وزیر اعظم صاحب ضد میں نقصان ہے — خرم شہزاد

0
  • 42
    Shares

وزیر اعظم عمران خان صاحب کے وہ تمام دعوے جو انہوں نے اپنی سیاسی جدوجہد کے دوران کئے تھے، اب کسی نہ کسی شکل میں وہ سب پایہ تکمیل پہنچائے جا رہے ہیں۔ خود وزیر اعظم اپنے گھر میں رہنے کے بجائے ملٹری سیکرٹری کے گھر میں جا بیٹھے ہیں اور اس گھر سے جڑی داستانیں اب آئے روز اخبارات اور میڈیا کی سکرینوں کی زنیت بنتی جا رہی ہیں۔ ویسے اگر عمران خان وزیر اعظم نہ بنتے تو کس کو پتہ چلنا تھا کہ پاکستان کے وزیر اعظم ہاوس کا کل رقبہ کتنا ہے، اس میں کتنے ملازم اور گاڑیاں ہیں اور کتنی بھینسیں بھی۔ ۔ دو صوبوں کے گورنر بھی اپنے گھر وں سے بے دخل ہیں اور ان کے گھروں میں ایک عام آدمی اپنی اوقات دکھاتے ہوئے گند ڈالنے کو آن موجود ہیں۔ گورنر ہاوس کو عوام کے لیے کھولنا یقینا ایک خوش آئیند قدم ہے کہ دنیا میں کئی سربراہان مملکت کی رہائش گاہیں عوام کے لیے کھولی جاتی ہیں لیکن دنیا کے باقی ممالک اور ہم پاکستانیوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ہم ستر سال سے ایک دوسرے کو کافر اور غدار بنانے میں مصروف لوگ ہیں جو اپنی ذات میں کس قدر گندے ہیں اس بات کا ثبوت دینے کے لیے لاہور گورنر ہاوس کے پہلے دن کی روداد ہی کافی ہے۔ میڈیا لوگوں کی خوشی تو دیکھا رہا تھا لیکن ان کا ڈالا ہوا گند کیمروں میں اس طرح سے جگہ نہ پا سکا جیسا کہ حق تھا اور وزیر اعظم صاحب شائد آپ کی کوششوں کے جواب کے لیے یہی ایک مثال کافی ہو گی۔ بھلے آپ عوام کو ریلیف دیں، ان کی بھلائی کے لیے اقدامات کریں لیکن ایک عام آدمی اور ریڈ زون میں جو فرق ہے اس کو ایک دن میں ختم کرنے کی کوشش کریں گے تو یہ لوگ اپنی اوقات بھول کر ایسے ہی گند پھیلائیں گے جیسا لاہور میں پھیلا گئے تھے۔ کیا یہ لوگ اپنی گھروں اور اپنی ذات میں بھی ایسے ہی گندے ہیں یا پھر یہ خصوصی اہتمام دوسروں کے لیے تھا۔ اسی اقدام سے جڑے ایک اور سوال نے مجھے پریشان کر رکھا ہے کہ اب گورنر ہاوسز کو میوزیم میں بدلنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ میرا پوچھنا یہ ہے کہ آپ کے پاس کوئی سمجھدار بندہ نہیں جو مشورہ دے سکے یا مستقبل کی یہ بدنامی آپ خود اپنے شوق سے مول لینا چاہ رہے ہیں۔

وزیر اعظم اور گورنر ہاوس حکومت پاکستان کی ملکیت ہوتے ہیں اور یہ کسی ایک شخص کی ذاتی جاگیر نہیں ہوتے، نہ ہی اس ایک شخص نے اتنے بڑے محل میں دندناتے پھرنا ہوتا ہے۔ آپ بھلے سادگی اور کفایت شعاری کے اعلانات کریں لیکن مجھے میری ناقص عقل یہ سمجھانے سے قاصر ہے کہ گورنر اگر گورنر ہاوس میں نہ رہے گا تو اس سے کس قدر بچت ممکن ہو سکے گی۔ ایک وقت کا وزیر اعظم اگر خود ایک محل میں نہیں رہ رہا تو لوگوں میں محل تک پہنچنے کی آرزو کیسے جاگے گی۔ آپ کو اپنا نقطہ نظر بدلنے کی ضرورت تھی اور آپ منظر بدلنے میں لگ گئے۔ چلیں خیر اب یہ بھی تو ہو ہی گیا ہے لیکن میرے کچھ سوال ہیں۔

آپ نے سدا وزیر اعظم نہیں رہنا اور ان گورنروں نے سدا گورنر نہیں رہنا۔ وزیر اعظم ہاوس ایک یورنیورسٹی میں بدل چکا ہے اور گورنر ہاوس میوزیم میں تبدیل ہو چکے ہیں، لیکن اگر اگلی آپ کی حکومت نہ آئی تو ان عمارتوں کی یہی قانونی حیثیت رہے گی اس بات کی کیا ضمانت ہے۔

وزیر اعظم ہاوس کو یونیورسٹی میں بدلنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ کرسیاں صوفے ایک طرف کئے اور لڑکے لڑکیاں پڑھنے کے لیے آ گئے۔ ایک یونیورسٹی کے منصوبے سے لے کر اس کے افتتاح تک بہت سے مراحل موجود ہوتے ہیں وہ سارے راتوں رات تو طے نہیں کئے جا سکتے، پھر اس تمام عرصے کے لیے اس عمارت کا کیا استعمال ہو گا۔

چلیں راتوں رات سارے مراحل مکمل ہو گئے اور ایک ماہ میں یونیورسٹی کا افتتاح ہو گیا، تو کیا ضمانت ہے کہ آنے والی حکومت اور نیب اس سارے پراسس کی شفافیت پر سوال نہیں اٹھائے گی اور اس سارے عمل میں خلوص انہیں بھی دیکھائی دے گا۔

وزیر اعظم اور گورنر ہاوسز میں اس وقت لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کا سامان پڑا ہوا ہے جو کہ پردوں اور صوفوں سے لے کر پینٹنگز اور جانے کیا کچھ پر مشتمل ہے، اس سارے کا کیا ہو گا۔ چلیں ایک بار پھر مان لیتے ہیں کہ آپ بڑی شفافیت سے سارے سامان کی لسٹ بنواتے ہیں اور اس کی نیلامی کر دیتے ہیں۔ لیکن اس لسٹ میں سامان مکمل تھا اور کچھ بھی غائب نہیں ہوا اس بات کی کیا گارنٹی ہے۔ کیونکہ یہ سامان تو اب کہیں لگنا لگانا ہے نہیں اور کوئی بھی کچھ بھی غائب کر جائے کون کب کہاں اور کیسے پوچھے گا۔ اور اگر پتہ چل بھی جاتا ہے تو کیا اب حکومتی امور کے بجائے ہم انکوائریوں میں لگے رہیں گے کہ کمرہ نمبر تین میں دو جوڑی جوتے تھے نیلامی میں شامل نہیں، کون کھا گیا۔ میڈیا اور خاص طور پر آجکل کے میڈیا سے کیا آپ یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ایسی گھٹیا رپورٹنگ نہیں کرئے گا۔

سوال پھر وہی ہے کہ اگلی حکومت اگر آپ کی نہ ہوئی تو خریدنے والوں کو قانونی تحفظ کون دے گا۔ پچھلی حکومت کے دور میں سارا سامان من پسند لوگوں کو اونے پونے دے دیا گیا جس سے خزانے کو اتنے ارب کا نقصان ہوا، ایسا کچھ نیب اور میڈیا پر نہیں چلے گا۔ اتنے قانونی نقاط کے جواب میں اگر آپ اپنی پالیسیوں کو تحفظ دینے کے لیے کوئی قانونی راستہ اختیار کرتے ہیں اور اسمبلی سے کچھ بھی پاس کرواتے ہیں توکیا اپنوں کو قانونی تحفظ دینے اور محفوظ راستہ والی کوئی خبرنہیں اڑائی جائے گی؟ آج ماضی کے ہر منصوبے اور کام میں کرپشن نکلتی آ رہی ہے، یقینا آپ بھی انسان ہیں اور آپ کی ٹیم میں بھی کچھ نہ کچھ انسانی کمزوریاں سامنے آئیں گی لیکن یہ سارے لوگ جو آپ کی نیلامیوں اور پالیسیوں کی وجہ سے کیمرے کے سامنے آ جائیں گے، ان کی زندگیاں آنے والی حکومت اور میڈیا عذاب نہیں بنائے گا اس بات کے بارے کچھ سوچا ہے کیا۔ ۔ ۔ ؟؟

بات جب سوچنے کی آ ہی گئی ہے تو مجھے بتائیے کہ سادگی اور کفایت شعاری تو ٹھیک لیکن پاکستان میں ایک میوزیم کی سالانہ آمدنی کتنی ہے اور ان میں رکھی ہوئی اشیاء کی دیکھ بھال، حفاظت پر کتنا خرچہ ہوتا ہے۔ آپ ایک تاریخی نوعیت کی عمارت میں موجود کروڑو ں کے قیمتی سامان کو اونے پونے دائیں بائیں کر کے میوزیم میں بدلیں گے اور پھر میوزیم کی چیزوں کی حفاظت اور دیکھ بھال پر لاکھوں روپے ماہانہ خرچہ کریں گے، درجنوں کی تعداد میں اسٹاف رکھیں گے اور پچاس روپے کا ٹکٹ لگا کر کون سے کھربوں روپے کمائیں گے؟ دعوے کرنا کچھ اور ہوتا ہے لیکن عمل کی دنیا کچھ اور ہی ہوتی ہے۔ اس لیے مہربانی کریں، اپنے مستقبل کے لیے بدنامی مت خریدیں اور ہمیں بھی مستقبل کی متوقع ذہنی اذیت سے بچائیں۔ ایک قدم پیچھے ہٹ جائیں، یقین مانیں ضد میں کچھ نہیں رکھا سوائے نقصان کے اور جس مقام پر آپ ہیں صرف آپ کا ذاتی نقصا ن نہیں ہونا۔ اس لیے خدارا وزیر اعظم صاحب مان جائیں کہ ضد میں نقصان ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: