بانو آپا ..۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. فلک شیر

0

یہ انیس سو ننانوے کی بات ہے۔ شیخوپورہ شہر سے کچھ فاصلے پہ میرے ننھیال رہتے تھے اور میرے والدین کا خیال تھا، کہ یہ لابالی بچہ شاید ایف ایس سی وہیں سے پاس کر لے ۔شیخوپورہ میں ان دنوں قبلہ محمد علی درانی صاحب کے پاسبان میں دست راست ،پروفیسر جاوید اقبال سندھو صاحب کا طوطی بولتاتھا۔سندھو صاحب جماعتیے تھے ، خطیب تھے اور بلا کے منتظم بھی۔ انہوں نے سرکاری کالج سے استعفا دے کر اپنا نجی کالج بنا لیا تھا،خاندانی تعلقات کی وجہ سے مجھے بھی وہیں داخل کروا دیا گیا۔ شہر شیخوپورہ آ کر مجھے پہلی دفعہ آزادی کااحساس ہوا، جو اس سے پہلے گاؤں کی محدود اور ہاسٹل کی مقید زندگی میں اتنی وافر نہ تھی۔ مگر شہر آ کر بھی میری یاری صرف طارق نامی ایک لڑکے سے ہی ہو سکی ، جو منڈی صفدر آباد والی سائیڈ سے ایک دیہات سے آتا تھا۔ آہستہ آہستہ ہم دونوں یک جان دو قالب سے ہو گئے۔ طارق اور میرے دو شوق مشترکہ تھے ، ایک کرکٹ اور دوسرا کتابیں۔ریڈیو کا زمانہ تھا اور ہم دونوں رات دس بجے مارون گولڈ کے سپورٹس راؤنڈ اپ کے مستقل سامع تھے اور روزانہ کلاس میں اس پہ باہم تبصرہ بھی کرتے تھے۔ کچھ عرصہ ہمیں جنون گروپ کے گانے سننے کا بھی جنون چڑھا تھا، مگر عارضی ثابت ہوا۔

مجھے اور طارق کو پتہ چلا، کہ کمپنی باغ شیخوپورہ کے وسط میں ایک خوبصورت سی لائبریری ہے۔ لائبریری کیا تھی،دو تختوں میں کتابوں کا ایک جہان آباد تھا۔ میں نے لائبریری کی لائف ٹائم ممبرشپ لی اور یوں روزانہ بریک کا وقت نذیر کے چاول کھانےاور شکوری کے ہاں سنوکر کی گیم کھیلنے کی بجائے ہم دونوں لائبریری بھاگتے اور بریک ختم ہونے تک اردو انگریزی اخبار چاٹتے اور آتے وقت بھاگم بھاگ ایک کتاب ایشو کروا لیتے۔سچی بات تو یہ ہے، کہ نصاب کی کتاب کے نصیب کم ہی جاگتے تھے اور لائبریری سے لائی ہوئی کتاب جتنی بھی موٹی ہوتی، اگلے دن میں واپس کر دیتا تھا۔مجھے جاسوسی کہانیاں، آپ بیتیاں اور مزاح پڑھنے کا چسکا تھا۔ناول پڑھنے سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔خیر ایک دن ایسے ہی کتابیں چھانٹتے چھانٹتے میرے ہاتھ ‘راجا گدھ’لگی۔ گھر واپس آ کر جب میں نے کتاب شروع کی، تو کتاب نے مجھے پکڑ لیا، پتا نہیں کہانی میں اتنا زور تھا، کردار جاندار تھے، کوئی مماثلت تھی، ماضی و مستقبل میں پیش آ چکے یا آنے والے کچھ واقعات کا ان دیکھا ہاتھ تھایا لکھاری اتنی ‘نگھی’تھی کہ ہاتھ پکڑ کر بٹھا لیتی تھی۔ بانو آپا سے یہ میرا پہلا تعارف تھا۔ کتاب میں نے بار بار پڑھی، پتا بھی نہیں کتنی  دفعہ پڑھی۔

طارق، کالج اور لائبریری وقت کے دھارے پہ بہتے کہیں اور رہ گئے یا چلے گئے اور میں کسی اور جزیرے پہ پہنچ گیا۔جزیرے میں طوفان آیا اور میں کشتی سے گرتا  سنبھلتا بالآخر بھنور کے عین وسط میں جا گرا، وہاں تاریکی تھی اور مزید تاریکی، ہر چیز مرکز کے گرد گھومنے کے بجائے  خود گھومتی تھی، جیسے کائنات میں کہیں  کوئی مرکز نہ ہو اور وہ کسی بھی ممکنہ مرکز کو بے معنی اور لایعنی ثابت کرنے پہ تلی ہو۔ ایسے میں ایک شام راجہ گدھ دوبارہ میرے سامنے آئی، اسے پڑھا اور سمجھنے کی کوشش کرتا رہا، کہ میں قیوم ہوں، آفتاب ہوں یا سیمی شاہ۔کبھی لگتا تھا، کہ راجہ گدھ  کے قبیلے کا ایک ادنٰی پکھیروہوں، مردار خور بے چارہ ۔آخ تھو۔۔

اردو کے حوالے ان دنوں اردو پوائنٹ ڈاٹ کام کا بڑا شہرہ تھا ، میں نے ان سے رابطہ کر کے کہا، کہ مجھے بانو آپا کا رابطہ نمبر اور ڈاک پتہ  چاہیے۔ ایک دو دن میں شاید وہ مجھے مل گیا۔ تب میں نے بانو آپاکے نام پہلا خط لکھا۔پتا نہیں کیا کیا لکھا اور کس طرح کے سوال کیے۔ خط لکھنے کے بعد اتنا ضرور ہوا، کہ مجھ پہ طاری وہ کیفیا ت کسی حد تک کم ہوئیں، جیسے کسی کو سکون سا آ جائے۔ کچھ ہفتوں کے بعد ایک دن ڈاک میں میرے نام کا خط تھا ، کانپتے ہاتھوں سے کھولا، تو داستان سرائے کے چھپے ہوئے لیٹر پیڈ پہ آپا جی کے اپنے ہاتھ سے ان سارے سوالات کےجواب تھے، جو میں نے بھجوائے تھے۔ جواب کیا تھے، تھپکیاں تھیں، ماتھے کا بوسہ تھا، ماں کے وجود کا لمس تھااور دعاؤں کی ان دیکھی چادر تھی، جو فضا میں تن سی گئی تھی۔ بیسیوں دفعہ میں نے پڑھا ، رویا ، بہت رویا اور مجھے لگا، جیسے کسی نے مجھے بھنور کے وسط سےاٹھا کر ساحل کی ریت پہ پھینک دیا ہے۔ خط میں آپا جی نے لکھا:
"زندگی مثل کٹھالی ہے،اس میں سب کچھ ہے، دب جانا، پس جانا، معتوب ہو جانا۔۔۔۔ بس ایک چیز نہیں ہے، اور وہ ہے مایوس ہو جانا  "

حکم ہوا

"گھر لوٹ جاؤ”

ایک صاحب کا فون نمبر بتایا، کہ ان سے رابطہ کرو  ، کیا، خیر وہ ایک الگ داستان ہے ۔

اس خط کے بعد میں  ان سے رابطے میں رہا، ان کی شفقت جاری رہی اور میں بہت کچھ آسودہ ہو گیا۔اس کے بعد میں لاہور کے  قریب ایک  اقامتی کالج میں سات ایک سال پڑھاتا رہا،لیکن کبھی داستان سرائے نہیں جا پایا، شاید  میں بچپن ہی سے ہیرو کے قریب کبھی نہیں جا پایا، اسی وجہ سے حاضر نہ ہو پایا۔ شاید مجھے لگتا تھا، کہ تعلق کی کسی بھی شکل میں جب میں کھل کر سامنے آؤں گا، تو دھم سے کوئی میدان میں کودے گا اور سب کچھ غائب ہو جائے گا ۔ یا شاید یہ تھا، کہ وہ تو سب کی آپا ہیں، بڑے بڑے جغادری لکھاریوں سے لے کر دانشوروں تک اور فنکاروں سے لے کر اصحاب فن تک ، ایسے میں چاہ کر بھی میرے جیساعامی  ملاقات میں کیسے وہ سب حاصل کر پائے گا، جو ان تحریروں سے اس نے پایا تھا۔

اب سنیے! وہ خط لاہور میرے دفتر کی دراز سے گم ہو گئے ، میں ے بہت تلاش کیے ، مگر ندارد۔اب سوچتا ہوں ، ملاقات نہ ہوئی، اس سے تعلق مضبوط ہوا، کم ازکم مجھے یہی لگتا ہے ، پھر ان کے ہاتھ کی تحریر بھی گم ہوئی ، اب میرے پاس کچھ نہیں کہ میں کسی کو دکھا سکوں کہ دیکھو ، یہ میری بانو آپا کا خط ہے ، لیکن اب مجھے لگتا ہے، کہ اس سے  تو تعلق اور بھی مضبوط اور نکھر گیا ہے، وہ دکھانے سنانے اور بتانے بلکہ کسی کو سمجھانے کی چیز تھی ہی نہیں ، بانو آپا کے ان خطوط نے میری زندگی کا رخ بدلا،وہ میری ماں جی تھیں ، ماں جی ہیں اور  ہمیشہ میرے پاس رہیں گی۔ وہ تصویر دل کے نہاں خانے میں اپنے چوکھٹے میں فٹ ہے، خود ہی کو تو دیکھنا مقصود ہے، سو جب دل کرتا ہے ، دیکھ لیتے ہیں ۔

خدا ان کی اور اشفاق احمد صاحب کی جوڑی کو جنت میں ہنستا کھیلتا رکھے۔

"راجا گدھ کا المیہ” کے نام سے یہ پنجابی قطعہ بانو آپا کی نذر کیا تھا:تازہ قطعہ ۔۔۔۔۔۔۔۔بانو آپا کی نذر

اسی ۔۔۔۔۔۔گِرج جاتی دے لوک ۔۔او لوکو

اسی ۔۔۔۔۔۔کھائیے مر گئے لوک ۔۔۔او لوکو

صرف حرام اے ۔۔بس حلال ،اساڈے لئی

روز ازل توں ۔۔۔۔۔ایہو لگا ۔۔۔روگ او لوکو

فلک شیر

About Author

فلک شیر سادہ اور خالص شخصیت کے مالک ہیں۔ انگریزی ادبیات میں ماسٹرز، استاد ، ترجمہ کاری، تصوف، زراعت، جدید زندگی اور انسان کی حالت زار، اسلامی تحاریک اور ادب انکی فکری جولانگاہیں ٹھہرتی ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: