بیگمات کی مختصر تاریخ (1) ——- ڈاکٹر مریم عرفان

0
  • 60
    Shares

جو عورت اپنے مرد کو پاؤں پاؤں چلنا سکھا کر یہ کہہ دے کہ تم کچھ نہیں سیکھ سکتے، اسے بیوی کہتے ہیں۔ بیویوں کی بس دو ہی قسمیں ہیں، ایک ماں جیسی بیوی اور دوسری جسٹ بیوی۔ باقی اقسام انہی دو میں سے اکتساب کی گئی ہیں۔ بیویوں کی مختصر مگر جامع تاریخ پڑھنے سے پہلے آپ کو عورت کی تعریف و توضیح سمجھنا ہو گی کیوں کہ ہر مفروضہ اپنے عملی اظہار کا محتاج ہوتا ہے۔ ذیل میں جن بیویوں کے مرقعے پیش کیے گئے ہیں وہ ازل سے ابد تک دستیاب رہیں گی۔

پھوہڑ بیویاں:
پھوہڑ بیویاں مولوی نذیر احمد کے کردار مزاج دار بہو جیسی ہوتی ہیں۔ ان کی پہلی ضرورت پارلر اور دوسری بھی کم و بیش یہی ہوتی ہے، اب رہی سہی کسر فیس بک اور وٹس ایپ نے پوری کردی ہے۔ شادی سے پہلے یہ سونا پہننے اور بستر پر سونے کو ہی ترجیح دیتی ہیں۔ شادی کے بعد بھی ان کے معمولات میں کمی نہیں آتی۔ انھیں گندگی میں بھی آسودگی سی محسوس ہوتی ہے، یہ زیادہ تر دن میں خواب دیکھتی ہیں۔ شادی سے پہلے انھیں اپنی ماؤں سے ڈر نہیں لگتا اور شادی کے بعد ساس کا کھٹکا نہیں رہتا۔ ان کے کچن اور لیٹرینوں کا وزٹ کرنے کے لیے حوصلہ درکار ہے۔ انھیں بیٹھے بٹھائے ہر کام کروانے کی عادت نہیں بلکہ لت لگ جاتی ہے اور اگر ان کی اس عادت کے بارے میں خاندان بھر کو پتہ چل جائے تو لوگ ان کے سائے سے بھی کتراتے ہیں۔ ان کے مشہور جملے کچھ یوں ہیں: ذرا پانی تو پلا دو، یہ جو فرش پر شاپر گرا ہے مجھے دینا، منے کے ابا آ گئے کمرے سے میرا دوپٹہ تو لا دو۔ حکم دینا ان کی گھٹی میں شامل ہے، خاص طور پر جب یہ غسل خانے کا رخ کریں تو نکلنے سے پہلے انھیں یاد آتا ہے کہ تولیہ تو باہر ہی رہ گیا۔ قمیض بھی غلطی سے امی کی اٹھا لائی ہیں۔ صابن کی ٹکیہ تو واش بیسن پر سے پکڑی ہی نہیں۔ پھوہڑ بیویوں کے شوہر صابرین میں شمار ہوتے ہیں کیونکہ گھر واپس آ کر انھیں ماں کی نظروں سے چھپ کر بیوی کے بہت سے کام کرنا ہوتے ہیں۔ کچن کی شیلفیں صاف کرنا پڑتی ہیں، دھلے ہوئے کپڑوں میں سے گندے کپڑے ڈھونڈ کر الگ کرنا ہوتے ہیں۔ یہ اپنی زندگی کا واحد جوا کھیلتے ہیں اور جمع پونجی کے ساتھ خود کو بھی ہار دیتے ہیں۔

لڑاکا بیویاں:
سینتالیس ایم ایم کی رائفل سے نکلنے والی گولی سے زیادہ تیز زبان کی مالک یہ لڑاکا بیویاں بمبار طیارے کی طرح ہوتی ہیں۔ شادی سے قبل ان کی چاقو جیسی زبانیں باندھ دی جاتی ہیں اور فیتہ کٹنے کی رسم شادی کے بعد ہوتی ہے۔ تب کہیں جا کر سسرال والوں کو خبر ہوتی ہے کہ ان کا شہر بھنبھور لٹ گیا ہے۔ انھیں زبان درازی میں ملکہ حاصل ہوتا ہے، ضرورت پڑنے پر یہ ہاتھ بھی چلا لیتی ہیں۔ ان کی زبان اور ہاتھ سے دئیے گئے زخم تازہ رہتے ہیں۔

ہماری معلومات کے مطابق ایسی ہی ایک بیوی اپنے مجازی خدا کی خدمت پر مامو رہے، جو اپنے لنگڑے پن کے باوجود کمال مہارت سے اپنی نشست زمین پر رکھتے ہوئے چوکی اس کے منہ پر رسید کرتی ہے۔ نشانہ ہمیشہ ہی شوہرکے منہ پر نشان چھوڑ جاتا ہے۔ یہ مرد مجاہد بیگمات شادی کے فوراً بعد اپنا کچن الگ کرتی ہیں اور پھر بندہ تنہا کر کے بلی کی طرح اپنے شکار کیے گئے چوہے کے ساتھ کھیلتی ہیں۔ اگر بھولے بھٹکے کوئی سسرالی ان کے گھر آ جائے تو یہ کھانا بنانے کے بجائے منہ بنا لیتی ہیں۔ ایسی بیویاں ہمیشہ جوائنٹ فیملیوں میں پرورش پاتی ہیں وہاں ان کے لیے کھل کھیلنے کے مواقع وافر ہوتے ہیں۔ تائیوں، چاچیوں، پھوپھیوں اور مامیوں سے لڑنے کی روزانہ مشق انھیں نت نئے گر سکھاتی ہے۔ یہ اپنی ماؤں کے لیے جاسوسی کے فرائض بھی انجام دیتی ہیں، موقع واردات پر کھیل کود کے بہانے یہ اپنے کان کھلے رکھتی ہیں۔ لگائی بجھائی ان کی اضافی صفت ہے اپنا ٹارگٹ پانے کے لیے ان کا پسندیدہ جملہ ’’لگی شرط‘‘ ہوتا ہے۔ کمزور دل حضرات ہی ان کے ہمسفر بنتے ہیں جنہیں کبھی اس بات کا احساس ہو ہی نہیں پاتا کہ وہ کسی بھی مقام پر بیوی کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ ان کی زبانوں کے آگے کھدی خندقیں ہمیشہ سامنے والوں کو ہی لقمہ اجل بناتی ہیں۔ جہاں گالی گلوچ اور مار کٹائی سے کام نہ چلے تو یہ بددعائیہ انداز تخاطب بھی اپنا لیتی ہیں۔ اب اللہ تو سب کا ہے ورنہ اگر طالب علموں اور بیویوں کی بد دعائیں قبول ہونے لگیں پھر دنیا تو گئی ناکام سے۔ شوہر کی تنخواہ سے لے کر اخراجات کے تخمینے تک ان کے ذہن میں لگے کیلکولیٹر پر ٹک ٹک ہوتی رہتی ہے۔ انھیں بندے نہیں بساتے بلکہ یہ بندوں کو بسانے کا کریڈٹ لیتی ہیں۔ بچپن میں سنے گئے اس جملے پر ان کی آئندہ زندگی کا دارومدار ہوتا ہے کہ بیٹی ڈولی میں جا رہی ہو وہاں سے اب جنازہ ہی اٹھے۔ جنازہ کس کا اٹھنا ہے یہ واضع نہیں کیا جاتا لہٰذا یہ بیویاں خود پرموت حرام قرار دے دیتی ہیں۔

یہ شوہروں کو خوابوں میں بھی تنہا نہیں چھوڑتیں اور اگر ان کی مرضی کے بغیر وہ کوئی کام کر لے تو پھر چراغوں میں روشنی نہیں رہتی۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ اگر لڑاکا بیوی کے چھ سات بھائی ہوں تو شوہر بس خدا کے سہارے ہی زندہ رہتا ہے۔ ایسی بیویاں ساری عمر سسرال سے نالاں رہتی ہیں اور بچوں کو ان کے پاس جانے سے بھی روکتی ہیں۔ جیٹھوں، دیوروں اور نندوں کے بچوں سے رشتے داری کرنا گناہ کبیرہ سمجھتی ہیں۔ سسرال ان کے لیے سسرائیل ہوتا ہے اور یہ جہاد زندگانی میں مردوں کی شمشیریں توڑ دیتی ہیں۔ یہ زبان دراز بیویاں عمر بھر اسی ڈائیلاگ کے سہارے جیتی ہیں کہ اگر میں نہ ہوتی تو تم کس کام کے تھے۔ بے کس شوہر دل ہی دل میں جواب دیتے ہیں کہ کاش تو نہ ہی ہوتی۔ ۔ ۔ ۔ گویا یہ اپنے شوہروں کے ساتھ اس مصرعے والاحال کرتی ہیں :

 لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام

ڈرامے باز بیویاں:
بظاہر بیویوں کی یہ قسم بہت بے ضرر سی لگتی ہے لیکن ہوتی بہت خطرناک ہے۔ اردو کلاسیکی شاعری کی طرح بھید بھاؤ، ناز و ادا، لٹک جھٹک اور ہائے اللہ کہنا سامنے والے کے دل میں تیر کی طرح جا کر لگتا ہے۔ یہ چاہے کالی کلوٹی، قد میں چھوٹی، جسامت میں موٹی اور پھینی ناک والی ہوں لیکن شوہر انھیں فواد خان جیسا ہی چاہیے۔ صبح خود کو ایشوریہ سمجھتی ہیں، دوپہر میں ریکھا بن جاتی ہیں اور رات کو شمیم آراء کی طرح آہیں بھرتی ہیں۔ کم پڑھی لکھی بیویوں کے ڈرامے دیسی ٹائپ ہوتے ہیں، زیادہ سے زیادہ یہ شوہرکو گھر داخل ہوتے دیکھ کر سر باندھنے پر ہی اکتفا کرتی ہیں۔ مصنوعی کھانسی یا ہلکے ہلکے ڈکار اور ہچکیوں پر قابو پانے کے مجرب نسخے ان کے دماغ کے مطب خانے میں دھرے ہوتے ہیں۔ یہ شوہرکو یقین دلاتی ہیں کہ صبح سے انھوں نے کچھ نہیں کھایا اور اب خالی ڈکاروں نے ان کے کلیجے کو سارنگی بنا دیا ہے۔

عورتیں چونکہ مکرو فریب میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں اس لیے اس قسم کی بیویوں کو مات دینا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے اور دنیا کی کوئی بھی پولیس ان کی ڈرامہ بازیوں کا سراغ نہیں لگا پائی۔ انھیں کسی بھی وقت کوئی بھی درد پیدا ہو سکتا ہے، موقع شناسی کی وجہ سے انھیں اگر اپنا ٹارگٹ پانا مشکل لگے تو یہ خود کو دورے بھی ڈال لیتی ہیں۔ بر وقت منہ سے جھاگ بھی نکل سکتا ہے اور ہوش میں آنے کے بعد یہ اپنی جن بھوتوں سے ملاقاتوں کی کہانیاں بھی سنا سکتی ہیں۔ مشتری ہوشیار باش۔ ۔ ۔ تعلیم یافتہ بیویوں کے ڈرامے سکرپٹ کی طرح منظم ہوتے ہیں، وہ سسرال میں رہنا پسند نہیں کرتیں، ان کی بیماریاں بھی جدید اور ناسمجھ میں آنے والی ہوتی ہیں۔ مجھے ڈسٹ الرجی اور پلس نائس پلوشن ہے، جیسے جملے ان کی بیماری کی تعریف ہوتے ہیں۔ سٹار پلس، کلرز اور زی ٹی وی پر چلنے والے ڈرامے ان کے لیے سلیبس کے خلاصوں کا درجہ رکھتے ہیں۔ یہ بیویاں اچھے بھلے گانوں کی طرز اور شاعری بگاڑ کر گانے کی عادی ہوتی ہیں۔ ان کے بول یہ بھی ہو سکتے ہیں:

تو جس دن بھلا دے میرا پیار دل سے وہ دن آخری ہو تیری زندگی کا

یہ طفل تسلیاں ان کے لیے آکسیجن کا کام دیتی ہیں۔ ان کے میکے فوجی چھاؤنیوں کی حیثیت رکھتے ہیں جہاں یہ اکثر و بیشتر پناہ لیتی ہیں۔ رائی کو پہاڑ بنانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے لیکن اناڑی کھلاڑی ان کی میچ فیسنگ سے نابلد ہوتے ہیں اس لیے انھیں سمجھ ہی نہیں آتا اور یہ بیویاں نو بال پر بھی رن لے لیتی ہیں۔

مظلوم بیویاں:
بیویوں کی یہ قسم تا حال سلامت ہے اور بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ بوئی بھی جا رہی ہے۔ جن عورتوں کے میکے کمزور اور لاغر ہوتے ہیں وہاں یہ بیویاں جنم لیتی ہیں۔ رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے کے مصداق انھیں ایسے ہی تھرکنے میں مزہ آنے لگتا ہے۔ یہ بیویاں شوہر کی مار پیٹ ثواب سمجھ کر کھاتی ہیں اور تادم مرگ وفاداری کی حالت میں مرکھپ جاتی ہیں۔ ان پر ہونے والے ہتیا چار یعنی تشدد کی دیگر اقسام میں سے ایک قسم سوتن کا لایاجانا بھی ہے۔ جس دن شوہر ان پر جوتا اٹھانا بھول جائے یہ خود سے اس کے ہاتھ میں ڈنڈا پکڑا کر کہتی ہیں: ’’مار سے ڈر نہیں لگتا صاحب پیار سے لگتا ہے۔‘‘ دیہاتی عورتیں مظلومیت کی چکی میں پستے پستے آٹا بن رہی ہیں اور شور شہری عورتیں مچاتی ہیں۔ مظلوم بیویاں بیٹا پیدا نہ ہونے کی صورت میں بھی مار کھاتی ہیں اور اگر بیٹا نافرمان ہو جائے تو بھی مار انہی کا مقدر بنتی ہے۔

کماؤ بیویاں:
یہ بڑی دلچسپ قسم ہے، آجکل ایسی بیویوں کی یہ فصل پھل پھول رہی ہے۔ کچی کلیوں پر بُور لگنے لگا ہے اور پکی کلیاں شاخوں سے لٹکتے لٹکتے کملانے لگی ہیں۔ کماؤ بیویاں ضرورت ایجاد کی ماں ہے کی طرح ہوتی ہیں۔ یہ رکھ رکھاؤ، طور طریقوں اور ملنساری میں آگے آگے رہتی ہیں۔ جن کی شادیاں نوکری لگتے ہی ہو جائیں ان کا طنطنہ اور طرح کا ہوتا ہے۔ ان کے میاں میاؤں بن کر رہتے ہیں اور جن کی شادیاں آخری عمر میں ہوں وہ اپنے میاں کے سامنے بھیگی بلی بن کر رہتی ہیں۔ ان پر عمر رسیدگی کی سٹیمپ لگا دی جاتی ہے اور یوں وہ اپنے ہی شوہرکی زوجہ ماجدہ کہلائی جاتی ہے۔ ایسے میں اگر شوہر نکھٹو اور بےکار ہو تو کماؤ بیوی اسے سینت سینت کر رکھتی ہے یا پھر اپنی آستین کا بٹوہ بنا کر گھومتی پھرتی ہے۔ نکھٹو شوہر اگر دل کے تخت پر راج کرے تو کماؤ بیوی اسے گودوں میں کھلاتی اور اس کے ناز نخرے برداشت کرتی ہے۔ لاہور قلندرز کی طرح وہ زندگی کے اس پی ایس ایل کو ہارنے کے بعد بھی حوصلہ نہیں ہارتی جبکہ جذباتی عورت کے لیے نکھٹو شوہر فالج زدہ ٹانگ ہی ہوتا ہے۔

کماؤ بیویاں ساری عمرجوڑ توڑ میں لگی رہتی ہیں، ان کا سفر ایک گھر بنانے سے شروع ہو کر اسی گھر میں مرنے تک جاری رہتا ہے۔ یہ بیویاں اپنے شوہروں کے لیے محنت مزدوری کرنے کی عادی ہوتی ہیں۔ انھیں اظہار کی طلب بے قرار رکھتی ہے، یہ بات انھیں بے چین رکھتی ہے کہ ان کے شوہر اتنی ساری محنت پر انھیں کون سا خراج تحسین پیش کریں گے۔ ان بیویوں سے خراج لیا جاتا ہے اور دینے کے لیے داد و تحسین تک نہیں بچتی۔ کماؤ بیویوں کے شوہر ڈرپوک ہوتے ہیں انھیں ہر وقت یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ امی جی کیا کہیں گی۔ ابے کو نہ پتہ چل جائے کہ بیوی کے نام گھر تو نہیں کر دیا۔ ان کے شوہروں کو ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘ سے بہت ڈر لگتا ہے۔ یہ دونوں میاں بیوی فیصلے کی سرحد پر کھڑے ہو کر ایک دوسرے کا منہ تکتے ہیں اور ٹرین گزر جاتی ہے۔

کماؤ بیوی کا بھی ایک سائیڈ ایفیکٹ ہے اور وہ یہ کہ انھیں پرائیویسی کی عادت ہوتی ہے۔ انھیں چھوٹی چھوٹی باتیں بڑی معلوم ہوتی ہیں۔ ان کی لڑائیاں اکثر ان معاملات پر ہوتی ہیں کہ تمہاری امی گاڑی کی اگلی سیٹ پر کیوں بیٹھیں، تمہاری بہن نے میری طرح برینڈڈ سوٹ لیا ہے، ہم نے تو آج کھانا باہر کھانا تھا، اوہ مائی گاڈ! آج میری سالگرہ تھی، پھر سے بھول گئے ڈفر، آج مجھے امی کے گھر سے کیوں پک نہیں کیا۔ یہ بیویاں اگر انٹلکچوئل قسم کی ہوں تو پھرخود کو یہ کہہ کر تسلی دے لیتی ہیں کہ جاہل کے ساتھ بحث بے کا رہے اور سامنے والے کی سوچ بھی کچھ اسی نوعیت کی ہوتی ہے۔

موڈی بیویاں:
موڈ کی محتاج رہنے والی بیویاں پل میں تولہ اور پل میں ماشہ ہوتی ہیں۔ یہ دھوپ میں نکلنے والی بارش کی طرح ہیں کب ان کے دماغ کی پھر کی گھوم جائے خود انھیں بھی خبر نہیں ہوتی۔ شوہروں کو ان کے سامنے بہت محتاط ہونا پڑتا ہے۔ یہ اکثر رُسی باندری بن کر رہتی ہیں پھر انھیں منانے کے لیے ڈنر اور شاپنگ کروانا پڑتی ہے۔ انھیں راضی رکھنا دنیا کا مشکل ترین کام ہے کیونکہ انھیں ہر کام میں کیڑے نکالنے کی عادت ہوتی ہے۔ خوش یہ کسی سے نہیں ہوتیں، ہر وقت گلے شکوے کرنا ان کی گھٹی میں شامل ہے۔ ’’کاش‘‘ کا لفظ ان کے لیے ہی بنا ہے جس کا استعمال یہ گاہے بگاہے کرتی رہتی ہیں۔ کاش میری شادی تم سے نہ ہوئی ہوتی، کاش میں نے اپنی پھوپھی کی نند کے بیٹے کے سالے کے رشتے سے انکار نہ کیا ہوتا، کاش تمہاری مونچھیں نہ ہوتیں تو تم بھی شاہ رخ جیسے دکھتے۔ یہ بیویاں صبر و تحمل اور برداشت کی کمی کا بھی شکار رہتی ہیں ان کی طبیعت میں جلد بازی کا عنصر بکثرت پایا جاتا ہے۔ ان کا بس نہیں چلتا ورنہ رات سونے سے پہلے یہ جان کر سوئیں کہ صبح کیا ہونے والا ہے۔

اس دلچسپ مضمون کا دوسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: