کی چھڑی تھی تو اردو جیب کی گھڑی۔ ایک مرتبہ ایک انگریز نے ان سے پوچھاتھا ”مولانا آپ نے اتنی خوبصورت انگریزی کہاں سے سیکھی؟“ مولانا نے کھٹ سے جواب دیا ”ایک چھوٹے سے قصبے سے“۔ سوال کرنے والا بھونچکا رہ گیا۔ یکدم پوچھا ”مولانا، اس قصبے نام کیا ہے؟“ مولانا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ”آکسفورڈ “

آزادی صحافت کے باب میں مولانا ظفر علی خان کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ سنگین زیادتی ہوگی۔ انہوں نے آزادی صحافت کے چراغ کو سیاہ ترین حالات میں بھی اپنے خونِ جگر اور خونِ تمنا کے روغن ِناب سے روشن رکھا۔ وہ دور بھی آیا کہ ”زمیندار“ اور ”صداقت“ لازم و ملزوم تصور کئے جانے لگے۔ ”زمیندار“ پر بار بار پابندی لگتی، ضمانتیں ضبط ہوتیں، ڈکلریشن منسوخ ہوتے،جرمانے عائد کئے جاتے اور مولانا کو سوئے دار روانہ کر دیا جاتا۔ ”زمیندار“ اخبار کے ساتھ اس کے قاری کا رشتہ محبت اور عشق کارشتہ تھا۔ تاریخ میں اس قسم کی مثالیں الشاذ کالمعدوم ہیں کہ کسی اخبار کی ضمانت کی بحالی کے لیے اس کے قارئین اپنی گرہ سے زرضمانت فراہم کرنے کے لیے کمربستہ ہو جائیں۔ مولانا نے سچ کہا تھا :

کرانا ہو قلم ہاتھوں کو روداد ِجنوں لکھ کر
تو اس دور ِستم پرور میں میرا ہم قلم ہو جا

کالم کی تنگ دامانی آڑے آ رہی ہے وگرنہ آزاد اردو صحافت کے فروغ اور ارتقاءکے لیے آزادی سے قبل جن مجاہدینِ صحافت نے ناقابلِ فراموش اور تاریخی کردار ادا کیا ان میں سے ایک ایک کی محرابِ عظمت میں سرتسلیم خم کیا جاتا۔ مولانا عبدالمجید سالک، مولانا غلام رسول مہر، مولانا مرتضیٰ احمد خان میکش، مولانا چراغ حسن حسرت، اور مدیر ”چٹان“ آغاشورش کاشمیری اردو صحافت کے کے محسنوں میں سے ہیں۔ یہ سب سربکف اور کفن بردوش مجاہد تھے۔ قلم ان کی شمشیر، الفاظ ان کے تیر اور قرطاس ان کی ڈھال تھا۔ کوچہ صحافت کو وہ رزم گاہ ِحق و باطل تصور کیا کرتے تھے ان کی تحریریں عوامی جذبات کی ترجمان ہوا کرتیں۔ سرکار دربار اور بارسوخ افراد و اشخاص سے تعلقاتِ کار اور تعلقاتِ خصوصی استوار کرنے کے لیے انہوں نے کبھی ایک لفظ بھی نہ لکھا۔ وہ اسے قلم کی اہانت اور صحافت کی توہین سے تعبیر کیا کرتے۔

پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی

اُس دور میں صحافت جہاد کا درجہ رکھتی تھی اور صحافی مجاہد تھے اور ”آزاد منڈی“‘ کے اِس دور میں صحافت ایک بزنس، مالکان بزنس مین اور بیچارے صحافی بزنس پروموٹرز بن چکے ہیں….ایسے میں دل والے صحافی دل کے عارضے میں مبتلا نہ ہوں تو کیا ہو؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: