سرہانے میر كے ۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد جاوید 4

0
  • 21
    Shares

O

مجلس میں رات ایك تیرے پرتوے بغیر
كیا شمع كیا پتنگ ہر اک بے حضور تھا

اس شعر كے معنی سے لے كر تصویر تك ’رات‘ كے لفظ میں سمائی ہوئی ہے۔ حالانكہ ’مجلس‘، ’تو‘، ’پرتو‘، ’شمع‘، ’پتنگ‘، ’بے حضور‘۔ ۔ ۔ یہ تمام الفاظ ’رات‘ كے مقابلے میں كہیں زیادہ معانی ركھتے ہیں لیكن اس كے با وجود ان سب لفظوں كو ’رات‘ نے جیسے تھام ركھا ہے، اپنے اندر سمیٹ ركھا ہے اور انہیں ایك مجموعی معنویت میں كھپ جانے والے كرداروں كی حیثیت دے ركھی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ شعر پھلوں سے لدے ہوئے ایك درخت كی طرح ہے جس كا بیج ’رات‘ ہے۔ ’رات‘ كو مستقل حوالہ نہ بنایا جائے تو اس شعر كے اور اس كے تمام لفظوں كے معانی اور كیفیات كو وہ پس منظر فراہم نہیں ہوتا یا وہ locale حاصل نہیں ہوتا جو معانی اور كیفیات كو قابلِ ادراك اور لائقِ احساس بناتا ہے۔ ’رات‘ ایك گھر ہے اور اس شعر كے تمام كلمات اس كے باسی ہیں، ’رات‘canvas ہے اور یہ شعر اس پر بننے والی تصویر ہے۔ یہ ’رات‘ عدم كی رات ہے، لیكن یہ كوئی اكہرا عدم نہیں ہے۔ یہ اس لفظ كی طرح ہے جس كے بے شمار contents میں ایك وجود بھی ہے۔ معدومیت كے اس سمندر میں وجود كے بھی كچھ ٹاپو ہیں جو ڈوبتے ابھرتے رہتے ہیں۔ اس پس منظر میں اب دوسرے الفاظ كو بھی دیكھ لیتے ہیں۔ ’مجلس‘ یہاں ایك عام مجلس بھی ہے اور پوری كائنات بھی۔ میر ہی كا ایك شعر ہے:

مجلسِ آفاق میں پروانہ ساں
میر بھی شام اپنی سحر كر گیا

تو یہ مجلسِ آفاق ہے۔ ’مجلس‘ میں ایك لطیف رعایت بھی ہے، ’مجلس‘ بیٹھنے كی جگہ كو كہتے ہیں اور كائنات كے مجلس ہونے كا مطلب یہ ہے كہ یہاں بیٹھا ہی جا سكتا ہے، پورے قد سے كھڑا نہیں ہوا جا سكتا اور حركتِ وجود سے چلا نہیں جا سكتا۔ ’ایك‘ كا استعمال بھی پرلطف ہے یہ ’صرف‘ كے مفہوم میں بھی ہے اور ’ایك پرتوہ‘ كے معنی میں بھی ہے۔ اس ’ایك‘ سے یہ بھی اشارہ ہوتا ہے كہ محبوب ’واحد‘ ہے۔ ’پرتوہ‘ یعنی ’پرتَو‘۔ یہ لفظ مجھے لغات میں نہ مل سكا تاہم اس میں كوئی شبہ نہیں كہ ’پرتوہ‘ كا مطلب ’پرتَو‘ ہی ہے، بس یہ معلوم نہ ہو سكا كہ یہ ’پرتَو‘ كی تصغیر ہے یا كچھ اور۔ ’پرتوہ‘ كوئی نامانوس لفظ نہیں ہے، اردو كی كئی پرانی كتابوں میں جا بہ جا ملتا ہے ’روشنی‘ اور ’جھلكی‘ كے معنی میں۔ یہ مفہوم ’پرتو‘ كے لفظ میں بھی پائے جاتے ہیں۔ محض ذوقی بنیاد پر كہہ رہا ہوں كہ ’پرتوہ‘ میں ’پرتو‘ كو ایك طرح سے familiarize كر لیا گیا ہے۔ اس پر امالہ ڈال كر یعنی ’پرتوے‘ بنا كر اسے ایسا لسانیاتی سیاق و سباق دے دیا گیا ہے جو اسے ہمارے لیے زیادہ مانوس بنا دیتا ہے۔ ’پرتوے‘ سے ہم ایك ہندی فضا میں پہنچ جاتے ہیں جو آفاقی معنی كو بھی ایك مخصوص كیفیت میں ڈھال دیتی ہے۔ میر كا یہ بھی ایك خاص كمال ہے كہ وہ عربی فارسی الفاظ كو بھی اپنا معاشرتی، لسانیاتی اور نفسیاتی context دیتے ہیں، یعنی آج كی اصطلاح میں وہ لفظ كو re-contextualize كر دیتے ہیں جس سے معنی كی ساخت میں بھی تبدیلی آ جاتی ہے۔ مثلاً اس ’پرتوے‘ ہی كو دیكھ لیں۔ صاف لگتا ہے كہ یہ روشنی ایك ہندوستانی ماحول میں پھیلی ہوئی ہے اور اسے دیكھنے والی آنكھ بھی كسی ہندوستانی ہی كی ہے۔ یہ پھیلی ہوئی روشنی نہیں ہے، كھنڈی ہوئی روشنی ہے۔ ’پرتوے‘ سے محسوس ہوتا ہے جیسے روشنی چیزوں پر لیپی جا رہی ہے۔ اسے اگر ہم ’پرتو‘ كی تصغیر سمجھیں تو اس كا مطلب ہو گا ’ہلكی سی ناتمام جھلك‘ یا ’روشنی كی ایك گزرتی ہوئی كرن‘۔ ویسے ذرا آزاد تخیل سے دیكھیں تو ’پرتوے‘ سے ذہن’چہرے‘ كی طرف بھی منتقل ہوتا ہے۔ یعنی تیرے چہرے كی رونمائی كے بغیر ’مجلس‘ كا یہ حال تھا۔ لیكن خیر یہ تو بس ایك بات ہے۔ اور ہاں، ’بغیر‘ میں بھی ایك لطیف رعایت ہے اسے اگر ’بہ غیر‘ یعنی ’غیر میں‘ یا ’غیر كے ساتھ‘ كے مفہوم میں لیں تو ’پرتوہ‘ محبوب كے جمال كی وہ جھلك ہے جو اس كے غیر میں پائی جائے اور اسے بھی لائقِ دید اور قابلِ محبت بنا دے۔ لیكن ظاہر ہے كہ لفظوں كی نشست یہ مفہوم لینے كی اجازت نہیں دیتی۔ تاہم اجازت نہ ملنےكے باوجود یہ خود رائی پُر لطف ضرور ہے اور اس سے شعر میں بننے والی معنوی اور كیفیاتی فضا میں كسی چیز كا اضافہ بہرحال ہو جاتا ہے۔ ’شمع‘ روایتی معنی ہی میں ہے، یعنی وہ محبوب جس كا وصل عاشق كو فنا كر دیتا ہے۔ اس شعر میں ’شمع‘ كی محبوبیت كو محبوبِ اصلی كے پرتوِ جمال سے مستعار اور اس پر موقوف دكھایا گیا ہے۔ یہ بھی بہرحال ایك رسمی بات ہے۔ اسی طرح ’پتنگ‘ یعنی پتنگا یا پروانہ وہ عاشق ہے جو خود كو محبوب پر وار دیتا ہے۔ لیكن ’شمع‘ اور ’پتنگ‘ اس شعر میں محض دو رسمی كرداروں كی حیثیت سے نہیں آئے، یہ كائناتِ حسن و عشق كا نظام چلانے والی دو قوتیں ہیں۔ ’ہرا ك‘ كا سامنے كا مطلب تو ’شمع‘ اور ’پتنگ‘ ہی ہے، لیكن اس میں ایك كنایہ یہ بھی دریافت كیا جا سكتا ہے كہ ’شمع‘ اور ’پتنگ‘ كے علاوہ بھی ہر اك چیز بے حضور تھی۔ آنكھ بھى بےحضور تھی، ذہن بھی بےحضور تھا اور قلب بھی۔ یعنی معرفت كی آنكھ كو بھی كچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا اور محبت كی آنكھ بھی نابینائی كی لپیٹ میں تھی۔ آپ سمجھے كہ یہاں ظہورِ جمال كو وجود اور شعور كا كفیل اور عاشق اور عارف كا مربی بتایا جا رہا ہے۔ یہاں تك اتنا تو محسوس ہو گیا ہو گا كہ اس شعر میں ایك حرف بھی تہہ داری كے وصف سے خالی نہیں ہے۔ ہر لفظ اپنے رسمی مفہومی اور كیفیاتی حدود كو توڑتا ہوا دكھائی دیتا ہے۔ یہ چیز میر كے سوا كسی اردو شاعر میں اتنے عموم كے ساتھ موجود نہیں ہے كہ لفظ كو رسمی بندشوں سے آزاد كروا كر اس كے معطل امكانات كو عمل میں لانے كی راہ پیدا كر لی جائے۔ اب آتے ہیں ’بےحضور‘ كی طرف۔ یہ ذرا پیچیدہ كلمہ ہے، اس كے مفاہیم كو محض شعری اصطلاح كے طور پر لینے سے نہیں سمجھا جا سكتا۔ اس كا تقریباً سارا سیاق و سباق عارفانہ اور متصوفانہ ہے۔ اسے ٹھیك سے سمجھنے كے لیے تصوف كی عشقی اور عرفانی روایت میں جھانكنا پڑے گا۔ لیكن اس سے پہلے ہم اس كے لغوی مفاہیم كو دیكھے لیتے ہیں تا كہ اس كے حقیقی معانی تك پہنچنے كا ایك راستہ نكل آئے۔ بے حضور كے دو مفہوم ہیں: ایك تو ’بےنمود‘ یعنی اپنے اظہار سے محروم، اور دوسرا ’نابینا‘ یعنی جس پر كچھ ظاہر نہ ہو۔ گویا ’بےحضوری‘ وجودی بھی ہے اور شعوری بھی۔ وجود شعور سے عاری ہے اور شعور وجود سے منقطع۔ ’بے حضور‘ كا ایك تیسرا مطلب بھی ہے جو لغوی قاعدے كے خلاف نہیں ہے۔ حضور كے لیے ’مجلس‘ لازم ہے لہذا ’بے حضور‘ وہ ہو گا جو ’مجلس‘ میں رہنے كی شرط پوری نہیں كرتا۔ یعنی حسن و عشق كی ’مجلس‘ میں رہنے كا ایك قانون ’شمع‘ كے لیے ہے اور ایك ’پتنگ‘ كے لیے۔ صورتِ حال یہ ہے كہ دونوں ہی اس قانون كی تعمیل سے قاصر ہیں، یعنی ’بےحضور‘ ہیں۔ یوں تو ’بےحضور‘ كا مطلب ’تنگ دل‘ اور ’بجھا ہوا‘ ہوتا ہے لیكن اس كی گہرائی اور وسعت كو سمجھنے كے لیے یہ معلوم ہونا چاہیے كہ وہ كون سا دل ہے جو تنگی كا شكار ہے اور وہ كون سی آگ ہے جو بجھی ہوئی ہے۔ دل حقائق كا گھر ہے اسے صورتوں كے پنجرے میں محبوس كر دیا جائے تو یہی اس كی تنگی ہے، دل حضور كا مسكن ہے اسے اگر ایك لایعنی غیاب میں جھونك دیا جائے تو اس كا جو حال ہو گا وہ تنگی كہلائے گا۔ دل وہ آنكھ ہے جو اپنی بینائی سے بڑا منظر دیكھنے كی كوشش كرتی ہے، اس كی صلاحیتِ دید كو چھوٹے چھوٹے مناظر میں صرف ہونا پڑے تو یہی اس كی تنگی كا سامان ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور اس كی افسردگی بھی جیسے آتشِ طور كے بجھ جانے كا حال ہے۔ اچھا، ابھی خیال آیا كہ اگر ہم ’حضور‘ كے بڑے بڑے معانی كو اكٹھا كر كے دیكھیں تو ’بے حضور‘ كا مجموعی مطلب قدرے گرفت میں آ سكتا ہے۔ تو ’حضور‘کے بڑے بڑے مطالب یہ ہیں: حاضر ہونا، ظاہر ہونا، نزدیكی، كسی بڑی ہستی كی مجلس، علم و معرفت، آمنے سامنے ہونا، دیكھنا اور خود دكھائی دینا وغیرہ۔ اس اصطلاح كا تصوف میں جو مطلب ہے، وہ ’ظہور‘و ’وجود‘ ہے۔ یہاں وجود اپنے عام مفہوم میں بھی ہے اور پا لینے كے معنی میں بھی ہے۔ تو اب شعر میں ’بےحضور‘ كا مجموعی مفہوم یہ ہوا كہ ’شمع‘ ہو یا ’پتنگ‘، دونوں بلكہ اس ’مجلس‘ كی ہر شے بے بود اور بےنمود تھی۔ یہ بے حقیقت صورتوں كے علاوہ كچھ نہیں رہ گئی تھی اور حسن و عشق جن پر كارخانۂ وجود چل رہا ہے، بالكل معطل اور ماؤف ہو كر رہ گئے تھے۔

تو اب شعر كا پہلا مطلب یہ ہوا كہ مجلس سے محبوب كے غیر حاضر ہونے كی وجہ سے، بلكہ زیادہ صحیح لفظوں میں كہا جائے تو مجلسِ حسن و عشق میں ایك خاص محبوب موجود نہ تھا، جس كی وجہ سے اس ’مجلس‘ میں حسن كی نمائندگی اور عشق كی ترجمانی كرنے والے دونوں كردار، یعنی ’شمع‘ اور ’پتنگ‘، محبوب اور عاشق كی علامتیں بننے سے بالكل قاصر تھے۔ ’مجلس‘ كی اس ویرانی سے معلوم ہوا كہ ’شمع‘ كی محبوبیت اور پتنگے كا عشق دونوں اس محبوب كے جمال سے ماخوذ ہیں۔ اس كے جمال كی ایك ہلكی سے جھلك ہی دونوں كی كُل پونجی ہے۔ یہ تو فوری مطلب ہوا لیكن یہ شعر جس روایت میں كہا گیا ہے، وہاں اس كی اتنی سی شرح كافی نہیں۔ اس شعر كا معیاری مطلب یہ ہو گا كہ محبوب تو بس ایك ہے، حقیقی جمال اُسی كو زیبا ہے۔ حسن وعشق كا پورا نظام اس اظہارِ جمال كا نتیجہ ہے، اس اظہار كا نتیجہ جس میں خفا و غیاب گندھا ہوا ہے۔ یہاں جو بھی حسین ہے، وہ اس كے جمال كی ایك جھلك سے حسین ہے، یہاں جو بھی محبوب، وہ اس كی محبوبیت كے اثر سے محبوب ہے، اور یہاں جو بھی عاشق ہے، وہ اسی كے ظہور و خفا پر عاشق ہے۔ وہ محبوبِ اصلی، وہ محبوبِ واحداگر اپنے جزوی ظہور كو روك لے تو یہاں نہ كوئی محبوب رہے گا نہ كوئی عاشق۔ یہ ہوا شعر كا پورا مطلب۔ اس شعر سے ایك تخیل اور تأثر سا بھی پیدا ہوتا ہے جسے میرا خیال ہے بیان كرنا مفید ہو گا۔ اس شعر میں یوں لگتا ہے كہ جیسے اس عاشق کی ترجمانی كی گئی ہے جو محبوب كے ظہور و خفا سے اتنا مانوس ہے كہ خود بھی غیاب كے ساتھ حاضر ہونا اور حضور كے ساتھ غائب رہنا سیكھ گیا ہے۔ اس شعر میں ذرا غور كیجیے كہ متكلم حاضر بھی ہے اور غائب بھى۔ میں یہ بات اس پہلو سے كہہ رہا ہوں۔ یہ عاشق جس دنیا میں رہتا ہے وہ ظہورِ محبوب كی اور حضورِ جمال كی ’مجلس‘ ہے۔ اس ’مجلس‘ میں محبوب پوری پردہ نشینی كے ساتھ اپنا اظہار كرتا ہے۔ یعنی یہاں اُس خورشید كی روشنی پھیلی رہتی ہے جو خود غائب ہے۔ اور یہ غیاب اسے زیادہ شدت اور قطعیت سے اس دنیا یعنی اس ’مجلس‘ میں ظاہر ركھتا ہے۔ اس مبنی بر خفا ظہور كی تاثیر سے اس دنیا كے باسی موجود ہونا سیكھتے ہیں اور اپنا اپنا وجودی كردار ادا كرنے كی صلاحیت حاصل كرتے ہیں۔ یعنی یہاں ہر چیز اپنی پہچان اس محبوب كے ساتھ اپنی نسبت كی بنیاد پر اخذ كرتی ہے۔ وہ نسبت جو كثرت كے تمام اجزا كو باہم مربوط اور واحد الاصل بناتی ہے۔ اس ’مجلس‘ یعنی بزمِ ہستی كا پورا نظام جمال اور كششِ جمال، یعنی حسن اور عشق پر چلتا ہے۔ ’شمع‘ حسن كا مظہر ہے اور ’پتنگا‘ عشق كا۔ ’شمع‘ یاد دلاتی رہتی ہے كہ محبوب واحد ہے اور ’پتنگا‘ یہ نہیں بھولنے دیتا كہ عشق بھی كامل ہو كر وحدت اختیار كر لیتا ہے۔ اسی طرح اس ’مجلس‘، اس تربیت گاہِ وجود كا ایك قاعدہ یہ بھی ہے كہ یہاں آمادۂ فنا ہوئے بغیر موجود ہونے كا عمل شروع بھی نہیں كیا جا سكتا۔ ’شمع‘ اور’پروانہ‘ اس اصول كے ہی كامل مظاہر ہیں۔ محبوب كی جو نسبت ’شمع‘ كو محبوبیت اور ’پتنگے‘ كو عشق ودیعت كرتی ہے، وہی نسبت ان دونوں كو آدابِ فنا كی بجا آوری كا نمونہ بھی بناتی ہے۔ ’شمع‘ یہاں محبوب بن كر فنا كے مراحل طے كر كے اپنے وجود كو مستند كر لیتی ہے اور پروانہ عاشق كی ذمہ داری ادا كرتے ہوئے اسی فنا كو متاعِ ہستی بنا كر دكھاتا ہے۔ تو اس ’مجلس‘ میں، اس دنیا میں ایك كائناتی ’رات‘ گھیراؤ كیے ركھتی ہے، یہ ’مجلس‘ دن میں نہیں ہوتی كیونكہ دن خود مخفی سورج كا اتنا براہِ راست مظہر ہے كہ اُس میں كسی اور مظہر كی گنجائش نہیں رہ جاتی۔ یہ ’رات‘ محبوب كا پردہ ہے جو عاشق كو بھی غیاب كے آداب تعلیم كرتا ہے۔ یعنی عاشق كے لیے غیب كو پُركشش بنا كر اس میں بھی غیاب كا ایك عنصر داخل كر دیتا ہے جو فنا آمادگی كا محرك ہے۔ اس ’مجلس‘ میں كل ایك عجیب بات ہوئی كہ محبوب نے اپنا سلسلۂ ظہور روك لیا۔ اس تعطل نے ساری ’مجلس‘ پر ایك سكتہ مسلط كر دیا اور اس ’رات‘ كو جو ’مجلس‘ كے حاشیوں تك رہتی تھی، اندر آنے اور ’مجلس‘ پر چھا جانے كا راستہ مل گیا۔ بے ظہوری كی اس آن میں خود یہ ’رات‘ بھی اپنا كردار بھول گئی اور پردۂ غیاب ہونے كی بجائے محض اندھیروں كی طغیانی بن كر رہ گئی۔ ’رات‘، ’شمع‘ اور ’پتنگے‘ میں ظہورِ محبوب كا سلسلہ ركنے سے جو بے حقیقتی سرایت كر گئی، اُس نے اس مجلسِ ہستی كو معدومیت كے بھنور كی لپیٹ میں دے دیا۔ تو اب آپ نے دیكھا كہ اس شعر میں ایك عظیم الشان معرفت كو گویا تصویر كر دیا گیا ہے۔ وہ معرفت یہ ہے كہ حضور ہی وجود ہے اور ’بے حضوری‘، عدم۔

اس شعر كی تحریك سے یہ تخیل اور تأثر پیدا ہوتا ہے كہ كائنات میں ہستی رات ہے اور آخرت میں دن ہے۔ ہم ایك شب و روزِ وجود گزارنے كے لیے ہیں۔ رات یہاں گزارنی ہے، دن وہاں گزارنا ہے۔ دنیا میں رات یا تو عارفانہ روشنی كے ساتھ طے ہو سكتی ہے یا پھر عاشقانہ طاقت سے اس كی گہرائیوں میں اترا جا سكتا ہے۔ اس رات میں عارف بن كر رہنا بھی محبوب كے ظہور پر موقوف ہے اور یہاں عاشق بن كر رہنا بھی محبوب كے غیاب كے شعور پر منحصر ہے۔ یہ دنیا كارخانۂ صورت ہے۔ صورتوں میں گہرائی محبوب كے ظہور سے پیدا ہو رہی ہے ورنہ یہ صورتیں تو منجمد نقوش ہیں جن كا آپس میں ایك دوسرے سے بھی كوئی تعلق نہیں ہے۔ محبوب كے ظہور میں رہے بغیر اور اُس كے خفا كی كشش كو دل میں موجزن ركھے بغیر، ’بے حضوری‘ ہی تقدیرِ وجود ہے۔ ’بےحضوری‘ كی ایك كیفیت یہ ہے كہ دیكھنے كا عمل، دیكھنے كی ضرورت پوری نہ كر سكے۔ دنیا كو مظہرِ جمال سے منقظع كر لینے كے نتیجے میں یہی ہوتا ہے كہ یہاں دیكھنا، دیكھنے كی ضرورت پوری نہیں كر سكتاا ور اس دیكھنے میں خود كو دیكھنا بھی شامل ہے۔

O

 منعم كے پاس قاقم و سنجاب تھا تو كیا
اُس رند كی بھی رات گزر گئی جو عور تھا

اس شعر میں كچھ لفظ قدرے مشكل ہیں كیونكہ شعر و ادب میں بھی ان لفظوں كا استعمال اب نہ ہونے كے برابر رہ گیا ہے۔ ‘منعم’، ‘قاقم’، ‘سنجاب’، اور ‘عور’۔ بلكہ ‘رند’ كو بھی ذرا مشكل لفظ ہی سمجھنا چاہییے۔ تو پہلے ان الفاظ كو كھول لیتے ہیں پھر شعر كی شرح كریں گے۔

‘منعم’، دولت مند اور مالدار آدمی، ‘قاقم’، مخمل جیسا دبیز ریشمی كپڑا جسے كمبل كی طرح اوڑھا جا سكتا ہے، ‘سنجاب’، كمخاب كی طرح كا ایك چمكیلا اور نقش و نگار والا كپڑا جسے بچھایا جا سكتا ہے، ‘رند’، مےخوار، آزاد مشرب، فقیر، یہاں مراد ہے بے سر و سامان اور ‘عور’، جس كے پاس كوئی كپڑا نہ ہو۔

شعر یہ ہے كہ یہ دنیا اور زندگی ایك رات كی ہے جو بھاری ساز و سامان كے ساتھ بھی گزر جاتی ہے اور بے سر و سامانی كی حالت میں بھی بیت جاتی ہے۔ یہ رات جب تك بیتی نہ تھی تو مفلس امیر كو رشك سے دیكھتا تھا اور امیر مفلس كو حقارت سے۔ رات گزر گئی تو پتا چلا كہ امیر بھی احمق تھا اور مفلس بھی نادان تھا۔ امیر كی نظر اپنے ‘قاقم’ و ‘سمجاب’ پر تھی اور مفلس كی نگاہ اپنی بے سر و سامانی پر، دونوں رات كی معرفت اور تجربے سے محروم رہے، یعنی دنیا اور زندگی كے حقائق سے بے خبر رہے۔ مزے كی بات یہ ہے كہ بظاہر شعر میں مفلس كی بے وقوفی نہیں بتائی گئی لیكن ذرا غور كریں تو ‘رند’ كا لفظ لا كر میر نے مفلس كی نادانی كی طرف ایك بلیغ اشارہ كر دیا ہےیعنی جس مفلس كو رندی كی حالت نصیب نہ تھی وہ اس رات میں ڈرتا اور كڑھتا رہا، لیكن جسے یہ حالت حاصل تھی اس نے یہ رات ایك بے خودی كی رَو میں گزار دی۔ لیكن اگر ‘رند’ كے لفظ كو ایك اصطلاح نہ سمجھا جائے اور اس كے روایتی معانی كو یہاں وارد نہ كیا جائے تو پھر شعر كا مضمون بالكل سادہ ہے۔ جاڑے كی لمبی ‘رات’ ہے، یہ ‘رات’ گزر ہی جاتی ہے چاہے اسے گزارنے كا سامان ہو یا نہ ہو۔ آدمی كو چاہیے كہ وہ صبح پر نظر ركھے، ‘رات’ گزارنے كی زیادہ فكر میں نہ پڑے، یہ تو ویسے ہی گزر جائے گی۔ اگر ہم اس شعر كو اسی مفہوم تك محدود ركھیں تو اس سے بس ایك اخلاقی سبق حاصل ہوتا ہے كہ راستہ چاہے ہموار ہو یا ناہموار، كٹ ہی جاتا ہے۔ عقلمند آدمی كو راستے كی ہمواری میں منہمك رہنے یا ناہمواری پر كڑھنے كی بجائے منزل پر نظر ركھنی چاہیے جو بہرحال سب مسافروں كے لیے ایك ہی ہے۔ اگر شعر كا مطلب اتنا ہی ہے تو پھر ‘رند’ بھی كوئی صوفیانہ اصطلاح نہیں ہے بلكہ محض ایك عام سا كلمہ ہے جو شراب نوش، فقیر اور مفلس كے معنی استعمال كیا جاتا ہے۔ اب اس شعر میں داد كے قابل صرف ایك چیز رہ جاتی ہے۔ اور وہ ہے ‘عُور’ كا استعمال۔ اتنا نادر، غیرمعروف اور نامانوس لفظ جس سہولت كے ساتھ برتا گیا ہے وہ حیران كُن ہے۔ قاری اس لفظ كو نہ جاننے كے باوجود روانی سے پڑھ جاتا ہے اور یہ احساس بعد میں ہوتا ہے كہ میں یہ لفظ پہلی مرتبہ پڑھ رہا ہوں اور ظاہر ہے كہ اس كا مطلب بھی میرے علم میں نہیں ہے۔ یعنی ‘عُور’ پر ذہن تو اٹكتا ہے مگر زبان نہیں۔ یہ بڑا كمال ہے۔

اس شعر كا جو فوری مفہوم ابھی ہم نے سمجھا ہے، اسی میں رہتے ہوئے اس كے اندر دنیا اور انسان یا تاریخ اور آدمی كے بارے میں ایك بصیرت اور ایك گہرے احساس كو بوجھا جا سكتا ہے۔ دنیا یا تاریخ كے زاویے سے دیكھا جائے تو انسان ایك لگی بندھی حركت كے نظام میں رہتا ہے۔ وہ یہاں فاعلی position اختیار كر لے یا انفعالی حیثیت قبول كیے ركھے، دونوں كا نتیجہ ایك ہی ہے۔ اور جس چیز كو ہم گہرے احساس سے تعبیر كر رہے ہیں وہ تاریخ اور آدمی كے جبری تعلق كو انسانی زاویے سے دیكھنے سے گرفت میں آتا ہے۔ یعنی اس شعر میں مخفی بصیرت تو تاریخ اور دنیا كو حوالہ بنا كر سمجھ میں آتی ہے اور اس میں پوشیدہ احساس انسان كو حوالہ بنا كر دسترس میں آتا ہے۔ وہ احساس اپنی پوری بناوٹ میں ایك جدلیاتی احساس ہے جس میں دو چیزیں بیك وقت لاتعلقی اور تصادم كا احاطہ كیے ہوئے ہیں، دونوں كو اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ ‘منعم’ اور ‘رند’ میں تصادم كی حالت ہے اور ‘تو كیا’ كے ٹكڑے سے اس میں لاتعلقی اور بےنیازی كا عنصر بھی داخل كر دیا گیا ہے۔ گویا ایك گہری المناكی اور ایك لاتعلق بےنیازی جیسے ایك دوسرے كے متوازی چلے جارہی ہیں۔ یہ اپنی جگہ دو مستقل احساسات بھی ہیں اور ایك نامعلوم اور ناموسوم احساس كا حصہ بھی ہیں۔ وہ نامعلوم احساس جسے كوئی نام نہیں دیا جا سكتا، اس شعر میں كارفرما دو متوازی یا متضاد كیفیات كو ایك محسوساتی بلكہ احوالی وحدت فراہم كر دیتا ہے۔ بلكہ وحدت كی بجائے یہ كہنا چاہیے كہ وہ احساس ان دونوں كیفیتوں كے لیے كُل كا درجہ ركھتا ہے جس سے منصوب ہو كر یہ دونوں اپنی تكمیل كے ایك مشترك نقطے تك پہنچ جاتے ہیں۔ اب بات ٹھیك ہو گئی۔

اس شعر میں ‘رند’ كا كردار مركزی ہے۔ اس كو ٹھیك سے سمجھنا ضروری ہے۔ تصوف میں ‘رند’ مستقل احوالِ حضور میں رہنے والے اس مجزوب كو كہتے ہیں جس كے لیے اللہ كے سوا ہر شے غائب بلكہ معدوم ہے، جس كے پاس اللہ كے سوا كچھ نہیں، حتی كہ وہ خود بھی نہیں۔ لیكن ظاہر ہے كہ میر كا متصوفانہ روایت سے كوئی قابلِ ذكر تعلق نہیں ہے لہذا یہاں ‘رند’ كے صوفیانہ مفاہیم كو نظر انداز كر دینا چاہیے۔ ‘رند’ كا اصلی مطلب ہے شراب نوش جو ہر وقت میخانے میں ہوتا ہے اور نشے میں رہتا ہے۔ میخواری اور میخانہ نشیینی كی وجہ سے ظاہر ہے كہ مفلس و نادار بھی ہوتا ہے اور میخوانے كے باہر دنیا میں كیا ہو رہا ہے، اس بےخبر اور لاتعلق ہوتا ہے۔ تو اگر ‘رند’ كو اس كے اصلی مفہوم كے ساتھ دیكھا جائے تو شعر میں یہ كہا گیا ہے كہ ‘منعم’ ‘رات’ كی خبر ركھتا تھا، اس لیے اس نے ‘رات’ گزارنے كا سامان بھی كر ركھا تھا۔ اور ادھر ‘رند’ ‘رات’ سے بےخبر تھا لہذا اسے كسی ساز و برگ كر ضرورت ہی نہ تھی۔ یا اس طرح بھی كہہ سكتے ہیں كہ ‘منعم’ كی دولتمندی اس وجہ سے ہے كہ وہ دنیا میں رہتا ہے جبكہ ‘رند’ كی تہی دستی اس سبب سے ہے كہ وہ دنیا میں نہیں رہتا، اسے مال و دولت كی ضرورت ہی نہیں ہے۔ غرض اس طرح كے كئی چھوٹے چھوٹے پہلو نكالے جا سكتے ہیں جو اس شعر میں ‘منعم’ اور ‘رند’ كے كرداروں كو ذرا باریكی سے سمجھنے میں مدد دے سكتے ہیں۔ میں بھی شعر كا ایك ایسا پہلو اجاگر كرنا چاہتا ہوں جس سے شعر كی معنویت میں ایك آدھ پرت كا اضافہ ہو سكتا ہے اور اس كی پُرلطفی بھی بڑھ سكتی ہے۔ اس شعر میں ‘منعم’ اور ‘رند’ میں جو تضاد كی نسبت دكھائی گئی ہے، اس میں ایك رمز یہ بھی ہے كہ ‘منعم’ مال مست ہوتا ہے اور ‘رند’ حال مست۔ ایك اپنے كمتر سے مغلوب ہے اور دوسرا اپنے سے برتر كا مفتوح، ایك كا ہوش بھی بےخبری ہے اور دوسرے كی بےہوشی بھی ہوشمندی۔ ‘منعم’ اور ‘رند’ میں پائے جانے والے تضاد كے ان اسباب كو دیكھنے سے شعر كی معنویت بھی بڑھ جاتی ہے اور كیفیت بھی۔ یہاں تك پہنچ كر میں آخر میں اتنا ہی كہوں گا كہ بہرصورت گزر جانے والی یہ ‘رات’ ‘منعم’ كے لیے وجود كی’ رات’ ہے جو عدم پر ختم ہوتی ہے اور ‘رند’ كے لیے یہ عدم كی ‘رات ‘ہے جو وجود پر تمام ہوتی ہے۔

جاری ہے۔

اس تحریر کا پچھلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے

اس تحریر کا اگلا اور آخری حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: