اقبال اور قادیانی مخاصمت: 1 —– لالہ صحرائی

2
  • 176
    Shares

مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کیلئے دانائے راز علامہ اقبالؒ اس قدر حساس واقع ہوئے تھے کہ ہمہ وقت اس امت کیلئے عروج بخش خیالوں میں غلطاں و پیچاں رہنے کے باعث اپنی تمام تر قابلیت کے باوجود وکالت جیسے پیشے سے بھی اتنا مال و متاع نہیں بنا پائے کہ جس کی بنا پر عرف عام میں ہی سہی انہیں متمول کہا جا سکتا، ان کی کل دولت یہی تھی جو اپنے افکار کی صورت میں وہ باقی چھوڑ گئے۔

اس تفکر کے نتیجے میں مُلائیت اور پیری فقیری سے لیکر شان سکندری تک جو جو نشے اور واہمے اس امت کی ترقی میں حائل دیکھے انہیں بے دریغ دُھنکتے گئے، کوئی اینٹ روڑا تو رہا ایک طرف کوئی بھاری پتھر بھی سامنے آیا تو اٹھا کے اس دیوار پہ دے مارا جس کے پار ایک اچھا مستقبل ہو سکتا تھا، ان میں ملائیت، پیری فقیری اور ملوکیت تینوں شامل ہیں۔

ملائیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ علماء مسلمانوں کی طاقت کا سرچشمہ رہے ہیں لیکن مرور ِ حالات خاص کر بغداد کے زوال کے بعد وہ بے حد قدامت پرست بن گئے اور آزادیء اجتہاد کی مخالفت کرنے لگے، پیری کے بارے میں فرماتے ہیں کہ مسلمانوں پر ایک ایسا تصوف مسلط تھا جس نے حقائق سے آنکھیں بند کر لیں اور عوام کی قوت عمل کو ضعیف کرکے انہیں ہر قسم کے توہم میں مبتلا کر دیا، تصوف جس درجے پر روحانی تعلیم کی قوت رکھتا تھا اس درجے سے گر کر محض لوگوں کی زُود اعتقادی سے فائدہ اٹھانے کا ایک ذریعہ بن کے رہ گیا، اور ملوکیت کے بارے میں کہتے ہیںکہ ان لوگوں نے اپنے قوت و اقتدار سے امت کی بجائے محض اپنے خاندان کا نام روشن رکھنے کو ہی مقدم جانا۔

اس تنقید کے متاثرین کو فکرِ اقبال کبھی ٹھنڈے پیٹوں ہضم نہیں ہوئی تاہم ان نکات پر ہمدردانہ غور کرنے سے انہیں افاقہ ضرور ہو سکتا ہے لیکن جس طبقے کے درد کو کوئی تریاق نہیں مل سکتا وہ جماعت احمدیہ ہے جس پر 1935 میں علامہ صاحبؒ کے ہاتھوں یکے بعد دیگرے کچھ قہربار مضامین وارد ہوئے، ان میں کچھ بالواسطہ تھے اور کچھ کے مخاطبین بلاواسطہ قادیانی ہی تھے۔

پہلے مرحلے میں:
مضمون “فلسفۂ ختم نبوت” لکھا جو چار پانچ خطبات کا مجموعہ ہے، یہ خطبات فلسفیانہ رنگ میں ختم نبوت کی تشریح پر ایک اچھوتی تخلیق ہں، یہ بھی کسی دن آسان الفاظ میں ڈھال کے پیش کریں گے۔

ان میں پہلا خطبہ سورۃ الاحزاب شریف ، آیت نمبر 40 کی تشریح ہے۔
مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا۔
یہ خطبہ 1928 میں مدراس مسلم ایسوسی ایشن کی دعوت پر مدراس، حیدرآباد اور پھر علیگڑھ میں پڑھا تھا۔

دوسرا حصہ وحی کا دروازہ بند ہونے سے متعلق ہے، تیسرا حصہ وحی اور ولایت کے فرق، چوتھا حصہ وحی، عقل اور مشاہدے کے فرق پر مبنی ہے، تیسرا اور چوتھا حصہ ماہنامہ طلوع اسلام دہلی کے کے ایڈیٹر سید نذیر نیازی کی فرمائش پر لکھا تھا۔

تیسرے حصے میں علامہ صاحبؒ نے یہ فرمایا کہ:

نبوت کا ایک حصہ ولایت ہے اور دوسرا سوشیو-پولیٹیکل انسٹیٹیوشن بنانے کا اختیار ہے جس میں پرورش پا کر فرد اپنے کمالات تک پہنچتا ہے، جو بندہ اس نظام کا ممبر نہ ہو یا اس کا انکار کرے وہ ان ثمرات سے محروم ہو جاتا ہے، مذہبی اصطلاح میں اس محرومی کو “کفر” کہتے ہیں، ختم نبوت کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص بعد از اسلام یہ دعویٰ کرے کہ اس میں نبوت کے ہر دو اجزاء موجود ہیں یعنی کہ اسے الہام وغیرہ ہوتا ہے اور اس کی جماعت میں داخل نہ ہونے والا کافر ہے تو وہ شخص کاذب ہے اور واجب القتل ہے، مسیلمہ کو اسی بنیاد پر قتل کیا گیا تھا حالانکہ طبری لکھتا ہے کہ وہ حضور رسالتمآب ﷺ کا مُصدّق تھا، اس کی اذان میں حضور رسالتمآب ﷺ کی رسالت کی تصدیق ہوتی تھی۔

مزید لکھا کہ،

بعد از وحیِ نبوت، الہام کا ایک سلسلہ جاری تو ہے لیکن نبوت کیساتھ اس کا کوئی واسطہ نہیں بلکہ یہ تعلق بااللہ کی بنیاد پر انسان کا ایک ذاتی معاملہ ہے، عرف عام میں ہم اسے ولایت کہہ سکتے ہیں، لہذا ولایت سے منسلک کسی فرد کے الہامات کسی دوسرے فرد یا امت مسلمہ کیلئے قطعاً کوئی حجت یا قانون شرعیہ کے مصداق نہیں بلکہ یوں کہیئے کہ ایک کامل وحی و الہام کی غلامی قبول کرلینے کے بعد کسی اور کے الہام کی غلامی سراسر حرام ہے، یہ بڑا اچھا سودا ہے کہ ایک غلامی سے باقی سب غلامیوں سے نجات ہو جائے ، حقیقت میں نبی آخرالزمان ﷺ کی غلامی، غلامی نہیں بلکہ آزادی ہے کیونکہ اس نبوت کے احکام عین فطرت کے مطابق ہیں۔

دوسرے مرحلے میں:
“قادیانی اور جمہور مسلمان” لکھا، یہ مضمون مئی 1935 کے ایسٹرن ٹائمز لاہور، ٹریبیون لاہور، سٹیٹسمین دہلی، اسٹار انڈیا کلکتہ اور اس کا ترجمہ اردو خبارات میں بھی چھپا تھا، اب یہ مکتوباتِ اقبال کا حصہ ہے، اس میں انگریزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ قادیانیوں کے عقائد مسلمانوں کی وحدت کیلئے خطرناک ہیں لہذا انہیں مسلمانوں سے الگ جماعت اور الگ مذہب سمجھا جائے، اس مضمون کے بعد قادیانیوں نے علامہ اقبال کی باقائدہ مخالفت کا آغاز کیا جو بدرجہءاتم تاحال قائم ہے۔

“قادیانی اور جمہور مسلمان” سے کچھ اقتباسات یہاں پیش کر دیتا ہوں تاکہ آپ کو علامہ صاحب سے ان لوگوں کی مخاصمت کی حقیقی وجہ اور شدت سمجھ میں آسکے:

“ہندوستان کی سرزمین پر جتنے بھی مذاہب ہیں ان کی بنیاد کچھ مذہبی اور کچھ نسلی ہے جبکہ اسلام نسلی تخیل کی نفی کرکے اپنی بنیاد کلی طور پر مذہبی تخیل پر رکھتا ہے جس کی وجہ سے وہ سراپا روحانیت اور خونی رشتوں سے کہیں زیادہ لطیف ہے اسلئے مسلمان ان تحریکوں کے معاملے میں بہت حساس ہے جو اس کی وحدت کیلئے خطرہ ہوں، چنانچہ ہر ایسی جماعت جو تاریخی طور پہ مسلمانوں کیساتھ وابستہ ہو لیکن اپنی بناء ایک نئی نبوت پر رکھے اور اپنے الہامات پر اعتقاد نہ رکھنے والے تمام مسلمانوں کو کافر سمجھے تو ہر مسلمان اسے اسلامی وحدت کیلئے خطرہ ہی سمجھے گا اسلئے کہ اسلامی وحدت صرف ختم نبوت سے ہی استوار ہوتی ہے”۔

“میرے نزدیک بہائیت، قادیانیت سے زیادہ مخلص ہے کیونکہ وہ کھلے طور پر اسلام سے باغی ہے لیکن قادیانیت اسلام کی چند نہایت اہم صورتوں کو ظاہری طور پر قائم رکھتی ہے لیکن باطنی طور پر اسلام کی روح اور مقاصد کیلئے مہلک ہے”۔

“ان لوگوں کے ہاں حاسد خدا کا تصور جس کے پاس دشمنوں کیلئے لاتعداد زلزلے اور بیماریاں ہوں، نبی کے متعلق نجومی کا تخیل اور روح مسیحؑ کے تسلسل کا عقیدہ، حتیٰ کہ مسیح موعود کی اصطلاح بھی اسلامی نہیں، یہ چیز ہمارے مذہبی ادب میں کہیں نہیں ملتی بلکہ یہ ایران کے موبدانہ تصورات میں سے ہیں، یہ تمام چیزیں اپنے اندر یہودیت کے اتنے عناصر رکھتی ہیں کہ گویا یہ تحریک یہودیت ہی کی طرف رجوع کی ایک شکل ہے”۔

“ہندی مسلمانوں نے قادیانیت کے خلاف جس شدتِ احساس کا ثبوت دیا ہے اسے سول اینڈ ملٹری گزٹ بے بنیاد طور پر “ملا زدہ” قرار دے رہا ہے، مغرب کی ہوا نے ان نام نہاد تعلیم یافتہ مسلمانوں کو حفظِ نفس کے جذبے سے اس قدر عاری کر دیا ہے کہ انہوں نے ختم نبوت کے تمدنی پہلؤوں پر کبھی غور ہی نہیں کیا بلکہ مسلمانوں کو رواداری کا مشورہ دے رہے ہیں، یہ مشورہ اگر سر ہربرٹ ایمرسن دیں تو میں انہیں معذور سمجھتا ہوں اسلئے کہ اس نے ایک مختلف تمدن میں پرورش پائی ہے، وہ دقت نظر سے ہمارے تمدن کو سمجھنے سے قاصر ہے”۔

“یہاں کوئی بھی مذہبی سٹے باز ایک نئی جماعت کھڑی کر سکتا ہے اور یہ لبرل حکومت اصل جماعت کی وحدت کی زرہ بھر بھی پروا نہیں کرتی بشرطیکہ وہ انہیں اطاعت و وفاداری کا یقین دلا دے اور ان کے پیروکار حکومت کے محصولات ادا کرتے رہیں، اسلام کے حق میں اس پالیسی کا مطلب ہمارے عظیم مزاح نگار شاعر اکبرؔ نے اچھی طرح بھانپ لیا تھا”۔

گورنمنٹ کی خیر یارو مناؤ
اناالحق کہو اور پھانسی نہ پاؤ
(مطلب یہ کہ اب اسلامی تصورات کیخلاف کچھ بھی کرلو، اگر سامراجی حکومت کے حامی ہو تو کچھ نہیں کہا جائے گا)

“اگر کسی جماعت کی وحدت کو خطرہ لاحق ہو تو اس کے پاس معاندانہ قوتوں کیخلاف مدافعت کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں، اس کا طریقہ یہی ہے کہ وہ جہاں ان کو تلعب بالدین کرتے پائے وہاں اپنی تقریر و تحریر کے ذریعے انہیں جھٹلا دے، پھر کیا یہ مناسب ہے کہ جس اصل جماعت کی وحدت کو خطرہ ہو اسے تو رواداری کی تلقین کی جائے اور باغی گروہ کو تبلیغ کی پوری اجازت ہو اگرچہ وہ تبلیغ بھی دشنام سے لبریز ہو”۔
(یہ پیراگراف ان سرکاری پابندیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو قادیانیوں کیخلاف تحریر و تقریر پر مولانا ظفر علیخان، ذمیندار اخبار اور مجلس احرار پر عائد تھیں)۔

“اگر کوئی گروہ جو اسلام کے نقطۂ نظر سے باغی ہے لیکن حکومت کے مفاد میں ہے تو حکومت اسکی خدمات کا صلہ دینے پر مجاز ہے لیکن یہ توقع رکھنی بیکار ہے کہ خود وہ جماعت ایسی قوتوں کو نظر انداز کر دے جو اس کے اجتماعی وجود کیلئے خطرہ ہیں، اس مقام پر یہ دہرانے کی غالباً ضرورت نہیں کہ مسلمانوں کے بیشمار فرقوں کے مذہبی تنازعوں کا ان بنیادی مسائل پر کچھ فرق نہیں پڑتا جن مسائل پر سب فرقے متفق ہیں اگرچہ وہ ایکدوسرے پر الحاد کے فتوے ہی دیتے ہوں”۔

اس مضمون کی اشاعت پر اخبار اسٹیٹسمین نے جو اداریہ لکھا اس کے جواب میں علامہ صاحبؒ مزید لکھتے ہیں؛

“اولاً اسلام کی بنیادی حدود مقرر ہیں، جن میں وحدت الوہئیت، انبیاءاکرامؑ پر ایمان، رسول اللہ ﷺ کی ختم رسالت پر ایمان لانا، یہ آخری یقین ہی وہ حقیقت ہے جو مسلم و غیر مسلم کے درمیان وجہ امتیاز ہے کہ کوئی فرد یا گروہ ملت اسلامیہ میں شامل ہے یا نہیں اور جہاں تک مجھے معلوم ہے آج تک کوئی اسلامی فرقہ اس حد فاصل کو عبور کرنے کی جسارت نہیں کر سکا، ایران میں بہائیوں نے ختم نبوت کے اصول کو صریحاً جھٹلایا لیکن ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ الگ جماعت ہیں اور مسلمانوں میں شامل نہیں، ہمارا یہ ایمان ہے کہ اسلام بحیثیت دین کے خدا کی طرف سے ظاہر ہوا اور بحیثیت ملت، رسول کریم سیدنا محمد ﷺ کی شخصیت کا مرہون منت ہے، میری رائے میں قادیانیوں کے سامنے صرف دو راہیں ہیں، یا وہ بہائیوں کی تقلید کریں اور ختم نبوت کے اصول کو صریحاً جھٹلا دیں یا پھر ختم نبوت کی تاویلوں کو چھوڑ کر اس اصول کو اس کے پورے مفہوم کیساتھ قبول کرلیں، ان کی جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کا شمار حلقۂ اسلام میں رہے تاکہ انہیں سیاسی فوائد پہنچ سکیں”۔

“ثانیاً ہمیں قادیانیوں کی حکمت عملی اور دنیائے اسلام کے بارے ان کا یہ رویہ فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ بانیٔ تحریک نے ملت اسلامیہ کو سڑے ہوئے دودھ سے تشبیہ دی تھی اور خود کو تازہ دودھ سے، اپنے مقلدین کو ملت اسلامیہ سے میل جول رکھنے سے اجتناب کا حکم دیا تھا، علاوہ بریں ان کا بنیادی اصولوں سے انکار، اپنی جماعت کا نام احمدی رکھنا، مسلمانوں کی قیام نماز سے قطع تعلق، نکاح کے معاملات میں مسلمانوں سے بائیکاٹ اور ان سب سے بڑھ کر یہ اعلان کہ دنیائے اسلام کافر ہے، یہ تمام امور قادیانیوں کی علیحدگی پر دال ہیں”۔

“ثلاثاً اس امر کو سمجھنے کیلئے کسی خاص ذہانت کی ضرورت نہیں کہ مذہبی و معاشرتی معاملات میں علیحدگی کی پالیسی اختیار کرکے بھی وہ مسلمانوں میں رہنے کیلئے کیوں مضطرب ہیں، اسلئے کہ ان کی موجودہ 56,000 کی آبادی انہیں کسی اسمبلی میں بھی کوئی نشست نہیں دلا سکتی اور انہیں سیاسی اقلیت کی حیثیت بھی نہیں مل سکتی، اسیلئے انہوں نے اپنی جداگانہ سیاسی حیثیت کا مطالبہ نہیں کیا نہ کبھی اس میں پہل کریں گے لیکن ملت اسلامیہ کو اس مطالبے کا پورا حق حاصل ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر دیا جائے”۔

تیسرے مرحلے میں:
مضامین اقبالؒ کے ردعمل میں پنڈت نہرو نے بھی ماڈرن ریویو کلکتہ میں قادیانیوں کے حق میں تین مضامین گھسیٹ دئے، اس خوشی میں لاہور اسٹیشن پر قادیانیوں نے نہرو کا بڑا شاندار استقبال کیا تھا۔

نہرو کے جواب میں “اسلام اور احمدیت” لکھا جس کے اندر ایک پوری تاریخ قلمبند ہے۔

“مسلمان کو، جن میں مذہبی جذبہ بہت شدید ہے، صرف ایک ہی چیز متاثر کر سکتی ہے اور وہ ربانی سند ہے، اس موقع پر راسخ عقائد کو مٹانے اور دین کی ایسی تفسیر کرنے کیلئے جو سیاسی اعتبار سے موزوں ہو ایک الہامی بنیاد ضروری سمجھی گئی جو احمدیت نے فراہم کر دی، خود احمدیوں کا دعویٰ ہے کہ برطانوی شہنشاہیت کی یہ سب سے بڑی خدمت ہے جو انہوں نے انجام دی”۔

کشمیر کمیٹی پر آویزش:
پرتاب سنگھ کے بعد 1925 میں جب ہری سنگھ تخت نشین ہوا تو کشمیر کے مسلمان سکھوں اور ڈوگروں کے ہاتھوں ایک صدی پر محیط مظالم بھگت چکے تھے، آج 2018 میں یہ مدت تقریباً دو صدیاں ہو گئی ہے۔

ہری سنگھ ایک عیاش بندہ تھا، اسلئے زیادہ تر وہ کلکتہ، بمبئی، لندن اور پیرس کے عشرت کدوں میں ہی رہتا تھا لہذا سرکاری کارندے بے لگام تھے، انہوں نے 1931 میں پہلے ریاسی میں ایک مسجد شہید کی، پھر کوٹلی میں نماز جمعہ پر پابندی لگا دی، قرآن پاک کی بیحرمتی کی، اس پر سرینگر کے عبدالقدیر نے ایک احتجاجی تحریک شروع کی، جو قابو سے باہر ہوگئی۔

جب عبدالقدیر کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا تو سرینگر کی عوام نے جیل کا محاصرہ کرلیا، اس مجمع پر گولی چلائی گئی جس سے 27 افراد شہید اور بیشمار زخمی ہوئے، اس ظلم پر کشیدگی مزید بڑھ گئی اور مسلمانوں نے آزادی کا نعرہ لگا دیا جس کے نتیجے میں تین دن بعد مسلمانوں پر ایکبار پھر فائرنگ ہوئی اور بہت سا خون بہا، یہ تحریکِ آزادیٔ کشمیر کی پہلی قربانی اور بنیاد تھی۔

ہری سنگھ نے جب اقتدار ہاتھ سے جاتے ہوئے دیکھا تو انگریزوں سے مدد مانگی، انگریزوں کی ایماء پر مرزا قادیانی کے صاحبزادے بشیرالدین محمود نے جو قادیانی خلافت کے دوسرے خلیفہ تھے مسلمانوں کے سامنے ایک “آل انڈیا کشمیر کمیٹی” بنانے کی تجویز پیش کی تاکہ وہ کشمیر کے مسئلے کو سلجھائے، اس کمیٹی کی سربراہی کیلئے علامہ صاحب نے ہی مرزا بشیرالدین کا نام تجویز کیا تھا جسے سب نے مان لیا، ان سرکردہ شخصیات میں خواجہ حسن نظامی بھی موجود تھے۔

بعد میں ہندوستان کے مسلمانوں نے یہ اعتراض نکالا کہ مرزا بشیرالدین محمود اس کمیٹی کو اپنی ذاتی صوابدید پر چلا رہے ہیں، یہ لوگ کیا کر رہے ہیں اور کس اصول سے کر رہے ہیں اس بات سے مسلمانوں کو کوئی آگاہی نہیں دیتے، دوسری طرف کشمیر سے یہ خبریں بھی آرہی ہیں کہ یہ لوگ ہری سنگھ کیساتھ اندرخانے کچھ دو اور کچھ لو کے تحت کشمیر کے اندر احمدیت کے فروغ میں مصروف ہیں اور میک۔اپ کے طور پر ان کے وکلاء کشمیری مسلمانوں کو قانونی معاونت فراہم کر رہے ہیں، اگر انہیں کسی ضابطے کا پابند نہ کیا گیا تو یہ کشمیری مسلمانوں کو بھی نئی نبوت کا اسیر کر دیں گے، یہ اعتراض اٹھانے والا بڑا طبقہ مجلس احرار کا تھا جس نے علامہ صاحب سے متعدد ملاقاتیں کیں اور انہیں اس بات پر قائل کیا کہ آپ ہی ان کو آگے لائے تھے اب آپ ہی انہیں کشمیر کمیٹی کا ایک ضابطہ مرتب کرنے پر مجبور کریں۔

اس کمیٹی کا دوسرا اجلاس لاہور میں ہونا تھا جس میں مجلسِ الاحرار کے رہنما اور علامہ اقبالؒ بھی شامل تھے، انہوں نے جب کمیٹی کا دستور مرتب کرنے کی بات کی تو احمدی جماعت نے اس بات کی شدید مخالفت کی کیونکہ دستور سے ان کی اجارہ داری اور مفادات پر زد پڑتی تھی، لیکن جب احرار کا اصرار بڑھا تو مرزا بشیرالدین محمود نے استعفیٰ دے دیا اور علامہ اقبالؒ کمیٹی کے نئے صدر منتخب ہوگئے، احمدی صدر کے جانے سے جماعت احمدیہ کے تمام رضا کاروں نے علامہ صاحب کے ماتحت کام کرنے سے انکار کر دیا اور ان کے تمام وکلاء کشمیریوں کے مقدمات کی پیروی چھوڑ کے واپس چلے گئے، ان میں سر ظفراللہ خان بھی شامل تھے، اس موقع پر ان کے ایک وکیل نے یہ بیان دیا کہ ہم کسی کشمیر کمیٹی کو نہیں جانتے بلکہ ہم نے اب تک جو کچھ کیا ہے وہ صرف امیر جماعت کے حکم کی تعمیل تھی۔

جماعت احمدیہ نے جب علامہ اقبال کی صدارت کا مقاطعہ کردیا تو علامہ صاحب نے بھی استعفیٰ دے دیا، کیونکہ 1857 کے بعد مسلمان ایسی سماجی، سیاسی اور معاشی بدحالی کا شکار تھے کہ ان میں ایسی کوئی منظم انتظامی قوت موجود ہی نہیں تھی جو جماعت احمدیہ کی جگہ لے سکتی، علامہ اقبال نے جو مرزا بشیرالدین کو سربراہ بنوایا تھا اس کی بنیادی وجہ ان کی تنظیم ہی تھی تاکہ اس سے مؤثر کام لیا جا سکے مگر اس انحتاط کے بعد کشمیر کمیٹی عملاً ٹوٹ گئی، یہ رویہ دیکھ کے علامہ صاحب اس نتیجے پر پہنچے کہ قادیانی مسلمانوں کیساتھ مخلص نہیں بلکہ یہ اپنے الو سیدھے کر رہے ہیں، اس کے بعد ہی علامہ صاحب نے “قادیانی اور جمہور مسلمان” والا مضمون لکھا تھا جو بعد میں ایک مستقل عداوت کا باعث بن گیا۔

اس مضمون کے بعد ابتدائی طور پر قادیانیوں کی طرف سے کوئی ایسا ردعمل نہیں آیا جو ان کی کسی بات کو جھٹلاتا ہو بلکہ کشمیر کمیٹی سے علیحدہ ہو کے مرزا بشیرالدین محمود نے تحریک کشمیر کے نام سے اپنی ایک الگ تنظیم بنا لی تھی، اس مضمون کے بعد یہ تاثر دیا گیا کہ علامہ اقبال تو بہت اچھے انسان ہیں لیکن احرار نے انہیں دھونس دھمکی کیساتھ گمراہ کر دیا ہے لہذا ہم علامہ اقبال کو اپنی تحریک کشمیر کی صدارت پیش کرتے ہیں، آپ یہ عہدہ قبول کرلیں تو ہم آپ کے ماتحت کام کرنے پر بھی راضی ہیں لیکن علامہ اقبال نے اس پیش کش کا استرداد کر دیا۔

بخاری صاحبؒ اور علامہ صاحب کی دوستی ایسی تھی کہ وہ علامہ صاحبؒ کو مرشد کہتے اور یہ انہیں شاہ جی کہتے تھے، وہ ان سے اشعار سنانے کی اور یہ ان سے سورۃ مزمل سنانے کی فرمائش کیا کرتے تھے، ایسا ضرور ہوا تھا کہ جب علامہ صاحب کیلئے کمیٹی کے میٹنگ روم کا دروازہ کھولا گیا تو باہر کھڑے ہجوم نے دھاوا بول کر سیکوریٹی کا حصار توڑ دیا اور علامہ اقبال کے پیچھے اس کمرہ اجلاس میں بھی داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے، کچھ لوگوں نے جماعت احمدیہ کیخلاف نعرے بازی اور کچھ نے توڑ پھوڑ بھی کی لیکن یہ بات قطعی غلط ہے کہ علامہ صاحب ان کے یرغمال تھے بلکہ یہ ایک اصولی مؤقف تھا جس پر علامہ صاحب نے اپنا کردار بخوبی نبھایا۔

قادیانی فورم کے اس تبصرے اور پیشکش پر علمی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف یہ کشمیر میں قدم جما رہے تھے تو دوسری طرف آنے والے انتخابات میں یہ مسلمانوں کے ووٹ سے ایک اچھی پوزیشن کیساتھ اسمبلیوں میں جانے کی راہ بھی ہموار کر رہے تھے اسلئے یہ علامہ صاحب کو اپنے ساتھ یا اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے تھے لیکن وہ ان کے دام میں نہیں آئے، بالفرض علامہ صاحب احرار کے ہاتھوں میں کھیل رہے تھے تو بھی ان کے اقدامات نے احمدیوں سے یہ پلیٹ فارم چھین کر ہندوستان میں ان کی ساری سیاسی بساط بہرحال تلپٹ کرکے رکھ دی تھی۔

علامہ اقبال کی شخصیت کو داغدار کرنے والے طبقات میں سر ظفر اللہ خان کے محبین کا بھی بڑا ہاتھ ہے، ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ حکومت ہند میں ایک اہم سیٹ جس پر سر فضل حسین متمکن تھے ان کی بیماری کے باعث اس پر علامہ اقبال کا نام تجویز کیا گیا تھا، بعض انگریزوں نے بخود علامہ صاحب کو بتایا کہ ہم نے آپ کیلئے سفارشات بھجوا دی ہیں لیکن وزیر ہند نے کسی کی نہ مانی اور وہ سیٹ سر ظفراللہ کو دے دی لہذا علامہ اقبال نے احمدیوں کے خلاف جو کچھ بھی لکھا وہ اسی مخاصمت میں لکھا ہے ۔

قیام پاکستان کے بعد جب علامہ صاحب کو تصور پاکستان کا خالق قرار دیا گیا تو اس بات نے بھی جلتی پر تیل کا کام کیا اور علامہ اقبال کی مخالفت پہلے سے بھی سوا ہو گئی، کیونکہ یہ سہرا بھی کسی طرح سے سر ظفراللہ خان کے سر باندھنا تھا مگر ممکن نہ ہو سکا، علامہ اقبال کے احمدی مخالف مضامین، کشمیر کمیٹی اور سر ظفراللہ خان کیساتھ ناپ تول میں ان لوگوں نے علامہ اقبال کی کردار کُشی اور سُبکی کو ہمیشہ مقدم اور روا رکھا ہے، ان لوگوں کو پہچاننا ہو تو مذکورہ اولین متاثرین کے علاوہ علامہ صاحب کے ان جملوں کے آئینے میں یہ لوگ آپ کو جا بجا نظر آجائیں گے۔

“ان لوگوں کے ہاں حاسد خدا کا تصور جس کے پاس دشمنوں کیلئے لاتعداد زلزلے اور بیماریاں ہوں، نبی کے متعلق نجومی کا تخیل، مسیح موعود کی اصطلاح، یہودیوں کی طرف رجحان، مغرب کی ہوا نے ان نام نہاد تعلیم یافتہ مسلمانوں کو حفظِ نفس کے جذبے سے بھی عاری کر دیا، ان کے عقائد میں یہودیت کے اتنے عناصر ہیں کہ گویا یہ بھی یہودیت کی طرف رجوع ہی کی ایک شکل ہے”۔

ان حالات میں علامہ صاحبؒ پر قادیانی ہونے کا الزام 1935 سے چلا آرہا ہے جس کا جواب معتبر صحافیوں، دانشوروں، پروفیسروں، پی-ایچ-ڈی اسکالرز اور اقبال شناسوں نے درجنوں مضامین میں دے رکھا ہے، اس موضوع پر انیق ناجی کا ایک ٹیوی مزاکرہ بھی موجود ہے جس میں پروفیسر مہدی حسن، ڈاکٹر جاوید اقبال، ڈاکٹر اسرار احمد اور احمد جاوید صاحب نے اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کر رکھی ہے کہ علامہ اقبال کبھی بھی قادیانی نہیں رہے، لیکن سوشل میڈیا پر آنے والی نئی نسل ان سب باتوں سے تقریباً ناواقف ہے، اسلئے اس چشمک کا پورا بیک گراؤنڈ مفصل طریقے کیساتھ آج س سوشل میڈیا کے ریکارڈ پر بھی رکھ دیا ہے تاکہ مستقبل میں آپ کے کام آئے۔

دوسری قسط میں ایک نئے ڈھنگ سے اس بات کا مفصل جواب لکھیں گے، پھر بھی کوئی کسر باقی رہ گئی تو تیسری قسط میں پرانے جوابات بھی پیش کر دیں گے تاکہ یہ تاریخ مکمل طور پر سوشل میڈیا پر بھی ریکارڈ ہو جائے۔

سالک کسے بود کہ طلب گار حق شود
در حیرتم کہ سالکے ناحق شناس شد

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. لالہ صحرائی کے قلم کی داد نہ دینا ےو بے انصافی ہو گی مگر دو تین باتوں کی نشان دہی کرنا چاہوں گا ۔ تاہم پہلے یہ عرض کر دوں کہ میں لالہ صحرائی پر کوئی اعتراض نہیں کر رہا بلکہ وہی معاملہ ہے کہ “خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے” ۔
    1۔ تھوڑی بہت املاء کی غلطیاں دیکھ لیں
    2۔ مضمون کے پہلے جملے کو محمد اقبال کے ٹیکس ریکارڈ اور میزانیہ کے ساتھ ملا کر دیکھیں تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ علامہ وکالت سے کمائی کر نہ سکے ۔ معروف بات یہ ہے کہ علامہ نے اپنے ماہانہ خرچ کا میزانیہ بنا رکھا تھا ۔ جوں ہی ماہانہ خرچ کے برابر کمائی ہو جاتی تھی تو علامہ مزید کیس لینے سے انکار کر دیتے تھے ۔ میں لالہ صحرائی”سے گزارش کروں گا کہ جملے کو ذرا سا بدل لیں ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لالہ صحرائی صاحب کی مراد تک نہ پہنچ سکا ہوں مگر جملہ بدلنے میں تو کوئی قباحت نہیں ہے ۔
    3۔ “خطبہ ختم نبوت” کی ترکیب استعمال کی گئی ہے ۔ یہ بھی کہا گیا کہ یہ خطبات 1928ء کو مدراس میں ہی دیے گئے ۔ بعد ازاں خطبات کے اہم حصوں کا تعارف کروایا گیا ۔ میری ناقص معلومات کے مطابق، علامہ نے مدراس میں وہی خطبات دیے جو “تشکیل جدید الہیات اسلامیہ” کے نام سے معروف ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا لالہ صحرائی “خطبہ ختم نبوت” سے وہی معروف خطبات مراد لے رہے ہیں ؟ اگر وہی خطبات ہیں تو کیا ان خطبات کو پہلی دفعہ “خطبہ ختم نبوت” کہا جا رہا ہے ؟ کیا ایسا کہا بھی جا سکتا ہے کیونکہ علامہ نے خود تو ان کے لئے یہ تراکیب استعمال نہیں کی۔ علامہ کی زندگی میں ان خطبات کے متعلق لکھنے والوں نے بھی یہ تراکیب استعمال نہیں کی۔ اگر یہ کوئی اور خطبات ہیں تو کم از کم 1928ء میں مدراس اور علی گڑھ نہیں پڑھے گئے ۔

    • یہ نکات مضمون میں اہم اضافہ کر رہے ہیں۔
      ادارہ کوشش کرے گا کہ املاء کی اغلاط کم سے کم ہو سکیں

Leave A Reply

%d bloggers like this: