’’ دماغ ‘‘ کائنات کی پیچیدہ تخلیق ۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن تیمور جھکڑ

0
  • 19
    Shares

انسان اس کائنات کی سب سے بہترین تخلیق ہے جس کو تمام چرند پرند و حیوانات پہ فوقیت حاصل ہے اور یہ امتیاز اسے صرف و صرف دماغ کی وجہ سے ملا ہے۔۔ کائنات کی پیچیدہ ترین تخلیق انسانی دماغ کو قرار دیا جاتا ہے۔ سپیری تھیوری کے مطابق دماغ کے دو حصے ہیں جو خیالات سے لیکر تمام افعال تک کو کنٹرول کرتے ہیں۔۔ دماغ کا ایک حصہ (اوپری) یاداشتوں یا دیکھی گئی چیزوں کو جمع کرنے کےکام آتا ہے جبکہ دوسرا (نچلا) حصہ بھوک، حرکت، خون کی گردش، حرارت کی باقاعدگی سمیت ہاتھ پاوں سے جڑے تمام افعال کو براہ راست کنٹرول کرتا ہے۔ انسانی بچے کی پیدائش کے وقت اس کا دماغ جسم کی کمیت کا بارہ فیصد تک ہوتا ہے جو کہ باقی جانداروں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔

مرد کا اوسط دماغی وزن 1375 گرام ہوتا ہے۔ جبکہ عورت کا دماغ اوسط 1225 گرام ہوتا ہے۔۔۔ انسانی دماغ کے حجم کا اس کی کارکردگی پہ براہ راست کوئی اثر نہی البتہ بہت ہی کم ایسے سائنسدان ہیں جو بڑے دماغ کو چھوٹے کے مقابلے زیادہ بہتر تصور کرتے ہیں لیکن مخالفین اسکا جواب یوں دیتے ہیں کہ اس لحاظ سے وہیل مچھلی اور ہاتھی کا دماغ انسان کے مقابلے زیادہ بہتر ہونا چاہیے۔

“سوچنے سمجھنے” کا فرق بہرحال موجود ہے۔ ایک انسانی دماغ تقریباً بیس بلین نیورونز پہ مشتمل ہوتا ہے۔ یاداشت کو سٹور کرنے سے لیکر افعال کی انجام دہی تک کی یہ برقی لہرہیں انہی عصبی خلیوں سے ہی ترتیب پاتی ہیں۔ انسانی دماغ ایک کمپیوٹر کی نسبت معلومات کی گنجانیت میں دس ہزار گنا بڑا ہوتا ہے اور تقریباً اتنی فیصد ہی اس پہ عمل کے معاملے میں تیز رفتار بھی۔ انسانی دماغ کے اندر چھوٹے چھوٹے برقی سرکٹ ہوتے ہیں جس کے اندر انسانی افعال خصوصاً ردعمل چھپے ہیں۔ مطلب کہ کسی بھی حرکت پہ ہونے والے بےاختیار ردعمل کی شروعات یہیاں سے ہی ہوتی ہے۔ جسے سادہ ترین الفاظ میں ہم “ہاں یا ناں ” کی تھیوری کہہ سکتے ہیں یعنی کہ اگر اپ کو کسی نوعیت کی سرگرمی سے واسطہ پڑتا ہے تو اس کےنتیجے میں ہونے والا ردعمل انہی برقی سرکٹس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اسے اپ ذہانت کی بنیاد بھی کہہ سکتے ہیں۔ ان کی فعالیت کی بنیاد پہ آپ کی ذہانت کا معیار طے ہوتا ہے۔

انسانی جسم کی تغیرات خلا سے آنے والی تابکاری شعاعوں کے باعث ہوتے ہیں۔ یہی تغیر دراصل ارتقا کا خام مال ہے۔ یہ ارتقا انسانی کروموسوم کے افزائشی حصہ دار خلیوں پہ تابکاری شعاعوں کے اثر کےباعث پیدا ہوتے ہیں اور اس تغیر میں سب سے زیادہ حصہ دماغ کا ہے یعنی انسانی جسم کی بجائے سب سے زیادہ تبدیلی انسانی دماغ نے قبول کی ہے۔ اپنے ارتقا سے لیکر اب تک تمام جانداروں کا دماغ پرورش پاتے ہوئے حجم میں بڑھا ہے۔ اس کا براہ راست تعلق انسانی تمدنی و معاشرتی ارتقا سے ہے۔ سائنسدانوں نے ثابت کیا ہے کہ دانشورانہ تجربات، یا مسلسل اکتسابی عمل کے ذریعے دماغ کی فعالیت بڑھائی جا سکتی ہے حتی کہ سوچ کے زاوئیے تک بدلے جا سکتے ہیں۔ یہ عمل چھوٹے بچے سے لیکر ایک بزرگ تک میں کیا جا سکتا ہے۔ سیکھنے کے عمل سے دماغ کے اندر نئی اعصابی شاخیں تک نمو پانے لگتی ہیں یعنی دماغ اپنے وسعت کا عمل خود ہی شروع کر سکتا ہے۔ انسانی دماغ کی وسعت اس کائنات کو تسخیر کر لینے کے لیے کافی ہے اگر اسے استعمال کیا جائے تو۔

اب آتے ہیں اصل بات کی جانب اور بات یہ ہے کہ اس قدر اعلی و ارفع تخلیق کا حامل ہونے کے باوجود بھی حیرت ہے کہ حضرت انسان ابھی تک کرپٹ اور چوروں کو رہنما مانتے اور ان کے لیے آپس میں لڑتے مرتے بھی ہیں۔ حیرت ہے۔۔ !

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: