ففتھ جنریشن وار —- جہاں تاب حسین 

0
  • 43
    Shares

جنگ، وار، حرب، یدھ یہ تین حُرفی لفظ کہنے میں تو نہایت سہل ہے لیکن یقین جانیئے اس کی ہولناکیاں اور تباہکاریاں ہماری سوچ سے ورا ہیں۔ جدید سائنسی ترقی کوئی انسانی ترقی نہیں بلکہ حربی ترقی ہے، آسان الفاظ میں کہوں تو دنیا میں موجود زیادہ تر سہولیات جو عوام الناس کے استعمال میں ہیں وہ کسی عسکری لیب میں فوج کے استعمال کے لیے ایجاد کی گئی تھی۔ ریڈیو سے لے کر انٹرنیٹ تک ہر ایجاد پہلے فوج ہی کے استعمال میں آئی کیوں کہ ہمیشہ سے حکومتیں عوام سے زیادہ افواج پر خرچ کرتی رہی ہیں بلکہ یہ کہنا زہادہ مناسب ہو گا کہ عوام سے لے کر افواج پر خرچ کرتی رہی ہیں۔

حکمرانوں کی اس ہی فراخ دلی کا شاخسانہ ففتھ جنریشن وار فیئر بھی ہے۔ دورِ حاضر میں جنگ میدان میں ہتھیاروں کے ساتھ نہیں بلکہ آج جنگ لڑنے کے لئے کئی مہاز اور جہتیں وضعہ کر لی گئی ہیں جن میں پراکسی اور میڈیا کے ذریعے نفسیاتی جنگ سرِ فہرست ہے۔

جدید نشریاتی تفریحات جسے ہم انٹر نیٹ کا نام دیتے ہیں آج ہماری زندگی کا لازمی جز بن چکا ہے۔ دیہات ہو کے شہر ہو بچہ ہو یا جوان، بوڑہا ہو یا ادھیڑ عمر الغض مرد و خواتین سب ہی اس برقی نظام کا حصہ بنتے چلے جا رہے ہیں۔ سہل پسندی کی اس دنیا میں پرنٹ میڈیا آخری سانسیں لے رہا ہے، خاص کر کتاب تو کوئی اٹھانا ہی نہیں چاہتا ہے۔ پاکستانی الیکٹرنک میڈیا کی حالت گھر کا بھدی لنکا ڈھائے جیسی ہے تو ایسے میں انٹر نیٹ وہ واحد ذریعہ ہے جو عوام کے تجسس کی بھوک مٹا رہا ہے۔ یہ ہی محاظ ہے جہاں ہم ففتھ جنریشن وار کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

آیئے دیکھتے ہیں وار جنریشنز ہیں کیا۔ تاریخ ِانسانی جو حابیل و قابیل کے سانحہ سے پہلی جنگ کی خبر دیتی ہے اس میں آج تک جنگوں کی صورت میں عربوں انسان موت ہے گھاٹ اُتارے جا چکے ہیں۔ چونکہ پہلا قتل پتھر سے کیا گیا تھا لحاظہ سامانِ حرب کو ہی جنگی ادوار کی اکائی بنا لیا گیا۔ جب تک انسان کے درمیان جنگ تلواروں، نیزوں، تیروں وغیرہ سے ہوتی رہی فرسٹ جنریشن کہلائی۔ کمان اور منجنیق سے فاصلے پہ موجود دشمن کو ہدف بنانے کا تصور تو صدیوں پرانہ ہے لیکن بارود کی ایجاد نے اس عمل کو مزید سہل بنا دیا اور نئی جہتیں بخشیں یہیں سے آغاز ہوا سیکنڈ جنریشن کا۔ یہاں تک کہ ٹینک، آبدوز اور ہوائی جہاز نے میدان جنگ کو اور وسیع طر بنا دیا نتیجہتاً جنگ کی ہولناکیاں مزید ہو گئیں اور یہی دور تھرڈ جنریشن وار کہلاتا ہے اور اس کے بعد آتا ہے وہ دور جو انسانی آنکھ نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ جب دوسری جنگِ عظیم کے دوران امریکہ نے جاپان کے دو بڑے صنعتی شہر نیست و نابود کر دیئے تھے یعنی ویپن آف ماس ڈسٹرکشن کا دور جس کے نتیجے میں سرف دو ایٹومک ہتھیاروں کے ذریعے لاکھوں ہلاکتیں ہویئں۔ یہ وہ ادوار تھے جن میں دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے اپنا جانی و مالی نقصان بھی کرنا پڑتا تھا اور دوسری جنگِ عظیم کی حولناکیوں نے جنگ کو انسانیت کے لیے گالی بنا دیا تھا تو لڑائی کے حریصوں نے جنگ کی ایک نئی جہت کا آغاز کیا، یوں تو پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران ہی جنگ کی یہ جہت یعنی ففتھ جنریشن کھل کے سامنے آچکی تھی، پہلی عرب اسپرنگ اور جزیرۃ العرب میں موجود بادشاہتیں اس ہی کا شاخسانہ ہیں۔

ففتھ جنریشن وار کے تحت سب سے پہلے دشمن کی معیشت کو نشانہ بنا یا جاتا ہے اُسے چھوٹی بڑی جنگوں میں الجھا کر معیشت تباہ کر دی جاتی ہے اور ساتھ ہی عوام کے دلوں میں زبان اور رنگ و نسل کی بنیاد پر حکومت اور افواج کے خلاف نفرت پیدا کی جاتی ہے۔ جس میں سلیپر سیلز کا ایک منظم جال بچھا کر مختلک قسم کی این جی اوز اور فلاحی اداروں کے ذریعے اُن مزموم اہداف کو پورا کیا جاتا ہے جو اس جنگ میں معاونت ادا کرتے ہیں۔ جن کا بنیادی مقصد ایسے ایجنٹس تیار کرنا ہوتا ہے جو عوام میں سے ہوں اور عوام کے درمیان مایوسی اور افراتفری پھلاتے رہیں۔ سوویت یونین کا انہدام اسی طرزِ جنگ کا عملی نمونہ ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے حصہ بکھرے کرنے کی سازش بھی جاری ہے۔ماضیئے قریب میں کئی مسلم ممالک اس جنگ کا نشانہ بن چکے ہیں اور آج اُن کے حالات پر تمام انسانیت اشک بار ہے۔

گزشتہ ا۷ سالوں سے وطنِ عزیز پاکستان بھی اس مکروہ جنگ کا نشانہ بنا ہوا ہے جس میں ہزاروں پاکستانی جامِ شہادت پی چکے ہیں۔ مساجد و امام بارگاہوں پرحملے ہوں، سانحہ اے پی ایس ہو، کراچی ائیر پورٹ کا واقعہ ہو، افواجِ پاکستان کے دفاتر و افسران پر حملے ہوں یا مقدس مزارات پر خد کش دھماکے، سب کے سب واقعات اسی جنگ کے مختلف روپ ہیں جن کا مقصد عوام کے درمیان خوف ہراس پھیلانا اور مایوسی کی فضاء پیدا کر کے عوام کو حکومت اور افواج کے خلاف کر دینا تھا۔

اس قسم کے ترزِ جنگ میں میڈیا ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم سے بھی زیادہ افعادیت و اہمیت رکھتا ہے۔جسے جمہوریت کا چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے دراصل وہی دشمن کا اہم ترین ہتھیار بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا جانے انجانے دشمن کا آلئہ کار بنا ہوا ہے۔چونکہ پاکستانی کم سن میڈیا ابھی اپنے ارتقائی مراحل تے کر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ سنسنی پھیلانا ہی ان کی اولین ترجیح بن چکا ہے تا کہ ٹی آر پی پیدا کی جا سکے۔ ٹی آر پی کی اس جنگ میں جہاں ہم اپنے اقدار کھوتے چلے جا رہے ہیں وہیں اغیار کی مادر پدر آزاد روایتیں بھی ہماری زندگی کا حصہ بنتی چلی جا رہی ہیں۔ پسند کی شادیاں اور پھر طلاقیں عام سی بات ہو چکی ہے جس کا اصل خمیازہ بچوں کو بھگتنا پڑتا ہے جو خاندان کے ٹوٹنے سے بکھر جاتے ہیں۔ شادی سے پہلے ازدواجی تعلق قائم کرنے کو عیب نہیں سمجھا جاتا اور کم عمر لڑکے لڑکیوں میں منشیات کا استعمال سرِ فہرست ہے۔ بہر کیف یہ وہ جنگ ہے جس میں پیدا ہونے والے ایک دن کے بچے سے لے کر ستر اسّی سال کا بوڑھا شخص بھی براہِ راست ملوس ہے۔ ایسے میں سوشل میڈیا جو یقیناً ہمارے دشمنوں کی ہی ایجاد ہے ہمارا معاون بن سکتا ہے جس پر ہم اپنے جزبات و احساسات کا اظہار بخوبی کر سکتے ہیں لیکن بین الاقوامی اور بلخصوص بھارتی میڈیا کے سامنے یہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہو گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ابلاغِ عامہ سے متعلق تمام شاخیں یک جہتی کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کریں۔ اگر اسی طرح بکھرے رہے تو شاید نام بھی نہ ہو گا داستانوں میں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حالات پر رحم فرمائے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: