عالمی طاقت کا مشن: مسلکی اور فقہی جدال و قتال — حافظ شفیق الرحمن

0
  • 14
    Shares

واقفان حال جانتے ہیں کہ آل سعودنے 1928 ءمیں اقتدار پر گرفت مضبوط کرتے ہی ایران سے سعودی عرب کے ساتھ نئے تعلقات کی ابتدا کی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو تسلیم کیا اور اپنے اپنے سفیر مقرر کئے۔ تقریبا پندرہ سال تک یہ تعلقات خوشگوار رہے۔ لیکن 1943 میں ایک واقعہ رونما ہوا جس کی وجہ سے تین سال تک دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کا سفارتی بائیکاٹ کئے رکھااور یوں پہلی بار ایران اورسعودی عرب کے مابین کشیدگی واقع ہوئی۔ دوسرا تناؤ 1948ء میں ایران کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے پر ہوا۔ اس کے باوجوددونوں ممالک نے سفارتی تعلقات تو برقرار رکھے مگر رنجش کی داغ بیل پڑ گئی۔ 1973ءمیں عرب اسرائیل جنگ ہوئی۔ عرب اسرائیل کو ہرطرح سے کمزور کرنا چاہتے تھے۔ اسرائیل کو تیل ایران فراہم کررہا تھا۔ سعودی عرب نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ تیل کی ترسیل بند کردے۔ ایران نے انکارکردیا اورکہا تیل کمپنیاں بیچتی ہیں نہ کہ ایرانی حکومت۔ ایران کے اس اقدام کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں سنگینی پیدا نہیں ہوئی اور رابط کا سلسلہ برقرار رہا۔ یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ اختلافات کو سنی شیعہ کا رنگ نہیں دیاگیا بلکہ ملکی اور سیاسی حد تک رکھا گیا۔ ماضی میں اسلامی فقہی اختلافات کے باوجود سعودی ایران تعلقات بہتری کی جانب گامزن تھے حتیٰ کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان بحرین پر ایران کے دعوی کا متنازع معاملہ بھی 1961ءمیں سعودی عرب اور بحرین کے مابین تیل کی دولت میں شراکت کے معاہدے کے بعد اپنے اختتام کو پہنچ گیا تھا۔ لیکن 1979ءمیں ایران میں شیعہ انقلاب کے بعد ایرانی حجاج کی جانب سے حج کے موقع پر مکہ اور مدینہ میں حرمین الشریفین کی سڑکوں پر سیاسی اجتماعات کے انعقاد کے ذریعے سیاسی نعرہ بازی کی گئی اور سعودی فرمانرواؤں کی حرمین الشریفین کی کسٹوڈین شپ کی حیثیت کو بھی چیلنج کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ یمن کی خانہ جنگی میں حوثی قبائل کو ایرانی حساس اسلحہ اور تربیت کی فراہمی کو بھی سعودی حکومت علانیہ اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔

کون نہیں جانتا کہ مارچ 2003ءمیں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے عراق پر یلغار کر کے سنی شیعہ اختلافات کی تخم پاشی کی طے شدہ حکمت عملی کو آگے بڑھانا شروع کیا تاکہ عراق میں شیعہ سنی اختلافات کو تشدد کی انتہاو¿ں تک پہنچایا جائے۔ اسی دوران امریکیوں کی جانب سے باقاعدہ بغداد کو شیعہ بغداد اور سنی بغداد میں تقسیم کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی۔ مشرق وسطیٰ اور عالم اسلام کے تمام ممالک میں مسلکی اور فقہی بنیاد پر جدال و قتال کے سلسلے کو آگے بڑھانا عالمی طاقت کا مشن تھا اس کے نتیجے میں عراق، لیبیا، شام اور اب یمن میں فرقہ واریت کے انہی شعلوں کو سامراجی طاقتیں اپنے دامن کی ہوا دے رہی ہیں۔ سعودی عرب کو شکایت ہے کہ ایران سعودی عرب کے داخلی معاملات میں مداخلت کا مرتکب ہو رہا ہے اور اس کے ہمسایہ ملک یمن میں مسلکی انتہا پسندی کی بنیاد پر حوثی قبائل کو مسلح اور منظم کر کے سعودی سلامتی کے لیے خطرہ بنا رہا ہے۔ ماضی میں ایسی ہی بے حکمت پالیسیوں کے سبب ایران سعودی فقہی اختلافات صرف پاکستان نہیں بلکہ خطے کے دیگر اسلامی ممالک میں فرقہ وارانہ کشیدگی کا نشانہ بنے۔ ایسے میں پاکستان اپنا وزن کسی فریق کے حق میں ڈالنے کے بجائے سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی ختم کرنے اور دونوں ملکوں کو قریب تر لانے کی کوشش کرے۔

سنجیدہ فکر حلقوں کا مطالہ ہے کہ دونوں متحارب اور متصادم ممالک کو ایک دوسرے پر الزامات کی یورش کو بالائے طاق رکھ دینا چاہےے۔ وہ دونوں ممالک سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ عالم اسلام کے وسیع تر مفاد میں زیادہ دور اندیشی اور مستقبل بینی رو بہ عمل لائیں۔ انہیں اس امر کا ادراک و احساس ہونا چاہےے کہ دونوں آپس میں متصادم ہو کر عملاً اسرائیل کو محفوظ بنا رہے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ او آئی سی عالم اسلام کے مقتدر طبقات کی غفلت نے عضوِ معطل اور لاشہ بے جاں بنا کر رکھ دیا ہے۔ اگر یہ ادارہ زندہ، فعال اور متحرک ہوتا تو تمام اسلامی ممالک دونوں ناراض ممالک کو مذاکرات اور مصالحت کی راہ دکھا سکتے تھے۔ عالم اسلام کی پہلی جوہری ریاست کی حیثیت سے پاکستان کو دونوں ممالک کے مابین مصالحت کی کوشش کرنا چاہےے۔ قرآن کی نص صریح ہے کہ جب مسلمانوں کے دو گرہ آپس میں قتل و غارت پر اتر آئیں تو ان دونوں کے درمیان صلح کرا دو۔ سعودی عرب اور ایران کو بھی احساس ہونا چاہےے کہ صلح اور مصالحت ہی میں خیر ہے جبکہ تصادم اور مناقشت بربادی ہی کا پیغام لایا کرتے ہیں۔

ولادی میر پیوتن نے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد ایک بار پھر شام میں مداخلت کر کے امریکہ اور نیٹو ممالک کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ محدود ہی سہی لیکن مو¿ثر فوجی طاقت کا حامل ایک ملک ہے۔ امریکہ، مغربی ممالک اور روس تینوں شام پر لشکر کشی کر کے یہاں فرقہ واریت اور خانہ جنگی کے الاو¿ کو بھڑکاکر اسے ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں تا کہ اسرائیل کے اردگرد موجود اہم عرب ممالک کو مختلف جنگی ہتھیاروں کا نشانہ بناکر تاخت و تاراج کر دیا جائے اور اسرائیل تنہا علاقائی طاقت بن کر ابھرے۔ تاریخ پر نگاہ رکھنے والے قارئین بخوبی جانتے ہیں کہ قیام اسرائیل کے لیے بھی امریکہ، نیٹو ممالک اور سوویت روس نے اجتماعی کوششیں کی تھیں اور اب استحکام اسرائیل کے لیے بھی یہ تینوں مشترکہ ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: