بارود —– ہری موٹوانی کا افسانہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ترجمہ: عامر صدیقی

0
  • 21
    Shares

احمد آباد میں ایک ادبی سیمینار کے دوران میری اس سے ملاقات ہوئی تھی، جو آگے چل کر دوستی میں بدل گئی۔ اسے سندھی ادب پڑھنے کا بڑا شوق تھا، وہ کونج کا لائف ٹائم ممبر بن گیا۔ (ہری موٹوانی ’’سہ ماہی کونج‘‘ نامی سندھی میگزین کے ایڈیٹر رہے ہیں)

ادب کے ساتھ موسیقی میں بھی اچھی دلچسپی رہی۔ ٹھمری اس کی من پسند راگنی تھی، جسے سنتے ہی اسے نشہ چڑھ جاتا تھا۔ سر جھومنے لگتا اور ہاتھ ہر سر تال پر تھپکی دیتے رہتے تھے۔ کاروبار بینکنگ کا تھا۔ سود پر پیسے لینے اور دینے کے سلسلے میں وہ اکثر بمبئی آیا جایا کرتا تھا۔ جب بھی بمبئی آتا مجھے فون کرتا، ہوٹل میں بلاتا۔ گجرات میں شراب پر پابندی تھی، بمبئی میں دل کھول کر پیتا اور پلاتا تھا۔

ایک دن احمد آباد سے اس کا فون آیا۔ ’’ہائے کاکا۔ میرا ایک کام کرو گے؟‘‘

اس نے میرا لکھا ہوا سندھ کا سفر نامہ پڑھا تھا۔ وہاں سب مجھے کاکا کہہ کر بلاتے تھے، تو یہ بھی ’’کاکا‘‘ کہہ کر مخاطب کرتا۔

’’ہاں بتاؤ، کیا کام ہے؟‘‘

’’میری بات توجہ سے سنیں، سن رہے ہیں نا؟‘‘

’’ہاں، سن رہا ہوں‘‘ میں نے کہا۔

’’بمبئی میں ایک نئی ٹھمری گلو کارہ آئی ہے، بہت اچھا گاتی ہے، میں اس کو سننا چاہتا ہوں۔ معلوم کریں کہ وہ کہاں پر گاتی ہے؟‘‘

’’نام تو بتاؤ؟‘‘

’’نام چمپا بائی ہے۔‘‘

’’چمپا بائی۔‘‘ میں نے تعجب ظاہر کرتے ہوئے کہا، ’’پھر تو وہ ضرور کسی کوٹھے پر گاتی ہو گی۔ تم کوٹھے پر جاؤ گے؟‘‘

’’کاکا، یہ کون سی بڑی بات ہے۔ میں تو اسے سننے کہیں بھی جا سکتا ہوں۔‘‘

’’اچھا، میں پتہ لگاؤں گا۔‘‘

دوسرے دن اس کا فون پھر آیا۔ میں نے چمپا بائی کا پتہ لگا لیا تھا۔ وہ اوپیرا ہاؤس کے قریب ایک کوٹھے پر مجرا کرتی ہے، یہ معلومات میں نے اسے دی۔

میں نے کچھ جھجکتے ہوئے کہا، ’’مجھ جیسے سفید پوشوں کے لیے کوٹھے پر چلنا ٹھیک نہ ہو گا، تم اکیلے ہی چلے جانا۔‘‘

وہ قہقہہ مار کر ہنس پڑا، میں چپ رہا۔ ہنستے ہوئے اس نے کہا، ’’کاکا آپ بھول رہے ہیں کہ آپ مصنف ہیں، اور مصنف کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔ آپ نے خود ایک بار ہندی کے مصنف جینندر کمار کا قصہ سنایا تھا، جس میں اس نے کہا تھا کہ ’’جسم بوڑھا ہوا ہے تو کیا، دل تو جوان ہے۔ کاکا دل سے آپ بھی جوان ہیں۔‘‘ اور اس نے فون رکھ دیا۔

ہفتے کی رات ہم دونوں چمپا بائی کے کوٹھے پر گئے۔ چہل پہل شروع ہو گئی تھی۔ ہم دونوں ایک طرف اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔ واقعی میں کمال کی ٹھمری گائی۔ گاتے گاتے جو حرکتیں سُر سے ترنگیں بن کر نکل رہی تھیں، اس سے بدن میں سنسنی سی دوڑنے لگی تھی۔ کتنے ہی پرستار تھے جو اس پر سے نوٹوں کا صدقہ اتار رہے تھے۔

میرا احمد آبادی دوست چپ چاپ بیٹھا راگنی سے لطف لیتا ہوا جھوم رہا تھا۔ رات کے دس بجے کچھ لوگ چلے گئے، کچھ جانے کی تیاری میں تھے، لیکن ہم بیٹھے رہے۔ سوا گیارہ بجے چمپا بائی نے ہمارے سامنے آ کر سلام کیا۔ ہم سمجھ گئے کہ وہ اجازت چاہتی ہے اور ساتھ میں بخشش کی طلب گار بھی ہے۔ میرے دوست نے بریف کیس کھولا، ایک لفافہ چمپا بائی کی طرف بڑھایا، جسے لیتے ہوئے چمپا بائی نے پھر جھک کر سلام کیا اور پلٹ کر چل دی۔ ہم دونوں بھی نیچے اتر آئے، تاہم میں نے دیکھا میرے دوست پر راگنی کے سُروں کا خمار چھایا ہوا تھا۔

اس کے بعد اکثر اوقات یہی ہوتا رہا۔ وہ جب بھی بمبئی آتا، شام تک سارے کام پورے کرتا اور رات کو کوٹھے پر پہنچ جاتا۔ رات کو گیارہ اور بارہ کے بیچ ہونے والے مزے کو سمیٹ کر وہ لوٹتا۔ مجھے گھر چھوڑتا اور خود ہوٹل چلا جاتا۔ پھر ایک دفعہ وہ دو ڈھائی مہینے تک نہ آیا، نہ ہی اس کا کوئی فون۔ جانے کہاں غائب ہو گیا تھا؟ میں بھی اپنے کاموں میں مصروف رہا۔ پھر ایک دن اچانک آ پہنچا اور ہم دونوں کوٹھے پہنچے۔ میرے دوست کو دیکھ کر چمپا بائی کی آنکھیں ایسے چمک اٹھیں جیسے سورج نکلنے پر ہر طرف روشنی چھا گئی ہو۔ میرے دوست کے چہرے پر بھی ایسی ہی چمک پھیلنے لگی، جیسے صبح کی تازہ ہوا کے لگنے سے مرجھایا پھول کھل اٹھتا ہے۔ رات کو جب اجازت لینی چاہی تو چمپا بائی نے مسکراتے پوچھا۔ ’’طبیعت ناساز ہے کیا؟‘‘

یہ سوال میرے دوست سے کیا گیا اور اس نے جواب دیتے ہوئے کہا، ’’یورپ گیا تھا۔‘‘

’’آپ یورپ گئے تھے؟‘‘ اس کو شاید یقین ہی نہیں ہو رہا تھا۔

’’بزنس ٹور تھا‘‘

’’ظاہر ہے، وہاں آپ کو ہماری یاد کہاں آئی ہو گی؟‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ نزاکت کے ساتھ سامنے آ کر بیٹھ گئی۔

میرے دوست نے جیب سے پرس نکالا، مگر اس میں سے نوٹ نہیں، ایک تصویر نکالا۔ میں حیرانی کے ساتھ اس تصویر کو دیکھنے لگا، وہ رنگین تصویر چمپا بائی کی تھی۔

تصویر چمپا بائی کو دکھاتے ہوئے کہا، ’’آپ ہر وقت ہمیں یاد ہیں اور پرس میں محفوظ ہیں۔‘‘  یہ کہتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رقص کرنے لگی۔ چمپا بائی یہ دیکھ کر ایک طرف تو حیران ہوئی، لیکن دوسری جانب اس کو فخر محسوس ہوا۔ اچانک وہ اٹھی، اندر گئی اور ایک لفافہ لے کر واپس آئی۔ لفافے میں دیا ہوا چیک میرے دوست کی جانب بڑھا۔ وہ بھی حیران ہو گیا اور کہہ اٹھا، ’’یہ تو میرا دیا ہوا چیک ہے۔ ابھی تک کیش نہیں کروایا ہے؟ یہ مجھے دے دیں، تو میں آپ کو کیش کرا دوں۔‘‘

چمپا بائی چیک والا ہاتھ پیچھے کیا اور مسکرا کر کہہ اٹھی، ’’آپ میری تصویر اپنے بٹوے میں رکھ سکتے ہیں تو کیا میں آپ کا دیا ہوا چیک اپنے پاس سنبھال کر نہیں رکھ سکتی؟‘‘

میرا دوست لا جواب ہو گیا۔ شاید دل میں خوش بھی تھا۔ پھر چمپا بائی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، ’’تصویر محض تصویر ہے یادگار کیلئے، پر یہ چیک ہے جس سے تمہیں پیسے ملیں گے۔‘‘

چمپا بائی کا چہرہ اتر گیا، اداس لہجے میں بولی، ’’یہ سچ ہے کہ ہم پیسوں کے لیے ناچتے گاتے ہیں، لیکن ہمارا دل بھی چاہتا ہے کہ ہم آپ کی دی ہوئی سوغاتیں سنبھال کر رکھیں، جیسے آپ نے میری تصویر رکھی ہے۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ بغیر جواب سنے اندر چلی گئی۔ ہم دونوں بھی نیچے آئے۔ پر دوست کے دل پر چمپا بائی کی بات کا بوجھ تھا یا اس چیک کو اس کے پاس محفوظ رہنے کا فخر تھا، میں کہہ نہیں سکتا۔

کتنے موسم بدلے، گرمی آئی، سردی آئی، بہار آئی، خزاں آ کر لوٹ گئی، پر میرا دوست بمبئی نہیں آیا۔ اس دوران میں ہانگ کانگ کا سفر کر کے لوٹ آیا، جس کی تفصیل کونج میں شائع ہوئی۔ اس کو بھیجا گیا پرچہ اس نوٹ کے ساتھ واپس آیا کہ ’’آدمی موجود نہیں۔‘‘ میں حیران تھا کہ آخر وہ گیا کہاں؟ ایک سال سے زیادہ گزر گیا۔ اچانک وہ ایک دن آ دھمکا۔ تاج محل ہوٹل سے فون کیا۔ فوراً آؤ۔ فون نمبر اور روم نمبر بھی بتایا۔ میں ایک گھنٹے میں اس کے پاس پہنچا۔ وہ انتظار کر رہا تھا۔ پہلے ہوٹل میں اچھا سا ناشتا کیا، جوس وغیرہ پیا اور پھر حال احوال سنایا۔

یورپ کے پچھلے ٹرپ میں، وہ کچھ نئی جان پہچان بنا آیا تھا۔ اس بار جب وہ گیا تو انہوں نے اسے امریکن آرمی کے لیے ایک معاہدہ لے کر دیا۔ امریکہ افغانستان کے دہشت گردوں پر فضائی حملے کر رہا تھا، اور انہیں جن چیزوں کی ضرورت تھی۔ وہ میرا یہ دوست انہیں سپلائی کرتا رہا۔ اس معاہدے میں اس نے لاکھوں ڈالر کمائے۔ جنگ بند ہوئی تو معاہدہ بھی پورا ہوا۔ اور وہ انڈیا لوٹ آیا۔

پیسہ بڑا بادشاہ ہے۔ پہلے وہ بمبئی آتا تو سستے ہوٹل میں ٹھہرتا، اب اس کے پاس ڈالر ہیں، وہ تاج محل میں آ کر ٹھہرا ہے۔ ہوٹل نے اے سی کار کا بھی بندوبست کیا ہوا تھا۔ میرے دوست کا سوٹ بھی بہت قیمتی تھا۔

اس رات وہ مجھے گاڑی میں چمپا بائی کے کوٹھے پر لے گیا۔ لیکن پنچھی اڑ گیا تھا، پنجرہ خالی تھا۔ دوست کو گہرا صدمہ پہنچا۔ وہ خالی خالی نظروں سے وہ میری طرف دیکھنے لگا، ایسے جیسے سمندر میں بیچ بھنور، اس کی کشتی شکست کھا گئی ہو اور وہ اس سے بچ کر نکلنے کے لیے کوشش کر رہا ہو۔

میں نے اسے دلاسا دیتے ہوئے کہا، ’’میں پتہ لگاتا ہوں کہ وہ کہاں گئی ہے۔‘‘ وہ بھی آنکھوں میں امید لیے مجھے دیکھتا رہا اور مجھے لگا کہ سونے کا پنجرہ بھی بے مول ہے، اگر اس میں سے جیتا جاگتا پرندہ اڑ جائے۔ میں نے تھوڑے پیسے خرچ کر کے چمپا بائی کا پتہ چلایا۔ ہماری تلاش کی منزل ایک ایسے محلے میں تھی، جہاں کوئی بھی بھلا آدمی جانے سے کتراتا۔

وہ بازار حسن تھا، ایک ریڈ لائٹ ایریا۔

گاڑی کو روڈ پر پارک کر کے ہم دونوں چمپا بائی کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے ایک تنگ تاریک گلی میں داخل ہوئے۔ میں اس راستے سے کئی بار گزرا ہوں۔ میرے ساتھی لکشمن کے پریس میں جانے کے لیے گھر کے قریب سے بس نمبر۶۵ اور ۶۹ سے سفر کرنے کے بعد، اسی راستے سے ہو کر جانا پڑتا تھا۔

میر ادوست بے چین ہوتا رہا۔ کہاں امریکہ کا عیش و آرام اور کہاں بمبئی کی یہ گندی گلی۔ ریڈ لائٹ ایریا۔

ہم چمپا بائی کی کھولی پر پہنچے، جہاں وہ دروازے کے پاس رکھی کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی۔ گہرے میک اپ کے باوجود وہ کوئی خاص خوبصورت نہیں لگ رہی تھی۔ ہمیں دیکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی اور مسکرائی۔

میرے دوست کی حالت خشک پتے کی طرح تھی۔ چمپا نے ہی کہا، ’’مجھے امید تھی کہ ایک دن آپ مجھے تلاش ہی لیں گے۔‘‘

ہم دونوں اب بھی چپ تھے۔ چمپا نے اشارے سے کہا، ’’آؤ، اندر آؤ۔‘‘ وہ خود تھوڑا اندر ہو کر کھڑی رہی۔ ہم جیسے تیسے اندر داخل ہوئے۔

میں نے دیکھا کہ دیگر کھولیوں میں بیٹھی، کھڑی، موہن کلپنا (ایک مستندسندھی مصنف) کی نظر میں، آدھے گھنٹے کی چڑیلیں ہمیں دیکھ کر مسکرانے لگیں۔ ہمیں مالدار رئیس سمجھ کر شاید وہ چمپا کے نصیب پر رشک کر رہی تھیں۔

’’کیسے ڈھونڈ لیا؟‘‘ چمپا نے پلنگ پر بچھی چادر کی سلوٹیں ٹھیک کرتے ہوئے پوچھا۔ ہم نے کچھ نہیں کہا۔

’’ٹھہرو ایک کرسی پڑوس کی کھولی سے لے آتی ہوں۔‘‘

’’نہیں ہم یہاں ٹھیک ہے۔‘‘ میرے دوست نے جیسے تیسے منہ کھولا۔

’’پرانی کوٹھی پر جا کر خبر لگی ہو گی۔‘‘

’’ہاں، کسی طرح آپ کا پتہ لگایا۔‘‘ میں نے اسے بتایا۔

’’بیٹھیں تو میں آپ کو بتاؤں کہ میں یہاں کس طرح پہنچی؟‘‘

ہمارے دلی خواہش بھی یہی تھی کہ پتہ تو لگے کہ وہ کن حالات میں یہاں پہنچی ہے۔ اس نے خود ہی اپنے بارے میں بتانا شروع کیا۔

’’زندگی بڑی بے رحم ہے۔۔‘‘ چمپا نے ہمیں پلنگ پر بٹھایا اور خود ہمارے سامنے کرسی پر بیٹھ گئی۔ میں نے سوچا یہ ’’زندگی‘‘  لفظ بھی عجیب ہے۔ کبھی بے رحم، تو کبھی مہربان۔ کبھی کڑوی جیسے زہر، تو کبھی شہد جیسی میٹھی۔ چمپا کی باتوں سے یہی حقیقت سامنے آئی۔ وہ کہتی رہی، ’’گاتی بجاتی رہی، آپ جیسے قدردان آئے گئے، زندگی سے کوئی شکایت نہ رہی۔ ایک دن شہر کا مئیر آیا، میرے ساتھ رات گزارنے کی خواہش ظاہر کی۔ میں نے اسے کہا، ’’میں رنڈی نہیں، گلو کارہ ہوں۔‘‘

اس نے ہنستے ہوئے کہا، ’’ایک ہی بات ہے۔‘‘

میں نے کہا، ’’ایک بات نہیں ہے، تم جسم فروش ہو، میں راگ گا کر بخشش لیتی ہوں۔‘‘

ناراض ہو گیا اور تیور بدل کر بولا، ’’راضی خوشی نہیں مانو گی تو زبردستی کروں گا۔‘‘

اتنا کہہ کر وہ خاموش ہو گئی، ہمارے دلوں میں کہیں بارود سلگنے لگا۔

’’ایک رات کوٹھی میں ریڈ کروا کر، زبردستی مجھے اپنے بنگلے پر اٹھوا کر لے گیا۔ میں نے اسے بہت سمجھایا، اس کے سامنے بہت گڑگڑائی کہ میں ایک آرٹسٹ ہوں، گاتی ہوں، عبادت کرتی ہوں۔‘‘ پر وہ ظلم سے ہنسنے لگا جیسے میرا مذاق اڑا رہا ہو۔ اسی رات، اس وحشی درندے نے مجھے رنڈی بنا کر چھوڑا۔‘‘

جیسے بارود پھٹا ہو، بڑا دھماکہ ہوا ہو، ہمارا دل بھی جیسے پرزے پرزے ہو کر بکھر گیا ہو۔ جب دھماکہ ہوا، دھواں چھٹا، تب ہم نے سنا چمپا بائی کہہ رہی تھی۔

’’اس دن کے بعد میں ٹھمری گلو کارہ نہیں رہی، جسم فروش رنڈی ہو گئی ہوں۔‘‘

اس دن کے بعد میں نے اپنے احمد آبادی دوست کو دوبارہ کبھی نہیں دیکھا۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: