مولانا آزاد کے صریح جھوٹ اور جھوٹی پیش گوئیاں —— قسط اوّل ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد عبدہ

0
  • 21
    Shares

پیش گوئی کا تعلق اندازے دعوے تجزیئے اور عزائم کی قبیل سے ہے۔ ایسا ہو جائے گا۔ ایسا ہوتا نظر آ رہا ہے۔ ایسا ہو کر رہے گا۔ یہ تین جملے مختلف ذہنوں زبانوں اور زمانوں کا سفر کر کے پیش گوئی کا روپ دھار لیتے ہیں۔ ذہنی فرحت اور نفسیاتی آزار سے تحفظ کیلے خیالی پلاؤ نہایت زود ہضم فارمولا ہے۔ نامسائد حالات دشمن کی مخالفت کے باوجود کوئی بھی نیا گھر بن رہا ہو اور گھر کے افراد میں سے ہی دو چار دشمن کے ساتھ ملکر گھر کی تعمیر میں روڑے اٹکاتے ہوئے گھر کی کمزوری تباہی بارے باتیں کریں تو وہ پیشن گوئی نہیں ہوتی بلکہ ارادے اور عزائم ہوتے ہیں۔

نجومی اور تجزیہ کار یہی تو کرتے ہیں کسی نئے منصوبے پر پندرہ بیس باتیں کر دیتے ہیں بعد میں آنے والے اس میں من پسند الفاظ شامل کر لیتے ہیں ان میں سے دو چار باتیں وقوع پزیر کچھ حد تک مطلب کے مطابق ہو جائیں تو پیش گوئیوں کا ڈھنڈورا پیٹ دیا جاتا ہے۔ اور باقی جو جھوٹی ہوئیں ان پر بات کرنا گستاخی بے ادبی اور توہین سمجھ لی جاتی ہے۔

یہی حال مولانا آزاد مرحوم کی باتوں یا ان سے منسوب ان باتوں کا ہے۔ جو ’’مولانا آزاد کی پیش گوئیاں‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اور کہا جاتا ہے یہ پاکستان کے متعلق مولانا آزاد کی پیش گوئیوں پر محیط آغا شورش کاشمیری نے ۱۹۴۶ میں انٹرویو کیا تھا اور پہلی بار ۴۲ سال بعد ۱۹۸۸ میں شائع ہوا تھا۔ اگر وہ باتیں یا ساری باتیں حقیقی ہیں تو پھر اصل میں وہ کوئی پیشن گوئیاں نہیں بلکہ ہندو کے ساتھ ملکر اپنی مخالفت سے پیدا کردہ حالات اور عزائم بیان کیے جا رہے تھے۔ ذیل میں وہ باتیں جو مولانا آزاد نے اس وقت ہی جھوٹ بولا تھا یا بعد میں جھوٹی ثابت ہوئیں۔

پیش گوئی جو جھوٹی نکلی۔ بنگال کی تقسیم
قیام پاکستان کو ناممکن بنانے کے لئے مولانا ابوالکلام آزاد نے آخری انگریز وائسرائے ہند لارڈ مونٹ بیٹن کو تجویز دی کہ اگر وہ تقسیم بنگال کا اعلان کر دے تو بنگالی مسلمان مسلم لیگ کا ساتھ چھوڑ دیں گے اور پاکستان وجود میں نہیں آ سکے گا۔ لیکن انگریز حکمرانوں اور ہندو کانگریس کے تقسیم بنگال پر اٹل رہنے کے باوجود بنگالی مسلمانوں نے مسلم لیگ کا ساتھ نہ چھوڑا اور آدھے بنگال کو ہی پاکستان کا حصہ بنانے کے حق میں وٹ دے دیا۔ یوں مولانا ابوالکلام آزاد کی یہ پیش گوئی بھی حرف بہ حر ف غلط ثابت ہوئی۔

پاکستان میں دوسرے ممالک کی طرح فوجی حکومت
مولانا آزاد سے منسوب انٹرویو میں یہ پیش گوئی بھی کی تھی کہ پاکستان بن گیا تو نااہل سیاستدانوں کی وجہ سے یہاں بھی فوج حکمران رہے گی جس طرح کہ باقی کے اسلامی ملکوں میں ہے۔ جبکہ جس وقت 1946 میں مولانا نے یہ انٹرویو دیا صرف چار مسلمان ملک آزاد تھے۔ سعودی عرب، ایران اور افغانستان میں بادشاہت تھی اور ترکی میں جمہوریت۔ باقی سارا عالم اسلام برطانیہ، فرانس، ہالینڈ وغیرہ کی غلامی میں تھا۔ کسی بھی اسلامی مملکت میں فوج کی حکمرانی نہ تھی۔ اب یا تو یہ پیش گوئی جھوٹی ہے یا یہ بات مولانا کی نہیں ہے بعد میں ان کے سر منڈھ دی گئی ہے۔

مولانا آزاد کا جھوٹ۔ ہندو موروثی مذہب ہے
مولانا کہتے ہیں پارسی اور یہودی مذاہب کی طرح ہندو بھی موروثی مذہب ہے۔ جبکہ صرف پارسی اور یہودی موروثی مذاہب ہیں۔ ہندو ازم قطعاً موروثی نہیں۔ اگر ہندو موروثی مذہب ہوتا تو ہندو برہمن مسلمانوں کو دوبارہ ہندو بنانے کے لئے شدھی کی تحریک شروع نہ کرنا پڑتی اور نہ گاندھی یہ کہتے کہ مسلمانوں کو یا تو ہندو بنا لیا جائے گا یا غلام۔

کابینہ مشن پلان اور نہرو
مولانا ابو الکلام آزاد کیبنٹ مشن پلان کے زبردست حامی تھے۔ یہ مشن ہندوستان آیا تو مولانا کانگریس کے صدر تھے۔ مولانا کی پیش گوئی تھی کہ ان کے جانشین جواہر لال نہرو کیبنٹ مشن پلان تسلیم کئے رکھیں گے۔ اس لئے مولانا کانگریس کی صدارت سے پنڈت نہرو کے حق میں دستبردار ہو گئے لیکن نہرو جب کانگریس کی کرسی صدارت پر بیٹھ گئے تو انہوں نے کیبنٹ مشن پلان مسترد کر دیا۔ یوں مولانا کی یہ پیش گوئی بھی حرف بہ حرف غلط ثابت ہوئی جس کا مولانا کو عمر بھر افسوس رہا۔

علیحدگی والے علاقے دوبارہ ہندستان سے مل جائیں گے
مولانا نے یہ پیش گوئی کی کہ جو صوبے ہندوستان سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیں گے وہ بہت جلد ہندوستان میں واپس آجائیں گے۔ مولانا کی یہ پیش گوئی بھی حرف بہ حرف غلط ثابت ہوئی۔ حتیٰ کہ بھارت نے سوویت یونین، امریکہ اور اسرائیل کی بھرپور سیاسی، سفارتی اور عسکری مدد سے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش تو بنا دیا لیکن آج تک بنگلہ دیش نے بھی انڈین یونین کا حصہ بننے کی خواہش نہیں کی۔ گویا پاکستان بنگلہ دیش کے مسلمان اکٹھے رہیں یا علیحدہ لیکن دوبارہ ہندو کے ساتھ رہنے کو پسند نہیں کرتے اور یہی تو دو قومی نظریہ کی تصدیق ہے۔

پاکستان اور غیرملکی قرضے
مولانا آزاد نے پیش گوئی کی تھی کہ پاکستان غیر ملکی قرضوں کے بوجھ تلے دبا رہے گا۔ جبکہ شروع کی دو دہائیاں پاکستان پر قرضے نہیں تھے اسکے بعد بھی معمولی قرضہ تھا۔ یہ تو ۱۹۸۸ کے بعد قرضوں کا بوجھ بڑھنا شروع ہوا۔ اور ۲۰۰۷ جب پاکستان کے قرضے ۳۶ ارب ڈالر تھے تب بھارت کے ۳۰۰ ارب تھے۔ ۲۰۱۲ میں پاکستان کے ۶۰ ارب بھارت کے ۳۹۰ ارب ڈالر تھے۔ اب پاکستان ۹۰ پر ہے تو بھارت ۵۰۰ سے اوپر جا چکا ہے۔ دنیا کا ہر ملک مقروض تھا اور اب بھی ہے ایسے میں یہ کاہے کی پیش گوئی ہے۔

پاکستان میں صوبائی جھگڑے اندرونی خلفشار
مولانا پیش گوئی فرماتے ہیں۔ پاکستان میں اندرونی خلفشار اور صوبائی جھگڑے رہیں گے۔ دنیا کے ہر ملک کے اندر اندرونی خلفشار صوبائی و لسانی جھگڑے تھے اور اب بھی ہیں۔ حتی کہ آسٹریلیا، سپین انگلینڈ جیسے ترقی یافتہ ملکوں میں بھی یہ مسائل موجود تھے اور اب تو مزید بڑھ گئے ہیں۔ ایسے میں صرف پاکستان ہی مخصوص کیوں۔ بھارت اپنے اندرونی خلفشار اور صوبائی جھگڑوں کا خوفناک حد تک شکار ہے جس کے ۲۹ صوبوں میں سے ۱۴ میں علیحدگی کی عسکری تحریکیں چل رہی ہیں۔

پاکستان پر غیرملکی کنٹرول
مولانا فرماتے ہیں۔ پاکستان میں غیر ملکی کنٹرول رہے گا۔ جبکہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت شروع دن سے غیر ملکی اثرات میں گھرا ہوا ہے۔

دو قومی نظریہ پامال ہے
مولانا آزاد دو قومی نظریے کو پامال بحث قرار دیتے ہیں دوسری طرف جب اسی دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان وجود میں آتا ہے تو بقول شورش کاشمیری مولانا آزاد خان عبدالغفار خاں اور صدر مجلس احرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کو اور ان کی وساطت سے احرار کو مسلم لیگ میں شامل ہونے کا مشورہ دیتے ہیں۔ گاندھی جی کو پتہ چلا تو انہوں نے مولانا آزاد کو بھی مسلم لیگ میں شامل ہونے کا مشورہ دیا تھا۔

مولانا آزاد کا جھوٹ۔ اے کے فضل الحق کی بغاوت
مولانا کہتے ہیں۔ بنگالی بیرونی قیادت قبول نہیں کرتے اسی لئے مسٹر اے کے فضل الحق نے قائداعظم کے خلاف بغاوت کر دی تھی۔ مسٹر اے کے فضل الحق نے قائداعظم کے خلاف کوئی بغاوت نہیں کی تھی۔ ان کی طرف سے پارٹی ڈسپلن کی مسلسل اور سنگین خلاف ورزیوں پر آل انڈیا مسلم لیگ کے آئین کی رو سے صدر مسلم لیگ قائداعظم نے انضباطی کارروائی کی۔

مولانا آزاد نے اس انٹرویو میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ مسٹر حسین شہید سہروردی بھی مسٹر جناح سے چنداں خوش نہیں۔ جبکہ حقائق کے مطابق قائداعظم سہروردی پر بہت اعتماد کرتے تھے اور سہروردی بھی قائداعظم کی رہنمائی کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاتے تھے۔

مولانا آزاد کا جھوٹ۔ بنگالی غیر بنگالی کو مسترد کردیتے ہیں۔
مولانا آزاد نے کہا تھا بنگالی باہر کی قیادت کو مسترد کردیتے ہیں جبکہ یہ سراسر جھوٹ اور تاریخ سے لاعلمی تھی۔ بنگال کے پہلے غیر بنگالی مگر مسلمان حکمران سلطان بختیار خلجی سے لے کر جنرل ایوب خاں تک بنگالیوں نے کسی بھی حکمران کو اس لئے مسترد نہیں کیا کہ وہ غیر بنگالی تھا۔

یہ بھی پڑھیے: مولانا آزاد بارے تین دعووں کی حقیقت : محمد عبدہ

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: