وائٹ ہاؤس کی چھت سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ شیراز دستی

0
  • 77
    Shares

امریکی صدی کی سولہویں بہار تھی۔ اس بہار کی ایک رنگ دار صبح میں وائٹ ہاؤس کے سامنے کھڑا تھا اور وہ اس کی چھت پر۔ میرے ہاتھ میں باراک اوباما نامی امریکی مصنف کی کتاب “امید کی جرأت” تھی۔ اس کے ہاتھ میں باراک اوباما نامی امریکی صدر کی بندوق تھی۔ میں معلم تھا، وہ سنائیپر۔ میرے پاس نظر تھی، اُس کے پاس نشانہ۔ میری نظر دلوں پر تھی، اس کا نشانہ سر تھے۔

“امریکی علم و عمل پر یقین رکھتے ہیں۔” میں نے سوچا۔ “اس ملک کے سائنس دانوں نے ہماری دنیا کا ایسا سنگھار کیا کہ اس کا روپ کائنات کی تمام دنیاؤں سے زیادہ سندر ہو گیا ہے۔ انہی کی وجہ سے خلا کی کئی مخلوقات ہمارے سیارے کی ایک جھلک دیکھنے کی غرض سے اپنے اپنے دوربین فروشوں کے سامنے قطار بنائے کھڑی ہوں گی۔ اس ملک کے دانش کدوں نے زلزوں کو دبوچا اور ان کے جھولے بنا ڈالے۔ وائرسوں کو پکڑا اور ان کی ویکسینیں بنا ڈالیں۔ سیلابوں کو انڈیلا اور ان سے سیراب سرزمینیں بنا ڈالیں۔ امریکہ کے تعلق اندیشوں نے طوفانوں کی سفینوں سے دوستی کرا دی، ہواؤں کی چراغوں سے، پانیوں کی آگ سے اور شور کی راگ سے۔ اس ملک کے سفر پیماؤں نے جہازوں کو گرجتے بادلوں پر لاد دیا۔ ریلوں کو سنگلاخ پہاڑوں میں دوڑا دیا۔ راستوں کو بپھرے دریاؤں میں اتار دیا۔ پھر بھی کہیں اندھیری راتوں کے سرگوشیاں کرتے کوچوں میں کسی عاشق کی مدہوشی کے آگے زمین اور زمان کے کسی فاصلے نے پھن اٹھایا تو ان عشق پروروں نے اسے موبائل نامی دستی برقیے کی مائیکروسم میں یوں بند کر کے رکھ دیا کہ فاصلہ بے وقعت ہو گیا اور عشاق کے قہقہے بے لگام۔” میں مسکرا دیا۔

“امریکی منصوبے اور موقعے پر یقین رکھتے ہیں-” وائٹ ہاؤس کی چھت پر کھڑے سنائیپر نے سوچا۔ “جارج واشنگٹن سے لے کر باراک اوباما تک میرے وطن کے سیاست دانوں نے ہماری دنیا کے نظام کو شطرنج کے ایک کھیل کے مانند کھیلا ہے۔ اب تو یہ کھیل اس قدر دل چسپ ہو گیا ہے کہ شطرنج کے بورڈ کے گرد دنیا بھر سے آئے ہزاروں پگ داروں کی قطاریں بن گئی ہیں۔ مہروں کی بھرتی کے عالمی مرکز میں آنے والے ان پگ داروں میں سے کسی کے ہاتھ میں ‘رُخ’ بننے کی عرضی ہے تو کسی کے دل میں ‘فیلا’ لگنے کی خواہش، کوئی ‘پیادہ’ بن کر صفِ اوّل میں چلنا چاہتا ہے تو کوئی ‘گھوڑا’ بن کرکونوں سے اچھلنا چاہتا ہے۔۔۔۔ ہمارے جرنیلوں نے اس زمین کو سرخ رنگ سے یوں سجا دیا کہ لغاتِ حق میں اس رنگ کو امریکی پرچم کا متبادل لکھ دینا چاہیے۔ ہمارے جنگی بیڑوں نے سمندروں کی پشت پر ایسی کنگھی کی کہ اب ان میں کسی اور ملک کی ‘بیڑیاں’ اتر کر دیکھیں تو فوراً یہ اَتھرے گدھوں کی طرح مچل اٹھتے ہیں۔ گذشتہ سو سالوں میں ہماری طاقت کی بجلیاں اتنی بار چمکی ہیں کہ کائنات کے آسمانوں نے اپنے ماتھوں پر “امریکہ” کندہ کروا لیا۔

ہمارے دہشت ساز ہر سال ایک کروڑ بندوقیں بناتے ہیں۔ ہمارے اسلحے کو یہاں جمع کر دیا جائے تو واشنگٹن ڈی سی میں ماؤنٹ ایورسٹ سے اونچی چوٹی اُگ آئے۔ باراک اوباما چاہے تو دنیا کے ہر کونے میں بہ یک وقت بموں اور گولیوں کی ایسی بارانِ غضب ہو کہ مارے شرم کے بادل اپنی کنپٹی پہ بجلیاں رکھ لیں اور برساتیں اپنی نسوں پہ تیز دھار ہوائیں پھیر لیں۔ مگر ہمارے سیاست دان رحم دل بھی تو ہیں نا۔” اس نے اپنے سامنے لگی گن پر ہاتھ رکھتے ہوئے سوچا۔

ایک لمحے کو اس کی بائیں آنکھ سکڑی اور بند ہو گئی۔ بندوق کی نالی نیچے ہوئی۔ اس کا آگ پرور منہ میری کتاب کے رو بہ رو ہو گیا۔ میری کتاب، جس میں آج صبح ہی کسی نے چیری کی گلابی پتیاں رکھی تھیں۔ ان پتیوں میں ہزاروں میل دور زمین کے ایک خالص خطے پر بسی ایک ان مول روایت رکھی تھی۔ میں ان پتیوں کو واشنگٹن میں موجود حیرت کے سیاحوں اور حکومتوں کے ہرکاروں کے درمیان بکھرتے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ سو میں نے کتاب کھولی، پھول نکالے اور قمیص کی اس جیب میں لا رکھے جو میرے دل کے عین اوپر تھی۔

اس نے آنکھ کھولی۔ ہاتھ ٹرگر سے ہٹا کر پتلون کی دائیں جیب میں ڈالا اور پھر جو نکالا تو اس کی مٹھی میں بھی چیری کی گلابی پتیاں تھیں۔ وہ پیچھے مڑا۔ دوربین اٹھائی اور گرد و پیش کا جائزہ لینے لگا۔ واشنگٹن مونومنٹ، لنکن میموریل، مارٹن لوتھر کنگ کا مجسمہ، انعکاسی تالاب، نیشنل میوزیم، پٹومک دریا، لائبریری آف کانگرس، کیپیٹول ہل، بھارتی چائے والا، چینی لڑکی اور اس کا امریکی دوست؛ سبھی اس کی بندوق سے بے نیاز تھے۔۔۔۔ اُس کی عمر کا ایک نوجوان جھوم جھوم کر گٹار بجا رہا تھا۔ اس کی انگلیاں گٹار کے تاروں کی ایسی سُرور بخش گُدگُدی کر رہی تھیں کہ تالاب کے پانی پر بیٹھی پتیاں لہک لہک کے مسکرانے لگیں۔۔۔۔ گٹار بجانا اس دنیا کے چند ایسے کاموں میں سے ایک تھا جنہیں آنکھیں بند کر کے کیا جا سکتا ہے۔
سنائیپر نے آنکھیں بند کر لیں۔

….x…

اس گٹار والے نوجوان سےتقریباً ایک صدی پیچھے امریکہ کی ایک دوشیزہ ایلزاسڈمور، ٹوکیو کے ایک خوب صورت پارک میں لیٹی واشنگٹن کے چیری بلاسم تہوار کا خواب بُن رہی تھی۔۔۔۔ ایک جہاز جاپان کی طرف سے تین ہزار بیس درختوں کا تحفہ لے کر بحر الکاہل کی بھاگتی لہروں پر سوار تھا۔۔۔۔ امریکہ کی خاتون ِاوّل ہیلن ٹیفٹ اور جاپانی سفیر کی اہلیہ وِسکاؤ نٹِس چِنڈا واشنگٹن میں چیری کے درخت لگانے کی مہم کا افتتاح کر رہی تھیں۔۔۔۔ جاپان کے دو شہروں میں آگ لگی ہوئی تھی۔
اُس کی آنکھیں کھل گئیں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹیکنالوجی کی مدح میں: اینڈریو او ہیگن. ترجمہ: محمد آصف

 

سامنے تیل کی ایک بڑی کمپنی کا مالک وائٹ ہاؤس کے قدمچے چڑھ رہا تھا۔۔۔۔ پیچھے سڑک پر ایک انتہائی شریر ملک سے جیب گرموا کر طاقت کا ایک نام وَر دلال اپنی گاڑی سے شرفا کی طرح اتر رہا تھا۔۔۔۔چوک میں کسی خفیہ ایجنسی کا ذہین اہلکار ایک سادہ لوح ٹیکسی ڈرائیور کا چہرہ پہنے ایک انتہائی سستا سِگریٹ پی رہا تھا۔۔۔۔کسی سفارت خانے کا ایک کارندہ کافی دیر سے اپنی پتلون کی دائیں جیب سے ہاتھ نکالنا بھولے کھڑا تھا۔۔۔۔سنائیپر کی بندوق کی نالی گھومی اور اس کا آگ پرور منہ سفارت کار کی جیب کے رو بہ رو ہو گیا۔
“ایک مرتبہ پھر پتیاں۔” اس نے ایک بار پھر آنکھوں کو دوربین کی بینائی دیتے ہوئے سوچا۔

….x…

چینی لڑکی کا امریکی دوست بھارتی چائے والے سے بھگتی چائے لینے چلا گیا۔

“امریکی تعلیم اور طاقت کے توازن پہ یقین رکھتے ہیں۔” اس کے چینی دماغ نے سوچا۔ “ان کی تعلیم میں عمل اور طاقت میں معاش کو تقدم حاصل ہے۔ ان کے پروفیسروں کے لفظ اپنی کاٹ میں دو دھاری تلوار سے آگے ہیں۔ ان کے کمانڈر پانیوں پر اور ہواؤں میں نت نئے بیانیے لکھنے میں بڑے بڑے مصنفوں کو مات دے گئے ہیں۔ ان کے معیشت دان اپنے ہندسوں اعداد و شمار سے انسانوں کی قسمت میں لکھا رزق بتانے میں ہند کے جوتشیوں کو پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ ان کے سائنس دانوں کی نظر یہاں سے تین سو ٹریلین لائیٹ سال دُور کی زمینوں پر ہے۔۔۔۔ اور اس پاکستانی شکل والے شخص کی میرے دل پر۔۔۔۔ “اس نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور پھر بھگتی چائے کا مزہ لینے لگی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: