ناقابلِ معافی: فاروق عادل کے قلم سے عطاالحق قاسمی کا تذکرہ

0

اشفاق احمد مرحوم فرمایا کرتے تھے:
” لوگوں کو سَوکھا کرو”
یہ وہی بات تھی جسے بعد میں انھوں نے تھوڑا آسان بنا کر پیش کیا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کا شرف عطا فرمائے۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ قاسمی صاحب اشفاق احمد سے محبت تو بہت جتاتے ہیں لیکن ان کے پیروکار وہ ہرگز نہیں۔ میرے اس بیان پر کسی کو شک ہو اور وہ اسے چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو خاطر جمع رکھے۔ میرے پاس اس دعوے کے حق میں چند ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔
حال ہی میں مجھے ایک فلم دیکھنے کا موقع ملا ہے جس میں ایک پہلوان اپنے شاگرد کو سکھاتا ہے کہ جیتنا ہے تو حریف کے دماغ سے کھیلو۔ اسے دائیں ٹانگ پکڑنے کا جھانسا دو اور بائیں پر لاک لگا کر چت کردو۔ میرا مشاہدہ ہے کہ قاسمی صاحب اپنے فن کے تعلق سے بھی اسی پہلوان جیسی واردات کرتے ہیں۔ اس طرز عمل کی ابتدا تب ہوئی جب شاعری کرتے کرتے اچانک انھوں نے ٹریک بدلا اور مزاحیہ کالم نگاری شروع کردی جس سے لوگ مصیبت میں پڑ گئے کیوں کہ اس زمانے میں مزاح نگاری کا مطلب تھا شگفتگی، اگر اس سے کام نہ چلے تو ذرا سا مسکرا لیجئے لیکن قاسمی صاحب نے مسکراہٹ کو قہقہے میں بدل دیا لہٰذامزاح نگار مشکل میں پڑ گئے۔
قاسمی صاحب نے جس زمانے میں کالم لکھنے شروع کیے، تصویریں تو اس زمانے میں بھی چھپا کرتی تھیں لیکن خال خال اور تصویر بنوانے کے بھی کچھ آداب تھے، جناح کیپ پہنو اور منہ پکا کر کے ٹکٹکی باندھ کر کیمرے کی طرف دیکھتے رہو۔ قاسمی صاحب نے اس روایت میں بھی بدعت پیدا کی اور ایک ایسی تصویر اپنے کالم کے ساتھ شائع کردی جس میں وہ علائق دنیوی سے بے نیاز ہوکر قہقہے لگا تے ہوئے نظر آتے ہیں، لوگ پھر مشکل میں پڑ گئے اور ایک الہڑ قہقہے باز کی تصویر کی آرزو میں فوٹو گرافروں سے الجھنے لگے۔
اس عہد میں مزاح نگاری کی اخلاقیات یہ تھیں کہ جیساتیسا لکھ سکتے ہو، ضرور لکھو، چوٹ کرنی ہے تو وہ بھی جی بھر کے کرو لیکن چلمن میں چھپی ہوئی اُس حسینہ کی طرح جو محبوب سے چھیڑ خانی تو کرتی ہے لیکن سامنے آکر اپنی چھب نہیں دکھاتی ، قاسمی صاحب نے یہاں بھی روایت سے بغاوت کی اور چلمن سے نکل کر کھلم کھلا اپنے نام کے ساتھ کالم لکھنا شروع کردیا، لوگ ایک بار پھر مشکل میں پڑ گئے۔
ہماری نسل یا کم از کم میری عمر کے لوگوں کی آنکھ اُس عہد میں کھلی جب سرکاری ملازم چھوئی موئی کی طرح محتاط رہتا۔ اس کے مشرب میں سیاست پر بات کرنا، اخبار میں لکھنا یا جمہور ومہور کی دہائی دینا درست نہ تھا۔اس کا سبب یہ تھااُس زمانے کے حکمران خود کو کسی دوسرے سیارے کی مخلوق سمجھتے اور عوام سے وہی سلوک کرتے جس کی تربیت انھیں اپنے آقائوں سے ملی تھی، ان کے رعب داب سے سرکاری ملازم لرزتے کہ کہیں زن بچہ کوہلو میں ہی نہ پلوادیا جائے ۔ قاسمی صاحب نے ایک بار پھر واردات کی اور سرکار والا تبار کی ملازمت اختیار کرنے کے باوجود شجر ممنوعہ سے چھیڑ چھاڑ بھی روا رکھی ، لوگ پھر مشکل میں پڑ گئے۔
اب تو حد ہی ہو گئی ہے، اوّل تو قاسمی صاحب کو برادرم قمر ریاض جیسے پرُ خلوص اور بے ریا مداح مل گئے ہیں جو محبت کے معاملے میں مولانا حسرت موہانی کے برعکس حسن کی رسوائی کو ہی شیوہ عاشقی جانتے ہیں، اس پر طرّہ یہ کہ قاسمی صاحب نے انھیں اپنی تصویری سوانح شائع کرنے کی اجازت بھی دے دی ، میں سوچتا ہوں کہ لوگ اب کیا کریں گے ؟ ہر شاعر، ادیب یا کالم نگار کو تو قمر ریاض جیسے لوگ میسر نہیں آسکتے۔ ا ن شواہد کی بنیاد پر مجھے دکھ ہے کہ قاسمی صاحب خلق خدا کو سَوکھا کرنے کے تعلق سے پیر و مرشد اشفاق احمد کے مسلک سے سنگین روگردانی کے مرتکب ہوئے ہیں جس پر وہ ہرگز قابلِ معافی نہیں۔
میں نے یہ مقدمہ ناقابلِ تردید ثبوتوں بلکہ معتبر گواہوں کی شہادت کے ساتھ اپنے قارئین آپ کی خدمت میں پیش کردیا ہے، اس کے باوجود مطمئن نہیں ہیں تو پھر میری گردن حاضر ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: