اسلام کے اساسی و آفاقی تصورات —- عبدالمتین

0
  • 12
    Shares

ایک مغالطہ اور روشن خیال تحریک

معاصر مغالطوں میں سے ایک بہت ہی بڑا مغالطہ یہ ہے کہ دین اسلام کو چند رسوم کا مجموعہ سمجھا جاتا ہے، حالاں کہ یہ چند رسمی احکامات کا نام نہیں، بلکہ ایک نظام حیات ہے جو کہ انسانی زندگی کے تمام گوشوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

دین کے ساتھ اس طرح کی نسبت کا فروغ یکلخت پیدا نہیں ہوا بلکہ اس روش کے پس پردہ ایک سیاہ تاریخ ہے، جسے ہم ’’تحریک تنویر‘‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ تحریک اسی مقصد کے لیے قائم کی گئی کہ کس طرح دین کو مذہبی رسومات تک محدود کیا جائے، کس طرح اسے ایک وہم و خیال تصور کیا جاسکے، کس طرح خطہ ارض پر الٰہی اختیارات کی بجائے انسانی اختیارات کا بول بالا کیا جاسکے، کس طرح وحی الٰہی سے چھٹکارا پایا جائے، کس طرح عقل انسانی کو مأخذ علم قرار دیا جائے۔ الغرض اس تحریک نے ہر وہ طریقہ اپنایا جس کے تحت بندوںکا رشتہ خدا سے کٹ گیا اورجو عبداللہ تھا وہ عبدالدرہم و الدینار بن گیا۔

اسلامی تعلیمات کو نہ سمجھنے کا نتیجہ

مذکورہ تمام مقاصد کا حصول ہی اس تحریک کا اصل منشور تھا، جس میں کامیابی کا نتیجہ آج ہمیں مذہب اور خدا بیزار انسانوں کی شکل میں دکھائی دیتا ہے، جن کے مطابق اس دنیا کا کوئی ایک معمولی مسئلہ بھی مذہبی تعلیم کی روشنی میں حل ہونے کے قابل نہیں۔ بلکہ ان کے زن کے زعم میں انہوں نے ایسے نادر علوم تشکیل دیے ہیں جن کے ساتھ نباؤ ہماری ہر الجھن کو سلجھن میں بدل سکتا ہے اور بغیر کسی آسمانی ہدایت کے ہر شعبہ زندگی میں ان سے رہنمائی لی جاسکتی ہے جیسے سوشل اور تکنیکی علوم وغیرہ۔

مذ ہب کی نام نہاد اہمیت

اگر کوئی شخص اپنے کسی نجی معاملے کو مذہبی انداز سے حل کرتا ہے تو اسے مکمل اختیار ہے جیسے عائلی مسائل وغیرہ جسے ’’ آزادیٔ اظہار رائے ‘‘ کا نام دیتے ہوئےنظر انداز کر دیتے ہیں، کیوں کہ در اصل ہمارے نزدیک مذہب فقط ایک ذاتی معاملہ ہے اس سے بڑھ کر کچھ نہیں ,لہذا مذہب کسی کی ذاتی اور نجی زندگی میں تو قابل قبول ہے لیکن معاشرتی، سماجی، اخلاقی، قانونی اور سیاسی معاملات کو بہر حال مذہب کی روشنی میں نہیں سمجھا جاسکتا۔

 مذہب کی نج کاری اور مقاصد

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مذہب کے ذاتی معاملہ تک محدود ہونے کی صورت میں اس کی انسانی زندگی میں کس قدر اہمیت باقی رہ جاتی ہے؟ کیا کسی مذہبی شخص کو یہ حق دیا جاسکتا ہے کسی جدید ریاست میں رہتے ہوئے وہ اپنے معاشرتی مسائل کو اپنے مذہب کی روشنی میں حل کر سکے ْ؟ یا یہ حق دیا جاسکتا ہے کہ وہ انگریز کے لوگو کردہ قوانین کو چیلنج کرتے ہوئے اپنی عدالتوں کو فقہائے کرام کی قانونی جزئیات پر فیصلا دینے کا مطالبہ کرے؟ یا یہ حق دیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی مالی معاملات میں سود کی گ گردش سے بچ سکے؟اگر ان سب سوالات کا جواب “نہیں ” ہے تو کس بات کو نجی کہہ کر دھوکہ دیا جا رہا ہے؟ کیا ایک ایسا نجی معاملہ قابل توجہ رہ سکے گا جس کا میرے گرد و پیش کے حالات و معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔

آزادئ اظہار رائے اور حقائق

آزادیٔ اظہار رائے کانام لینا بہت آسان ہے لیکن در حقیقت یہ آزادی فقط اس فلسفہ حیات کے زیر اثر ماحول کے لیے ہے جو ’’سیکولر ازم یا اور لبرل ازم‘‘سے نکلنےوالی شعاعوں کو عقیدہ کی مانند تسلیم کرلے اور یقین کر لے کہ جو کچھ بھی کرنا ہے اپنی عقل کی روشنی میں ہی کرنا ہے۔ یہ سب کیا دھرا در اصل انسان کوایسے ضابطۂ حیات کی طرف دعوت دیتا ہےجہاں انسان کا رشتہ خالق سے توڑ کر مخلوق سے جوڑا گیا ہے۔ جس میں خود غرضی اور خود سری کی حدوں کو پار کیا جاتا ہے، جس میں مدّ نظر فقط ’’مادّہ‘‘ ہی رہتا ہے، جس میں روحانیت کو نفسیاتی مسئلہ اور’’وحی الٰہی‘‘ کو’’مرگی ‘‘سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات

دین اسلام جو کہ در حقیقت آسمانی ہدایات اور رسول اقدسﷺ کی عملی زندگی کا نام ہے، اور یہ اس حقیقت سے مسلم و غیر مسلم سب ہی واقف ہیں کہ آپ کی زندگی عبادت ریاضت اور گھریلو مصروفیات سےلے کر معلم، قاضی، سپہ سالار اور حکمران کی صورت میں آج بھی محفوظ ہے۔ جسے ہم ’’شریعت اور سنت ‘‘کا نام دیتے ہیں۔

اسلام کا مکمل ضابطہ حیات ہونا کوئی جدید اصطلاح نہیں ہے، (جیسا کہ آج کل بہت سوں کو یہ گمان ہو رہا ہے)۔ بلکہ یہ تو خالق کی بسائی ہوئی دنیا میں اسی کے احکامات کے مطابق زندگی کا گزارنا ہے اور یہ نظام حیات اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ یہ عالم جن و انس۔ دراصل اسلام اپنے ماننے والوں سے بغیر کسی قطع و برید کے مکمل شمولیت کا تقاضہ کرتا ہے اور یہ تقاضہ کرنا اس امر کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ زندگی کا کوئی بھی ایسا بامعنیٰ پہلو نہیں جس متعلق قرآن و حدیث میں اصولی طور پر اور فقہاء کی آراء میں جزوی طور پر اس کا ذکر نہیں کیا گیا ہو۔

اسلام کی جامعیت عبارات کی روشنی میں

اسی ضابطہ کو اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں اس انداز سے بیان فرماتے ہیں يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً (بقرہ:۲۰۸) ترجمہ ’’اے ایمان والوں دین میں مکمل طور پر داخل ہو جاؤ‘‘

آیت مبارکہ کے متعلق علامہ ابن کثیر ؒ فرماتے ہیں کہ يقول تعالى آمرًا عباده المؤمنين به المصدّقين برسوله: أنْ يأخذوا بجميع عُرَى الإسلام وشرائعه، والعمل بجميع أوامره، وترك جميع زواجره ما استطاعوا من ذلك (تفسیر ابن کثیر، بقرہ:۲۰۸) ترجمہ ’’اللہ پاک اپنے ان بندوں کو حکم کرتا ہے جو کہ اس کے اس کے رسول کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ اسلام کے تمام اصول اور قوانین کو لیا کریں، اور اس کے تمام احکامات پر عمل کریں اور حتی الامکان اسلام کے بتائے ہوئے تمام مناھی سے گریز کریں ‘‘

اس آیت مبارکہ کے علاوہ یہ آیت بھی دین کی کاملیت اور قطعیت پر واضح دلیل ہے الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (مائدہ:۳) ترجمہ ’’ آج کے دن میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو مکمل فرمادیااور تم پر اپنی نعمت پوری فرمادی اور تمھارے لیے دین اسلام پر راضی ہوا‘‘

دین کا یہ یہی رخ سامنے رکھتے ہوئے حضرت شاہ ولی اللہؒ اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’حجۃاللہ البالغۃ‘‘ کے مقدمہ میں لکھتے ہیں کذٰلک اتی اللہ بشریعۃھی اکمل الشرائع متضمنۃ لمصالح یعجز عن مراعاۃ مثلھا البشر‘‘ (مقدمہ حجۃ اللہ البالغہ، ص۳۲، م قدیمی کتب خانہ)

ترجمہ’’ٹھیک اسی طرح اللہ پاک کی جانب سے ایک ایسی شریعت عطا ہوئی جو کہ کامل ترین ہے اور ایسی مصلحتوں پر مشتمل ہے کہ جن کی رعایت کرنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں‘‘

فقہ اسلام کی معروف کتاب ’’ہدایہ‘‘ کی ترتیب وضع پر ایک نظر کی جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ صاحب کتاب نے اپنی کتاب تین چوتھائی حصہ کو معاملات سے متعلق موضوعات کے لیے مختص فرمادیا ہےجس میں نکاح طلاق اور معاشرت کے متعلق غیر معمولی تفصیل کے بعد ان تمام کاروباری اور معاشی جزئیات پر بھی تفصیلی بحث کی ہے جو ہماری ضرورت ک ایک بڑا حصہ ہے، یہ طویل جدوجہد اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام کی جامعیت کس قدر عمیق اور گہری ہے، اسلام ایک دستور حیات کی حیثیت سے ہمارے لیے ایسی ترتیب پیش کرتا ہے جن کی رعایت پیدائش سے لے کر موت تک کی زندگی کے احکامات کو سمجھنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

اسلام کی بنیادیں

حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی ؒ دین کی شعبہ جاتی تقسیم کو ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

اسلام تعلیمات مضامین کے اعتبار سے پانچ حصوں میں منقسم ہیں ۱) عقائد و تصدیقات ۲) اعمال و عبادات ۳) معاملات و سیاسیات ۴) آداب و معاشرت ۵) سلوک و احسان۔ (مقدمہ تعلیم الدین از تھا نویؒ، م دارالاشاعت)

ایمانیات

شریعت اسلامی کی پوری عمارت ایمانیات پر منحصر ہے، جسے نظریہ حیات اور عقیدے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ایمانیات کی حیثیت اس ستون کی سی ہے جس کے بغیر عمارت کی بناء تو دور اس کا تصور بھی محال ہے، یہی وجہ ہے کہ دین اسلام میں داخل اور خارج ہونے کا معیار بھی ایمانیات ہی کے شعبہ سے وابستہ ہے، ایمانیات کے اساسی شعبہ جات کو حدیث جبرئیل میں بڑی ہی خوب صورتی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِيمَانُ قَالَ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكِتَابِهِ وَلِقَائِهِ وَرُسُلِهِ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الْآخِرِ

اسی باب کی دوسری حدیث میں ہے: وَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي عَنْ الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنْ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا (صحیح مسلم، کتاب الایمان، بیان الایمان والاسلام والاحسان )

ترجمہ ’’آپﷺ ایک دن لوگوں میں ظاہر ہو کر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ کے پاس ایک شخص آیا اس نے کہا یا رسول اللہﷺ ایمان کیا ہے؟ اپ نے فرمایا ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر ایمان لے آئے اور اس کے فرشتوں پر اورد اس کی کتابوں پر اور اللہ سے ملاقات ہونے پر اور اس کے رسولوں پر اور اس بات پر ایمان لے آئے کہ (مرنے کے بعد)تمھیں دوبارہ اٹھایا جائے گا ‘‘

اور فرمایا اس شخص نے کہ اے محمد(ﷺ) مجھے اسلام کے بارے میں بتایئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سواہ کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور تم نماز قائم کرو زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو اگر تم اس کی استطاعت رکھتے ہو تو‘‘

حدیث مبارکہ میں ایمانیات کے ان شعبوں کا ذکر آگیا جو کہ اساسیات ایمان ہیں : ایمان بااللہ، ایمان باالملٰئکہ، ایمان باالکتب، ایمان باالرسل، ایمان با الاٰخرۃ جن کو ہم ایمان مفصل کے نام سے بھی جانتے ہیں۔

ایمانیات کا مقصد

ایمانیات کا اوّلیں مقصد خالق سے اپنا ناطہ مضبوط کرنا ہے اور اس مضبوطی کا سب سے مؤثرترین ذریعہ خالق کے آگے اپنی انا کا بت توڑ کر تسلیم جاں ہوجانا ہے، جس کو ہم عبادات کے نام سے جانتے ہیں جو کہ در حقیقت ایمان کے اظہار کا حقیقی او ر بلا واسطہ ذریعہ ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں آپ ﷺ کی بے شمار مصروفیات کے ذکر کرنے کے باوجود جو کہ عبادت خداوندی ہی کا مظہر تھیں آپ کو خصوصی حضوریٔ رب کا بھی کہا گیا اس بات کو سمجھانے کی خاطر کہ قرب خداوندی کا وہ پہلو جس میں بندہ گوشہ نشینی اختیار کیئے ہوئے رہتا ہے ہر حال میں مستحضر رہنے کی ضرورت ہے، تاکہ دنیا کی دوڑ دھوپ کی تھکاوٹ اور بوج شوق عبادت کی ہلکان و آسودگی میں تبدیل ہوجائے۔ مذکورہ حدیث میں عبادات کی اقسام کا ذکر کیا گیا ہے جن میں نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج شامل ہیں۔

اخلاقیات

اسی طرح اخلاقیات کا شعبہ دین کی حقیقی تربیت اور عام چال و چلن میں اس کی افادیت کے اظہار کا ذریعہ ہے، جس میں اس قدر مختلف النوع آداب و احکام کا ذکر ہے کہ جس پر صفحات کے صفحات لکھے جاچکے ہیں، یہاں تک کہ معلّم اخلاق آپ ﷺ کو اپنی بعثت کا مقصد بھی مکارمِ اخلاق کی تکمیل بتلایا ہے إنما بعثت لأتمم مكارم الأخلاق (الأحكام الشرعية الكبرى، جزء ۳، ص ۳۰۸) ترجمہ’’ بے شک مجھے اس لیے بھیجا گیا ہے تاکہ میں مکارم اخلاق کی تکمیل کر سکوں ‘‘ اخلاق حسنہ کو بہترین اشخاص کا وصف قرار دیتے ہوئے فرمایا إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحَاسِنَكُمْ أَخْلَاقًا (صحیح مسلم، كِتَاب الْفَضَائِلِ، بَاب كَثْرَةِ حَيَائِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) ترجمہ ’’ بے شک تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جس کے اخلاق تم میں سب سے اچھے ہوں ‘‘

اخلاق کیا کیا ہیں ؟

قرآن و حدیث میں جن جن اخلاقی اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے وہ یہ ہیں تقویٰ، عفّت، پاکدامنی، حیا، خوش مزاجی، شجاعت، عدل و انصاف، وناعت، استقامت، تواضع، انکساری، سخاوت، صبر و شکر، حلم و بردباری، علم، نرم خوئی، توکل، سچ، اخلاص نیت، توبہ، زہد و غناء، رضاء بر قضاء، عشق الٰہی، عشق رسول، شوق شہادت، اکل حلال۔

معاشرت اور سماج

دین کا وہ شعبہ جس میں معاشرہ سے واسطہ پڑتا ہے، جسے ہم معاشرت اور سماج کے نام سے جانتے ہیں، جس کا تانا بانا اپنے ارد گرد کے لوگوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اور ان سب کے حقوق کی کما حقہ ادائیگی ہی بہتر سے بہتر معاشرے کے لیے کی تصویر دبن سکتی ہے، مخلوق خدا کی معاشرتی حیثیت کو بیان کرتے ہوئے رسول اکرم ﷺ نےفرمایا کہ الخلق عيال الله فأحب الخلق إلى الله من أحسن إلى عياله (شعب الإيمان البيهقي، جزء۶، ص ۴۳) ترجمہ ’ساری مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اور ساری مخلوق میں سے اللہ کے ہاں بہترین شخص وہ ہے کہ جو اس کے کنبہ کے ساتھ حسن اخلاق کے ساتھ پیش آتا ہو ‘‘

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ پاک کے ہاںمطلوبہ اعمال میں سے اہم ترین عمل وہ ہے جو اس کے بندوں سے جڑا ہوا ہے یعنی حقوق العباد جو کہ معاشرے کی حقیقی روح کے مانند ہیں، اسی سبب حقوق اللہ کی معافی بہ نسبت حقوق العباد کے آسان ہے، کیوں کہ حقوق العباد کا تعلق براہ راست اللہ کے بندوں سے ہے، اسی عقدہ کو حل کرتے ہوئے فرمایا الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمْ الرَّحْمَنُ ارْحَمُوا أَهْلَ الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ (سنن ابی داود، كِتَاب الْأَدَبِ، بَاب فِي الرَّحْمَةِ) ترجمہ ’’جو رحم کرنے والے ہوتے ہیں رحمٰن ان پر رحم فرماتا رہتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا ‘۔

مذکورہ احادیث اس امر کی وضاحت کو کافی ہیں کہ معاشرتی عروج و زول کا انحصار آپسی معاملات پر ہے، جس قدر آپس میں ان صفات عالی کو عام کیا جائے گا اسی قدر معاشرے کے حسن میں نکھار آتا جائے گا ورنہ اور جنتا ان سے روگردانی کی جائے گی اتنا ہی یہ پھول سکڑ سکڑ کر بے رنگ و بو ہوتا جائے گا اور پھر اس کے بعد چاہے معاشرہ عمارتوں کی تعمیر اور رسمی چمک اور سوٹ بوٹ کی حد تک بالغ شمار ہو لیکن در حقیقت وہ زوال پذیر سمار ہوگا۔

معاشرتی اوصاف

وہ اعلیٰ اوصاف جن میں ہماری معاشرتی ترقی مضمر ہے ان میں :صفائی ستھرائی، اہل محلہ کے حقوق، سواری کے حقوق، پڑوسیوں کے حقوق، رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک، زوجین کے حقوق، والدین کے حقوق، نکاح، مہر، طلاق، رضاعت کے حقوق، ستر پوشی، سلام کا رواج، اکرامِ مسلم، صلہ رحمی، صلح کروانا، مدد کرنا، مریض کی عیادت کرنا وغیرہ۔

دین اسلام اور معاملات کی اہمیت

ان اساسیات کے بعد معاملات کی حیثیت بھی دین میں ایسی ہی ہے جیسی کہ دیگر اعمال کی، آپس کے معاملات کو رسم و رواج اور اپنی انا کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے ان کو بھی آسمانی ہدایات کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے، جن پر عمل پیرا ہونا اس پر فتن دور میں کہ جس میں دین کا تصورعمل نجی معاملات تک محدود ہوتا جارہا ہے زیادہ ضروری ہے، نیز اشاعت دین کی ایک کارگر صورت ہے۔ کتب فقہ میں دین کے وہ احکامات جو کہ معاملات کے متعلق ہیں بڑی ہی کثرت اور عرق ریزی کے ساتھ جمع کیے گئے ہیں جن پر سرسری نظر ڈالتے ہی یہ بات سمجھ آجاتی ہے کہ دین کے احکامات کس قدر گہرائی اور گیرائی لیے ہوئے ہیں۔

اسی نکتہ کے متعلق دور حاضر کے عظیم فقیہ اور فقہ المعاملات کے عالمی متخصص ’مفتی محمد تقی عثمانی’ صاحب رقمطراز ہیں ’’فکتاب البیوع فننتقل الآن الی ٰ باب عظیم من ابواب الدین وھو باب المعاملات‘‘ (تکملہ فتح الملھم، کتاب البیوع، ج ۱ ص ۳۰۰، م مکتبہ دارلعلوم کراتشی) ترجمہ ’’سو کتاب البیوع، ہم لوٹ رہے ہیں ایسے باب کی طرف جو کہ دین کے عظیم ابواب میں سے ہے، اور وہ معاملات کا باب ہے‘‘

معاملات کا باب ان امور پر مشتمل ہے جن کا تعلق ہماری معاشی، قانونی، اور ذاتی زندگی سے ہے، معاملات کے احکامات اکثر و بیشتر عدم التفات کا شکار رہتے ہیں، ہم یہاں معاملات کے ان احکامات کو درج کرتے ہیں جن سے باالواسطہ یا بلا واسطہ سابقہ پیش آتا رہتا ہےجن میں : زراعت، اجارہ، عاریت، امانت، قرض، وراثت، وصیت، ہدیہ، ہبہ تحفہ تحائف، رہن، شرکت، مضاربت، تجارت، وکالت، کفالت، صلح، حق شفعہ، مالِ وقف شامل ہیں۔

اسلامی سیاست و ریاست

اسلامی ریاست ان تمام شعبہ جات کی بنیاد ہے جو کہ ذکر ہو چکے اس اعتبار سے کہ یہ ان تمام پر انتظامی بالادستی کی حیثیت رکھتا ہے، جس قدر ریاست منتظم ر ہتی ہے اسی قدر دیگر شعبہ جات متحرک رہتے ہیں اور جیسے ہی ریاست مرض میں مبتلا ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات سب کو مریض بنادیتے ہیں جس کا نتیجہ موت یا زوال ہی کی صورت میں نکلتا ہے۔

فقہ اسلامی میں ریاستی احکامات کے مخاطب حکمران اور ریاستی ادارے ہوتے ہیں، مقاصد شریعت کا مطالعہ سےمعلوم ہوتا ہےکہ دین کے اکثری احکامات ایسے ہیں جن کی تکمیل کے لیے ریاست کا ھانچہ انتہائی ضروری ہے، اور ریاست کا نظم و ضبط ہی در اصل دین کے دیگر شعبہ جات کی ترویج و ترقی کا ذریعہ بنتا ہے اور ان کی حفاظت اور فعالیت کو ممکن اور مؤثّر بنا دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلام کی جامع اور ہمہ گیرصورت ہمیں سب سےپہلے ریاست مدینہ ہی کے قیام کے بعد نظر آتی ہے۔

ریاست کے مقصد اور اس کی اسای درجہ بندی کرتے ہوئے اللہ پاک نے ارشاد فرمایا الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُور (حج:۴۱) ترجمہ ’’ یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں، اور زکوٰۃ ادا کریں، اور لوگوں کو نیکی کی تاکید کریں، اور برائی سے روکیں، اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے قبضے میں ہےِ‘‘

اسی طرح ریاستی اختیارات کے حقیقی ماخذاورمصدر کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهَِ (یوسف:۴۰) ترجمہ ’’ حاکمت اللہ کے سوا کسی کو حاصل نہیں ‘‘۔

نیز إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (بقرۃ:۳۰) ترجمہ ’’بے شک میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں ‘‘ فرمایا کہ انسان تو درحقیقت خلیفہ اور جانشینی کا کردار ادا کرنے کے لیے آیا ہے اور اسی جانشینی کا حق اپنی مختلف النوع ذمہ داریوں کے مطابق احکام خداوندی کی بجا آواری کی صورت میں کرتا رہتا ہے، ٹھیک یہی صورت ریاست کی بھاگ ڈور سنبھالنے کے بعد اس انداز سے ادا کرنی پڑتی ہے کہ ان اقیموا الدین (شوریٰ:۱۳) ترجمہ’’ کہ تم دین کو قائم کرو‘‘ کے تحت اللہ کی سرزمین پر اللہ کا نظام نافذ کرنا پڑتا ہے۔

قرآن و حدیث اور فقہائے کرام کی تفصیلات سے اسلامی ریاست کے لیے جو جو شعبہ جات نا گزیر ہیں وہ درج ذیل ہیں : جہاد، خارجہ امور، امن و امان، امور داخلہ، پولیس، بیت المال، نظام قضاء، عدالتیں، نظام زکوٰۃ، اقامت صلوٰۃ، امر بالمعروف، نہر عن المنکر، شورائی نظام، اطاعتِ امیر۔

ان تمام کے متعلق مستقل احکامات اور تجاویز موجود ہیں جن کا احاطہ یہاں طوالت کو لازم ہے، ان سب اعمال پر عمل کرنے کی حقیقی صورت اسلامی ریاست ہی کی صورت میں ممد و معاون ثٖابت ہوگی ورنہ ریاست کے اسلامی نہ ہونے صورت میں مفید تو بہر حال رہے گی لیکن خاطر خواہ نتائج بر آمد نہیں ہو سکیں گے کہ جن سے مقاصد شریعت کا بالکلیہ حصول ممکن ہو سکے، یہی وجہ ہے کہ امیر کی اطاعت کو قرآن کریم میں اللہ اور اس کے رسوال ﷺ کے ذکر مبارک کے ساتھ ذکر فرمایا يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ (نساء:۵۹) ترجمہ ’’اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی بھی اطاعت کرو اور تم میں سے جو لوگ صاحب اختیار ہوں ان کی بھی۔

یہ بتانے کے لیے کہ ریاستی امور کا دار و مدار کس قدر سنگینی کا حامل ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: