جنرل اسمبلی میں پاکستانی موقف کی بھر پور ترجمانی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی

0
  • 5
    Shares

گزشتہ دنوں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی جنرل کونسل میں خطاب کیا ، ان کے انداز اور پاکستانی موقف کو بھر پور انداز سے پیش کرنے پر پاکستان کے سابق وزیر اعظم، پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار بھٹوکی وہ تقریر یاد آگئی جو انہوں نے اقوا م متحدہ میں 15 دسمبر 1971 کو کی تھی جس میں انہوں نے زور خطابت کا بھر پور اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے وقار کو دلیرانہ اور بہ وقار طریقہ سے عالمی طاقتوں کے سامنے پیش کیا تھا۔ مَیں اُس وقت جامعہ کراچی میں ایم اے سال اول کا طالب علم تھا اور وہ بہادری والا انداز ، گفتگو میں اعتماد، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر عالمی لیڈروں کے سامنے اپنا موقف بیان کرنے کا انداز آج تک آنکھوں میں محفوظ ہے۔ ا ُس وقت بھی سیاسی اختلاف اپنی جگہ تھا لیکن بھٹو نے پاکستان کا موقف جس دلیری اور بہادری سے اقوام عالم کے سامنے پیش کیا تھا وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا یاد گار حصہ ہے۔ آج موجودہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستانی عوام کے دلوں کی آواز کو اقوام عالم کے سامنے معقول انداز سے پیش کیا۔ دونوں کا مقابلہ ہر گز نہیں، بھٹو بڑا لیڈر تھا۔ بھٹو نے تو کسی بڑی طاقت کی پروا نہیں کی، وہ ڈرا نہیں، وہ جھکا نہیں، نوٹس ہاتھ میں تھے، ان کاغذ کے ٹکڑوں کو پھاڑتے ہوئے کونسل سے بائی کاٹ کیا۔

شاہ محمود قریشی کی تقریر اس اعتبار سے مثبت قرار دی جاسکتی ہے کہ انہوں نے پاکستان کا مؤقف بھر پور انداز سے پیش کیا، انہوں نے وہ تمام نکات جو پاکستانی عوام کے دلوں کی آواز ہیں اقوام عالم کے سامنے کھول کر رکھ دیے، بھارت کی ہٹ دھرمی کے بارے میں، بھارت کی کشمیر میں زیادتی کے بارے میں، بھارت کی پاکستان کے اندرونی معاملا میں مداخلت کے بارے میں، بھارت کا بلوچستان میں علیحدگی پسندوں سے گٹھ جوڑ اور ان کی حوصلہ افزائی کے بارے میں، پاکستان میں دہشتگردی کو ہوا دینے میں بھارت کے کردار کے معاملے میں، بھارتی جاسوس کلبھوشن کے منصوبے کے بارے میں، مذاکرات پر آمدگی کر کے یو ٹرن لینے کے بارے میں وزیر خارجہ نے تمام نکات بہت ہی سنجیدگی، متانَت، شائستگی اور دو ٹوک الفاظ میں دنیا ئے عالم کے سامنے رکھے۔

وزیر خارجہ کی تقریر کی ایک خوبصورت بات قومی زبان اردو میں تقریر کرنا تھا۔ بعض احباب کا اعتراض ہے کہ اردو وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں کو سمجھ نہیں آئی ہو گی۔ بے شک ایسا ہی ہے، اردو وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں کو سمجھ نہیں آتی ہو گی لیکن جناب انگریزی بھی اکثریت کو نہیں آتی۔ کبھی ہم نے کسی جرمن، جاپانی، چینیوں، عرب ملک کے سربراہ کو انگریزی میں تقریر کرتے سنا، جرمن اپنے زبان میں، جاپانی اپنی زبان میں چینی اپنی زبان میں ہی تقریر کرتے ہیں۔ پھر سب سے بڑی بات یہ کہ اس قسم کے فورم پر جب تقریر ہو رہی ہوتی ہیں تو ہر مندوب کے کانوں میں اسپیکر لگے ہوتے ہیں، ان میں تقریر ان کی اپنی زبان میں پیش ہو رہی ہوتی ہے۔ تقریر کا انگریزی ترجمہ ساتھ ساتھ نشر ہو رہا تھا۔

اس لیے یہ اعتراض مناسب نہیں۔ دنیا کے ہر ملک نے وزیر خارجہ کی تقریر اپنی زبان میں سنی اور اس کا رد عمل بھی آیا۔ وزیر خارجہ نے اردو میں تقریر کر کے پاکستان اور پاکستانی عوام کے وقار میں اضافہ کیا ہے اور ان کے دل جیت لیے۔

وزیر خارجہ نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازعات کی بنیادی مسئلہ کشمیر ہے۔ بھارت گزشتہ 70 سال سے اقوام متحدہ کی قرارداد کی نفی کر رہا ہے۔ دوسری جانب بھارت مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھا رہا ہے۔ انہوں نے ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن کے ذریعے ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے مستونگ کے واقعات کی تفصیل بیان کی جس کے شواہد اقوام متحدہ کو پاکستان دے چکا، وزیر خارجہ نے بھارت کے جنگی جنون، پاکستان پر جنگ مسلط کرنے جیسے بیانا ت کی جانب بھی توجہ دلائی۔ ا نہوں نے فلسطین کا ذکر بھی کیا، انہوں نے افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کی خواہش کا ذکر بھی کیا۔ سب سے بڑھ کر پاکستانی وزیر خارجہ نے عالمی فورم پر دنیا کے سامنے مغرب میں گستاخانہ خاکوں اور مسلمانوں میں پائی جانے والی دل آزاری کا احساس بھی دلایا۔ شاہ محمود قریشی نے اراکین کی توجہ اس جانب بھی مبزول کرائی کہ مشرق وسطیٰ کے حالات تشویش ناک حد تک خراب ہیں۔

پاکستان ایک پر امن ملک ہے اور تمام معاملات گفت و شنید کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے، بھارت کے پاس ایک اچھا موقع تھا کہ ہم باہم مذاکرات کرتے لیکن مودی سرکار نے دو ماہ قبل بننے والے ڈاک ٹکٹوں پر ایک تصویر کا بہانہ بنا کر ضائع کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی رپورٹ کا خیر مقدم کرتا ہے جس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کی نشاندھی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے پاکستان کی سرحد پر کوئی کاروائی کی تو پاکستان اس کا بھر جواب دینے کا پورا حق رکھتا ہے۔ یہ بھارت ہی ہے جس کی وجہ سے سارک غیر فعال ہوکر رہ گیا ہے۔ افغانستان میں جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہو گا پاکستان افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے ہر طرح تیار ہے۔ شاہ محمود قریشی نے پاکستان میں نئی حکومت کا ذکر بھی کیا۔ المختصر وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی جنرل کونسل میں بھارت کو اس کا اصل چہرہ دکھانے میں بھر پور کردار ادا کیا۔ دنیا کو یہ بتا یا کہ پاکستان ایک پر امن ملک اور اپنے پڑوسیوں سمیت ہر ایک سے امن اور دوستی کے ساتھ تعلقات قائم رکھنا چاہتا ہے۔ سیاسی مخالفت اپنی جگہ لیکن موجودہ حکومت کا یہ عمل قابل تعریف ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: