خوابوں کی پرورش ۔۔۔۔۔۔۔۔ وارث اقبال کا افسانہ

0
  • 35
    Shares

اسماعیل اسٹریٹ گاڑیوں سے لدی ہوئی تھی۔ جس کو جہاں جگہ ملی وہیں سینگ سمو دئیے۔ چونکہ کچھ وزرا اور وی وی آئی پی مہمانوں کی آمد بھی متوقع تھی اس لئے اسماعیل سٹریٹ کی طرف آنے والے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس نے ڈیرے جما رکھے تھے۔ یوں اس گھر میں مہمانوں کی صورت میں آنے و الا ہر دہشت گرد حُسن ڈیوٹی پر موجود پولیس والوں کی آنکھوں کی سکینگ سے گزرتا۔ واک تھرو اسی لئے تو نہیں رکھا گیا تھا۔ کیونکہ جتنی عمدہ، مؤثر اور بھرپور سکینگ ان پولیس والوں کی آنکھیں کر سکتی تھیں واک تھرو کی کیا مجال۔

چونکہ سیٹھ اسماعیل کا گھر اس اسٹریٹ میں تھا اس لئے یہ اسٹریٹ ’اسماعیل سٹریٹ‘ کے نام سے مشہور تھی۔ پچھلے کئی دنوں سے اِس محل نما گھر کی صفائی ستھرائی کا کام جاری تھا۔ بیرونی دیوار کی بیلوں سے لے کر دروازوں اور کھڑکیوں تک کو ایک نیا روپ دینے کی کامیاب کوشش کی گئی تھی۔

گھر کے اندر مرکزی دروازے سے داخل ہونے والے مہمانوں کو گھر کے رہائشی حصہ کے پچھواڑے میں موجود سوئمنگ پول تک پہنچا نے کے لئے سرخ قالین کی ایک لمبی راہداری بچھائی گئی تھی۔ جس کی دونوں اطراف انواع و اقسام کے پھولوں سے لدے گملے رکھے گئے تھے۔ سوئمنگ پول کے ارد گرد نیم دائرہ کی شکل میں آرام دہ کرسیاں رکھی گئی تھیں۔ ان کے بالکل سامنے سوئمنگ پول کے ایک کونے میں ایرانی قالینوں سے ڈھکا، قیمتی صوفوں سے اٹا اور پھولوں سے آراستہ اسٹیج ہر کسی کی توجہ کا مرکز تھا۔ اگرچہ سوئمنگ پول کے کناروں پر چہار اطراف قمقمے جھلملا رہے تھے لیکن اس کے کناروں پر رکھی بڑی روشنیاں اسٹیج کی طرف رخ کئے پورے اسٹیج کو بقۂ نور بنائے ہوئے تھیں۔

مختلف رنگوں کے لباس میں ملبوس خواتین و حضرات خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ گہرے نیلے رنگ کی ساڑھیوں میں ملبوس کچھ دوشیزائیں چاندی کی طشتریوں میں مختلف اقسام کے مشروب سجائے ہر مہمان کے سامنے جاتیں، میز پر گلاس رکھتیں، مشروب کی قسم پوچھتیں اور جھک کر گلاس میں مشروب انڈھیلتے ہوئے ساڑھی کے بلاوز کے نیم وا ’دروازے‘ کے راستے اپنے حُسن کی صراحی کے چند گھونٹ محض خاطرِ ذائقہ مہمان کی آنکھوں میں اِس طرح انڈیل دیتیں جیسے مے خانے میں پیتل کی صراحی اپنا خمار چاندی کے جام کی نذرکر دیتی ہے۔ رہی مشروب کی بات تو وہ ایسا کہ سارے غم بھلا دے۔

جب تقریب اپنے عروج پر پہنچی تو سیٹھ اسماعیل کے گھر کا یہ حصہ جنت کا منظر پیش کر نے لگا۔

مختلف اقسام کی خوشبووں سے رچے جسموں کی خوشبوئیں انسانی نتھنوں سے گزر کر دماغ کی گہرائیوں تک تلاطم برپا کر رہی تھیں۔

مختصر یہ کہ اِس تقریب میں حُسن کی فراوانی اِس تقریب میں شامل فرزانوں کے لئے کسی امتحان سے کم نہ تھی۔ ماحول میں مستی ایسی تھی کہ انسان یہ سمجھنے پر مجبور ہو جائے کہ جو کچھ ہے آج ہی کی رات ہے۔

حْسن کی رونمائی اور مستی کیوں نہ ہوتی، شیخ اسماعیل کی اکلوتی بیٹی غزل کی بیسویں سال گرہ منائی جا رہی تھی۔

شیخ اسماعیل کی بیوی بیٹی کو جنم دیتے ہی اِس دنیا سے رخصت ہو گئی تھی اِس لئے شیخ اسماعیل نے اُسے انتہائی لاڈ پیار سے پالا تھا۔ جب غزل پہلی دفعہ اُس کی گود میں آئی تو اُس نے بے ساختہ کہا تھا،

”ارے یہ تو پوری کی پوری غزل ہے۔ “

بس یہی نام ٹہرا۔ جب وہ جوان ہوئی تو اُس کا وجود سر تاپا خان مومن خان مومن کی غزل میں ڈھل چکا تھا۔ ایک ایک لفظ ایسا کہ چْن کر گھڑا گیا ہو۔ ہر ترکیب ایسی کہ اُسی کے وجود کے لئے وجود میں لائی گئی ہو۔ ہر قافیہ ایسا کہ اُسی کے لئے باندھا گیاہو۔ ہر بحر ایسی کہ اُسی کے لئے تخلیق پائی ہو۔

حُسن ایسا کہ تعریف جہاں سے بھی شروع کریں آکاس بیل بن جائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تمام صفاتی الفاظ اور تشبیہات سر جھکا لیں۔ بس یوں جانئے کہ سرو جیسے قد کاٹھ کا مالک ایک ایسا بت کہ جسے آسمانی سنگ تراشوں نے کوہ ِہمالیہ کی کسی برف پوش وادی میں بیٹھ کر برف سے تراشا ہو اور پھر قدرت نے اس کے اندر آگ بھر دی ہو۔ آگ بھی ایسی کہ چھونے سے پہلے ہی جلا کر راکھ کر دے۔

آج توسال گرہ تھی۔ سبز رنگ کی ساڑھی میں سے جھانکتے گلابی بازو بار بار ساڑھی کے پلو سے ڈھانپنے کی کوشش کے باوجود کتابِ حُسن کی پوری داستان بیان کر رہے تھے۔ ساڑھی کاکپڑا بھی اس حُسن کی تاب نہ لاتے ہوئے ڈھلک ڈھلک جاتاتھا۔

آج کی تقریب میں اعلان کیاگیا کہ غزل بی بی کل سے کپڑا بنانے کی ایک فیکڑی سنبھال کر اپنی عملی زندگی کا آغاز کریں گی۔

رنگوں، مستیوں، حشر سامانیوں اور جلووں سے لبریز یہ تقریب بہت سوں کے دلوں کو زخمی کرتے ہوئے رات دیر گئے تک اختتام کو پہنچی تو غزل دانتوں میں سگریٹ دبائے، دو نازنینوں کے کندھوں کا سہارا لئے اپنے کمرے میں پہنچی۔ اُس کی مدہوش آنکھوں کی سرخی میں آنے والی زندگی کی کئی تصویریں اِس طرح تیر رہی تھیں جس طرح میٹھے پانی کی جھیل میں مہاجر پرندے۔


فیکٹری کے مرکزی گیٹ کے اندر ایک سڑک سیدھی فیکٹری کے مرکزی دفاتر تک جا رہی تھی۔ اس سڑک کو سرخ قالین سے ڈھانپا گیا تھا۔ اِس قالین کے دونوں طرف اِس فیکٹری میں کام کرنے والا ہر مزدور اور افسر اُنگلیوں میں پھولوں کے ہار دبائے اِس انتظار میں کھڑا تھا کہ میڈم غزل کی کومل، نازک اور مر مریں صراحی دار گردن کو اُسی کا ہار چھوئے گا۔

خواتین مزدور گوٹے اور کناریوں سے سجی طشتریوں میں پھول لئے اِس انتظار میں کھڑی تھیں کہ کب اُن کے پھولوں کی پتیاں اِس حسن کی دیوی پر نچھاور ہوں گی۔

رات فیکڑی کے مزدوروں کو چھٹی نہیں دی گئی تھی۔ اگرچہ وہ سارا دن اور ساری رات اپنی نئی میڈم کے استقبال کی تیاریاں کرتے رہے، لیکن افسر ابھی بھی مطمئن نہیں تھے۔ جس افسر کے ہتھے اُس کا کوئی ماتحت چڑھ جاتا جھاڑ دیا جاتا۔

اس طرح کے نازک بدن دولت کے انبارپر بیٹھ کر کتنے ہی معتبر اور معزز سروں کو اپنے دربار میں جھکنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ جبکہ دولت سے محرومی کتنے ہی نازک بدنوں کو کوڑے کے ڈھیر پر جھکا دیتی ہے۔

فیکٹری کا دروازہ کھلا تو چار گاڑیاں تیزی سے اندر داخل ہوئیں۔ گاڑیوں کو برق رفتاری سے اندر آتے دیکھ کر سب برق رفتاری سے تیار ہو کر کھڑے ہوگئے۔ استقبال کرنے والوں میں سیٹھ اسماعیل کے دفتر کا چوکیدار اصغر اور اُس کی بیٹی بھی شامل تھے۔ اصغرنے تہیہ کیا ہوا تھا کہ وہ میڈم کو ہار ضرور پہنائے گا۔ کیوں نہ پہناتا، جب سیٹھ اسماعیل مْنی سی گڑیاجیسی غزل کو دفتر لایا کرتے تھے تو وہی ا س بے ماں بچی کا دھیان رکھا کرتا تھا۔ ایک دن تواُسے گود میں لے کر فیڈر پلاتے دیکھ کر سیٹھ اسماعیل نے یہاں تک کہہ دیا تھا،

”بچے! تم تو اس کی ماں ہو۔ اگر تم نہ ہوتے تو شاید یہ آج اپنی ماں کے پاس ہوتی۔ “

جب گاڑیاں فیکٹری کے گیٹ کے اندر داخل ہوئیں تو اصغر گاڑیوں کے ساتھ بھاگتا ہوا، کبھی دائیں، کبھی بائیں، کبھی راہداری کے بیچ، عورتوں اور مردوں کی قطاروں کی دیواروں کو پھلانگتا ہوا دفتروں کے سامنے کھڑے لوگوں میں شامل ہو گیا۔ جونہی غزل گاڑی سے اُتریں، وہ تیزی سے آگے بڑھااوردونوں ہاتھوں میں جھولتاہوا ہار میڈم کی گردن کی طرف اچھال دیا مگر ہار جوڑے پہ جاکر رک گیا،

”میڈم، ویل کم۔ “

کچھ افسروں نے آگے بڑھ کر کہا، فضا تالیوں سے گونجنے لگی۔ تالیوں کی انہی آوازوں میں ایک تھپڑ کی آواز بھی شامل ہوگئی تھی جو شایدکسی اور نے نہیں سنی تھی سوائے اصغر اور اُس کی بیٹی کے جنہیں تھپڑ کی آواز میں کوئی اور آواز سنائی نہ دی تھی اور بعد میں سنسناتے کانوں میں انگاروں کی طرح دہکتی گونج نے اُنہیں کچھ اور سننے نہ دیا۔

”بدتمیز جاہل، ایڈیٹ تمہیں اتنا بھی نہیں پتہ کہ مجھے پھولوں سے الرجی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاپاآپ کو میرا کوئی خیال نہیں۔ “

اْ س نے اپنے غصے کی برسات میں باپ کو بھی شامل کر لیا۔

بپھری غزل نے پھولوں کا دھاگا کھینچ کر توڑا تو ارمانوں کی شبنم سے بھیگے ہوئے پھولوں میں سے چند پھول سیٹھ اسماعیل کے ہاتھوں میں بھی آ گئے۔

اسپیکر پر استقبالیہ کلمات ادا کئے جارہے تھے مگراصغر کو تویوں لگ رہا تھاجیسے اسپیکر پر اُس کے مرنے کا اعلان ہورہاہو۔

سیٹھ اسماعیل کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔ اس نے اصغر کی طرف دیکھا لیکن شرمندگی کے منوں بوجھ تلے دبی پلکیں اْٹھ نہ سکیں۔ زبان فقط ایک جملہ ہی ادا کر پائی،

”سوری بچے۔ ۔ ۔ “

پتہ نہیں یہ جملہ کس کے لئے تھا بیٹی کے لئے یا اپنی فیکٹری کے ا س مزدور کے لئے جسے وہ بچہ کہہ کر پکارتا تھا۔

اُس کی زیرک اور دانا آنکھوں میں فیکٹری کے مستقبل کی ساری تصویر آگئی جس میں اب کوئی بچہ نہیں تھا، کوئی بڑا نہیں تھا، کوئی یار نہیں تھا اور کوئی ماں نہیں تھا۔ ۔ ۔ اب مزدور صرف مزدور تھا۔ ایسا مزدور جو فیکٹری کو اپنا وقت اور اپنی مہارت دیتا تھا اور فیکٹری اُسے نانِ شبینہ۔

اب انسانیت نہیں پیشہ واریت کا دورتھا۔ پیشہ واریت میں تو شاید یہ سب جائز تھا۔ غزل نے پڑھالکھا ہی یہی تھا کہ پیشہ کے حوالے سے فیصلے کرتے ہوئے رشتوں کو نہیں دیکھتے۔ نہ ہی انسانی اقدار کو راستے میں آنے دیتے ہیں۔


غزل کو فیکٹری سنبھالے ایک سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔ اُس نے فیکٹری کی ہر شے بدل کر رکھ دی تھی۔ پرانی مشینوں کی جگہ نئی آگئی تھیں، بوڑھے مزدوروں کی جگہ جوان مزدوروں نے لے لی تھی اور فیکٹری کے کئی حصوں کو ایسی زیب و زینت دے دی گئی کہ ہر نقشِ پارینہ صاف کر دیا گیا۔ ۔ ۔ ۔ مٹا دیا گیا۔

کئی پرانی نشستوں کو ختم کیاگیا، کئی نشستوں کو نئے نام دئیے گئے اور کئی نئی اختراع کی گئیں۔

ا سی سلسلے کی کڑی تھے آج کے انٹرویوز۔ جو وہ خود کر رہی تھی۔ ان انٹرویوز میں اُس کے اپنے سیکرٹری کا انٹرویو بھی شامل تھا۔

صبح سے ا نٹرویوز شروع ہوئے اور دوپہر سر کو آئی لیکن کوئی اُمیدوار اُس کی جھیل جیسی آنکھوں میں جگہ نہ بنا سکا۔ دوپہر کے کھانے کے بعد انٹرویو زکا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا۔

غزل نے فائل کے صفحات الٹتے ہوئے بیٹھنے کی اجازت کے طلب گار ایک اُمیدوار کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

”ہوں! تو ایم بی اے کر رکھا ہے۔ “

”جی۔ “

اُمیدوار نے جواب دیا۔

”کافی دیر ہو گئی ہے۔ “

غزل نے فائل کے کسی صفحہ کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔

”جی۔ “

اُمیدوار نے جواب دیا۔

”کوئی نوکری نہیں ملی یا کی نہیں۔ “

فائل ابھی تک غزل کی نگاہوں کا مرکز بنی ہوئی تھی۔

اُمیدوار نے خاموشی کا طلسم توڑتے ہوئے کہا،

”ایک ملی تھی جی۔ چھوڑ دی۔ “

اُمیدوار کی سحر انگیز آواز نے غزل کو گردن اُٹھانے پر مجبور کر دیا۔ اُس کے سامنے ایک خوش شکل جوان نظریں جھکائے بیٹھا تھا۔

”کیوں؟“

اُس نے سوال کیا اور جواب کی طالب ہوئی۔

اُمیدوارنظریں جھکائے بولا،

”وہاں ترقی کے مواقع کم تھے۔ ۔ جی۔ “

غزل نے اپنے دائیں بازو کی کو ہنی میز پر رکھی اور اپنی ٹھوڑی ہاتھ کی ہتھیلی پر جما کر بولی،

”واہ! تو کیا یہاں تم مینیجر بن جاؤگے۔ “

” جی ہاں جی۔ ۔ ۔ ۔ “

اُمیدوار کا جواب کافی دلچسپ بھی تھا اور غصہ دلانے والا بھی۔

غزل نے فائل بندکرتے ہوئے اپنے غصہ کے بے لگام گھوڑے کو روکا اور لمبی سانس لے کر بولی،

”جناب یہاں مینیجر صاحب موجود ہیں اور بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ “

”میم! میں نے کب کہا کہ وہ اچھاکا م نہیں کر رہے۔ لیکن جب آپ کے مینیجر ریٹائر ہو جائیں گے تو کسی کوتو اُن کی جگہ آنا ہوگا۔ جی۔ “

امیدوار نے نظریں جھکائے جواب دیا۔

”تو کل کو اگر میں۔ ۔ ۔ “

غزل اُس کی فائل اُسی کی طرف دھکیلتے ہوئے خود بھی آگے کو سرک آئی۔

سوال کی گرمی اور اُس کے بدن سے اْٹھنے والی خوشبو کے ببولے نے کچھ لمحے کے لئے امیدوار کو ساکت کر کے رکھ دیا۔

وہ پیچھے ہٹی،

”مشکل سوال تھا۔ “

امیدوا رہوش میں آیا، اُس نے اپنی جھکی نظریں ایک ساعت کے لئے اوپراُٹھائیں اور پھر جھکا کر بولا،

”اِس دنیامیں بہت کچھ ہوتاہے میم۔ ۔ “

”واہ! بڑے اونچے خواب دیکھتے ہومسٹر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کلیم۔ “

وہ پھرآگے کو کھسک آئی۔

”میں خواب دیکھتا ہی نہیں ہوں جی کچھ خوابوں کی پرورش بھی کرتا ہوں۔ “

”ارے واہ! کیا بات ہے؟ اپنے خوابوں کو گھاس کھلاتے ہو یابرگر۔ “

غزل نے طنز کیاتھا مگر نوجوان نے بڑے اطمینان کے ساتھ اسے پی لیا۔

”خون جگر دے کر جی۔ ۔ ۔ ۔ آپ نے بھی بہت سے خواب پالے ہوں گے۔ “

اِس بار اُس کی آنکھوں کی پتلیوں کے کھلنے کا وقفہ کچھ زیادہ تھا۔ اِس دوران اُس کی آنکھوں کے فعال اور حساس ترین کیمرے نے سر سے لے کر ٹھوڑی تک میم کی ساری کی ساری تصویر لے لی تھی۔

یہ تصویر اس کے دماغ کے کمرے میں سب سے نمایا ں جگہ جا کر آویزاں ہو گئی۔

”ہمارے خواب۔ ۔ ۔ ہمارے خواب۔ ۔ “

اْس نے مسکراتے ہوئے آہ بھری۔

لپ اسٹک سے لدے ہونٹ کھلے تو لمبی لمبی پلکیں بھی وا ہوگئیں لیکن ایک دھچکے کے ساتھ ہونٹ بھی بند ہوئے اور پلکیں بھی جھک گئیں جیسے اچانک ا نہوں نے سانپ دیکھ لیا ہو۔ کلیم نے بھی عین اسی لمحے اپنی بادامی آنکھیں پوری طرح کھولی تھیں۔ اس تصادم میں جھیل جیسی کاجل سے اٹی ہوئی جادوئی آنکھیں تیرتے ہوئے سرخ ڈوروں سے بھری بادامی آنکھوں کے سامنے زیر ہو گئیں۔ ایک لمحہ کے لئے اُس نے سوچا میرے خوا ب کیا ہیں، ہیں بھی یا نہیں۔ پھر اْس نے ایک لمبی سانس لی اوراپنی کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے بولی،

”اوکے کلیم صاحب، مبارک ہو، آپ کل سے جائن کیجئے۔ ملک صاحب سے مل لیجئے وہ آپ کو ہمارے اصول اور کام کا انداز سمجھا دیں گے۔ “

”جی میم۔ ۔ شکریہ جی۔ “

کلیم نظریں جھکائے کمرے سے باہر نکل گیا۔ انٹرویوز کا سلسلہ رک گیااور کمرا دھوئیں کی مختلف شبیہوں سے بھرگیا۔ جن میں کلیم کے خوابوں کی کچھ دھندلی سی شبیہیں بھی تھیں۔ ۔ ۔ بے جان، بے آواز، بے معنی اور اجنبی۔ ۔ ۔


سوئمنگ پول کے گرد لان کے پودے لہرا لہرا کر بارش کی نوید سنا رہے تھے۔ پرندے بارش کے استقبال کی تیاریاں کر رہے تھے۔ آسمان پر بدلیوں کا ملن ہو رہا تھا۔ جوں ہی ایک بدلی دوسری کے اندر اُترتی توشرم سے اُس کا رنگ بدل جاتا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے بدلیوں کا یہ ملن رنگ لایا، آسمان کا رنگ بدلا، گہرا ہوا اور پھر سیاہ ہوگا۔

کچھ ہی دیر میں مون سون کی پہلی بارش کے بے تاب قطرے پیاسی زمین پر گرے تو زمین نے انہیں اپنے اندر سمو لیا۔

گرمی کی ستائی ہر شے باہر نکل آئی۔ یہاں تک کہ بارش کا رومان ٹھنڈے یخ کمرے میں بیٹھی غزل کو بھی باہر کھینچ لایا۔ جب وہ سوئمنگ پول کے کنارے پر کھڑی ہوئی تو بارش کے کچھ شریر قطروں نے اس کا گداز بدن چھوتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو بھی دعوت دے ڈالی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر کچھ ہی دیر میں غزل بارش کا حصہ بن گئی۔

وہ آنکھیں بند کئے، ہاتھ پھیلائے لان میں یو ں کھڑی تھی جیسے کوئی پری اپنے پری زاد کا انتظار کر رہی ہو۔ پیاسی زرخیز زمین نے اپنا آپ بارش کے سپرد کر دیا اور پھر بارش زمین کے بدن پر اس طرح ٹہلنے لگی جس طرح کسان اپنی فصل کا جوبن دیکھ کر اس کے کناروں پر ٹہلتا ہے۔ بارش کے پانی نے غزل کی سیاہ پھول دار شرٹ سمیت سارے کپڑوں کو اندر تک روند کر رکھ دیا۔ کچھ دیر لان میں چکر لگانے کے بعد وہ سوئمنگ پول کے کنارے بیٹھ گئی۔ لیکن بارش اس کے حسن کے جلوے مزید برداشت نہیں کر سکتی تھی، اس لئے وہ اس حْسن کو زیر کرنے کے لئے جْت گئی۔ ہڈیوں تک اتر جانے والی تیز اور ٹھنڈی ہو ابھی بارش کی مدد کے لئے چل نکلی۔ اورغزل مجبور ہو کر اپنے سینے پر دونوں بازوجمائے اندر بھاگی۔

برآمدے میں اپنے نشان چھوڑتے ہوئے اورکمرے کے قالین کوپانی پانی کرتے ہوئے وہ ڈریسنگ روم کی طرف بڑھی، لیکن دیوار پر آویزاں ایک قدِ آدم آئینے نے اُس کا ہاتھ تھام کر اْسے روک لیا۔

اُس نے دیکھا آئینہ میں ایک قیامت کھڑی تھی، بارش سے بھیگی ہوئی قیامت۔ اُس کے سرخ رخساروں پر پانی کے قطرے یوں براجمان تھے جیسے اناروں پر شبنم۔

سیاہ زلفیں اپنی ترتیب توڑ کر آوارہ گھٹاؤں کی طرح اُس کی گردن سے یوں لپٹی تھیں جیسے مست ناگنیں بارش میں رستہ نہ پاکر کسی گلابی درخت کے تنے سے لپٹی ہوں۔

پانی اُس کے لباس سے نچڑ نچڑ کر پیروں تک جا رہا تھا۔ زین کی پینٹ کے اوپر جو بھی کپڑا تھا وہ بارش نے اِس طرح روندڈالا تھا کہ اُس کے تار تار سے گلابی رنگ تڑپ ٹرپ کر باہر آنے کو مچل رہا تھا اور پانی کے قطرے اُس رنگ میں جذب ہو رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے: بارود —– ہری موٹوانی کا افسانہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ترجمہ: عامر صدیقی

 

اُس نے اپنی شرٹ کی سلوٹوں کو سینے پر نیچے کی طرف کھینچتے ہوئے اور دائیں بائیں ہاتھ پھیر تے ہوئے برابر کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ا س کوشش میں گلابی سنگِ مر مر کی شبیہہ کے نقش مزید واضح ہو گئے۔

آئینے میں بسی شبیہہ پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرتے ہوئے اُس نے کہا،

”یہ حُسن کہاں سے اُمڈ آیا غزل؟

تم اتنی حسین ہو۔ ۔ ۔ مجھے تو پتہ ہی نہ تھا، تمہارا بدن۔ ۔ ۔ ۔ تمہارا ایک ایک انگ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم پرستان کی شہزادی ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم آسمان سے اُترا ہوا فرشتہ ہو۔ ۔ ۔ ۔ اردو کی غزل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کلیم تمہاری غزل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ صرف تمہاری۔ ۔ ۔ ۔ دیکھو اس طرف سے۔ “

اس نے اپنے رخ بدلتے ہوئے خود سے کہا،

”یہاں سے، یہاں سے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس آفاقی پیرہن میں کہاں کیا کمی ہے۔ ۔ ۔ ۔ جو تم نے آج تک اسے آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دو سال کے عرصہ میں۔ ۔ ۔ ۔ تم ایک قدم بھی آگےنہیں بڑھے۔ تمہیں کیوں پتہ نہیں چلتا کہ میں بھی کچھ خوابوں کی پرورش کررہی ہوں۔ تمہاری جھکی ہوئی نگاہیں ہر روز میرا تن من جلاتی ہیں۔ ۔ ۔ ۔ تمہاری جھکی ہوئی نگاہیں میرے خوابوں کوروز نئی زندگی دیتی ہیں۔ میں بھی انہیں خون ِ جگردے کر پال رہی ہوں۔ ۔ ۔ لیکن یہ خواب میرے تو نہ تھے۔ ۔ میں کتنی پاگل ہوں تمہارے خواب پال رہی ہوں اور تمہیں خبر تک نہیں۔ “

اُس کی آنکھوں سے چند ریشمی قطرے برآمد ہوئے اور شعلوں کی طرح دھکتے رخساروں کو چھوتے ہوئے، گریبان سے گذرتے ہوئے دل پر جا رکے۔ ہتھیلیوں سے اپنی آنکھیں صاف کیں۔ ۔ ۔ تو۔ ۔ ۔ ۔ آنسوؤں کی بدلیاں ایک دوسرے میں جذب ہونے لگیں، کچھ ہی دیر میں اُس کے آسمانِ وجود کا رنگ شعلوں کی طرح لال پڑنے لگا اور پھرآ نسوؤں کی ایسی جھڑی لگی کہ ساری رات خوابوں کی چھت ٹپکتی رہی۔


”میم میں چاہتا ہوں کہ ہم اپنی ’ویونگ کپیسٹی‘ بڑھا کر ایک دو انٹرنیشنل برینڈز کی ’ بِٹ‘ بھی اْٹھا لیں۔ میں نے ایک جگہ دیکھی ہے جہاں بہت ’کپیسٹی‘ ہے، آپ بھی دیکھ لیں تو میں اس پر کام شروع کروں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور میم یہ دیکھیں یہ ایک۔ ۔ ۔ ۔ “

کلیم نے ایک فائل غزل کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا جو کرسی کو پیچھے کی طرف موڑے پچھلی دیوار پر لگی ایک تصویر پر آنکھیں جمائے بیٹھی تھی۔ آنکھیں تصویر میں گڑی ہوئی تھیں لیکن دھیان کسی اور طرف تھا،

”بے وقوف جاہل یہ نہیں سمجھ پایا کہ مجھے ان فیکٹریوں سے اب کوئی دلچسپی نہیں۔ ۔ “

اس نے سوچا اور سگریٹ کے دھوئیں سے ایک شکل بناتے ہوئے کلیم سے کہا،

”مینیجر صاحب! آپ مینیجر ہیں جو چاہئیں کریں اور اپنے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “

اپنا جملہ ادھوراچھوڑ کر وہ کھڑی ہو گئی اوردیوار پر لگی تصویر کو سیدھا کرنے کی کوشش کرنے لگی۔ اس دوران اس کے دماغ میں جملے کا باقی حصہ تیر رہاتھا،

”۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے خواب مکمل کرو۔ ۔ جلدی۔ ۔ کلیم اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔ “

”میم میں کرتا ہوں۔ “

کلیم یہ کہہ کر آگے بڑھا۔ تصویر کی طرف ہاتھ بڑھائے توغزل کا شانہ اس کی بائیں کوہنی سے ٹکر ا گیا۔

اسے نہیں معلوم کہ یہ سب کیسے ہوا اور کیوں ہوا، وہ اِس طرح لڑکھڑایا کہ اُس کا ایک ہاتھ غزل کے شانے پر پڑا اور دوسرا میز پر، اس کے چہرے کے عین سامنے غزل کی صراحی دار گردن خوبصورت وادیوں کے راستے کی طرح اْسے دور تک لے گئی۔

مگر حیا نے کلیم کی نگاہوں کو جامد کر کے رکھ دیا، اُس کی پلکیں فوراً اوپر اٹھیں،

”سوری میم۔ “

لیکن وہ کچھ کہے بغیر بت بنی کھڑی اُسے دیکھتی رہی۔

کلیم وہاں سے ہٹ کرکرسی پر آبیٹھا۔

اس کے ماتھے سے پسینے کے چند قطرے اُس کی ناک تک پہنچے اور کچھ اس کی آنکھوں میں۔ اس کے گال دھکتے انگارے بن کر سلگھنے لگے اورہاتھ پیر برف بن کر جلنے لگے۔ اُس نے ایک آنکھ ملتے ہوئے دوسری سے میم کی طرف دیکھا، جس کی نگاہیں اس پر بدستور گڑی ہوئی تھیں۔

”میں چلتا ہوں میم۔ ۔ ۔ ۔ “

”نہیں بیٹھو۔ “

اْسے لگا جیسے اْ س کی میم نے اْس کے دل کی پھڑ پھڑاہٹ کی طلسمی آواز سن لی تھی۔ وہ بھی تو یہی چاہتاتھا۔

کمرے میں کچھ دیر خاموشی رہی۔ غزل نے دراز سے سگریٹ کا پیکٹ نکالا اور ایک سگریٹ سلگا کر بولی،

’’اور تمہارے خوابوں کا کیاحال ہے؟“

اُس کی آواز میں لرزش تھی، نکاہت تھی، مدہوشی تھی اور التجا بھی۔

آنکھوں سے بہت باہر تک پھیلے کاجل سے لدی آنکھوں میں روح تک اُتری ہوئی اندر کی دیوانگی اور وحشت صاف نمایا ں تھی۔

کلیم نے جب اس وحشت کو محسوس کیا تو اُس کے دماغ سے اٹھنے والی خوف کی لہراس کی ٹانگوں تک پہنچ گئی۔ اْسے یوں لگا کہ وہ ایک ایسا بے بس کبوتر ہے جو کچھ ہی دیر میں بلی کے شکنجے میں ہو گا۔

اس نے اپنے آپ کو سنبھالا اور نگاہیں اْس حْسن کی دیوی سے ہٹاتے ہوئے پوچھا۔

”میم آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے۔ “

”کہاں تک پہنچے تمہارے خواب۔ “

غزل نے اپنے چہرے پر ایک نقلی سی مسکراہٹ سجاتے ہوئے پوچھا۔

شکر ہے سیٹھ اسماعیل وہاں آ نکلے اور کلیم کو وہاں سے نکلنے کا موقع مل گیا۔


”اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔ “

کلیم نے ڈائری میں لکھا۔

”میں کیا کروں، میرے خوابوں میں تو تم تھی ہی نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میری آنکھیں تو صحرا کی مانند بے آب و گیاہ تھیں، وہ تو خالی تھیں، تو کہاں سے آکر بس گئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرے خوابوں کو چکناچور کرنے والی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں۔ ۔ ۔ ۔ مجھ سے غلطی ہو گئی جو میں نے تمہیں اپنی آنکھوں میں بسایا۔ ۔ ۔ ۔ “

اُس کا قلم رک گیا۔

”لیکن کلیم تم نے خود ہی اپنے خوابوں کی قربانی دی تھی۔ تم نے خود ہی اس احمقانہ محبت کو اتنا پالا کہ وہ تمہارے خوابوں پر بھی حکومت کرنے لگی۔ “

اندر پیدا ہونے والی کشمکش لفظوں کی صورت میں کلیم کی ڈائری پر منتقل ہو رہی تھی۔

”نہیں۔ ۔ ۔ نہیں۔ ۔ ۔ ۔ میں تم سے معافی مانگ لوں گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں اپنا تابناک مستقبل اور خواب نہیں چھوڑوں گا۔ میری آنکھیں خالی عمارت کی مانند ہیں، ان میں کوئی نہیں بستا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “

پھر اندر سے آواز آئی،

”بستا ہے جھلے، بستا ہے۔ ۔ ۔ وہ جسے ابھی دو دن پہلے تم نے ’کنول کاپھول‘ کہا تھا۔ ا س کی معصوم نگاہوں کاسامناکس طرح کر پاؤگے۔ “

پھر خود ہی جواب دیا،

”لیکن میں اُس کا بھی تو سامنانہیں کر سکتا جسے روز ایک اخبار کی طرح پڑھتا ہوں، ایک ایک خبر کی حرارت محسوس کرتا ہوں، اورپھر اپنی ساری محسوسات کواسی کمرے میں چھوڑ کر چلا آتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خوابوں کو پالنے کے لئے خون جگر دینا پڑتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دے دوں گا میں اپنے جگر کے لہو کی قربانی، لیکن اپنے خوابوں کو ضرورپورا کروں گا۔ “

کلیم کی جھکی نگاہوں نے آج تک غزل کی جتنی تصویریں لی تھیں سب اُن تصاویر کے ساتھ جا کر آویزاں ہو گئیں جو اس کے دل کے نہاں خانے میں کہیں بہت پہلے سے آویزاں تھیں۔

اس نے ڈائری بند کی اور سونے کی کوشش کرنے لگا۔ لیکن نیند کہاں۔ اس نے ساری رات اْٹھتے بیٹھتے گذاردی۔

کہیں پچھلے پہر جا کرآنکھ لگی توخواب میں کیا دیکھا کہ سرمئی رنگ کی ایک شبہیہ ہاتھ میں تلوار لئے خوفناک چہروں والے بہت سے آدمیوں سے لڑ رہی ہے۔ ۔ ۔ چیخ رہی ہے۔ ۔ ۔ ۔ میں تمہارے سارے خوابوں کو مار دوں گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سب کو مار دوں گی۔ ۔ ۔ تمہارا خواب صرف میں ہوں میں۔ ۔ ۔ ۔ کیونکہ میرا خواب تم سے ہے۔ ۔ ۔ ۔

 

میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے

سرِ آئینہ مرا عکس ہے پسِ آئینہ کوئی اور ہے


صبح جب کلیم آفس پہنچا تو خبر ملی کہ میم کی طبیعت خراب ہے۔ چنانچہ وہ وہیں سے میم کے گھر چلا گیا۔ مہمان خانے میں بیٹھا تھا کہ خانساماں نے پیغام دیا کہ غزل بے بی آرام فرما رہی ہیں صاحب کو اندر لے آؤ۔ ۔

اس گھر کے راستے اُس کے لئے کوئی نئے نہیں تھے اس لئے بلا توقف غزل کے کمرے پر جا دستک دی،

”آجاؤ“

اجازت ملنے پر وہ اندر چلا گیا۔

غزل گھٹنے پر گھٹنا رکھے صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے ایک ہاتھ میں ایش ٹرے اور دوسرے میں سگریٹ تھامے بیٹھی تھی۔ کلیم کو پاس دیکھ کر سگریٹ والا ہاتھ اُس کی طرف بڑھا دیا۔ کلیم نے پہلے آہستگی سے اُس کے دائیں ہاتھ سے سگریٹ لیا اور پھر اپنا دایاں ہاتھ اُس کے ہاتھ کی نذر کر دیا۔

اُس کی انگلیوں کا جوش اور تپاک کلیم کے ہاتھ کے اوپری حصہ پر نشان چھوڑتے ہوئے اُس کے دل تک اتر گیا۔

غزل نے ادھ کھْلی آنکھوں سے اسے دیکھا اور بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

کلیم نے بیٹھتے ہوئے ایک نظر اس کی طرف دیکھا، نیلے رنگ کے سونے کے لباس میں وہ کوئی جل پری دکھائی دے رہی تھی۔ کلیم کی آنکھیں اٹھتیں ا ور جھک جاتیں۔

وہ اسے اس شرارتی بچے کی طرح دیکھ رہاتھا جو کھڑکیوں، درزوں اور سوراخوں سے کسی کے گھر کا اندرونی حصہ دیکھ کرخوش ہو رہا ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حسن اور عشق کا یہی فسانہ ہے۔ ۔ ایک روح کاطالب ہوتا ہے اورایک کی کہانی گوشت سے شروع ہوتی ہے اور گوشت پر ختم ہوجاتی ہے۔

ہمیشہ کی طرح غزل نے ہی بولنے میں پہل کی۔

”کیا حال ہے دفترمیں؟“

”جی ٹھیک۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سب آپ کی طبیعت کا پوچھ رہے تھے۔ “

کلیم نے بہت احتیاط سے جواب دیا اور پھر خود ہی اس میں اضافہ کیا۔

”خیریت ہے میم، کیا ہوا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کوئی بخار وغیرہ“

”نہیں بس کچھ بے آرامی ہے۔ “

غزل نے سگریٹ والے ہاتھ کی درمیانی انگلی سے ماتھے کا درمیانی حصہ ناک کی سیدھ میں اوپر تک سہلاتے ہوئے جواب دیا۔

اس دوران کلیم کی نگاہوں نے اس کا سر تا پا جائزہ لے ڈالا۔ آج نہ وہ حشر سامانی تھی اور نہ ہی وہ بے تابی۔

جب دل مرجھا جائے تو جسم بھی مرجھا جایا کرتے ہیں۔

”میم۔ ۔ ۔ کیابات ہے کہ کوئی پریشانی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “

کلیم نے پوچھا۔

”نہیں بس کسی کے خوابوں کے پورا ہونے کا انتظار ہے۔ “

اگرچہ کلیم صورتِ حال بھانپ چکاتھا لیکن پھر بھی اس نے احتیاط اور آہستگی سے پوچھ ہی لیا۔

”کس کے خواب میم۔ ۔ ۔ “

”مجھے تم نے پاگل کر دیا ہے کلیم، تمہاری جھکی ہوئی نظروں نے میرا اندر جھلسا کر رکھ دیا ہے۔ میں تمہارا پیچھا کرتے کرتے تھک گئی ہوں کلیم، میں تمہاری آنکھوں میں اترنا چاہتی ہوں، میں تمہارے سینے پر سر رکھ کرسونا چاہتی ہوں۔ میں۔ ۔ ۔ ۔ “

غزل کا اظہارِ محبت کلیم کے لئے کوئی نیا نہیں تھا وہ تو روز اس کی آنکھوں میں اس اظہار کا پوسٹر لگا دیکھتا تھا لیکن وہ انجان بنا رہا۔ آج جب اظہار لفظوں کا جھرنا بن کر بہہ نکلا تو کلیم کچھ دیر کے لئے پریشان ہو گیا۔ اْسے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا جواب دے۔

”م م م میم۔ ۔ ۔ یہ کیاکہہ رہی ہیں آپ۔ “

حسبِ عادت کلیم کی نگاہیں جھکی ہوئی تھیں جن کے عین سامنے نیلے رنگ کے شفون میں سے جھانکتی ہوئی غزل کی پنڈلیاں اپنی کوئی الگ کہانی لے کر بیٹھی ہوئی تھیں۔

”اپنی پلکیں اُٹھاؤ۔ ۔ کلیم اور مجھے دیکھو۔ ۔ ۔ “

وہ اُٹھ کر کلیم کے پاس صوفے سے اتر کر نیچے بیٹھ گئی۔

”لو کلیم میں تمہیں یہ بھی نہیں کہتی کہ نگاہیں اٹھاؤ، دیکھو میں تمہاری جھکی ہوئی نگاہوں کے سامنے آگئی ہوں۔ اب تو دیکھو، اب تواس غزل کی طرف دیکھو جو صرف تمہارے لئے بنی ہے۔ اپنے خوابوں کو دیکھو کلیم جنہیں تعبیر مل رہی ہے۔ میری آنکھوں میں دیکھو کلیم۔ “

کلیم کی اوپر والی پلکیں نچلی پلکوں کے اور قریب آگئیں۔ یہ ادا غزل کو اچھی نہیں لگی۔ جن پلکوں کے دروازے کے اندر جھانکنے کے لئے وہ نیچے اتری تھی وہ اب بھی اسے اندرآنے کی اجازت نہیں دے رہی تھیں۔

”مجھے اور نہ تڑپاؤکلیم، میں نہ سو سکتی ہوں نہ جاگ سکتی ہوں، مجھے چین نہیں، مجھے ہر طرف تم ہی تم دکھائی دیتے ہو۔ آخر تمہیں میں کیوں نظر نہیں آتی۔ تمہیں اپنے پیچھے بھاگتی غزل کیوں دکھائی نہیں دیتی۔ تمہیں میرے بدن کی آہیں کیوں سنائی نہیں دیتیں۔ دیکھو کلیم دیکھو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ بدن صرف تمہارے لئیے بنا ہے۔ “

پریم کے رنگ میں ایسی ڈوبی بن گیا ایک ہی روپ

اس نے اپنی شرٹ کو گریبان سے پکڑ کر اس زور سے کھینچا کہ وہ کسی کمرے کے دروازے کی طرح کھل گئی،

درواز کیا کھلاشبیہوں سے بھرے کسی سنگ تراش کا نگار خانہ کھل گیا۔

گلابی رنگ کے اس کمرے کی ہر شبیہہ قابلِ دید تھی، لائقِ ستائش اور دیوانہ کر دینے کے لئے کافی۔

کلیم کا دل تو چاہا کہ وہ اسے سینے سے لگا لے اور کہے،

”غزل تم میرے دل کے نہاں خانے کی ہر دیوار، ہر جھروکے اور ہر دریچے میں رچی بسی ہو۔ ۔ ۔ میرے خوابوں کا نام غزل ہی تو ہے۔ “

لیکن اس کے اندر بیٹھی شبیہہ نے اُس کی زبان کو جکڑلیا اور اس کے جسم کو بے حرکت کر دیا۔

غزل اُٹھی اور کلیم کے اتنا قریب آگئی کہ اُ س کی سانسوں نے مدہوش کلیم کے اندر گہرائی تک رسائی حاصل کر لی اور وہ اپنی سانسوں کے ذریعے اُس کے دل کے نہاں خانے تک جا پہنچی۔ کلیم کو یوں لگا جیسے شبیہہ اور غزل میں جنگ شروع ہو گئی ہو۔

”آج مجھے ان آنکھوں میں جھانکنے دو، مجھے ان آنکھوں میں خود کو دیکھنے دو۔ مجھے ان آنکھوں میں اترنے دو کلیم۔ “

غزل نے اپنے کپکپاتے اور دہکتے ہونٹ کلیم کی پلکوں پر رکھ دئیے۔

اتنی نزدیکی، کلیم نے کبھی سوچا بھی نہ تھا، اُسے یوں لگا جیسے اْس کے بدن کے گلشئیرپر سورج آن گرا ہو اور گلیشئیر دریا کی طرح بہہ رہا ہو۔ اُسے لگا کہ غزل اور شبیہہ کی لڑائی انجام کو پہنچنے والی ہے۔ ۔ ۔ ۔

پھرکلیم کو لگا جیسے شبیہہ نے ایک کتاب کلیم کی طرف پھینکی ہو۔ ۔ ۔ محبت کی کتاب۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کتاب کا ایک ایک ورق بکھر نے لگا۔

اُس کے وعدے، اُس کی قسمیں، اُس کی منتیں، اُس کی سماجتیں، سب کچھ اُس کے سامنے تھا۔

وہ ایک جھٹکے سے اُٹھااور اپنے سارے حوصلے جمع کر کے بولا،

”نہیں میم یہ آنکھیں اس سے زیادہ نہیں کھل سکتیں، یہ پلکیں اس سے زیادہ نہیں اٹھ سکتیں۔  ا ن آنکھوں کے مندر میں کوئی اور شبیہہ بستی ہے۔ “

یہ سننا تھا کہ غزل رزمیہ نظم بن گئی، اُس کی ساری وحشت باہر آگئی، اْس کی آنکھیں دھکتے انگارے بن گئے اور اْس نے کلیم کے گریبان کو پکڑ کر کہا،

”کون ہے وہ پاپی، جسے میرے کلیم پر میلی نگاہ ڈالنے کی ہمت ہوئی، میں اس کی جان لے لوں گی، میں اس کا خاندان برباد کر دوں گی۔ ۔ ۔ ۔ اور سن لو کلیم میں تمہیں کھا جاؤں گی، تم نے یہ سوچا بھی کیسے۔ “

اس کے دھکتے ہونٹ کلیم کے ٹھنڈے گال کی طرف بڑھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

پھر پتہ نہیں کیا ہوا، اس کے دماغ میں کیا چلا کہ اس نے اپنی آواز کو دھیما کرتے ہوئے اور اپنا سر کلیم کے شانے پر ٹکاتے ہوئے پوچھا،

”کون ہے وہ کلیم۔ ۔ ۔ کون ہے وہ۔ ۔ ۔ ۔ “

اُس کے آنسوؤں کی ایک لڑی کلیم کے شانے سے ہوتے ہوتے اُس کے سینے تک جا پہنچی۔ چڑھی ندی پرُ سکون تھی۔

”کیا وہ مجھ سے زیادہ حسین ہے،“

”نہیں میم،“

”مجھ سے زیادہ دولت مند ہے۔ “

”نہیں میم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “

”پھر کیا ہے وہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “

”میری محبت ہے میم۔ ۔ ۔ ۔ “

دھکتا سورج پگھلتے گلیشئیر سے اُڑا اور ریزہ ریزہ ہو گیا۔

اُس نے کلیم کا گریبان چھوڑا اور دوسرے صوفے پر جا کر بیٹھ گئی۔ اُس کا سر اس کے گھٹنوں میں تھا۔ وہ ایسے بچے کی طرح رو رہی تھی جس کا انتہائی پیارا کھلوناٹوٹ گیاہو۔ اسے یوں لگاجیسے زندگی ختم ہو گئی ہو۔

اُس نے تواپنا ہر خواب کلیم کے خوابوں کی نذرکر دیا تھا۔ اسے پتہ ہی نہیں تھا کہ جس جھولی میں وہ اپنے خواب ڈالتی جا رہی تھی اْس میں کسی اور کی محبت کا چھید تھا۔ وہ جھولی خالی تھی۔

وہاں اْس کا کوئی خواب نہ تھا۔ جن آنکھوں میں وہ خود کو دیکھنا چاہتی تھی وہاں کوئی اور قابض تھا۔

”میں محبت کی ماری، اندھی، بے وقوف۔ ۔ ۔ ۔ اتنی بے خبر۔ ۔ ۔ میری آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں، مجھے پتہ ہی نہ چلا کہ کب کوئی آیا اور کلیم کی آنکھوں کا مکین بن گیا۔ “

وہ گھٹنوں میں سر دئیے خود کو کوس رہی تھی۔

کلیم اس کے پاس گیا،

”پلیز میم۔ “

”میم نہیں غزل کہو کلیم۔ ۔ “

اس نے روتے ہوئے ہونٹ چباتے ہوئے کہا،

”میم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ غ غ ز ل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ غزل میم“

وہ مڑی اور اس نے اپنا سر کلیم کے سینے پر رکھ دیا۔ ۔ ۔ کچھ ہی دیر میں اس کے آنسو کلیم کی شرٹ کو چیرتے ہوئے اس کے دل تک جا پہنچے اور کلیم کی آنکھیں تر ہونے لگیں لیکن اس کی آنکھوں کے مکین نے اس کے سارے آنسو اچک لئے اور پلکوں کی کھڑکیاں بند کر دیں۔

”تمہارے خوابوں کا کیا ہوگا، کلیم۔ ۔ ۔ ۔ “

”جب سے وہ آئی ہے میم وہی میرا خواب ہے۔ ۔ ۔ ۔ “

”ا س کا مطلب یہ۔ ۔ ۔ کہ خواب تمہارے تھے کلیم۔ ۔ ۔ ۔ اور پالتی میں رہی، خواب تمہارے تھے کلیم اور جگر کا لہو میں پلاتی رہی۔ ۔ ۔ ۔ ۔

وہ تمہارے خوابوں میں کیسے آگئی۔ ۔ ۔ “

اُس نے کلیم کا سینہ پیٹتے ہوئے کہا۔

”پتہ نہیں میم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “

کون ہے وہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس نے سراٹھاتے ہوئے کہا،

میم شاید آپ سن نہیں سکیں گی۔ “

”اب باقی کیارہ گیا ہے کلیم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھ سے میرا کلیم چرانے والا جادوگر کون ہے۔ ۔ ۔ “

وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئی،اپنی ہتھیلیوں سے اپنے رخساروں پر بہتے آنسو خشک کرنے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔

”چلو اتنا تو مان لو کہ تمہاری روح میری ہے۔ اگر کسی نے یہ جسم چرا لیا ہےتو یہ اس کی قسمت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرا کلیم میرے پاس ہے جسے کوئی نہیں چرا سکتا۔ بتاؤکون ہے وہ؟“

اس نے اچھل کر کلیم کے دائیں گال پر اپنی لپ اسٹک کے نشان چھوڑ تے ہوئے پوچھا۔

کلیم کو لگا کہ غزل کا قد اس سے کہیں زیادہ اونچا ہو گیا ہے۔

اْ س نے خود سے کہا، یہ پاگل سی لڑکی اندر سے کتنی دانا اور بینا ہے۔ اور حقیقت تو یہ کہ یہ پاگل اور دیوانی مجھ سے کتنی بڑی ہے یار۔ ۔ ۔ مجھ سے بہت بڑی اور بہت عظیم۔

”عائشہ میم۔ ۔ ۔ “

”کون عائشہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میری سیکرٹری میم۔ ۔ ۔ ۔ “

”ارے وہ عائشہ۔ ۔ ۔ ۔ “

ا س نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا،

”اچھی ہے، پیاری ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیوں نہ ہو میرے کلیم کی پسند ہے۔ کب آئی تمہاری آنکھوں میں۔ “

”جب میں مینجر بناتھا اور آپ نے پارٹی دی تھی۔ “

صبح کا سورج شام کی گود میں اتر رہا تھا۔ کلیم روتی کرلاتی غزل کو یہ سوچتے ہوئے چھوڑ کر چلا آیا۔

میں کسی کے دستِ طلب میں ہوں تو کسی کے دستِ دعا میں ہوں
میں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: