وارث ——- شمسہ نجم

0
  • 14
    Shares

نام تو اس کا نیلی تھا لیکن چہرے پر حد درجہ گلابیاں گھلی تھیں۔ وہ رنگ و آہنگ کا ایسا جمالیاتی پیکر تھی جسے خالق نے شاید بہت فرصت سے تراشا تھا۔ اتنی حسین اتنی دلفریب، ایسی الہڑ اور ہوشربا جوانی جس نے پورے گاوں کے کنواروں کے دل موہ لیے تھے۔ بوڑھے تک اس کی ایک جھلک کے پیاسے اور نظر کرم کے طلب گار تھے۔ وہ ان رال ٹپکاتے بوڑھوں اور پسندیدگی کے جذبات لیے آہیں بھرتے جوانوں کے بیچ سے ایک کروفر سے چلتی ہوئی نکل جاتی۔ جیسے کوئی حسین شہزادی یا کہ قلوپطرہ اپنے عاشقین کے جلوس میں سے سبک خرامی سے گزر جائے اور اس کے احترام اور مرتبے کی وجہ سے سب درباری اور عوام دل تھام کر خاموش لب بستہ، بے بس، نظروں سے جامِ حسن نوش کرتے رہ جائیں۔

نیلی کا اترا کر چلنا اپنی جگہ، پر اسے اپنے باپ اور بھائیوں کی عزت کا خیال بھی بہت تھا۔ کبھی کسی کو منہ نہ لگاتی تھی۔

نیلی کا باپ رفاقت علی، زمیندار ضرور تھا لیکن اتنا بڑا زمیندار بھی نہ تھا کہ علاقے کے بڑے بوڑھے جاگیردار صفدر بھروانہ صاحب کی برابری کر سکتا۔ صفدر بھروانہ صاحب ساٹھ کے پیٹھے میں تھے۔ وہ اپنی دوسری بیوی کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزار رہے تھے۔ دکھ تھا تو صرف ایک کہ کوئی اولاد نہ تھی۔ اتنی بڑی جائیداد اور وارث کے بغیر۔ یہ ایسی کسک تھی جس نے بھروانہ صاحب کی راتوں کی نیند لوٹ لی تھی۔ پہلی بیوی بقضائے الٰہی پہلے بچے کی پیدائش کے وقت داغِ مفارقت دے گئی تھی۔ کچھ ایسی پیچیدگیاں ہوئیں کہ ماں بچ سکی تھی نہ بچہ۔ اس کا قلق بھروانہ صاحب کو ہمیشہ ہی رہتا تھا۔ اس وقت جوان تھے دوسری شادی اپنی ضرورت اور اولاد کے چکر میں کی لیکن 23 سال کے ساتھ سے بھی گلِ مراد کھل نہ سکا۔ اولادِ نرینہ تو کیا ایک بیٹی کی نعمت بھی نصیب نہ ہو سکی تھی۔ بانجھ لیکن باوفا بیوی کا دل توڑنا تو گوارا نہ تھا لیکن اولاد کے بغیر رہنا ان کی مردانگی کے لیے بھی ضرب تھا۔ آخر کس کس کو بتاتے کہ 26 سال پہلے باپ بنتے بنتے رہ گئے تھے۔ وسیع سیاسی حلقۂ احباب تھا۔ خود سیاستدان تھے اس لیے سارے بڑے عہدے داران، وزراء اور قومی و صوبائی اسمبلی کے ممبران سے دوستی تھی۔ گھر پہ دعوتیں ہوتیں۔ یار دوستوں کا اولاد کے لیے استفسار دل میں کسک جگا دیتا۔

ہر وقت سوچ میں غرق الجھے الجھے رہتے۔ اس دن نیلی پر ان کی نظر حویلی میں داخل ہوتے ہوئے پڑی تھی۔ نیلی کسی کام سے ان کی بیگم کے پاس آئی تھی۔ دروازے سے نکلتے ہوئے بھروانہ صاحب سے سامنا ہوا تو بھروانہ صاحب بھول ہی گئے کہ گھر کے اندر جا رہے تھے کہ باہر نکل رہے تھے۔ بس یاد رہیں تو کاجل بھری کالی کالی بڑی آنکھیں، گلابی بھرے بھرے گال، تراشیدہ سرخی مائل ہونٹ اور سینے سے سرکتا دوپٹہ جو کہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے سے قاصر دکھائی دیتا تھا۔ بزرگی چھائے آدھے سے زیادہ سفید سر کے باوجود دل جوانوں کے انداز میں دھڑکنے لگا۔ اپنے ساتھ گھر میں داخل ہوتے منشی سے پوچھا “یہ کون لڑکی ہے؟” اس نے بتایا “یہ زمیندار رفاقت علی کی بیٹی ہے”۔

رات کے وقت نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ بار بار سینے سے سرکتا دوپٹہ دل میں ہلچل مچا دیتا۔ کہا جاتا ہے مرد کو ہر عمر میں محبت ہو سکتی ہے۔ اور ایک محبت پر اکتفا اس کی سرشت میں نہیں۔ بھروانہ صاحب کو روپے پیسے کی کمی تھی نہ اختیار کی۔ تو نئی عورت پانے کی خواہش پوری کرنے سے کون روک سکتا تھا۔ ان کی ذہنی کشمکش نے جب پریشان کیا تو انہوں نے بالوں میں خضاب لگانے کے ساتھ ساتھ حکیم صاحب کو گھر بلوانا شروع کردیا۔ حکیم صاحب سے نئے کُشتے تیار کروائے گئے ساتھ ہی دوسری طرف نیلی کا باقاعدہ رشتہ رفاقت زمیندار کے گھر بھجوا دیا گیا۔ رفاقت علی بہت سیخ پا ہوا کہ بھروانہ صاحب کو خیال تک نہیں آیا کہ اپنی بیٹی کی عمر کی لڑکی سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ نیلی کے دونوں بھائی شجاع اور جہانگیر یہ رشتہ آنے سے بہت خوش نظر آتے تھے۔ انہوں نے باپ کو مجبور کیا کہ ہاں کر دی جائے کیونکہ بھروانہ صاحب علاقے کے سب سے بڑے زمیندار تھے۔ ان کا کہنا تھا “نیلی دولت میں کھیلے گی۔ اور اگر نیلی سے بچہ پیدا ہوا تو وہ ساری جائیداد کا وارث ہو گا”۔ لالچ کی پٹی نے بہن کے جذبات پر نظر ہی نہ پڑنے دی۔ اور وہ بھی نیلی جیسی بہن جو کہ بھائیوں کو باپ جیسا مان دیتی تھی۔

“لیکن بھروانہ صاحب کو دو بار دل کا دورہ پڑ چکا ہے اور عمر بھی کافی ہے”۔ ماں کی آواز میں خدشے دھڑک رہے تھے۔

رفاقت علی کو بھی بھروانہ صاحب کی عمر پر اعتراض تھا۔ دونوں بھائیوں کے دلائل سن کر وہ بے انتہا غصے میں تھے مگر جہانگیر کے ایک جملے نے رفاقت علی اور اس کی بیوی کے اعتراضات جیسے ہوا میں اڑا دیئے۔ ان کا غصہ پانی کے جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔

جہانگیر نے ماں کو مخاطب کرکے کہا کہ “ماں، بھروانہ صاحب کا نیلی پر دل آ گیا ہے۔ آپ کو یہ رشتہ منع کرنا ہے تو کر دیں۔ شکر کریں ابھی باقاعدہ رشتہ بھیجا ہے۔ عزت سے لے جا رہے ہیں۔ رشتے سے انکار کے بعد کیا ہونے والا ہے اس پر بھی غور کر لیں”۔

رفاقت علی کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا تھا واقعی انکار کی صورت میں راتوں رات بیٹی گھر سے اٹھوا لی جاتی۔ تو نکاح کی حجت بھی نہ رہتی اور بیٹی اور عزت دونوں سے ہاتھ دھونا پڑتا۔ اور یوں متفقہ فیصلے سے نیلی دلہن بن کر بھروانہ صاحب کے گھر کو روشن کرنے چلی آئی۔ نیلی نیلی نہیں سفید روشنی تھی۔ اس کے آنے سے گھر اجلا اجلا لگنے لگا جیسے روشنی سے بھر گیا ہو۔ بھروانہ صاحب کی دوسری بیگم دل میں مغموم تھیں لیکن بظاہر ہنسی خوشی شادی کے ہر کام میں شریک ہوئیں۔ ہائے اے عورت تیری کمزوری۔ عورت مرد کے دو پیار بھرے جملوں پر زندگی تک وار سکتی ہے۔ بھروانہ صاحب نے ان کو بھی چکر پھیریاں دی تھیں کہ اولاد کے لیے شادی کر رہا ہوں۔ اس عمر میں منہ کالا کرتا کیا؟ ورنہ تو جان من تم مجھے سب سے زیادہ عزیز ہو”۔ اولاد کا بہانہ تو بہت بعد میں ان کے ذہن میں آیا تھا۔ ورنہ وہ تو دو کاجل بھری کالی کالی بڑی آنکھوں، گلابی گالوں، تراشیدہ سرخی مائل ہونٹوں اور دوپٹے کے سرکنے سے اپنے بدن میں دوڑنے والی برقی لہر کی گرمی سے پگھلے تھے۔ کیا اٹھکیلیاں لیتی الہڑ جوانی تھی۔ جس نے دل موہ لیا تھا۔ نئی دلہن سہج سہج قدموں سے گھر کے آنگن میں چلتی ہوئی دل کے دروازے سے داخل ہوئی اور پوری دل میں سما گئی۔ پرشباب اور ہوشربا حسن کے ساتھ نے ذہنی اور دلی خوشی تو بخشی لیکن عمر رسیدہ بھروانہ صاحب کے کُشتوں کے پروردہ کس بل جوانی کے زور کے آگے چند دنوں میں نکل گئے۔ حکیم صاحب کو مالا مال کرکے نئے کُشتے حاصل کیے گئے۔ باسی کڑی میں ابال آیا، لیکن پھر رہا سہا جوش بھی دنوں میں ختم ہو گیا۔ اس کا قلق ایسا ہوا کہ شادی کے دو ماہ بھی نہ گزرنے پائے تھے، انجائنا کا تیسرا اٹیک ہوا جو دل کے فیل ہونے کا سبب بن گیا۔

دو مہینے کی بیاہتا نے بیوگی کی چادر کیا اوڑھی۔ سارے رشتہ دار، پہلی بیگم کے بھائی بند اور بھروانہ صاحب کے بھائی بھتیجے آ کھڑے ہوئے کہ جائیداد کا کوئی وارث نہیں۔ بھروانہ صاحب کا کوئی بیٹا نہیں اس لیے جائیداد بھائیوں میں تقسیم ہو گی۔

معصوم نیلی جسے جائداد سے سروکار تھا نہ شادی کا کوئی شوق تھا۔ شوق بھی تھا تو صرف اس حد تک کہ خوبصورت جوتے کپڑے پہن کر خوبصورت دلہن بنا جائے۔ وہ ہزار مواقع میسر آنے کے باوجود آوارہ نہیں تھی۔ اس کی یہ خوبی اس کی سب خوبیوں پر بھاری تھی۔ اس کی مرضی پوچھے بغیر جسے اس کا شوہر بنایا گیا اسی کو مجازی خدا مان کر اس کی وفاداری کا دم بھرنے لگی تھی۔ بھروانہ صاحب نے اسے رکھا بھی تو پھولوں کی طرح تھا۔ دو ماہ جیسے اس نے شہزادیوں کی طرح بسر کیے تھے۔ابھی تو اسے اپنی قوت اور حیثیت کا اندازہ بھی نہ ہو پایا تھا کہ سر سے چادر چھن گئی۔ جنازہ بھی نہ اٹھنے پایا تھا کہ اس سے خاندان کی عورتیں پوچھنا شروع ہو گئیں آخری بار ماہواری کب آئی تھی؟ کہیں پیٹ سے تو نہیں؟ بھروانہ صاحب کا کوئی وارث تو نہیں آنے والا؟ بھروانہ صاحب کی تدفین سے پہلے ہی بے شمار مسائل سر پر آ کھڑے ہوئے۔ نیلی کے میکے والے بھی وہیں تھے۔ نیلی کے دونوں بھائیوں کو سُن گُن لگی کہ وارث کے بارے میں سوال ہو رہا ہے۔ انہوں نے جلدی سے اپنی ماں کو بلا کر سمجھایا کہ “نیلی سے کہیں کہ کسی کو نہ بتائے کہ وہ حاملہ ہے کہ نہیں۔ یہ بات چھپائے ورنہ بھروانہ صاحب کے بھائی اسے گھر سے نکال باہر کریں گے”۔ ماں نے جا کر بیٹی کو سمجھایا کہ “چپ سادھ لو”۔ نیلی ٹکر ٹکر ماں کا منہ دیکھتی رہی۔ اور ماں کے کہنے پر بالکل خاموش ہو گئی۔ سب سمجھے کہ گہرے صدمے کا اثر ہے۔ اس نے گاؤں کے رواج کے مطابق اپنی ماں کو دوسری عورتوں سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ میری بیٹی پیٹ سے ہے اسے زیادہ تنگ نہ کیا جائے۔ نیلی نے اپنی سوکن کی چھوٹی بہن کو یہاں تک کہتے سنا کہ اب تک تو کوئی بچہ نہیں ہونے والا تھا۔ اب ایک دم یہ حمل کیسے ٹھہر گیا؟ اس کی بات نیلی اور اس کی ماں نے جیسے سُنی ان سُنی کر دی۔
ہفتہ بھر لوگ حویلی میں بھرے رہے۔ آخر سب اپنے اپنے گھروں کو سدھارے۔

یہی دستور دنیا ہے آج مرے کل دوسرا دن۔ کبھی بھی کسی ایک انسان کی موت سے کاروبار دنیا پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ہر کوئی اپنے کام کاج میں لگ گیا۔ صرف خاندان کی عورتیں ہر روز دن کے وقت آ براجمان ہوتیں۔ بھروانہ صاحب کی بھابھیاں اور بہنیں بار بار نیلی کے سراپے کو آنکھوں ہی آنکھوں میں ٹٹولتیں اور سوال پر سوال کیے جاتیں کہ بچہ آنے کی کیا خبر ہے؟ کب سے حمل ٹھہرا؟ وغیرہ۔

نیلی کے دونوں بھائی شجاع اور جہانگیرکے ساتھ ساتھ نیلی کی ماں انتقال والے دن سے ہی حویلی منتقل ہوگئے تھے اور نیلی والے حصے میں رہ رہے تھے تاکہ نیلی کو اکیلے پن کا احساس نہ ہو۔ لیکن اس کے دونوں بھائیوں کو تو کچھ اور فکر بھی تھی۔ جس کا نیلی کو سان و گمان تک نہ تھا۔ بھروانہ صاحب کا دسواں ہوا تو گاؤں کے لوگوں کو قرآن خوانی کے بعد کھانا کھلایا گیا۔ سب مہمان رخصت ہو گئے۔ سب نوکر بھی اپنے کوارٹروں میں چلے گئے۔ تو شجاع اور جہانگیر نے اپنی ماں صفیہ کے پاس جا کر کچھ کہا اور ماں کو لے کر نیلی کے کمرے کے دروازے پر پہنچ گئے۔ دستک پر نیلی نے دروازہ کھولا۔ ہلکے پیلے رنگ کے لون کے سوٹ میں سر پر دوپٹہ لیے وہ بہت اجڑی اجڑی لگ رہی تھی۔ گلابیوں پر زردیاں کھنڈ گئی تھیں۔

دونوں بھائی اور ماں اس کے کمرے میں داخل ہوئے۔ صفیہ نے نیلی کا ہاتھ پکڑا اور اس کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گئی۔ صفیہ ڈری ہوئی اور پریشان لگ رہی تھی۔ اس نے ماں سے پوچھا “کیا ہوا ماں”۔ صفیہ نے سہم کر جہانگیر کی طرف دیکھا۔ پھر دھیمی آواز میں بولی۔ “میں چاہتی ہوں تیرے ماموں کے بیٹے سکندر کو بلا لیا جائے وہ تجھے پسند بھی کرتا ہے۔ اس سے تیرا نکاح پڑھوا دیا جائے”۔ اگر شادی سے پہلے سکندر کا نام لیا جاتا تو شاید وہ کھل اٹھتی۔ کیونکہ اس کو سکندر شروع سے پسند تھا اور وہ ماں سے بھتیجے کی تعریفیں سن کر اور اس کی اپنے بھائی سے محبت دیکھ کر اپنی شادی سے قبل یہی سمجھتی تھی کہ اس کی سکندر سے ہی شادی ہو گی۔ لیکن اب صورت حال مختلف تھی۔ وہ اب بیوہ تھی۔

جہانگیر فوراً بولا “ماں یہ کیا الٹی پٹیاں پڑھا رہی ہو۔ پہلے اسے سوچنے سمجھنے دو۔ نیلی ماں کی بات چھوڑو اور غور سے میری بات سنو”۔

جہانگیر نے جب نیلی کو صورت حال بتائی تو وہ صرف حیران نظروں سے بھائی کا منہ تکتی رہی۔

جہانگیر نے کہا “بھروانہ صاحب گزر گئے اب چار مہینے اور دس دن کے بعد تمہاری عدت ختم ہو جائے گی تو تمہیں اس حویلی سے نکال دیا جائے گا۔ کیونکہ تمہارے ہاں کوئی بچہ بھی نہیں ہونے والا۔ اس بات کی ان کو جلد خبر ہو جائے گی۔ بھروانہ صاحب کی کوئی اولاد نہیں تو شرعی طور پر ساری جائداد ان کے بھائیوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ لیکن اگر تم ان کے بچے کی ماں بن گئیں تو ساری جائیداد اس بچے کی ہو گی۔ ساری زمینیں، یہ حویلی، فارم، گھوڑوں کا اسٹڈ اور ان کے مختلف شہروں میں جو ہوٹل ہیں وہ سب تمہارے بچے کے یعنی تمہارے ہو جائیں گے۔ ورنہ تو تم اور ہم سب ہاتھ ملتے رہ جائیں گے”۔

بھائی کی بات سن کر نیلی کے چہرے پر ایک رنگ آ رہا تھا اور ایک جا رہا تھا۔ حیرانی کے ساتھ ساتھ اس کے چہرے پر خوف بھی دکھائی دے رہا تھا۔ زرد پڑتی گلابیاں نیلگوں ہونے لگیں۔ بے آسرا ہونے کا خوف عورت کو ہمیشہ رہتا ہے۔ خاص کر مشرق کی عورت کو کسی نہ کسی کے آسرے پر جینے کی عادت ہوتی ہے اور اس میں اس کی فطرت سے زیادہ ماحول اور پرورش کااختتامیہ اثر ہوتا ہے۔

نیلی نے ڈرے ڈرے لہجے میں پوچھا “اس کا کیا حل ہے؟ بچہ تو نہیں ہونے والا۔ ماں نے یونہی افواہ اڑائی ہے۔ لیکن میں یہ جھوٹ زیادہ دن تک نبھا نہیں سکتی”۔ اسے اندازہ تھا کہ جھوٹ پر قائم کی گئی عمارت زیادہ دنوں تک کھڑی نہیں رہتی۔

“کیوں نہیں نبھا سکتی۔ تمہیں اس جھوٹ کو نبھانا ہو گا”۔ شجاع بولا۔

” کیسے؟ چند دنوں میں میری حالت دیکھ کر ان کو اندازہ ہو جائے گا۔ اس لیے میں اس جھوٹ کو نہیں نبھا سکتی”۔

“تم کیسے نہیں نبھا سکتیں۔ ہم ہیں نا۔ ہم مدد کریں گے۔ ہم جھوٹ سچ میں ہی بدل دیں گے کیوں شجاع؟” جہانگیر نے بہت خباثت سے مسکراتے ہوئے شجاع کی طرف دیکھ کر آنکھ دبائی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: