’’سحرش عثمان کے نام‘‘ یہ فاؤل ہے! ۔۔۔۔۔۔۔۔ جویریہ سعید

0
  • 16
    Shares

جناب باقائدہ دہشت گردی ہے۔
تصور کریں تو پر سوچ آنکھوں پر تنے ہوئے ابرو اور بے نیازی سے چیونگ گم چباتی ایک لڑاکا قسم کی بظاہر بے حد سنجیدہ مگر درحقیقت شرارتی صورت ذہن کے پردے پر ابھرتی ہے۔

کبھی کمر پر ہاتھ رکھے اور کبھی آپ کے چہرے کے عین سامنے اونچی میز پر دونوں پیر دھرے چیونگ گم چباتی اپنے انکلوں اور آنٹیوں کو زچ کرنے میں ہمہ وقت مصروف نظر آتی ہیں۔ موصوفہ نے ’’ہنہہ‘‘ سے بات شروع کر کے ’’جیلس پیپل!‘‘ کے طعنے پر ختم کر کے اور شوخ فقرے کس کر خود کو بے نیاز، لاپروا اور بے فلرا ظاہر کرنے کا تہیہ کر رکھا ہوا ہے۔

حال یہ ہے کہ کہیں سیدھے سبھاؤ کسی کی تعریف کر دیں، یا کوئی سنجیدہ تبصرہ کسی کو عنایت کر دیں تو ہم تصور میں ہی سہی باقائدہ اٹھ کر کھڑکی پر گرے بھاری پردے دونوں ہاتھوں سے ہٹا کر باہر جھانک کر جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آج سورج کس اور سے نکلا ہے۔ اور جس ہستی پر یہ نظر کرم فرماتی ہیں اس کی عظمت کی دھاک خود ہمارے دل ناتواں پر بھی بیٹھ جاتی ہے۔

ایسا ہم نے نیّر تاباں اور فرح رضوان صاحبہ کی تحریروں پر ہوتے دیکھا ہے یا کچھ سنجیدہ اہل علم حضرات کے ارشادات گرامی پر۔

ہمارے یہاں تشریف لاتی ہیں تو آنکھیں کچھ زیادہ اوپر کو رول ہوئی ہوتی ہیں، چیونگ گم زیادہ بے نیازی سے کچلی جا رہی ہوتی ہے، لہجے میں ایک الگ سا بانکپن چھلکتا ہے اور الفاظ سے تیکھا پن اور زیادہ ٹپکتا ہے۔

ہم نے بھی مسکرا کر آپ کا یہ چیلنج قبول کیا۔
ہم چند سطریں گھسیٹتے ہیں اور منتظر رہتے ہیں کہ یہ تشریف لائیں گی اور تاک تاک کر شوخ و شنگ جملے پھینکیں گی۔ پرٹینڈ کرتی ہیں کہ بے انتہا annoying ہیں۔ ہم بھی مسکرا کر نثار ہونے والی نظروں کے ساتھ گفتگو کو طول دیے جاتے ہیں۔

محترمہ نے فیس بک کو بھی یونیورسٹی ہی بنا رکھا ہے۔ پڑھتے لکھتے، سہیلیوں کے ساتھ مزے کرتے، سماج کی بوجھل رواجوں کے خلاف مباحثے کرتے، نت نئے شوشوں سے محظوظ ہوتے اپنی انفرادیت قائم رکھی ہے۔

اکثر لکھنے والوں کی پوسٹوں پر ایسے ہی موجود ہوں گی جیسے ایکسائیٹڈ قسم کے اسٹوڈنٹس اچھے برے سب اساتذہ کے لیکچر اٹینڈ کرتے ہیں اور پھر ببانگ دہل، بلاخطر تیکھے تبصرے بھی عنایت فرمائیں گی۔

یونیورسٹی کے کاریڈورز، سیڑھیوں، کینٹین یا درختوں کے جھنڈ کی میں بے فکری سے ہنستی لڑکیوں کی طرح ’’اپنے‘‘ انکلوں اور سہیلیوں کی پوسٹوں پر، خود اپنی ٹائم لائن پر یا آواز گروپ میں ہنستی کھلکھلاتی نت نئے چٹکلے چھوڑتی، ہنستی ہنساتیں، اوروں کو تپاتی اور پنگے لیتی نظر آتی ہیں۔

ہم تو ان بولڈ اینڈ بیوٹی فل محترمہ کے اس ’’ری ایکشن فارمیشن‘‘ کو ایک شان دلربائی سے قبول کر چکے تھے اور چوہے بلی کے اس کھیل سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ انہوں نے فاؤل کر دیا۔

ان خوبیوں کے ساتھ اس قدر کھلے عام اظہار محبت تو جناب دہشت گردی ہی ہے! فاؤل اس لیے کہ ہم کم از کم اس کے لیے تیار نہیں تھے۔

محبت تو خیر دہشت گردی نہیں ہوتی۔کیونکہ ہمیں بھی ہوگئی ہے۔

اس کی کئی وجوہات ہیں۔
شرارت اور بے تکلفی کے باوجود پاس ادب اور حفظ مراتب کا خیال رکھنا ایک بہت خاص خوبی ہے جو دل میں گھر کر لیتی ہے۔

بندی پڑھی لکھی بھی ہے اور بڑے ظرف کی مالک خاصی سمجھدار بھی۔ تمام شرارتوں کے باوجود اگر احساس ہو جائے کہ کچھ زیادہ ہوگیا ہے تو اعتراف اور معذرت کرنے سے نہیں جھجکتی۔ آواز گروپ کے معرکوں میں اکثر مشاہدہ کیا ہے۔

اور سچ یہ ہے شرارت اور شگفتگی کے نیچے ایک دل حساس چھپائے ایک پیاری سی لڑکی سے محبت نہ کی جائے یہ ممکن نہ تھا۔ اس کے دل میں بوسیدہ اور بوجھل رواجوں، منفی مزاجوں، حق تلفیوں اور خصوصاً عورت کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف درد اور خفگی بھری ہے۔

اپنا یہ احتجاج ایسی بے ساختگی، سادگی اور لطیف جذبوں سے گوندھ کر الفاظ میں ڈھالتی ہے کہ دل قائل تو ہوتا ہی ہے، خود اس پیاری سی لڑکی کے لیے فکرمند ہونے لگتا ہے۔

لفظوں سے اپنے تخیل کا جہاں تخلیق کرتی ہے تو ہم مسکراتے ہیں۔ اس کے خوابوں کی دنیا کی سرحد میرے یوٹیوپیا سے ملتی ہے اس لیے بہت کچھ مانوس سا لگتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک غیر محسوس سا رابطہ ہے۔ آپ ادھر سے ایک تصویر بنائیے، ہم ادھر اپنا سکیچ کھیچتے ہیں۔

فیس بک پر ’’خود کلامی‘‘ کچھ عرصے سے کافی مشہور اور مروج سی ہو گئی ہے۔ مگر دلچسپ والی خود کلامی تو دراصل ہماری چند سہیلیاں کیا کرتی ہیں۔

کئی برس پہلے رطبہ کی بے ساختہ self talk کے اسیر ہوئے تھے۔ آج کل فاطمہ الزہرا کی خود کلامی کافی مقبول ہے اور ہماری ممدوحہ جیسی باتونی، حساس اور رنگوں اور خوابوں کے تخیل میں سیر کرنے والی پیاری سی لڑکی کی rumination دلچسپ نہ ہو یہ ممکن نہیں۔

مزیدار بات یہ ہے کہ ان سب کو ’’خود کلامی‘‘ ہیڈنگ ڈال کر وضاحت نہیں دینی پڑتی اور ان کی خود کلامی ہاٹ کیک کی طرح بک جاتی ہے۔

مختصر یہ کہ آپ کو دل دینے کے کئی اسباب ہیں۔

آپ نے اس طرح کھلے عام بیباکی سے ہمیں شرمندہ کرنے کی کوشش کی، آپ کی محبت اور حسن ظن کا شکریہ۔

آپ کو محبت ہو جائے۔ سرخ گلابی رنگ سے سجی یہ ایک دعا خوشبو دار لفافے میں لپیٹ کر آپ کی دہلیز پر رکھ دی ہے۔ اللہ کرے شرف قبولیت پائے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: