ریلوے: انگریز کا احسان یا ؟؟؟ — شیشی تھرور/ رانا آصف

0
  • 13
    Shares

ریلوے، انگریز کا احسان یا ۔۔۔؟
ہندوستان کے قدرتی اور مالی وسائل تک رسائی کیسے ممکن ہوئی
نوآبادیات کی تاریخ کا ایک سیاہ ورق جسے روشن دور سے تعبیر کیا جاتا ہے۔


  • پٹریوں کا جال مقامی خام مال برطانوی ملوں تک پہنچانے کے لیے بنایا گیا۔
  • ریلوے کے محکمے میں نسلی امتیاز برتنے کا اصل سبب مقامی افراد کو تکنیکی مہارت سے دور رکھنا تھا۔
    جے پور اور جمال پور کے مکینکوں نے ریلوے انجن بنانا سیکھ لیا تو بعد میں برطانیہ نے مقامی سطح پر اس کی تیاری پر پابندی عائد کردی۔
  • 1854سے لے کر 1947تک ہندوستان میں 14ہزار 4سو انجن برطانیہ سے درآمد کیے گئے۔
  • تیسرے درجے کے مسافر ڈبوں سے کثیر منافع کمایا گیا۔
  • ابتدائی دور میں ریلوے کے بورڈ میں ڈائریکٹر سے لے کر ٹکٹ کولیکٹر تک گورا صاحب کا راج تھا۔
  • آزادی کے بعد برصغیر میں بننے والے ممالک کو نظام حکومت اور انفرا اسٹرکچر کی صورت میں بہت کچھ برطانوی دور سے ورثے میں ملا۔ اس کے بعد آنے والے مسلسل تنزل اور برباد ہوتی گورننس کو دیکھتے ہوئے، مایوسی اور بددلی کے باعث یہ بات عام ہوچکی ہے کہ آج کے مقابلے میں انگریز کا دور ہی اچھا تھا۔ لیکن تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نظام کی موجودہ خرابیوں کی جڑیں بھی غلامی کے دور ہی میں رکھ دی گئی تھیں۔ اس لیے برطانوی تسلط کو ’’سنہرا‘‘ دور قرار دینے سے پہلے تاریخ کو گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ برطانوی دور کی ایسی ہی ’’عظیم‘‘ یادگاروں میں سے ایک ریلوے نظام کو بھی قرار دیا جاتا ہے۔ گذشتہ کئی دہائیوں سے برصغیر اور خود یورپ میں نوآبادیاتی ادوار کی تاریخ کا از سر نو جائزہ لیا جارہا ہے اور اس بات کی نشان دہی بھی کی جارہی ہے کہ کس طرح سرکاری عمال اور اس زمانے کے سامراجی ذہن نے تاریخ کو مسخ کرکے پیش کیا ہے۔ اس موضوع پر تواتر سے کتابیں اور تحقیقی مقالے شایع ہو رہے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل بھارت میں کانگریس سے تعلق رکھنے والے سیاست دان اور مصنف ششی تھرور نے AN ERA OF DARKNESS THE BRITISH EMPIRE IN INDIA کے نام سے اس موضوع پر قلم اٹھایا۔ زیر نظر تحریر اسی کتاب کے اقتباسات سے ماخوذ ہے۔


ہندوستان میں ریلوے نظام کی تعمیر کو نوآبادیات سے متعلق معذرت خواہانہ رویہ رکھنے والے، برطانوی راج کے ان اقدامات میں شمار کرتے ہیں جن سے برصغیر کو فائدہ حاصل ہوا۔ وہ اس حقیقت سے پہلو تہی کرتے ہیں کہ دنیا کے دیگر کئی ممالک میں یہ نظام قائم ہوا لیکن انھیں نوآبادیاتی غلامی کی بھاری قیمت ادا نہیں کرنا پڑی۔ دراصل حقائق مزید تلخ ہیں۔

ریلوے کے قیام کا خیال سب سے پہلے ایسٹ انڈیا کمپنی کو آیا۔ یہ بھی ایک ایسا ہی منصوبہ تھا جو کمپنی نے صرف اپنے فائدے کو مد نظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا تھا۔ 1843میں جنرل لارڈ ہارڈنگ نے ریلوے کی تعمیر کے فوائد کے حق میں یہ استدلال پیش کیا تھا کہ اس منصوبے سے معیشت اور ملک پر فوجی و حکومتی تسلط مضبوط ہوں گے۔ دس برس بعد ان کے جانشیں لارڈ ڈلہوزی نے اس دلیل کی مزید تشریح کچھ یوں کی ’’ ہندوستان برطانوی صنعتوں کے لیے زرعی خام مال کی منڈی کے طور پر انتہائی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔‘‘ ہندوستان کے دوردراز علاقوں میں زرعی خام مال کی منڈیوں تک رسائی اس وقت صرف ریل نظام کے ذریعے ہی ممکن تھی۔ اسی طرح دور افتادہ علاقوں میں کان کَنی کے لیے درکار افرادی قوت کی نقل و حمل کا ذریعہ بھی ریل ہوسکتی تھی تاکہ ان کانوں سے حاصل ہونے والا خام مال عظیم انگلیڈ کی ’’شیطانی ملوں‘‘ کی ضروریات پوری ہوسکیں (’’شیطانی ملوں‘‘ سے دراصل ویلیم بلیک کی معروف نظم And did those feet in ancient time میں استعمال کیے گئے استعارے “Satanic Mills” کی جانب اشارہ ہے)۔

تصور سے تعمیر تک ہندوستانی ریلوے کا قیام نوآبادیاتی نظام کی ایک بہت بڑی جعل سازی تھی۔ برطانوی شیئر ہولڈرز نے ریلوے میں سرمایہ کاری کرکے بے پناہ منافع کمایا جب کہ حکومت نے انہیں سرمایہ کاری پر فی سال پانچ فی صد خالص منافع کی ضمانت دی، اس وقت یہ شرح منافع کسی دوسری محفوظ سرمایہ کاری کے لیے دستیاب نہیں تھی۔ اس دور کے مطابق یہ شرح منافع بے حد زیادہ تھی۔ یہ اسی صورت ممکن ہوئی کہ حکومت نے برطانیہ سے وصول ہونے والے ٹیکس کے بجائے ہندوستان سے حاصل ہونے والے ریونیو اور ادائیگیوں سے اس پیش کش باعث ہونے والے خسارے کو پورا کیا۔
حکومت کی جانب سے دی جانے والی غیر معمولی گارنٹیز کے نتیجے میں ریلوے کی تعمیر کرنے والی کمپنیوں کو دی گئی رعایتیں ختم کردی گئیں تاکہ ان لاگت یا اصل مصارف بھی زیادہ ہوں۔ زیادہ مصارف کی صورت میں بلند شرح منافع اور محفوظ شرح سود کی ضمانتیں بھی دی گئیں، دراصل ایسا صرف اس لیے کیا گیا کہ تعیمراتی کام کرنے والی کمپنیوں کی لاگت زیادہ آئے جس سے ان کے منافعے میں غیر معمولی اضافہ ممکن ہوا۔ اس کے نتیجے میں ہندوستان میں 1850اور 1860کی دہائیوں میں تعمیر ہونے والی ریل کی پٹڑی کے فی میل پر آنے والی لاگت 18000پونڈ تک پہنچ گئی جبکہ اسی دور میں امریکا میں یہ لاگت برطانوی کرنسی کے مطابق 2000پونڈ فی میل تھی۔۔۔۔۔۔

ہندوستانی ٹیکس دہندگان کے علاوہ سبھی کی پانچوں انگلیاں گھی میں تھیں۔ یقینی منافع کی وجہ سے برطانوی اسٹاک میں ہندوستاتی ریلوے کے حصص کی قیمت برطانیہ کی اپنی ریلوے کمپنیوں کے مقابلے میں دگنا منافع دے رہے تھے۔ ہندوستانی ریلوے کی تعمیر کرنے والی کمپنیاں اس قدر منافع میں تھیں کہ اس کے شیئرز بیس برس تک پانچ انتہائی منافع بخش شمار ہوتے تھے۔ واضح رہے کہ 1853میں پہلی ریل کی پٹڑی بچھائی گئی یہ 1870تک کے بیس برس بنتے ہیں، جب کہ اس میں سے صرف ایک فی صد ہندوستان میں تھی۔ انگریزوں نے خوب مال کمایا، ٹیکنالوجی پر اپنا تسلط قائم رکھا اور تعمیراتی سامان اور آلات کی ترسیل کے ٹھیکے بھی اپنے ہاتھ میں رکھے، اس لیے منافع کئی گنا مزید بڑھ گیا۔ ہندوستان کے مالی وسائل پر ڈاکا ڈالنے کے لیے رچائے گئے اس ڈرامے کو اس دور میں بھی ’’عوامی رسک پر بننے والی نجی انٹرپرائز‘‘ کہا جاتا تھا۔ اس منصوبے کا تمام خسارہ ہندوستان کے عوام نے برداشت کیا اور منافع انگریز کے جیب میں جاتا رہا اور ساتھ ہی اسے ہندوستانی معیشت میں گہرا رسوخ حاصل ہوتا گیا۔ دوسری جانب برطانیہ کی لوہے اور فولاد کی صنعتوں کو اپنی مہنگی مصنوعات کے لیے انڈین ریلویز کی صورت میں ایک ایسی مارکیٹ میسر آگئی جہاں ان کی من مانی بھی چلتی تھی۔ انہوں نے خوب مہنگے داموں پر ریل کی پٹڑیاں، انجن، بوگیاں، مشینری اور پلانٹ فروخت کیے۔ اسی لیے جب ریلوے کی تعمیر کو ہندوستان سے انگریز کی بھلائی قرار دیا جاتا ہے تو ان سب تفصیلات کے پیش نظر یہ بات تسلیم نہیں کی جاسکتی، اس کے بجائے یہ بات یقینی معلوم ہوتی ہے کہ اس منصوبے کی صورت میں انگریز نے وسائل سے مالامال اپنی نوآبادیات سے جو کچھ حاصل کیا وہ اس سے کئی گنا زیادہ ہے جو اس نے یہاں خرچ کیا۔

اس لوٹ مار سے جو کچھ بچا وہ بھی ہندوستان کے لیے زیادہ مفید نہیں تھا۔ انگریز نے ہندوستان کے وسائل، کوئلہ، دھاتیں اور کپاس جیسے وسائل تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ریلوے نظام بنایا تھا۔ اس نظام کے ذریعے یہ خام مال بندرگاہوں تک پہنچایا جاتا تھا جہاں سے جہازوں پر لاد کر اسے برطانوی فیکٹریوں میں استعمال کے لیے بھیج دیا جاتا تھا۔ اس نظام سے ملنے والی سفری سہولت بھی حادثاتی تھی اور اس میں بھی عوام سے زیادہ برطانوی راج کا مفاد تھا۔ اس کے لیے تیسرے درجے کے کمپارٹمنٹ فراہم کیے جاتے تھے جن میں لکڑی کے بینچ لگائے گئے تھے دیگر ضروریات کے لیے کوئی سہولت نہیں تھی۔ تیسرے درجے کے ان ڈبوں میں ہندوستانی عوام کو ریوڑوں کی طرح ٹھونس دیا جاتا تھا۔ ہندوستان کے بے اختیار قانون ساز اداروں میں بھی اس پر کوئی آواز اٹھانے والا نہیں تھا۔ 1921سے 1941 تک اس معاملے پر وقفہ سوالات میں صرف 14سوالات اس متعلق ہوئے اور سالانہ کونسل آف اسٹیٹ میں کم و بیش 18بار اس سے متعلقہ امور زیر بحث آئے۔ یاد رہے کہ گاندھی نے بھی ہندوستان واپس آنے کے بعد اسی تھرڈ کلاس کے خلاف آواز اٹھاکر اپنی سیاست کا آغاز کیا۔ ان مسائل کے باوجود ریلوے کا یہ تیسرا درجہ بھی ریلوے کو منافع فراہم کرتا تھا۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ برطانوی سوداگروں نے مال برداری کے لیے ریلوے کے کرائے انتہائی کم کروا رکھے تھے جو اس وقت دنیا بھر میں کم ترین تھے۔ اس صورت میں تیسرے درجے میں مسافروں سے حاصل ہونے والے کرائے ریلوے کے لیے منافع کمانے کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا تھا۔ ریل سفر کے لیے ایک عوامی سواری بنتی جارہی تھی لیکن اس کے باجود رسد و طلب میں مطابقت پیدا نہیں کی گئی۔

ہندوستانیوں کو ریل کے محکمے میں ملازمتوں سے بھی محروم رکھا گیا۔ ملازمتوں میں برتا گیا امتیازی رویہ دراصل اس لیے تھا کہ مقامی آبادی اس صنعت سے متعلق تکینکی مہارت حاصل کرنے سے محروم رہے۔ برطانوی راج کا منصوبہ یہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے لیے ریلوے میں صرف یورپی افراد کو ملازمتیں دی جائیں۔ سگنل مین اور اسٹیم ٹرین چلانے اور ان کی مرمت کرنے والے غیر ملکی تھی لیکن یہ پالیسی اس قدر سخت رکھی گئی تھی کہ بیسیویں صدی کے اوائل تک تمام اہم کلیدی عہدوں، ریلوے بورڈ کے ڈائریکٹر سے لے کر ٹکٹ کولیکٹر تک، سب کے سب گورے تھے۔ ان ملازمین کو تنخواہیں بھی ہندوستانی کے بجائے یورپی معیارات کے مطابق دی جاتی تھیں اور اس میں بھی بڑا حصہ برطانیہ ہی کو ملتا تھا۔ مزید یہ کہ جب پالیسی میں کچھ رعایت دی گئی اور زیادہ اجرت پر کام کرنے والے یورپیوں کی تعداد میں کمی کی گئی تو اس وقت بھی سب سے پہلے انگریز نہ سہی انگریزوں جیسے ورکر تلاش کیے گئے۔ یہی وجہ تھی کہ ریلوے کے محکمے میں اینگلو انڈین کی بڑی تعداد کی بھرتی کی گئی اور یہ ملازمت ان کی شناخت سے نتھی ہوگئی۔ یہ برادری تعداد میں بہت زیادہ نہیں تھی اس لیے برطانویوں کے نزدیک ’’مارشل‘‘ تصور ہونے والے سکھوں اور زردی مائل رنگت رکھنے والے پارسیوں کو ملازمتیں دی گئیں۔ انہیں بھی صرف اسٹیشنز کے احاطوں میں انجن چلانے یا ایسے اسٹیشنوں پر انچارج لگایا گیا جہاں ٹریفک انتہائی کم ہوا کرتی تھی۔

ہندوستان کے باشندوں کو ملازمتیں تو ملنا شروع ہوئیں لیکن دہرے معیارات کا سلسلہ جاری ہے۔ برطانیہ میں میرٹ کی بنیاد پر فائر مین سے ڈرائیور یا چھوٹے علاقوں کے اسٹیشن ماسٹرز کو بڑے اسٹیشنز میں ترقی دینے کا باقاعدہ ایک نظام موجود تھا۔ لیکن ہندوستان میں ترقیوں کا یہ نظام تشکیل نہیں دیا گیا، اس لیے کہ زیادہ تر چھوٹے عہدوں پر ہندوستانی تعینات تھے اور بڑے عہدوں پر اکثر یورپی باشندے ہی براجمان تھے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ ہندوستان میں ریلوے کے محکمے میں ترقی کو رنگ و نسل سے منسلک کردیا گیا اور تمام ملازمیں کو اپنے رنگ و نسل اور ذات برادری کی تفصیلات فراہم کرنا ہوتی تھیں اور اسی بنیاد پر تنخواہوں، سالانہ چھٹیوں، الاؤنسز اور ترقی جیسے فیصلے کیے جاتے تھے، بلکہ یہ فیصلہ بھی کرلیا جاتا تھا کہ کون سے ایسے ملازمین ہیں جو زندگی بھر ریلوے میں ایک ہی گریڈ پر کام کرتے رہیں گے۔

برطانیہ نے بڑی چالاکی سے اپنی معاشی مفاد کو نسل پرستی سے منسلک کیا۔ 1862 میں بنگال کے علاقے جمال پور اور راجپوتانہ میں اجمیر میں ریلوے ورکشاپ قائم کی گئیں۔ وہاں کام کرنے والے ہندوستانی مکینک اس قدر کام سمجھ گئے کہ انہوں نے 1878 میں ریلوے انجن بنانا سیکھ لیا۔ ان کی کام یابی نے برطانوی راج کو ہوشیار کر دیا کیوں کہ مقامی مکینکوں کی تیار کردہ انجن یکساں طور پر کار آمد تھے اور ان کی تیاری پر آنے والی لاگت بھی انتہائی کم تھی، اور وہ برطانیہ میں تیار ہونے والے انجنوں سے قیمت میں بھی کم تھے۔ اس سلسلے کو روکنے کے لیے 1912میں برطانیہ نے پارلیمنٹ سے ایکٹ پاس کروایا جس کے بعد انڈین ورکشاپس کے لیے انجن ڈیزائن اور تیار کرنا قریباً ناممکن ہوگیا۔ اس ایکٹ کے تحت ہندوستانی فیکٹریوں کو انجن کی تیاری سے روک دیا گیا، دہائیوں کی محنت سے مقامی صنعت نے انجن بنانے کی جو صلاحیت حاصل کی تھی اسے ترقی سے روک دیا گیا اور انہیں صرف برطانیہ اور بڑی صنعتیں رکھنے والے ممالک سے درآمد ہونے والے انجنوں کی مرمت تک محدود کردیا گیا۔ 1854سے لے کر 1947 تک ہندوستان میں 14ہزار 4سو انجن برطانیہ سے درآمد کیے گئے جو کہ برطانیہ کے ریلوے انجن کی پیداوار کا دس فی صد بنتا ہے۔ اس کے علاوہ تین ہزار انجن کینیڈا، امریکا اور جرمنی سے بھی درآمد کیے گئے لیکن 1912کے بعد ہندوستان میں ایک ریلوے انجن نہیں بننے دیا گیا۔ برطانوی راج میں کیوں کہ مقامی آبادی کے افراد کو تکنیکی مہارت سے دور رکھا گیا تھا اس لیے آزادی کے بعد اس محکمے کے تکنیکی امور، مدتوں سے برصغیر کے کارخانوں میں انجن بنانے کی ترتبیت دینے والے، انگریزوں کے ہاتھ میں رہے۔

مختصراً یہ کہ آج جب ہم پلٹ دیکھتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ جسے ہم انگریزوں کا احسان سمجھتے آئے ہیں دراصل وہ استیصال کا ایک ایسا منصوبہ تھا جو اس خطے میں اپنے تسلط کو طول دینے اور یہاں کے مالی و معاشی وسائل تک رسائی کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ معروف تاریخ داں بپن چندرا برطانوی راج میں بننے والے ریل نظام کے بارے میں لکھتے ہیں ’’گھناؤنی خود غرضی پر مبنی یہ منصوبہ برطانوی سوداگروں، صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کے مفادات کے فروغ کے لیے تیار کیا گیا تھا، جس کی قیمت ہندوستان نے ادا کی‘‘ اور اس منصوبے کا بنیادی مقصد صرف و صرف اس خطے کے قدرتی اور مالی وسائل اپنی گرفت میں لینا تھا۔

حیرت انگیزبات یہ ہے کہ آج اس خطے میں بسنے والے لوگوں کی اکثریت ریلوے نظام کو برطانوی راج کی عظیم یاد گار بلکہ احسان تصور کرتی ہے لیکن ماضی میں ایسے افراد موجود تھے جو اس کے پس پردہ عوامل پر نظر رکھتے تھے۔ 30اپریل 1884کو بنگالی اخبار سماچار نے ریلوے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’لوہے کی سڑک کا مطلب لوہے کی کرسیٔ اختیار ہے‘‘ اور آنے والے دور نے اس بات کو حقیقت ہوتے دیکھا۔
(بشکریہ روزنامہ 92نیو ز)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: