زندہ کتابیں، یادگار کتب کا نیا جنم ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعیم الرحمٰن

1
  • 79
    Shares

محترم راشد اشرف نے اردو کی پرانی اور یادگار کتابوں کی اشاعتِ نو کا بیڑہ اپنے منفرد سلسلے ’’زندہ کتابیں‘‘ کے ذریعے اٹھایا ہے۔ جسے بجا طور پر اردو کی نایاب، یادگار اور بے مثال کتب کا نیا جنم قرار دیا جا سکتا ہے۔ پیپر بیک کی صورت میں کئی نایاب اور شاندار کتابیں شائع کی جا چکی ہیں۔ جن میں مرزا داغ دہلوی کی یادوں پر مبنی کتاب ’’بزم داغ‘‘، موسیقارِ اعظم نوشاد کی شمع دہلی میں شائع ہونے والی دلچسپ آپ بیتی، مقبول جہانگیر کے تحریر کردہ خاکوں کا مجموعہ ’’یارانِ نجد‘‘ فکاہیہ کالم نگار نصر اللہ خان کے شخصی خاکوں کا انتہائی دلچسپ اور کئی دہائیوں سے نایاب مجموعہ ’’کیا قافلہ جاتا ہے‘‘، اردوکے منفرد ادیب اور صحافی چراغ حسن حسرت کے بارے میں ’’ہم تم کو نہیں بھولے‘‘، اردو کے عظیم جاسوسی ناول نگار ابن صفی کے حوالے سے ’’کہتی ہے تجھ کو خلقِ خدا غائبانہ کیا‘‘، بھارتی ادیب اور دانشور رام لال کی خود نوشت ’’کوچہ قاتل‘‘ اور اخلاق احمد دہلوی کی یادوں کا گلدستہ ’’یادوں کا سفر‘‘ شامل ہیں۔ حال ہی میں سقوط حیدر آباد دکن سے متعلق نواب ہوش یار جنگ کی نایاب اور گمشدہ خود نوشت ’’مشاہدات‘‘ بھی زندہ کتابیں کے تحت شائع کی گئی ہے۔

راشد اشرف نے اب ایک اور جدت کی ہے۔ ان کی تازہ دو کتابیں پیپر بیک کے بجائے مجلد گرد پوش سے آراستہ اور سفید کاغذ پر شائع ہوئی ہیں۔ ان میں سے پہلی کتاب ایم اے عثمانی کے یادگار شخصی خاکوں کی دو کتابیں ’’دھندلے سائے‘‘ اور ’’بستی بستی روشن تھی‘‘ ایک جلد میں ہیں۔ چارسو بتیس صفحات کی کتاب کی قیمت پانچ سو روپے اس مہنگائی کے دور میں کافی کم ہے۔

ایم اے عثمانی کے نام کا قصہ بھی کافی دلچسپ ہے۔ جس کا انکشاف ان کے صاحبزادے ابان بابر عثمانی نے ’’ڈیڈی‘‘ کے عنوان سے اپنے مضمون میں کیا ہے۔ لکھتے ہیں کہ ’’ڈیڈی اپنے بھائیوں احمد پاشا اور مصطفٰی پاشاکی طرح علی پاشاکے نام سے جانے جاتے تھے اور میٹرک کی سند میں بھی ان کا یہی نام درج ہے۔ جنرل ایوب کے دور میں فوج نے پکڑ دھکڑ شروع کی اور کوشش کی کہ جو لوگ تحریکِ پاکستان میں متحرک رہے ہیں انکو بھی گھیرا جائے۔ علی پاشا کے بھی وارنٹ نکلے مگر اللہ کا احسان ہے یہ خبر ان کے دادا قاری محی الدین مرحوم کے ایک مرید کو پہنچ گئی جو اسی دفتر میں متعین تھے۔ اس دن سے پانی پت والوں نے علی پاشا کو ہمیشہ کے لیے محمد علی عثمانی بنا دیا اور وارنٹ نکالنے والے ٹاپتے ہی رہ گئے۔ ڈیڈی کو پکڑ دھکڑ کا تو دکھ تھا مگر جناح کا ہم نام ہو جانا ان کے لیے بہت بڑی بات تھی۔ ہجرت کے دوران ٹی بی کا شکار ہونے سے ان کو محمدعلی جناح سے ایک نسبت اور بھی ملی۔ جس کے علاج کے لیے انہیں آدھا پھیپھڑا کٹوا کر نکلوانا پڑا۔

کتاب کے آغاز میں ایم اے عثمانی کے صاحبزادے ابان بابر عثمانی نے ’ڈیڈی‘ اور ان کی بھتیجی زہرہ عثمانی نے ’ماموں اور میں‘ کے نام سے ان کی یادیں تازہ کی ہیں۔ زہرہ عثمانی نے ایم اے عثمانی کی عشقِ صادق کا قصہ خوب بیان کیا ہے۔ ’’جب خالہ آمنہ ہاؤس جاب کر رہی تھیں تو ممانی نزہت سے دوستی ہو گئی۔ ایک دو بار وہ گھر آئیں تو ماموں دل پھینک بیٹھے اور ادھر بھی یہی معاملہ ہوا۔ دونوں ملتے رہے۔ جب فیملی کو علم ہوا تو ’ظالم سماج‘ آگے آ گیا کہ یہ رشتہ نہیں ہو سکتا۔ بات یہ تھی کہ ماموں جس خاندان کے چشم و چراغ تھے وہ حضرت عثمان غنی کی نسل سے ہونے پر بہت فخر کرتا تھا۔ زبان اور رسم و رواج سے وہ دہلی کے کلچر کا نمونہ تھے۔ اس حد تک کہ بچوں کو پنجابی بولنے پر ڈانٹ پڑتی تھی۔ ممانی کا خاندان ٹھیٹ پنجابی، پرانے لاہوری اور اندرون شہر کے رہنے والے۔ یہ تو اجتماع ضدین تھا۔ کوئی بھی اس رشتے پر آمادہ نہ تھا اور کافی عرصے تک یہ بحث مباحثہ چلتا رہا۔ لیکن ماموں کی ثابت قدمی کے سامنے سب کو ہار ماننا پڑی۔ کئی خاندان والوں کو شک تھا کہ یہ رشتہ کامیاب نہ ہو گا لیکن حیرت کی بات ہے کہ یہ رنگ برنگی زبان، روایات اور کلچرکی شادی خوب چلی۔ یہ دو دلوں کا نباہ تھا اور آخر تک اس کی شدت میں کمی نہ آئی۔‘‘

اسے بارے میں ابان بابر لکھتے ہیں کہ ’’میں غور سے دیکھتا ہوں تو میرے ماں باپ کا عشق مثالی بلکہ افسانوی معلوم ہوتا ہے۔ ڈیڈی کو ایک سال کے لیے برطانیہ میں اسکالر شپ ملا۔ میں بہ مشکل ایک سال کا تھا۔ بڑے دونوں ابھی اسکول جانا شروع ہی ہوئے ہوں گے مگر امی نے ان کی ہمت بندھائی۔ اس ایک سال کے دوران ڈیڈی سب ہی سے خطوط کے ذریعے ہی رابطے میں رہے مگر اپنی بیگم کو تین سو پینسٹھ خط اور کارڈ لکھے اور یہ کوئی بھرتی کے خط نہیں بلکہ اکثر اچھے خاصے تفصیلی مضامین تھے۔ یاد رہے کہ اس وقت ان کی شادی کو سات آٹھ سال ہو چکے تھے۔‘‘

ایم اے عثمانی نے ’’دھندلے سائے‘‘ کی تحریروں کو کچھ خیالی اور کچھ نیم خیالی خاکے قرار دیا ہے۔ طویل پیش لفظ ’’پریشانِ خاطر‘‘ میں ان خاکوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’’سلسلہ مضامین کے آغاز میں ایک روز محترم صلاح الدین محمود میرے دفتر تشریف لائے اور فرمانے لگے عثمانی بھائی آپ نے میرے جمعے کا دن بہت خوشگوار بنا دیا ہے۔ صبح صبح آپ کے مضمون کی قسط پڑھ لینے کے بعد سارا دن گمشدہ ماضی کے خوبصورت نقوش ذہن کے نگار خانے میں اجاگر کرتا رہتا ہوں۔ صلاح الدین محمود جیسے کہنہ مشق ادیب اور نقاد کی یہ قدر افزائی میرے لیے اثاثہ ہے۔ میرے خاکوں کے یہ کردار افراد نہیں، اقدارکے نمائندے تھے۔ ان کی خوبیاں کمزوریوں سے کم اور اجتماعی زیادہ تھیں۔ وہ علامت تھے، حوالے تھے۔ میں نے بہت جانفشانی سے ان تہذیبی نقوش کو اجاگر کرنے کی کوشش کی تھی جو دھندلا کر مٹ جانے والے تھے۔ میں نے اس ورثہ کا امین سمجھ کر اس امانت کو اگلی نسل کے حوالے کرنے کی مخلصانہ سعی کی ہے۔اس سے خود مجھے ایک ذہنی اور جذباتی آسودگی حاصل ہوئی۔ لیکن ان کے ساتھ کچھ پتھر بھی کھائے۔ یہ پتھر ان اہلِ وطن نے مارے جنہوں نے بلا جواز ان خاکوں میں اپنے مرحوم بزرگوں کی شباہت تلاش کرنے کی غلطی کی اور ان چربوں کو اُن پر یا اُنہیں چربوں پر فٹ کر لیا اور پھر ناراض ہو کر مصنف پر سنگ باری شروع کر دی۔ دراصل ہم سب نے اپنے گرد ایک خیالی تانا بانا اپنے ماضی کے بارے میں بنا ہوا ہے جس میں ہم نے اپنی تمام کمزوریوں کو چھپا لیا ہے اور ان کی جگہ غیر معمولی خوبیوں کو یا تو نو تصنیف کر لیا ہے یا ان کے رنگوں کو زیادہ اجاگر اور زیادہ روشن کر لیا ہے۔ ہم دوسروں کو اپنی من گھڑت روایات سے متاثر کرتے رہتے ہیں بلکہ ہم خود بھی ان پر یقین کرنے لگے ہیں۔ سو جب یہ خاکے چھپنے شروع ہوئے تو ان میں احباب نے اپنے مرحوم بزرگوں کی شبیہ تلاش کی اور خوامخواہ مصنف کو ہدفِ دشنام بنایا اور اپنے بزرگوں پر انہیں چسپاں کر دیا۔‘‘

کتاب کے نام کے بارے میں عثمانی صاحب کہتے ہیں۔ کئی نام زیرِ غور آئے۔ لیکن دھندلے سائے طے ہوا۔ اس سے میری بے بضاعتی کا اعتراف ہے کہ باوجود خواہش اور کوشش کے میں اپنے ممدوحین کی شخصیتوں کو اجاگر نہیں کر سکا جیسا کہ ان کا حق تھا۔ بس چند دھندلے سائے ہیں جو آپ کے سامنے کچھ دیر کو اُبھر کر ذہن کے دھندلکوں میں غائب ہو جائیں گے۔ کتاب کا پہلا خاکہ نواب صاحب ہے۔ اہلِ خانہ کے اصرار پر یہ مضمون جب گھر پر پڑھا تو خواتین نے بڑے شوق اور توجہ سے سنا۔ ایک خاتون نے تبصرہ کیا کہ بہت اداس کر دینے والی داستان ہے کہ کیوں کر اونچے خاندان اپنی کوتاہیوں سے مٹ جاتے ہیں۔ ایک اجنبی خاتون کے یوں مضمون کی تہہ تک پہنچنے پر انہیں بہت حیرت ہوئی۔

اس کے علاوہ پیرجی، خواجہ سچے اور حکیم سچ، مثالی صاحب، نمبردار صاحب، بڑے حافظ جی، چھوٹے حافظ جی، قاضی صاحب، خان بہادر صاحب، شیخ صاحب، خاں صاحب، ایم ٹی، ماں جی، بھابی، بھائی جان اور بھائی صاحب ایسے ہی دلچسپ کرداروں کو زندہ جاوید کر دیتے ہیں۔ اور قاری کی دلچسپی کسی خاکے میں کم نہیں ہو گی۔

’’بستی بستی روشن تھی‘‘ کے بارے میں ایم اے عثمانی کہتے ہیں کہ ’’یہ میرے اساتذہ کا میرے ذمے قرض تھا اور قرض کی ادائیگی فرض ہے سو ان مضامین کے ذریعے میں نے وہ قرض اتارنے کی کوشش کی ہے۔ یہ ایک معاشرتی دور کے دھندلائے ہوئے نقوش ہیں۔ اس کے افراد نہ فرشتہ تھے نہ انسان۔ اپنی تمام خوبیوں اور کمزوریوں کے ساتھ یہ ایسی دلچسپ اور متنوع انفرادیت کے مالک تھے کہ ان کی ذات میرے ذہن کے پردے پر اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود نہایت توانائی اور تابانی سے ابھرتی ہے بس ایک بار ذہن میں ایک ہیولا بنا اور پھر پوری آزادی سے نقش و نگار بنانا شروع کر دیے۔‘‘

اس کا دیباچہ عرفان علی شاد نے لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’دنیا میں کتنے ہی لوگ بے نام سے رہ گئے۔ لیکن کچھ لوگ دنیا میں ایسے کارنامے انجام دے گئے کہ ان کانام رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔ ایسے لوگوں میں ایم اے عثمانی بھی شامل ہیں جن کانام عرصہ دراز تک اپنی تمام رعنائیوں کے ساتھ زندہ رہے گا۔ خاکہ نگاری میں خاکہ وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں خاکہ نگار ختم کرتا ہے۔ انجام سے تحیر پیدا ہوتا ہے۔ یہی تحیر قاری کو آغاز کی جانب دوبارہ گامزن کرتا ہے اور اب جو تاثر قاری کے ذہن میں اُبھرتا ہے، وہی تاثر خاکے کی روح کہا جا سکتا ہے۔ یہی تاثر تخیل میں بے شمار رنگ اُنڈیل دیتا ہے اور ایک ہفت رنگ احساس پڑھنے والے کی سوچ کے پردوں پر تصویر کی صورت ابھرتا ہے۔ یہ احساس جتنا گہرا اور چونکا دینے والا ہو گا، خاکہ اُتنا ہی خوبصورت ہو گا۔ عثمانی صاحب کے ہاں یہ حسن کاری بھر پور انداز میں موجود ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ اُ ن کی کامیابی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔‘‘

بستی بستی روشن تھی میں نو تحریریں شامل ہیں۔ جن میں پروفیسر سراج الدین اور پروفیسر منظور حسین، ڈاکٹر نذیر احمد اور چند دوسرے، ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر، میر اشفاق حسین قلندری، حضرت قاری مشتاق احمد خان، میری پہلی درس گاہ۔ آغوشِ مادر، میں اور امتحانات ارسو تھا وہ بھی آدمی شامل ہیں۔ اور ہر تحریر ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔ مجموعی طور پر کتاب انتہائی دلچسپ اور قابلِ مطالعہ ہے۔

زندہ کتابیں کی دوسری کتاب بھارتی فلموں کے نامور اسٹوری رائٹر سید واجد حسین رضوی عرف آغا جانی کشمیری کی آپ بیتی ’’سحرہونے تک‘‘ ہے۔ جانی کشمیری سولہ اکتوبر انیس سو آٹھ میں پیدا ہوئے اور ستائیس مارچ انیس سو اٹھانوے کو ان کا انتقال کینیڈا میں ہوا۔ انہوں نے ایک بھرپور زندگی گزاری اور خوش و خرم دنیا سے رخصت ہوئے۔ ان کی یہ آپ بیتی انیس سو چھیاسٹھ میں شائع ہوئی تھی۔ لیکن پاکستان اور بھارت میں عرصہ دراز سے دستیاب نہیں۔ بہترین سفید کاغذ پر مجلد اور گرد پوش سے آراستہ دو سو اڑتالیس صفحات اور آرٹ پیپر بھی دس رنگین تصاویر سے مزین کتاب کی قیمت ساڑھے چار سو روپے ہے۔

بھارتی ادبی جریدے کے ایک مدیر جانی کشمیری کے بارے میں لکھتے ہیں۔ ’’معروف فلمی منظرنامہ نگار اور مکالمہ نویس آغا جانی کشمیری میرے پسندیدہ ادیبوں میں شامل ہیں۔ آغا جانی کشمیری کا فلم نگاری کا گراف کافی بلند ہے۔ ان کی مشہور اور مقبول فلموں میں ہمایوں، قدیر، انمول گھڑی، یہ راستے ہیں پیار کے، غزل، نیا زمانہ شامل ہیں۔ جن فلموں کے مکالمے اور اسکرین پلے انہوں نے لکھے۔ ان میں سے چند کے نام ہیں۔ چندر لیکھا، عورت، امر، چوری چوری، لو ان شملہ، جنگلی، ضدی، اپریل فول، لو ان ٹوکیو، پروانہ، نیا زمانہ اور کھلونا۔ انہوں نے بیس بائیس سلور جوبلی اور دس گولڈن جوبلی فلمیں لکھیں۔ لیکن اپنے پیچھے وہ کوئی مستقل حیثیت کی ادبی کتاب نہیں چھوڑی۔ البتہ ان کی خود نوشت سوانح حیات ’’سحر ہونے تک‘‘ ہے۔ جو حقیقت نگاری اور اسلوب کے اعتبار سے شاہکار ہے۔ سحر ہونے تک کی اشاعت کے بعد اس کتاب کی پانچ سو جلدیں آغا جانی کشمیری نے تقسیم کی غرض سے کسی کو دہلی بھجوائی تھیں، لیکن وہ شخص ناقدرا نکلا۔ اس کے کسی گودام یا کمرے میں پڑے پڑے وہ کتابیں برباد ہو گئیں اور کسی نے کبھی ان پرتوجہ بھی نہیں دی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ لوگ اس کتاب سے عام طور پر لاعلم ہیں۔

آغا جانی کشمیری نے اکبر کے عہد کے پس منظر میں تان سین اور اس کے بیٹے بلاس خان کے کرداروں پر مبنی ایک فلم ’گرود کشنا‘ کے نام سے لکھی تھی جس کے مہورت کا اشتہار بھی شائع ہوا۔ فلم کو مشہور ہدایت کار سہراب مودی پروڈیوس اور ڈائریکٹ کرنے والے تھے۔ موسیقار کے لیے نوشاد کا نام بھی طے ہو گیا تھا۔ کلکتہ کا ایک بنگالی پروڈیوسر کسی طرح ان کی اس فلم کا مکمل اسکرپٹ لے اڑا جس کاانہیں بہت صدمہ تھا۔

اس آپ بیتی کا پیش لفظ ’’حرفِ تعارف‘‘ کے عنوان سے الہٰ آباد یونیورسٹی کے استاد، نامور نقاد اور ادیب احتشام حسین نے لکھا ہے۔ پروفیسر احتشام کا کہنا ہے کہ ’’اردو ادب کم مایہ نہ سہی لیکن اس میں اچھی سوانح عمریاں بہت کم اور خود نوشت تو تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔ مشرق میں شخصیتوں کو داغوں اور دھبوں کے ساتھ منظر عام پر لانا، اپنی ذات کی نمائش، اپنے کارناموں پر فخر کا اظہار اور تجربوں کی ناگفتنی پہلوؤں کی عکاسی کو ہمیشہ معیوب سمجھا گیا ہے۔ انکسار اور احتیاط کی ملی جلی کیفیت بہت سے گفتنی معاملات کو بھی ناگفتہ بنا کر چھوڑ دیتی ہے۔ یہ بات اخلاقی نقطہ نظر سے کتنی ہی پسندیدہ کیوں نہ ہو، عملی اور ادبی حیثیت سے بہت نامناسب ہے۔ بہت لوگوں کی زندگی میں ایسے نشیب و فراز اور کچھ ایسے ذہنی اور جذباتی حادثات ہوتے ہیں جن کا علم دوسروں کے لیے عبرت اور بصیرت حاصل کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسی طرح تجربوں میں اضافہ ہوتا ہے اور شعور کی حدیں وسیع ہوتی ہیں۔ کبھی کبھی یہی جذبہ آپ بیتی بیان کرنے کا محرک بن جاتا ہے۔ اظہارِ ذات کی خواہش بھی قلم ہاتھ میں دے دیتی ہے اور لکھنے والا اپنی شخصیت کے جن نقوش کو ابھارنا چاہتا ہے ابھار دیتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہر شخص ایک کتاب ضرور لکھ سکتا ہے اور وہ اس کی خود نوشت سوانح عمری ہوتی ہے۔ مجھے مسرت ہے کہ آغا جانی کشمیری کی خود نوشت اردو کے سوانحی ادب میں ایک دلکش اضافہ ہے۔ آغا جانی نے، جن کامشاہدہ گہرا، یاد داشت قوی اور ادبی ذوق ستھرا ہے، اپنے مخصوص بے باک اور رنگین انداز میں اپنی زندگی کے وہ مناظر پیش کیے ہیں جن میں ان کی تصویر کے ساتھ لکھنئو کی اس تہذیبی اور سماجی زندگی کے نقوش بھی ابھر آئے ہیں۔ موصوف کو اس تخلیق کو مکمل کرنے میں میری ہمت افزائی سے بھی مدد ملی۔ آغا جانی کی خوبصورت قیام گاہ پر کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا تو میرے سامنے لکھنئو کی تہذیب، شائستگی، رہن سہن اور ماحول کے بہت سے جلوے بیک وقت آ گئے۔ آغا صاحب نے بمبئی کی اس کاروباری فضا میں بھی ان ساری لطافتوں اور نفاستوں کو محفوظ رکھا ہے جن سے لکھنئو عبارت ہے۔ جب موصوف نے اپنی یادداشتوں کے کچھ صفحات مجھے سنائے تومجھے یقین ہو گیا کہ وہ آپ بیتی لکھنے کاحق رکھتے ہیں۔‘‘

اردو کے ایک بڑے شاعر اور ادیب سردار جعفری نے اپنے تاثرات اسی عنوان سے بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ایک کتاب ہر شخص کی زندگی میں ہوتی ہے لیکن کتاب کو سینے کی گہرائیوں سے باہر نکال لانا ہر شخص کا کام نہیں ہے۔ کتاب کی تخلیق بھی ایک سادھنا ہے جو عمر بھر کی ریاضت کا مطالبہ کرتی ہے۔ آغا جانی کو اس ریاضت کی فرصت نہیں ملی۔ انہوں نے ساری عمر فلم میں گزاری ہے اور فلم کے لکھنے والے فنکار کی حیثیت سے شہرت حاصل کی ہے پھر بھی وہ اپنے دل کی کتاب لکھنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ حیرت ناک بات اس لیے ممکن ہوئی کہ انہوں نے ریاضت اور سادھنا سے کام نہیں لیا بلکہ اپنے بے تحاشہ اور بے تکلف اندازِ گفتگو کو تحریر میں برقرار رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بیان میں انگریزی الفاظ کے ساتھ ساتھ بمبئی کی فضا کی پروردہ زبان کہیں کہیں اُبھر آئی ہے اور وہ لکھنئو کی میٹھی اور ستھری زبان کے ساتھ ناگوار نہیں گزرتی اور ہم یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ آخر یہ بھی تو اندازِ بیان ہو سکتا ہے۔‘‘

اردو کے نامور افسانہ نگار راجندر سنگھ بیدی سحر ہونے تک کا پیش لفظ میں لکھتے ہیں کہ ’’آغا جانی کشمیری نے عالمی ادب کے نزاع کا مطالعہ کیا ہے یانہیں البتہ یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ اس کتاب کے یکسر مختلف اور بے حد دلچسپ کرداروں کے جذبات و احساسات، واقعات اور حالات کو انہوں نے اس قدر خوبصورتی اور خلوص کے ساتھ قلم بند کیا ہے کہ تاریخ اور عمرانیات کے تقاضے بھی پورے کیے ہیں اور اس چیز نے آغا صاحب کی تحریر کو ادب میں ایک غیر معمولی امتیازی شان دے دی ہے۔‘‘

احتشام حسین جیسے بڑے ادیب اور نقاد اور سردار جعفری جیسے شاعر اور ادیب اور راجندر سنگھ بیدی جیسے منفرد افسانہ نگار کے یہ توصیفی الفاظ سحر ہونے تک کی اہمیت اور دلچسپی کا ثبوت ہیں۔ اس کتاب میں ایک نا تربیت یافتہ بچے کے علاوہ ایک نا آسودہ انسان بھی ابھرتا ہے جو زندگی کے ہزاروں تجربات اور ہزاروں کرداروں کا ذکر اسی طرح کرتا چلا جاتا ہے جس طرح وہ اسے زندگی میں ملے تھے۔ اس کے چاروں طرف لکھنئو، رنگون، کلکتہ اور بمبئی کی جھلکیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ سب اس کی زندگی کے حصے ہیں لیکن وہ خود ان کا حصہ نہیں بن سکا اور ہم یہ محسوس کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ اس عہد کا انسان کتنا تنہا ہے۔ اور اس کو اپنی اس تنہائی کی آگ میں ہی جلنا ہے۔

آغا جانی کشمیری لکھتے ہیں کہ ’’کوشش کروں گاکہ یہ میری سوانح حیات میری زندگی ہی میں شائع ہو جائے، کیونکہ ڈرتا ہوں اس واقعے سے جو ایک امریکن مشہور فلم رائٹر کے مرنے کے بعد گزر چکا ہے۔ اس غریب نے ایک وصیت نامہ لکھا تھا اور وصیت یہ تھی کہ فلاں فلم کا ڈائریکٹر اور فلاں فلم کا پروڈیوسر میرے مرنے کے بعد اس وصیت نامے کو لوگوں کے سامنے پڑھیں۔ چنانچہ اس کے مرنے پر لاکھوں لوگ جمع ہوئے۔ اب ڈائریکٹر اور پروڈیوسر اٹھے، انہوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔ مسکرا کر اندر گئے۔ جس طرح رائٹر کی زندگی میں اس کی کہانیوں میں رد و بدل کیا کرتے تھے، بالکل اسی طرح اس کے مرنے کے بعد وصیت نامہ بھی تبدیل ہوا۔ ان کی خوشی سے پھر اپنا وصیت نامہ پڑھنے لگے، میرامطلب ہے اس رائٹر کا وصیت نامہ۔‘‘

آغا جانی کشمیری کا کہنا ہے کہ میرے دو گرو ہیں۔ علامہ آرزو مرحوم جنہوں نے چودہ سال کی عمر میں میری فکر کو لکھنئو میں جنم دیا۔ سمجھ بوجھ کی صلاحیتیں اور زبان کا چٹخارہ پیدا کیا جو اللہ کے بعد صرف آرزو صاحب ہی بخش سکتے تھے۔ جو کچھ مجھ کو ملا ہے وہ صرف لکھنئو اور لکھنئو والوں کا، بنگال اور بنگالیوں کا صدقہ ہے۔ لکھنئو اور کلکتہ نے مل جل کر میرا شاعرانہ مزاج سنوارا اور ہمانسو رائے نے بمبئی ٹاکیز میں شریک کر کے مجھ کو آغا جانی کشمیری بنایا۔ ایک ذریعہ عظیم ڈائریکٹر محبوب خان تھے۔ انسان بھگوان یا اللہ سے ملنے کے لیے اوتار یا پیغمبر کا ذریعہ ڈھونڈتا ہے۔ محبوب خان میری عظیم کامیابی اور شہرت کا ایک ذریعہ تھے جن کو میں کبھی بھول نہیں سکتا۔

راشد اشرف ان دو کتابوں کی اشاعت پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔ وہ اردو ادب کی بھرپور خدمت کا فریضہ بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ ان کا آئندہ کا اشاعتی پروگرام بھی شاندار ہے۔ انہوں نے بلاشبہ نایاب اور بھولی ہوئی کتابوں کو نیا جنم دیا ہے۔ اور اس گمشدہ ادب سے قارئین کو روشناس کرایا ہے۔ ادب کے حقیقی قارئین کو زندہ کتابیں کے اگلی کتب کا بھی انتظار رہے گا۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. جہاں ایک طرف نئی کتابیں پڑھنے والوں میں کمی آتی جا رہی ہے وہاں اب بھی کتاب سے محبت کرنے والے موجود ہیں جو پرانی کتابوں کو دوبارہ سے سب کے سامنے لا رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کی کامیابیوں کے لیے میری طرف سے خصوصی دعائیں

Leave A Reply

%d bloggers like this: