شوہر ہمارے کیسے کیسے (1) ——- ڈاکٹر مریم عرفان

0
  • 41
    Shares

شوہر اس شخص کو کہتے ہیں جوسنتا تو بیوی کی ہے لیکن کرتا اپنی مرضی ہے۔ گویا شوہر آپ کی زندگی میں باپ کا ہی کردار ادا کرتا ہے، کبھی کان پکڑ کر، کبھی آنکھیں دکھا کر اور کبھی اکیلے میں ہاتھ جوڑ کر اپنے جملہ امور اور فیصلوں پراپنی منوانا اس کا محبوب مشغلہ ہے۔ شوہروں کی چند اہم اقسام/ مثالیں درج ذیل ہیں:

خود دارشوہر:
یہ شوہروں کی سب سے پہلی قسم ہے جوصدیوں سے چلی آرہی تھی لیکن اب اچانک کہیں گم ہوگئی ہے۔ آیندہ کچھ سالوں میں یہ قسم بالکل ناپید ہو جائے گی جس کی وجہ موجودہ مہنگائی بتائی جاتی ہے۔ خودداری کی مثالیں ہمیں عموماً پرانی فلموں اور ڈراموں کے علاوہ قصوں اور کہانیوں میں ہی ملتی ہیں جن میں ہیرو نما شوہر اپنی بیوی (جو کبھی معشوقہ تھی) کا ہاتھ مانگنے اس کے امیر باپ کے پاس جاتا تھا۔ جس کے پاس رہنے کے لیے گھر اور کھانے کے لیے روٹی نہیں ہوتی تھی لیکن اس کے باوجود اس نے کبھی سسرال کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ خوددار شوہرکا پسندیدہ گانا: ’’سونا نہ چاندی نہ کوئی محل، جان من تجھ کو میں، دے سکوں گا‘‘ اسی کی دہائی میں بہت مشہور ہوا۔ آج کل یہ گانا خودداری کی زد میں آکر کچھ یوں ہوگیا ہے: ’’سونا نہ چاندی نہ کوئی محل، جان من تیرے پاس، رہنے دوں گا‘‘۔

خوددار شوہر اس لیے بھی مارکیٹ سے غائب ہیں کیونکہ اب مد مقابل پڑھی لکھی اور ملازمت پیشہ لڑکیاں میدان میں ہیں۔ جن کے لیے اچھا رشتہ درکار ہونے کی صورت میں سارے خوددار شوہر مطلب پرستی کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔ پہلے تو جہیزکی ڈیمانڈ ہی کی جاتی تھی اب ملازمت پیشہ بیوی کی طلب میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اقبال کاشعراب خاصی ترمیم کے بعدان خوددار شوہروں کی عدم دستیابی پرکچھ یوں پورا اترنے لگاہے کہ:

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر رشتے سے بھی پہلے
لڑکی تجھ سے یہ پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

بے زارشوہر:
شوہروں کی یہ قسم ہرچیزسے بے زار نظر آتی ہے۔ کبھی سسرال جانے سے بے زار، کبھی بیوی کو شاپنگ پرلے کرجانے سے بے زار، کبھی سالوں کو گھر پر دیکھ کر بے زار اور کبھی تو بیوی کو بھی ہنستا بولتا دیکھ کربے زاری کا اظہارکرنے لگتے ہیں۔ ان کے ماتھے کی سلوٹیں اوردل کی بے زاری عموماً سالیوں کو دیکھ کر رفو ہوتی ہے یا پھرچھت پر پڑوسن کو بال سکھاتے دیکھ کر سینے پر ہاتھ مارنے اور منہ سے ’’ہائے‘‘ کا لفظ نکالنے سے انھیں چین نصیب ہوتا ہے۔ یہ شوہر اپنی بیویوں کو دن رات دیکھنے سے بے زار اور کبھی کبھی جان بوجھ کر بیمار بھی پڑجاتے ہیں۔ بے زار شوہروں کی یہ قسم بھی اگرچہ تعداد میں کم ہے لیکن ہے ضرور۔ ان شوہروں کی حرکات و سکنات اس لیے زباں زد عام نہیں ہوتیں کیونکہ ان کی بیویاں ان کے عیب چھپانے میں ایسے ہی سرگرم نظر آتی ہیں جیسے ماں بیٹی کے عیب چھپانے میں کامیاب ہوتی ہے۔ بے زار شوہروں کی اکثریت اپنی بیویوں سے نالاں اور دوسروں کی بیویوں سے راضی رہتی ہے۔ یہ اپنے شکار کو پھانسنے کے لیے بیوی میں اتنے نقائص ڈالتے ہیں جیسے کوئی بانجھ عورت رشتہ ازدواج میں بندھ جائے تو زمانہ اس کے امراض پوشیدہ کھول کھول کر بیان کرنا فرض سمجھتا ہے۔ یہ اپنی بیوی سے کبھی خوش نظر نہیں آئیں گے، ہر خوبصورت لڑکی سے کہتے پھریں گے کہ بیگم میرے ٹائپ کی نہیں ہے۔ پھر کچھ دن بعد اس لڑکی کو ان کی ٹائپ کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ بچنے کی کوئی گارنٹی نہیں۔

آدھی رات کے وقت اگر آپ کی آنکھ کھل جائے تویہ سرہانے کنڈلی مارے اپنی موبائل کی روشنی میں خاصے ہونق معلوم ہوتے ہیں۔ فیس بک یاوٹس ایپ پر چلتے پیغامات اور ان کی دھیمی دھیمی مسکراہٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ دال میں کچھ کالا۔۔۔

ان شوہروں کے گلے شکوے بھی بڑے عجیب سے ہوتے ہیں مثلاً، سسرال میں ہونے والی شادیوں میں شرکت ان کے لیے وبال جان ہوتی ہے۔ بیوی کے رونے دھونے اور غصہ کرنے سے گھبرا کر اگر یہ چلے بھی جائیں تو گھر واپسی پر شکوؤں کا ڈھیر بہ زبان بیوی کچھ یوں شروع کردیتے ہیں: ’’دیکھا، تمہارے پھوپھا کے چچیرے بھائی کے پوتے نے مجھے سلام تک نہ کیا۔‘‘ ’’مجھے تو کسی نے روٹی کے لیے صلح بھی نہیں ماری۔‘‘ ’’تمہارے ماموں کے بچے مجھے سوٹ بوٹ میں دیکھ کرہنس رہے تھے۔‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ بہرکیف بے زار شوہرکمال کے فنکار ہوتے ہیں اور ان کے چہروں سے بے زاری چودھویں کے چاند کی طرح روشنی بکھیرتے ہوئی ملتی ہے۔ یہ شعران کی بے زاری کی خوب مثال ہے:

ہنستے جو دیکھتے ہیں کسی کو کسی سے ہم
منہ دیکھ دیکھ روتے ہیں کس بے کسی سے ہم

نادار شوہر:
نادار شوہر کو عرف عام میں بیمار شوہر، لاچار شوہر اور بے کار شوہر بھی کہاجاتا ہے۔ وہ اس لیے کہ یہ شوہر بچپن سے پچپن تک سست، کاہل اور بے کار چلے آتے ہیں۔ ان سے نہ ہی تعلیم مکمل ہوتی ہے اورنہ کوئی ڈھنگ کی نوکری ان کا مقدر بنتی ہے۔ ان کی زندگی میں آنے والی بیوی بھی سوتیلی ماں بن جاتی ہے اور بس پھر روز چلنا شروع ہوتا ہے ریں ریں کا چرخہ۔ صبح سویرے یہ اپنے والدین سے عزت افزائی کرواتے ہیں اور رات کو بیوی زبان کے تیر چلا چلا کر انھیں زخمی کرتی ہے۔ ماں کے لیے یہ ’’رن مرید‘‘ ہوتے ہیں اور بیگم کے لیے ’’بے کار پیس‘‘۔ ان کے لیے گھر شکم مادرکی طرح ہوتا ہے اور یہ مرتے دم تک ست ماہے (سات ماہ کا بچہ) بچے کی طرح خود کو انتہائی نگہداشت وارڈ میں محسوس کرتے رہتے ہیں۔ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں سے لے کر اولاد کی شادیوں تک، ان سے کسی قسم کا کوئی مشورہ لینا تو دور انھیں بتانا بھی پسند نہیں کیا جاتا۔ شوہروں کی اس قسم پر بے شمار ایسے ہی لطائف صادق آتے ہیں جیسا کہ ایک نکھٹو شوہر کی بیوی کو جب سکول کی مس نے بچے کی فیس نہ لانے پر پوچھا: ’’بندہ زندہ اے یا مر گیا؟‘‘ بیوی نے حسرت سے بولی: ’’مریا ای سمجھو۔‘‘ شوہروں کی یہ قسم خدا کی قسم بڑی مظلوم ہے۔ ان کے لیے بس یہی شعر کہا جا سکتا ہے:

نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے

زہریلے شوہر:
اس قسم کے شوہرعجیب و غریب فطرت کے مالک ہوتے ہیں۔ ان کی کتاب میں لفظ ’’ناں‘‘ ہر صفحے پر درج ہوتا ہے۔ یہ حوصلے پست کرنے، ممکن کو ناممکن بنانے، نخرے دکھانے، کام سے کام رکھنے اور دو دو شادیاں کرنے کے ماہر ہوتے ہیں۔ ان کی طبیعت میں سیر ہونا لکھا ہی نہیں اس لیے اگر چارشادیاں بھی کرلیں تو پیٹ خالی خالی ہی محسوس کرتے ہیں۔ ان شوہروں کے لیے نانیاں اور دادیاں اپنے سنہرے قول ارشاد فرما گئی ہیں کہ زہریلے شوہر ’’سرہانے کے سانپ‘‘ ہوتے ہیں عرف عام میں آستین کے سانپ۔ ان سے بچنے کے لیے یا تو بغیر آستینوں کے قمیض پہننی چاہیے یا بستر پر سرہانے کے بغیر ہی گزارا کرنا چاہیے۔ آدھی رات کے وقت اگر آپ کی آنکھ کھل جائے تویہ سرہانے کنڈلی مارے اپنی موبائل کی روشنی میں خاصے ہونق معلوم ہوتے ہیں۔ فیس بک یاوٹس ایپ پر چلتے پیغامات اور ان کی دھیمی دھیمی مسکراہٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری ہانڈی ہی جل کرسیاہ ہو چکی ہے۔ یہ شوہراپنے موبائل بیوی کی دسترس سے دور رکھتے ہیں ان کے موبائل پیغامات بھی جاسوسانہ اندازکے حامل ہوتے ہیں۔ ان کی فون نمبر ڈائری بھی دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔ جہاں کسی زنانہ نمبرکی انٹری مارنی ہو تو یہ اس پر ماجدہ کو ماجد اور ساجدہ کو ساجد لکھتے ہیں۔ اس لیے مشتری ہوشیارباش!

زہریلے شوہر ایسے ہی زہریلے مشہور نہیں ہیں بلکہ اس کے پیچھے ان کی پوری ہسٹری پوشیدہ ہے۔ ان شوہروں کے کچھ اصول ہوتے ہیں مثلاً، اپنا اے۔ ٹی۔ ایم چھپا کر رکھنا اور بیوی کے اے۔ ٹی۔ ایم پر شب خون مارنا، اپنے گھر والوں کے لیے جیب اور دل کھلے رکھنا اور سسرالیوں کو دیکھ کر کبوترکی طرح آنکھیں بند کرلینا۔ اگریہ لو میرج کرلیں تو زندگی بھر اس کا بدلا بیوی سے لیتے ہیں۔ شادی سے پہلے تو کہتے پھرتے ہیں: ’’جانو! تم نہیں تو میں نہیں‘‘ اورشادی کے بعدکہتے ہیں: ’’لے فیر اج، یا تو نئیں یا میں نئیں‘‘ اگر ان کی زندگی میں ان جیسا ہی کوئی ہٹلر بیوی کے روپ میں آجائے تو بس پھر منہ میں طلاق کا لفظ دبائے دبائے پھرتے ہیں، جہاں پاک بھارت جنگ شروع ہوئی نہیں کہ ’’طلاق‘‘ کا گولا داغنے میں دیر نہیں لگاتے لیکن وہ کہتے ہیں ناکہ ’’سانپ سانپ کو لڑے تو زہرکس کو چڑھے۔‘‘ بس اسی طرح سانپ اور نیولے کی اس لڑائی میں فتح کسی کی نہیں ہوتی ہاں البتہ سیز فائرکی صورت میں نسل ضرور آگے بڑھتی رہتی ہے۔

پینڈو شوہر:
میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہارجاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کر دے گا

اب پینڈو شوہروں کی کیا تعریف کی جائے کہ سورج کو چراغ دکھانا ناممکن ہے۔ اصل میں تو ایک کریڈٹ انھیں ضرور جاتا ہے کہ درج بالا شوہر زندگی میں اس وقت کام آتے ہیں جب کوئی اور اپنا ہاتھ آگے نہیں کرتا۔ جب شہری لڑکیاں برینڈیڈ سوٹوں کی سیل میں رکھ دی جاتی ہیں تو یہی وہ مرد مومن ہوتے ہیں جو انھیں سستے داموں خریدکرلے جاتے ہیں۔ یہ اپنی آنکھوں میں خواب لے کر پیدا ہوتے ہیں اور ان کی تعبیر شہرجا کر پوری ہوتی ہے۔ آج کل پینڈو شوہروں کی خاصی مانگ ہے اوران کی کھپت کے باعث شہری لڑکیوں کا معیار خاصا گرگیا ہے۔ پینڈو شوہروں کو انھیں ’’ہائے‘‘ اور ’’اوئی‘‘ کرنے والی بیویاں سخت ناپسند ہوتی ہیں۔ انھیں زنانہ شباہت اور مردانہ وجاہت سے بھرپور بیویاں پسند رہتی ہیں جو چھت سے چھلانگ لگائیں اور کپڑے جھاڑ کر پھر سے دوڑنا شروع کردیں۔ نازک مزاج اور کم خواب جیسی لڑکیاں ان کی زدمیں آنے سے محتاط رہیں کیونکہ شادی کے بعد وہ سخت مزاج اور فیصل آبادی کھیس جیسی کھردری ہوجاتی ہیں۔ پینڈو شوہر ہر صورت مال دار بیواؤں، سرکاری ٹیچروں، لیکچراروں یا ادھیڑ عمر پروفیسروں کے شریک سفر بننا پسند کرتے ہیں۔ یہ شوہر اپنی پڑھی لکھی بیویوں کو ایسے غلط ثابت کرتے ہیں جیسے کوئی ٹی۔ وی اینکر کسی ماہر تعلیم یا مذہبی سکالر کو چلتے شو میں پچھاڑتے ہوں اور بیوی جتنی مرضی سکالر ہو، سرکاری وکیل کی طرح کیس ہار جاتی ہے۔ مستقبل کی ساری منصوبہ بندیاں کرنے میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں ہے، بیویوں کی جائیداد اور زیور بکوا کر خود صاحب جائیداد بننا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اپنے گھر والوں کے معاملات میں نیکی کادرس ایسے دیتے ہیں کہ اچھی بھلی بیوی کی مت (عقل) ماری جاتی ہے اور وہ بھی خود کو غلط سمجھتے ہوئے ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگتی ہے۔ سمجھدار بیویاں ایسے شوہروں سے بحث نہیں کرتیں بس دل ہی دل میں جواب دہی پر گزران کرلیتی ہیں۔ انھیں بڑی سے بڑی بیماری میں ڈاکٹر کے پاس جانا سخت ناپسند ہے، چاہے تو جان گھر نکل جائے لیکن ہسپتال جانا گناہ کبیرہ سمجھا جاتا ہے۔

پینڈو شوہروں کے ساتھ طرز تکلم میں آپ سے تم، تم سے تو اور تو سے تو کون کی نوبت بہت جلد آتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بقول اک دوست ان کی سمجھ دانی اتنی عمدہ اور برجستہ ہوتی ہے کہ یہ اپنے سسرال میں بیوی کے ساتھ بہت ملائمت کے ساتھ بات کرتے ہیں۔ بیوی کا میکہ ان کے گن گاتا ہے اور کیڑے بھی اپنی ہی لڑکی میں نکال دئیے جاتے ہیں۔ حالانکہ ان کی فطرت زبانیہ پرغالب بہت پہلے کہہ چکے ہیں:

ہراک بات پہ کہتے ہوتم کہ تو کیا ہے
تمہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے

ان شوہروں کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ کسی بھی بات کے آخر پر موت کا نقشہ بڑی خوبصورتی سے کھینچتے ہیں۔ مثلاً، اگر بیوی کے پیٹ میں درد اٹھے اور دوا لینے کے باوجود ٹھیک نہ ہو تو پینڈو شوہر آنکھیں نکال کر کہتا ہے: ’’مجھے لگتا ہے تمہیں السر ہوگیا ہے۔ ۔ ۔ اور کھاؤ پیزے، برگر۔‘‘ اگربیوی غلطی سے فرائیڈ رائس یامیکرونیز بنالے توسارا پیالہ چٹ کرنے کے بعد لمبا ڈکار مارتے ہوئے اور ٹٹولٹی نظروں سے پوچھتے ہیں: ’’اج روٹی وچ کی بنایا اے۔‘‘ ان کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ زچہ کے سرہانے فروٹنگ کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’جے وقت تے کھادا ہوندا تے وڈا آپریشن نہ ہوندا تیرا۔‘‘ درحقیقت انھیں علاج بالغذا کی ایسی لت لگی ہوتی ہے کہ دم نزع کے مریض کو بھی ادرک کا قہوہ پی کرسانس بحال کرنے کے مشورے دے رہے ہوتے ہیں۔ ایسے شوہر ایک سو چار بخار میں بھی کلو بکرے کا گوشت ابال کر کھانے اور دبوائی کروانے سے بھلے چنگے ہو جاتے ہیں۔ دیہات پلٹ شوہروں کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ انہیں پہلے تو شہرمیں خود سیٹ ہونے کی خواہش ہوتی ہے۔ بعد میں ایسٹ انڈیا کمپنی (خاندانی لشکر) کو بغل میں چھپا کر گھر آباد کرلیتے ہیں۔ آپ کتنی بھی بحث کرلیں، سرپیٹ لیں یارونا ڈالے رکھیں، ان سے تکرار فضول ہے۔ ان کے ساتھ زندگی بسرکرنے والی مجاہد بیویاں دراصل موت کے کنوئیں میں بائیسکل چلا رہی ہوتی ہیں اسی لیے وہ زندگی کے کسی مقام پر گرتی نہیں بلکہ گرنے سے پہلے ہی ٹھوکر سیدھی کرلیتی ہیں۔

شہری شوہر:
شہروں کے اندرون علاقوں سے تعلق رکھنے والے یہ شوہر بھی مسکین قسم کے ہوتے ہیں لیکن مجال ہے جو باہر کہیں یہ اپنے دامن پر کم ہمتی کے چھینٹے پڑنے دیں۔ ان کے محبوب مشاغل میں اخبار پڑھنا بلکہ منہ کے آگے کھول کر رکھنا، ٹی۔ وی کے ریموٹ کنٹرول سے کھیلتے رہنا، تڑکے تڑکے دہی لانا اور دفترسے واپسی پر پھل سے بھرا شاپر بیگم کے کمرے تک پہنچانا شامل ہے۔ تہمد باندھنا بھی ان کی گھٹی میں رکھاہے خاص طور پر گرمیوں میں بنیان اور دھوتی ان کا گھریلو لباس ہے۔ اگر گھر میں انھیں کسی بات پرغصہ آجائے تو بیگم کو ڈانٹنے ہوئے ہانپنے لگتے ہیں جبکہ دفتر پہنچتے ہی سگریٹ انگلیوں میں دباکر، ہونٹوں کو لبرٹی کے گول چکر جیسا گھما کر منہ کی چمنی کھولتے ہی دھواں باہر نکالتے ہیں۔ پھر کرسی پرلمبی ٹیک لگاتے ہی اپنے ساتھی کوبتاتے ہیں کہ: ’’رات تمہاری بھابی نے جیسے ہی زبان چلائی، میں نے بھی یہ دو ہاتھ رکھے دھون (گردن) پر۔ ۔ ۔ کسکی (ہلی) نہیں پھر۔ ۔ ۔‘‘ اب جانتے تو بس یہی ہیں کہ بھابی کسکی نہیں یایہ آگے سے کھسکے نہیں؟؟؟ شہری شوہر بس دکھاوے کے شوقین ہوتے ہیں وگرنہ طبعاً یہ خاصے شریف النفس واقع ہوئے ہیں۔ بقول شاعر:

بیگم تیرے جلال نے سب بل دئیے نکال
مدت سے آرزو تھی کہ سیدھا کرے کوئی


اس دلچسپ مضمون کا دوسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: