منزل ہے کہاں تیری اے لالہء صحرائی ۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد اقبال

0
  • 37
    Shares

کچھ دن پہلے شاہد آفریدی کی ایک تصویر فیس بک پر دیکھی جس میں وہ کٹے ہوئے بکرے کا سر ایک تین سال کے بچے کے سامنے کر کے ہنس رہا ہے لیکن دہشت زدہ بچہ رو رہا ہے۔ اس پر کناڈا یورپ امریکہ سے کمنٹ ملے کہ خان یہاں ہوتا تو اب تک جیل میں ہوتا۔ میں اس پر اپنا تبصرہ محفوظ رکھتا ہوں۔ ہمارے کچھ لوگ ایسا سمجھتے ہیں کہ سنگدلی اور سفاکی بھی ایک مردانہ صفت ہے چنانچہ بچپن سے اس کو لہو ریزی اور جان لینا اور بکرے یا گائے کو ایڑیاں رگڑ کے مرتا دکھانے سے وہ ‘مرد’ بنتا ہے۔ دلچسپ تضاد یہ ہے کہ اسی جانور کو وہ بچوں کی خاطر قربانی سے بہت پہلے لاتے ہیں اوربچے اسے بنا سنوار کے گلی محلے میں لیے پھرتے ہیں۔ وہ اس سے مانوس ہونے کے بعد کتنی بے بسی اور دکھ کے ساتھ اس کا سر دھڑ الگ ہوتا دیکھتے رہتے ہیں۔ یہ کون دیکھتا ہے۔

بچے جانوروں سے محبت کرنے والی فطرت رکھتے ہیں۔ میرے بچے جب چھوٹے تھے تو گھر میں خرگوش تھے وہ انہی میں مگن رہتے اکثر خرگوش بغل میں دبائے سو جاتے خرگوشوں نے زمین کھود ڈالی اور ایزی چیئر کی بنائی سے کتابوں تک ہر چیز کتر ڈالی تو ہم نے انہیں ذبح کر کے کھانا شروع کیا۔ بچوں کو آج تک پتا نہیں کہ وہ خرگوش تھے چکن نہیں۔ ورنہ وہ روتے اور ’’چکن پلائو‘‘ کو ہاتھ نہ لگاتے۔ میرا بڑا بیٹا کالج میں تھا جب وہ ایک کتا لے آیا اس کو صاف اور صحت مند رکھنا اس کا شوق بلکہ خبط تھا وہ چکن کی دکان سے مرغیوں کے پنجے لاتا ان کو ابالتا اور ٹھنڈا ہو کے وہ سفید سوپ پیالے میں جم جاتا تو کتا بڑے شوق سے کھاتا۔ ایک بار وہ دن میں کھلا رہ گیا اور میں بیوی کے ساتھ گاڑی میں نکلا تو وہ پیچھے ہو لیا۔ ہمیں پتا نہ چلا۔ نہ جانے کہاں کہاں پھر کے ہم واپس آئے تو احساس ہی نہ تھا کہ کتا شہر کی بھیڑ میں گم ہو گیا۔ ہمارا ساتھ نہ دے سکا یا ہماری ساتھ رہنے کی کوشش میں حادثے کا شکار ہو گیا۔ بیٹا کالج سے آیا تو اسے غائب پا کے سخت پریشان ہوا۔ تلاش میں باہر نکلا تو کسی نے بتایا کہ تمہاری گاڑی کے پیچھے گیا تھا۔ اب ہم نے بہت قسمیں کھائیں مگر اس کی بدگمانی ہمیشہ بر قرار رہی کہ ہم نے اس سے پیچھا چھڑانے کے لیےعمداً ایسا کیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ہم اس کے شوق سے نالاں ہیں لیکن برداشت کرتے ہیں۔ تین دن وہ دیوانہ وار سڑکوں پر اسے ڈھونڈتا رہا اور مہینہ بھر سے زیادہ اداس رہا اس سے اگلی نسل میں چار نے آسٹریلین طوطے پالے۔ کتے بلیوں کا شوق عام تھا ایک نے کبوتر بھی اڑائے لیکن یہ جانوروں سے بھی محبت کرنے والے بچے کیسے انسانوں سے نفرت کی طرف نا معلوم طریقے پر دھکیلے جا رہے ہیں؟

اس کی ابتدا میڈیا پر خونریزی کی لائیو فوٹیج، خون آلود لا شیں اور جسموں کے منتشر اعضا دکھا کے ہوئی۔ اینکرز نے کیمرے فوکس کر کے اور چلّا چلّا کے خون بہتا دکھایا خواہ وہ عبادت گاہوں کی دیوار پر ہو، کسی اسکول میں یا ٹرین کے حادثے کا شکار ہونے والوں کی بکھری لاشوں پر، دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہوتا تھا۔ اس سے بچوں کے ذہن پر وہی اثر ہو رہا تھا جو کٹی ہوئی بکرے کی سری یا پھڑک پھڑک کر جان دیتے پالتو بکرے کی موت کا ہوتا ہے۔ بہت کم لوگ چھوٹے بچوں کو دور رکھتے تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بلی کتے کے بیمار بچے کے لیے فکر مند ہونے والے بچے بکرے کی بوٹیاں بنتی دیکھتے تھے اور اس کی کڑاہی بھی شوق سے کھانے لگتے تھے۔ یہ سفاکی دماغ کی کنڈیشننگ کا عمل تھا۔ ہم اپنی ماں یا باپ کو زمیں میں گاڑ کے سکون سے سو سکتے ہیں تو ہندو بچے ان کو خود جلا کے ذہنی طور پر ڈسٹرب نہیں ہوتے۔

زیادہ حساس طبقات کی طرف سے احتجاج ہوا جن کا پیشہ انسانوں کو مارنا نہ تھا تو اس قسم کے مناظر دکھانے پر پابندی لگ گئی لیکن پھر ایک اور پالیسی کے تحت ’’خبروں‘‘ کو سنسنی خیز بنا دیا گیا۔ اب آپ ملا حظہ کر لیں۔ ہر صبح ابتدا ہوتی ہے کسی بچی کے ریپ یا غلطی سے پولیس کی گولی کا نشانہ بننے کی خبر یا کسی بچے کے اغوا اور قتل کی اطلاع سے۔ ہر خبر سے جو چلا چلا کے تین تین چار چار بار چمک دمک کے ساتھ سنائی جاتی ہے۔ تصویر میں اسے مسلسل فلیش کیا جاتا ہے اور ساتھ چلتی ہے دھواں دھار موسیقی۔ کلوز اپ میں ماں کے آنسو۔ باپ کا سر پیٹنا بہنوں کا ماتم۔ اس کے بعد آ جاتے ہیں حادشہ، ،فلاں گائوں میں ٹرک نے رکشا کو روند ڈالا۔ ٹرالر نے سائیکل سوار کو کچل دیا۔ فلاں جگہ دھماکا سنا گیا۔ تندور میں آگ بھڑک اٹھی۔ کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی شرح بڑھ گئی۔ چیف جسٹس نے پاگل خانے کا دورہ کیا۔ چوروں ڈاکوئوں کو چوک میں لٹکایا جائے گا وزیر اعظم کا اعلان۔

خبریں ختم ہوئیں۔ یا مظہر العجائب۔ بیت گئی مگر آدھی دنیا میں تو دن تھا۔ کہیں کچھ نہیں ہوا؟ ہمارے سو سے زیادہ ملک میں دیکھا جانے والا خبرنامہ رکشا کے حادثے اور بچوں کے ریپ کی خبریں ہی دے گا۔ یہ دھوم دھڑکا اور شور شرابہ بی بی سی اور سی این این پر کیوں نہیں۔ وہ آج بھی 50 سال پہلے کی طرح متانت سے شام اور یمن کی تباہی سے چین اور امریکہ کی اقتصادی جنگ تک دنیا کے ہر خطے کی سیاسی اور معاشی صورتحال امپورٹ ایکسپورٹ کیوں بتاتے ہیں۔ ہم انڈیا کی خبریں کیوں نہیں دیکھ سکتے اگر ڈرامے فلمیں اور کامیڈی یا فیش شو دیکھ سکتے ہیں؟ ہمیں ہمسائے ہم مذہب اولین دوست ثقافتی شریک ایران کا کیوں پتا نہیں؟ لیکن رفتہ رفتہ نوجوان اور بے خبر نسل نے کم آگاہی کو قبول کر لیا ہے کیونکہ غیر اہم سے زیادہ جھوٹی اور بے بنیاد خبروں کا طوفان کھڑا کر دیا گیا ہے۔ اور اصل خبروں کو روک دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر

1۔ کسی حمیرا زلفی کو ’’بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام‘‘ کا سربراہ نہیں بنایا گیا۔ اس نام کی اس خاتون نے وضاحت کی ہے کہ نہ میں کسی زلفی بخاری کی بہن ہوں نہ میرا کہیں تقرر ہوا ہے۔ یہی خبر نے جنگ نے بھی پہلے صفحے پر شائع کی۔

2۔ ایک جعلی فوٹو شاپ وڈیو عمران خان اور ان کی بیگم کی اس کیپشن کے ساتھ پھیلائی گئی کہ ’’بشریٰ بی بی کا عکس آئینے میں نظر نہیں آتا‘‘۔

3۔ ایک خبر نشر ہوئی کہ بشریٰ بی بی کی چھوٹی صاحبزادی کا ساڑھے سات لاکھ روپے ماہانہ پر ’’ویمن ایمپلائیمنٹ ونگ‘‘ میں تقرر کا نوٹی فیکیشن جاری کر دیا گیا۔ یہ بے بنیاد خبر اردو اخبارات میں صفحہء اول کی زینت بنی۔

4۔ ایک اور فیک وڈیو چلائی گئی کہ عمران نے ہیلی کاپٹر چھوڑ کے ’’مہران‘‘ میں آنا جانا شروع کر دیا۔ اس کو کار ڈرائیو کرتے بھی دکھایا گیا۔ وہ سڑک پر ایک پیلی ٹیکسی کو اوور ٹیک بھی کرتا ہے اور ہاتھ بھی ہلاتا ہے۔ یہ قطعی عمران نہیں اس کا ہم شکل ہے۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کچھ عرصہ قبل اسے پی کے میں کہاں دکھایا گیا تھا۔ وہ کیمرے کے سامنے بات بھی کرتا ہے کہ اس مشابہت کی وجہ سے وہ بہت خوش بھی ہے اور پریشان بھی۔

یہ صرف دو دن کا مشاہدہ تھا۔ اب دیکھئے وہ خبریں جو سنسر کر دی گئیں۔

چند دن قبل پنجاب کے وزیر جیل خانہ جات رات دو بجے 6 ہمراہیوں کے ساتھ پہنچے اور مطالبہ کیا کہ انہیں خطرناک قیدیوں کے وارڈ کی چابی دی جائے۔ انکار پر چابیاں چھین لی گئیں۔ حفاظتی عملے کو محدود کر دیا گیا اور وزیر صاحب نے کئی گھنٹے دہشت گردوں سے خفیہ مزاکرات بھی کیے، وہ چند ایک کو لے جانا بھی چاہتے تھے لیکن عملے نے مزاحمت کی۔ بلا شبہ وزیر کو چھاپا مارنے کا اختیار حاصل ہے لیکن کسی شکایت پر۔ شکوک ان کے دہشت گردوں سے ملاقات نے پیدا کیا۔ جب جیلر نے اس کی شکایت کی تو اس کا ٹرانسفر کر دیا گیا۔ خبر میں نے بھی نہیں سنی تھی لیکن ’’ٹریبیون‘‘ نے دو چار دن پہلے ایک اداریہ لکھا تو مجھے پتا چلا۔

اب مجھے بتائیں کہ میں خبر کسے سمجھوں اور افاہ کسے جب وہ نشر ہو جائے؟۔ خبر کی سند میں ’’ڈان‘‘ ’’جیو‘‘ اور ‘سما‘‘ یا ’’92‘‘ ہے لیکن وہ جو برساتی مینڈکوں کی طرح ہرا یرا غیرا چینل لانچ کر رہا ہے اسے پوچھنے والا کوئی نہیں اے پی این ایس بھی نہیں، پیمرا بھی مجبور کر دیا گیا ہے؟

اس شتر بے مہار صحافت میں کوئی خبریں سنے تو کیوں سنے؟ بہتر یہی ہے کے بے خبر رہے۔ اس پالیسی کا یہی مقصد ہے، ملک کے ’’نوجوان طبقے‘‘ میں جو 16 سے 34 سال کی عمر کے طبقے کو سمجھا جاتا ہے وہ ہے جو پہلے ہی ملک کے تاریخی ’’حقائق‘‘ سے بے خبر ہے اور اسی سوشل اسٹیڈی کو تاریخ سمجھتا ہے جس میں سچ اب اتنا ہی رہ گیا ہے جتنا آٹے میں نمک۔ تمام اصل واقعات حزف کر دئیے گئے ہیں یا اسی نقطہء نظر سے لکھوائے گئے ہیں جو سرکاری ہے۔ مگر جھوٹ ہے لیکن 8 کروڑ افراد جب جھوٹ کو ہی سچ مان لیں تو میری آپ کی کیوں سنیں گے۔ عملی سیاست میں یہی نوجوان اہم کردار ادا کرتے ہیں نعرے بازی، احتجاج، جلسے جلوس اور دھرنے میں شراکت ان کو یوتھیے کا خطاب بھی مل گیا ہے۔

40,50 سال والا ذہنی طور پر میچور مگر جسمانی طور پر ایکٹو نہیں رہتا۔ 60 سے اوپر والے سب ’’پچھلی نسل‘‘ میری عمر کے بابے جو حد سے زیادہ دانشمند یا پھر خبطی ہو جاتے ہیں۔ مستقبل میں عنان حکومت اپنے ہاتھ میں رکھنے انہی دنیا کے حقائق سے بے خبر ملک کے بارے میں صرف سرکاری معلومات رکھنے والوں کو اپنی طاقت بنانا چاہتے ہیں جو دانشور یا لبرل کو فتنہ پرور اور کافر تک سمجھتے ہیں۔ یہ ’’بوکو حرام‘‘ تحریک کا راستہ ہے۔

علم کو کس طرح بے مقصد لیکن اپر کلاس تک محدود کیا جا رہا۔ یہ بندئہ ناچیز ویسے تو رہائشی اس شہر کا جو نام کا اسلام آباد ہے۔ جہاں علی جاہ عقاب کی نظر رکھنے والے چیف جسٹس، صدر مملکت، وزیر اعظم اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سپہ سالار بقلم خود تشریف رکھتے ہیں۔ دیگر کمتر اور گھٹیا شہروں کے احوال کا اندازہ ہی کیا جا سکتا ہے ایک مسئلہ یہ تھا کہ ہماری قوم کے شعور کی تربیت نظام تعلیم سے ہو رہی تھی چنانچہ بتدریج تعلیم کو خواص تک محدود کیا گیا اور اس کی باگ دوڑ مغربی آقائوں کے ہاتھ ؐمیں دے کر اس کو منافع بخش کاروبار کی شکل دے دی گئی اور از خود یہاں انہی کی اگلی نسل پروان چڑھنے لگی جن کو اب چور ڈاکو کرپٹ وغیرہ کے خطابات سے نوازنے کے سوا عوام کچھ کر ہی نہیں سکتے۔ ان کے بچوں کا تعلیمی نظام نقل فری بنا دیا گیا، سلیبس 50 سال پرانا رکھا گیا۔ ان میں رشوت سے نمبر خریدنے کی حوصلہ افزائی ہوئی چنانچہ طلبا 95 اور 98 فی صد نمبر بھی لینے لگے۔ سب کو پروفیشنل کالجوں میں داخلہ دینا ممکن نہ تھا چنانچہ بورڈ کے نتیجے پر کسی اخلاقی یا قانونی جواز کے بغیر خط تنسیخ پھیر کے دوسرا امتحان ’’نیشنل ٹسٹنگ سروس‘‘ کا ادارہ لینے لگا جس کی آجکل فیس 700 روپے ہے۔

اس ادارے کی سند نےبورڈ کی تعلیم کو غیر مستند کر دیا۔ کیسا بورڈ کہاں کا بورڈ۔ ہم ہیں اہلیت کی سند دینے والے۔ الحمدللہ کہ یہاں کروڑوں اربوں کا غبن کرنے والے پکڑے گئے ان کی جگہ دوسرے آ گئے اور یہاں بھی رشوت نے حصول مدارج آسان کیا۔ اس امتحان نمبر دو کے بعد بھی کالج یونیورسٹی میں جگہ نہ بنی تو مزید چھانٹی کے لیے سب نے اپنا امتحان نمبر تین رائج کیا۔ میٹرک انٹر کے پوزیشن ہولڈر کہیں نہ رہے۔ آخری پسندیدہ چھانٹی چوتھے امتحان یعنی انٹر ویو میں ہو گی جہاں سفارش، باپ کا عہدہ، سوشل اسٹیٹس وغیرہ ہی دیکھے گئے۔ کیا مجھے فخر کرنا چاہئے کہ اس سال میری دو پوتیاں ان چاروں مرحلوں سے کامراں گذریں یعنی اب وہ بھی ایم اے اور پی ایچ ڈی کی دوڑ میں سینکڑوں کے ساتھ ہیں۔

(غیر طبی) ڈاکٹر نام کے ساتھ نہ لگانے والے یہاں کم ہی نظر آتے ہیں یونیورسٹی چھوڑیں جہاں یہ ڈگریاں تیار ہوتی ہیں۔ ہر کالج میں ان کی بھرمار ہے۔ لنکا میں جو ہے سو باون گز کا۔ اس محاورے کا مطلب اب سمجھ میں آیا۔ ڈاکٹریٹ لینے کا آسان نسخہ عام کرنے والے تو ڈاکٹر عامر لیاقت ہی تھے۔ پھر وکیل سپریم کورٹ بابر اعوان کی ڈگری رسوا ہوئی، نوبت بہ ایں جا رسید کہ ایک انٹر پاس با ہمت نوجواں نے پی ایچ ڈی کی دکان کھول لی اور ایکسپورٹ کرنے لگا۔ یہ ایسا منافع بخش دھندا بنا کہ اس نے اپنا ٹی وی چینل کھول لیا اور ہر مقبول اینکر کو بھاری معاوضے پر خرید لیا۔ یہ چینل دیکھنا کینٹ ایریا میں لازم قرار دیا گیا، سنا ہے ‘جیو کو دکھانا بھی جرم قرار پایا۔

کیا آپ اب بھی نہیں سمجھے کہ اس پی ایچ ڈی بزنس کی آبرو خاک میں ملانے والی قوت کون سی تھی جس کو تعلیم کے عما اور معیاری ہونے میں خطرہ محسوس ہوتا تھا۔ ان کو ایک پڑھی لکھی جاہل جنریشن سوٹ کرتی تھی۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: