شفاف احتساب کی کڑوی گولی — سلمان عابد

0
  • 18
    Shares

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں احتساب کا نعرہ قانون کی حکمرانی کے مقابلے میں عملی طو رپر سیاسی سمجھوتوں کا شکار ہوا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ یہاں سیاسی اور فوجی حکمران طبقات نے احتساب اور قانون کی حکمرانی کو اپنے اقتدار کو طاقت فراہم کرنے کے لیے ’’بطور ہتھیار‘‘ کے طو رپر استعمال کیا ہے۔ جمہوری نظام میں جب حکومت او رحزب اختلاف کی سیاست خود ایک قدم آگے بڑھ کر احتساب کو محض سیاسی نعرے یا ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کی سیاست کی بنیاد پر کچھ لو اور کچھ دو کے طور پر استعمال کریں تو قانون کی حکمرانی سمیت جمہوریت سیاست کا بھی جنازہ نکلتا ہے۔

ماضی کی دو بڑی حکمران جماعتوں جن میں پیپلز پارٹی او رمسلم لیگ ن نمایاں ہیں نے احتساب کے نام پر ایک دوسرے کی کرپشن، بدعنوانی، اقرا پروری او رلوٹ مار پر جو سیاسی سمجھوتے کرکے ایک دوسرے کے جرائم پر پردہ ڈالا تھا اس نے شفافیت پر مبنی سیاست اور جوابدہی کے نظام کو سخت نقصان پہنچایا۔حالانکہ میثاق جمہوریت کے معاہدہ میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد نیب کے مقابلے میں ایک آزاد اور خود مختار احتساب کمیشن بنا کر جوابدہی کے نظام کو مضبوط، موثر اور شفاف بنائیں گے، مگر وہ کچھ نہ کرسکے۔ وزیر اعظم عمران خان کی سیاست کا ایک بنیادی نکتہ کرپشن، بدعنوانی پر مبنی سیاست کا خاتمہ او رکڑے احتساب سے جڑا ہوا تھا۔ اسی بنیاد پر وہ انتخاب جیتے بھی ہیں۔ان کے بقول ان کی پہلی اور بڑی سیاسی ترجیح بلاتفریق احتساب کا عمل ہوگا اور یہ عمل کسی ایک فرد یا خاندان یا فریقین تک محدود نہیں ہوگا بلکہ سب کو اس کے دائرہ کار میں لایا جائے گا۔

بنیادی طور پر پاکستان کے لوگ ایک منصفانہ اور شفاف نظام کی خواہش رکھتے ہیں۔ احتساب کے تناظر میں بھی وہ محض سیاسی مخالفین کے مقابلے میں ایک بلاتفریق کڑے احتساب کے حامی ہیں۔کیونکہ مسئلہ سیاست دانوں سمیت کسی ایک فریق کا نہیں۔ا س کرپشن او ربدعنوانی کے حمام میں سب ہی فریق ننگے ہیں او ربہت سے طبقات کا دامن شفافیت کے مقابلے میں داغدار ہے۔لیکن کیونکہ ماضی میں احتساب کو بطور ہتھیار سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا گیا تو لوگوں میں عملا اس کی شفافیت کے حوالے سے کافی شکوک و شبہات ہیں۔مسلم لیگ ن بھی اس سوچ او رفکر کو بنیاد بنا کر اسی نکتہ کو اجاگر کررہی ہے کہ حکومت کا احتساب محض شریف خاندان تک محدود ہے او راس میں بھی شفافیت کم اور سیاسی انتقام کی شدت زیادہ ہے۔

پنجاب ہی میں شہباز شریف کے دور میں بننے والی 55کمپنیوں کے میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیاں، کرپشن، بدعنوانی، صاف پانی منصوبہ، میٹرو منصوبے، سانحہ ماڈل ٹاون، فواد حسن فواد، احد چیمہ سمیت کئی بیوروکریٹ کی گرفتاری اور ان سے کی جانے والی تفتیش کا سست عمل یا سیاسی سمجھوتے انصاف کے تقاضوں کا مذاق آڑا رہے ہیں۔کئی کئی ماہ تک جاری تفتیش کا عمل کچھ بھی حتمی نتائج نہیں دے سکا۔ بیورو کریسی اس احتساب کو حتمی نتیجے تک لے جانے میں ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ کیونکہ احتساب کا شکنجہ مضبوط ہوتا ہے تو خود کئی بڑے بڑے بیوروکریٹ بھی قانون کے شکنجے میں آسکتے ہیں۔ نیب جس انداز سے معاملات کو چلارہی ہے اس سے بھی ان کی تیاری، ہوم ورک اور ٹھوس بنیادوں پر کام کرنے کا فقدان غالب ہے۔ وزیر اعظم عمران خان او ران کی حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ اس ملک میں احتساب کا شفاف اور بلاتفریق عمل معمول کے حالات اور قانون سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے حکومتی سطح پر ایک مضبوط سیاسی کمٹمنٹ کے ساتھ ساتھ ’’غیر معمولی اقدامات، پالیسی، قانون، طریقہ کار، حکمت عملی‘‘ وضع کرکے نتائج کے حصول کی جانب پیش رفت کرنا ہوگی۔

اس لیے ضروری ہے کہ حکومت پہلے سے موجود نیب جیسے ادارے کی صلاحیتوں، کمزوریوں اور خامیوں کی طرف توجہ دے کہ اس ادارہ کو کیسے خود مختار او رمضبوط بنیادوں پر کھڑا کیا جاسکتا ہے۔ پارلیمان کی سطح پر پبلک اکاونٹس کمیٹی کو کیسے فعال کیا جاسکتا ہے او رکیسے اس کی کارکردگی کو ایک خاص ٹائم فرئم میں لایا جاسکتا ہے۔ نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر جیسے اداروں کی فعالیت سمیت تفتیش کے نظام میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ مسئلہ محض ٹاسک فورس بنانا نہیں بلکہ پورے ریاستی، حکومتی اور ادارہ جاتی نظام میں موجود ڈھانچوں میں ایک بڑی سرجری کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ ادارے عملی طور پر سیاسی مداخلتوں کے باعث کافی برباد ہوئے ہیں۔اس میں اہل دانش کو سیاسی سوچ اور پسند وناپسند سے ہٹ کر کرپشن اور بدعنوانی پر مبنی سیاست کے خاتمہ میں رائے عامہ تشکیل دینی چاہیے کیونکہ یہ عمل قانون کے ساتھ ساتھ ایک بڑی سماجی تحریک سے بھی جڑا ہوا ہے۔

اسی طرح وزیر اعظم عمران خان کی اہم ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ اول یہ احتساب کسی ایک جماعت یا فرد کے طور پر نظر نہیں آنا چاہیے، یہ عمل محض اعلانات تک محدود نہ ہو بلکہ لوگوں کو واضح اور شفاف طور پر نظر آئے کہ احتساب بلاتفریق ہے اور سب فریقین کو اس دائرہ کار میں لایا جارہا ہے۔ دوئم وفاقی نیب کے ساتھ ساتھ صوبائی سطح پر قائم نیب کے اداروں کو زیادہ مضبوط کیا جائے، کیونکہ سارا بوجھ وفاق تک محدود نہیں ہونا چاہیے اور صوبائی اداروں کو بھی فعالیت کے ساتھ کام کی رفتار کو بڑھا کر شفافیت کے بہتر نظام کو طاقت دینی ہوگی۔سوئم ان تمام احتساب سے جڑے اداروں میں سیاسی یا حکومتی سطح سے مداخلت ختم ہونی چاہیے او رجن افراد کا چناو کیا جائے اس کی بنیاد سیاسی کم او رمیرٹ سے زیادہ جڑی ہو، چہارم ان احتساب سے جڑے اداروں کی کڑی نگرانی اور خود ان اداروں کا داخلی جوابدہی یا احتساب کا نظام مضبوط ہو تاکہ یہ بھی کسی سیاسی سمجھوتوں یا اقرا پروری کا شکار نہ ہوں۔

اگرچہ احتساب کا عمل کوئی جادوئی عمل نہیں لیکن حکومت کے پہلے سو دنوں میں اس کی ایک واضخ جھلک قوم کے سامنے آنی چاہیے۔ کیونکہ مسئلہ یہ ہے کہ جن لوگوں کے خلاف اس ملک میں احتساب ہونا چاہیے وہ جس دیدہ دلیری اور بہادری سے قانو ن کے شکنجے سے باہر ہیں وہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔کیونکہ جب تک وہ لوگ جن کو احتساب کے کڑے دائرہ کار میں آنا چاہیے باہر رہیں گے اس سے ملک میں احتساب کے ایجنڈے کو کوئی طاقت نہیں مل سکے گی۔ یہ تاثر ختم ہونا چاہیے کہ اس ملک میں طاقت ور لوگ قانون، حکومت اور ریاستی نظام کی مدد سے جرائم میں سزا سے بچ جاتے ہیں اور یہ سب کچھ محض کمزورطبقہ تک محدود رہتا ہے۔

salmanabidpk@gmail.com

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: