یومِ اساتذہ : ذرا عمرِ رفتہ کو آواز دینا —— زاہد سعید

0
  • 211
    Shares

معلوم ہوا کہ اساتذہ کا دن منایا گیا۔ ماں، باپ، بہن، بھائی، خویش و احباب جیسے ہر محترم و جذباتی رشتوں کی طرح ایک اور قابل احترام رشتے کے حصے میں آیا ایک دن۔ تیز گام مادی زندگی میں جہان ایک پل سانس لینے کو رکنا بھی کارِ نقصان شمار ہوتا ہو، وہاں کسی کے نصیب میں ایک دن کا آنا بھی صد غنیمت ہے۔

لوٹ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایّام تُو۔ ۔ ۔ یہ نصف صدی کا قصہ نہیں، فقط دو اڑھائی عشرے پیچھے کی بات ہے، جب ہم گاوں کے واحد سرکاری مڈل سکول کے طالبعلم ہوئے۔ سیاہ رنگ ملیشا کی شلوار قمیص وردی ہوا کرتی۔ سکول کے جتنے طلبا تھے، دو پیر فی نفر کے حساب سے اس سے دُونی تعداد پیروں کی۔ اور جتنی تعداد پیروں کی، اتنی اقسام و الوان کے جوتے، بوٹ اور چپل۔ ۔ ۔ ۔ مارچ اپریل میں جب زیر زمین جمی برف پگھلنے لگتی تو زمین دلدلی ہوجاتی اور ماقبل دوپہر کے اوقات میں زمین کے مساموں سے پانی کے قطرے رستے۔ جیسے مزدور کی پیشانی سے عرق۔ یا جیسے پھلوں سے نچڑتا رس۔ ایسے میں مٹی کی مسحور کُن خوشبو سونگھتے دلدلی زمین پر ننگے پاوں چلنا مخملیں فرش پر قدم دھرنے سے زیادہ فرحت افزا ہوتا۔ وقفے (بریک) میں گھر سے ہلکا پھلکا کھا پی کر واپس آتے ہوئے کبھی کبھار جوتے رکھ کر ننگے پاوں سکول واپسی کی عیاشی بھی کرتے۔ اساتذہ کو ہمارے ننگے پیروں سے کوئی مسئلہ نہ ہوتا۔ سکول کا دوسرا تیسرا سال ہوگا جب سکول کی وردی کے ذیل میں پلاسٹک کا ‘شیر خان مارکہ’ سفید رنگ کا بوٹ بھی شامل ہوا۔ آزادی کے پاوں میں ایک بیڑی کا اضافہ ہوا۔

ابھی تک گاوں پبلک سکولوں کی آلائش سے پاک تھا اور شرٹ، ٹائی، سروس، باٹا کی پہنچ سے دور۔ خلا میں بے وزن ہو کر اڑنے کا نہیں، زمین پر قدم جمائے چلنے کا زمانہ تھا۔ آخری تین کلاسیں (مڈل لیول) کرسی پر بیٹھ کر اتراتی ہوتیں اور اول سے پانچویں تک جماعتیں کسی درخت تلے ٹاٹ پر یا ننگی زمین پر بیٹھی ان کو دیکھ دیکھ للچاتیں۔ وہ کاغذ پر ڈالر پن اور پیانو بال پوائنٹ چلا کر پھولتیں اور یہ تختی پر سرکنڈے کا قلم گھسیٹتے جلد سے جلد چھٹی جماعت میں پہنچنے کے خواب دیکھتیں۔ استاد ابھی ماسٹر صاحب تھے، سر نہیں بنے تھے۔ اور طلبا کے دل میں ماسٹر صاحب کا وہ احترام اور وہ رعب ہوتا کہ ان کا گزر کھیلتے بچوں سے ہوتا تو کھیل رک جاتا۔ ۔ ۔ سر جھک جاتے۔ چھٹی کے بعد سب سے پہلا کام ملیشا کا سیاہ رنگ وردی والا جوڑا بدلنا ہوتا کہ ماسٹر صاحب کا حکم ہے۔ گاہے چھٹی کے بعد وردی میں گھومتے ماسٹر صاحب کی نظر پڑتی تو صبح تک پشیمانی و پریشانی پیچھا نہ چھوڑتی۔

وہ ایک عہد تھا جس میں ظاہر سے زیادہ باطن کا خیال ہوتا اور جسم سے زیادہ روح کا۔ پھر یوں ہوا کہ زمانہ متمدّن ہوا اور زمانے والے مہذّب۔ ارتفاع و ارتقا کی منازل کھلیں۔ اس تہذیب کا اولین عنصر اندرون کو صیقل کرنے سے زیادہ بیرون کی ملمع کاری ٹھہری۔ جسم بڑھتا گیا اور روح گھٹتی گئی۔ آخرکار جسم کے ملبے تلے روح کہیں دب دبا گئی۔ رنگ برنگے در و دیوار، وردیوں، بوٹوں، ٹائیوں اور قلموں میں اندر کی تعظیم و تکریم کا رنگِ احساس دھندلا پڑ گیا۔ استاد کو کہتر و فروتر سمجھا جانے لگا۔ مار نہیں پیار کی چھتری تلے اساتذہ مجرم اور بد قماش طلبا وی آئی پی بن گئے۔ ۔ ۔ ۔ یوں اساتذہ کے حصے میں سال کے تین سو پینسٹھ دنوں میں سے ایک دن آیا۔ ۔ ۔ آٹھ پہر۔ ۔ ۔ چوبیس گھنٹے۔ ۔ ۔ ۔ وہ ایک دن کہ جس میں جذبے و احساس سے عاری احترام و الفت کا مشینی اظہار ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ لگا لی اور استاد کی عمر بھر کھپا دی گئی محنت کا صلہ ادا ہوگیا۔

شکوہ کسی ایک فرد و فریق کا نہیں۔ جیسا سانچا ویسا ڈھلا ہوا نمونہ۔ زمانہ ساز لوگ خال خال ہوتے ہیں اور متبعینِ زمانہ کی بھیڑ۔ زمانہ مادے اور مادیت کی حکمرانی کا ہوا سو زمانے والے بھی مادے اور مادیت کے محکوم ہوئے۔ مادہ ہی خیر و شر کی کسوٹی، مادہ ہی تعلقات کے اتصال و انقطاع کا پیمانہ، اور مادہ ہی نیک و بد کا حکَم و فیصل۔ دوسری طرف ایسے ماحول میں اساتذہ نے بھی معماریِ قوم کے اپنے مقدس پیشے سے انحراف کیا۔ وہ تعلیم کو فرض و فخر کم، سُود و سودا زیادہ سمجھنے لگے:

نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں، نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں​
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں​
(اقبال)

زمانہ جس رخ جائے اور جس رنگ میں ڈھلے۔ ۔ ۔ استاد کا مقام متعین اور منزلت مسلَّم ہے۔ آپ کی شخصیت کا تاج محل جتنا پر شکوہ ہو جائے؛ آپ کی ذات کا شیش محل جتنی چمک دمک دکھانے لگے؛ آپ کی حیثیت کا ایفل ٹاور جتنی بلندی کو پہنچے؛ یہ کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ یہ تمام تر شکوہ، چمک اور بلندی بنیاد کے پہلے پتھر اور پہلی اینٹ کی رہینِ منّت ہے۔ وہ خشتِ اولین جو الف انار بے بلی کی صورت ابتدائی مکتب و سکول کے معلم نے اپنے دامن سے آپ کی ناک پونچھتے اور اپنی آستین سے آپ کا چہرہ صاف کرتے آپ کے شخصی بنیادوں میں دھری۔ جسمانی و تعلیمی عمر کے ہر مرحلے میں مختلف اساتذہ نے آپ کو ہاتھ پکڑ کر اگلے مرحلے تک پہنچایا۔ ہر ایک کی اپنی حیثیت اپنا مقام اور اپنی منزلت ہے۔ مگر اس اولین معلم کا بار احسان ہم پر سب سے زیادہ ہے جس نے اصوات کو حروف میں ڈھالنا اور حروف کو لفظوں میں جوڑنا سکھایا۔ جس نے قلم، روشنائی اور کاغذ سے پہلے پہل آپ کو متعارف کرایا۔ اسی سبب آج ہم یہ سب لکھنے اور پڑھنے کے قابل ہوئے۔ آج ان بہت سے اساتذہ سے ہمارے قد بڑے اور ڈگریاں اونچی ہوئیں۔ آج وہ ہم سے احترام سے ملتے اور ہمیں ‘آپ جناب’ بلاتے ہیں۔ بخدا جب بھی وہ آپ کہ کر بلاتے ہیں اور احترام سے ملتے ہیں تو نظریں احساسِ ندامت اور بار احسان لئے ان کے قدموں میں جھک جھک جاتی ہیں۔ کہ یہی تھے جنھوں نے ہماری شحصیت کی تعمیر کی پہلی اینٹ درست سمت میں رکھی، ورنہ:

خِشتِ اول چوں نہد معمار کج
تا ثریا می روَد دیوار کج

دعا گو ہوں کہ میرے تمام تر اساتذہ جہاں ہوں اللہ انھیں خوش رکھے۔ ۔ ۔ سلامت رکھے۔ اللہ کرے پھر ویسا دور آئے جس میں وقت کا بادشاہ بھی معلم کا کفش بردار اور اس کی مرتبے کا معترف ہو:

ابھی بھی پچھلے کسی زمانے کا منتظر ہوں
اسیرِ ماضی ہوں، میں کرشمے کا

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: