مُہاجر قوم اور ایم کیو ایم —— سید ریحان احمد

1
  • 343
    Shares

اس مضمون کا محرک دانش ڈاٹ پی کے پر شائع ہونے والا جناب گل ساج صاحب کا مضمون “ایم کیو ایم کا وجود کیوں ضروری ہے” بنا ہے۔ اس مضمون کا پس منظر غالبا سندھ اسمبلی میں حالیہ ہونے والی سہیل انور سیال کی تقریر ہے۔ میں جناب کی خدمت میں پہلے یہ عرض کردوں کہ سہیل صاحب کے نام کے ساتھ یہ جو سیال لگا ہے یہ اس بات کا غماز ہے کہ موصوف کے آباٗو اجداد پنجاب سے سندھ منتقل ہوئے ہیں۔ جس طرح جسقم کے سربراہ قادر مگسی کے نام کے ساتھ مگسی یہ بتاتا ہے کہ وہ نسلا بلوچ ہیں۔ خیر چھوڑیے شجرے کھنگالے تو کئی شرفا کے چہروں کے آثار بگڑ جائیں گے۔ ہم مضمون کی طرف آتے ہیں صاحب مضمون نے متروکہ سندھ کی جائیدادوں پر قبضے، مہاجروں کی علمی ادبی شناخت کے حوالے سے جو باتیں کی ہیں اُن سے ہمیں رتی بھر اختلاف نہیں کیونکہ وہ حقائق پر مبنی ہیں۔ مگر اس پس منظر میں ایم کیو ایم کے وجود کو مہاجر قوم کے لئے ضروری قرار دینے والی بات نے گزشتہ چار برس سے ہماری کالم نگاری کی سوئی ہوئی نعش کو لات مارکے اُٹھادیا ہے۔

میر تقی میر نے کہا تھا
میر کیا خوب ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اُسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

ماضی کے دریچے وا کرتے ہیں ستر کی دہائی کا آخر ہے۔ رات کے دو بجے ہیں کراچی کے علاقے ایف بی ایریا میں درویش ادب سلیم احمد کے گھر مسکن عزیز میں کسی ادبی کلیہ پر بحث جاری ہے۔ ایک نوجوان جو کبھی کبھی اس محفل میں آتا ہے اور خاموشی سے گفتگو، مباحثے سننے کے بعد چلا جاتا ہے، آج بار بار پہلو بدل رہا ہے۔ بحث ختم ہوتی ہے احباب رخصت ہوتے ہیں مگر وہ بیٹھا رہتا ہے۔ سلیم احمد متوجہ ہوتے ہیں، کہو بیٹا کیا بات ہے؟ نوجوان کہتا ہے سلیم صاحب میں کراچی کے مظلوم و محکوم مہاجروں کی نمائندہ جماعت مہاجر قومی موومنٹ بنانے جارہا ہوں اگر آپ اپنا دست شفقت میرے سر پر رکھ دیں تو اہل قلم کا ایک بڑا حلقہ میرا ہمنوا ہوجائے گا اور اس تحریک کی تقویت کا باعث بنے گا۔

سلیم احمد مسکراتے ہوئے کہتے ہیں میاں بڑے موقع پر آئے ہو، یہ شمیم احمد ہیں میرے بھائی ان کا سیاسی تجزیہ مجھ سے زیادہ مضبوط ہے انھیں قائل کرلو میری نسلیں تمھارا ساتھ دیں گی۔ مختصرا شمیم احمد اُس نوجوان یعنی الطاف حسین کو سمجھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یاد رکھو مہاجر جب تک قومی سیاست کا حصہ رہا ہے فائدے میں رہا ہے تم نے جس دن اپنی یہ علحیدہ جماعت بنائی تم ملکی سطح سے علاقائی سطح پر آجاوٗگے۔ پہلے تمھیں اس شہر میں بسنے والی مختلف قوموں سے لڑایا جائے گا پھر تم ایک دوسرے کے گلے کاٹوگے اور پھر تم پر ایک وقت آئے گا کے تمھیں ساحل سمندر پر لے جاکر کہا جائے گا یا تو گولی کھا لو یا کود جاٗو۔

چشم فلک نے یہ منظر من و عن دیکھا شمیم احمد کی کی گئی پیش گوئی حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔ چند ماہ بعد شہر کراچی میں بُشرا زیدی نامی لڑکی کی ایک ٹریفک حادثہ میں موت کراچی میں ایم کیو ایم کے وجود کی بنیاد بنی اور پورے شہر میں آگ لگادی گئی، جگہ جگہ سڑکیں بُلاک کرکے ٹائر جلائے گئے وغیرہ وغیرہ۔ یہ حادثہ تھا جو ایم کیو ایم کے وجود کی بنیاد بنا اور اس شہر کراچی کی لسانی بنیادوں پر تقسیم کا باعث بھی۔

چونکہ موضوع سیاسی و لسانی ہے لہذا میں یہ وضاحت کرتا چلوں کہ میرا تعلق نجیب طرفین سیدوں کی طرح نجیب طرفین مہاجر گھرانے سے ہے اور اُس پیڑی سے بھی جس نے اپنی عمر کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم کو بنتے پروان چڑھتے اور بکھرتے دیکھا ہے۔ ایم کیو ایم وہ عٖفریت ہے جو پینتیس سال تک ایک ڈراوٗنے خواب کی طرح اس شہر پر مسلط رہا جس سے سب سے زیادہ نقصان کراچی میں بسنے والی دیگر قومیتوں نے نہیں، اُس قوم نے اُٹھایا جسے حرف عام میں مہاجر کہتے ہیں۔

صاحب مضمون گلُ ساج صاحب کا ایم کیو ایم سے براہ راست واسطہ نہیں رہا کیونکہ وہ شہر کراچی کے باسی نہیں۔ میں نے ایم کیو ایم کو ایک ظلم کیوں قرار دیا اور میری تحریر میں اتنی سختی کیوں ہے اس کرب کو وہ ہی سمجھ سکتا ہے جس نے ایم کیو ایم کے کراچی میں پینتس سالا راج کو بھُگتا ہے۔ صاحب مضمون نے اپنے علاقے میں ہونے والے ایک تنازعہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے خود بھی ایم کیو ایم کو بطور خوف اور دہشت کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے اسکے باوجود ایم کیو ایم کے وجود کو ضروری قرار دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔

میں نے عرض کیا کہ میں نے جب ہوش کی وادیوں میں قدم رکھا اُس وقت شہر کراچی میں سیاسی منظر پر چھا جانے والی جماعت ایم کیو ایم تھی۔ ایسی کامیابی ایسی فتح کم ہی سیاسی جماعتوں کے نصیب میں ہی آتی ہے۔ مجھے یاد ہے اٹھاسی کے الیکشن کی فتح کے بعد پہلی ریلی اور اُسکے بعد دیگر بھی کہ میں سڑک پار کرنے کے لئے دس دس منٹ کھڑا رہتا مگر ریلی ختم نہ ہوتی۔ مجھے یاد ہے الطاف حسین کے ایک دو تین کہنے پر ہزاروں کا مجمع ساکت ہوجاتا۔ مجھے یاد ہے کہ نوجوان لڑکیاں بلیڈ سے اپنی کلائیوں پر جئے مہاجر لکھا کرتیں اور سبز سرخ اور سفید چوڑیاں پہنے رکھتیں۔ مجھے یاد ہے الطاف حسین کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے جاڑے میں فیمیلیز سڑک کنارے لحاف اُڑھ کر بٰیٹھ جاتیں اور گھنٹوں کہ انتظار کے بعد الطاف حسین کی ایک جھلک دیکھ کر خوشی سے نہال ہوجاتیں یا پھر قطار میں لگ کر الطاف حسین کی پتے پر تصویر دیکھنے کو بے تاب نظر آتیں۔

مگر مجھے یہ بھی یاد ہے کہ جب رات کے سناٹے میں بجلی کے کھمبے بجائے جاتے اور مساجد سے اعلان ہوتے کہ پٹھان سہراب گوٹھ سے حملہ کرنے آرہے ہیں اور میں سہم کر ابو کی بغل میں گھنس جاتا۔ مجھے مہاجر پٹھان فسادات میں اپنی گلی کے نکڑ پر ٹیکسی سمیت جلنے والے اُس پٹھان ٹیکسی ڈرائیور کی سوختہ نعش بھی یاد ہے جو ایک مہاجر فیملی کو سہراب گوٹھ سے بچاکر ایف بی ایریا لایا تھا اور واپسی پر مہاجروں کے نام نہاد کارندوں کے ہاتھوں جل مرا۔ مجھے سانحہ قصبہ کالونی کے آگ میں جلنے والے شیر خوار بچے بھی یاد ہیں اور سہراب گوٹھ حملہ میں مرنے والے مہاجر نوجوان کی ماں کے نالے بھی۔ مجھے سندھی مہاجر فسادات کے نتیجے میں پکا قلعہ آپریشن پر سروں سے کھینچے جانے والی ردائیں بھی یاد ہیں اور سروں سے نیچے گراکر شہید ہونے والے قرآن بھی۔ مجھے الطاف حسین کا وہ نعرہ

اب سندھ میں ہوگا کیسے گزارا ۔۔۔۔  آدھا تمھارا آدھا ہمارا

بھی اچھی طرح یاد ہے مجھے ہماری گلیوں میں بیٹھنے والے وہ نوجوان جنہیں گھر والے کھوٹہ سکہ کہتے تھے اُنکا یونٹ اور سیکٹر انچارج بننا بھی یاد ہے اور پھر علاقے کے ایس ایچ او کا اُنھی سے اجازت لے کر علاقے میں داخل ہونا بھی۔ مجھے متحدہ قومی موومنٹ اور مہاجر قومی موومنٹ کی باہم لڑائی میں مرنے والے سینکڑوں مہاجر لڑکے بھی یاد ہیں اور شہر کراچی کے وہ ٹارچر سیل بھی جن میں آدم خور چوہے، زنجیریں اور ڈریل مشینز مخالف تنظیم کے نوجوانوں کی تواضع کیا کرتی تھیں۔ مجھے پلاس سے کھنچے گئے ناخنوں اور گھُٹنوں میں ڈریل مشین سے سوراخ کی گئی نعشیں بھی یاد ہیں۔ مجھے دوکان فیکٹری کھوکا چلانے والے مہاجروں کو عید پر جبری فطرے کی پرچیاں دینا بھی یاد ہے اور اپنے دفتر کے ہندو ساتھی کا یہ کہنا کہ کل عید میں بھی مناوٗں گا بھائی لوگ مجھ سے بھی فطرہ لے گئے بھی۔ مجھے بقرعید پر قربانی کی کھالیں زبردستی لینا بھی یاد ہے اور کھال نہ دینے کی صورت میں قربانی کے جانور کو گولی مارنا بھی۔ مجھے روز روز کی ہڑتالیں بھی یاد ہیں اور صرف بیس منٹ میں شہر کا بند ہونا بھی۔ مجھے میجر کلیم، حکیم محمد سعید، صلاح الدین، پرویز محمود، مولانا یوسف لدھیانوی، مفتی شامزئی کی شہادتیں بھی یاد ہیں۔

مجھے کراچی سے لاہور منتقل ہونے والے وہ کاروباری مہاجر بھی یاد ہیں جو بھتہ نہ دینے کی پاداش میں اپنے جوان بیٹے کو دفنا کر کراچی سے ایسے گئے کہ کبھی نہ لوٹے اور بلدیہ فیکٹری میں جلنے والے سیکڑوں مہاجر محنت کش لڑکے اور لڑکیاں بھی۔ مجھے بارہ مئی بھی یاد ہے اور بائیس اگست بھی۔

مجھے یاد ہے ذرا زرا  ۔۔۔  تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

گلُل ساج صاحب یہ اپنوں کے لگائے ہوئے وہ گھاٗوٗں ہیں کہ جن کہ بھرنے کو صدیاں بھی ناکافی ہیں۔ راوی کہتا ہے کہ سن اٹھاسی میں جب ایم کیو ایم کے نمائندے سندھ کے شہروں سے منتخب ہوکر راولپنڈی پہنچے تو قومی اسمبلی جانے کے لئے کسی کے پاس بھی سواری نہ تھی لہذا کراچی کمپنی راولپنڈی سے کرائے کی بس میں بھر کرپہنچے اور چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ بس میں بھر کرآنے والوں میں سے آدھے مرگئے، آدھے بن گئے۔ مرنے والوں میں ایم کیو ایم کے چیئرمین عظیم احمد طارق اور دیگر ہیں اور بننے والوں میں الطاف حسین کے بعد ہیوسٹن میں اٹھارہ ہائی رائز بلڈنگز کے مالک بابر غوری اور دیگر۔ ۔ ۔ ۔

گل ساج صاحب ان بیان کردہ حقائق اور آپ بیتی کی بلکہ جُگ بیتی کی تصدیق کرنا چاہیں یا تو گھر کے بھیدی یعنی ایم کیو ایم کے گروپس پی ایس پی، بہادر آباد، پی آئی بی، حقیقی، شاہد پاشا وغیرہ کے بیانات سُن لیں یا پھر کراچی تشریف لائیں یہاں کے گلی کوچوں میں جائیں۔ اُن لوگوں کی حالات زار پر غور فرمائیں جنھوں نے ایم کیو ایم کو جھولیاں بھر بھر کر ووٹ بھی دیئے اور نوٹ بھی پینتیس سال تک مہاجر علاقوں سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی تمام نششستیں جیتنے والی ایم کیو ایم بلا شرکت غیرے اس شہر پر حکومت کرنے والی ایم کیو ایم جس کا میئر بھی اپنا اور گورنر بھی اپنا کراچی کے شہریوں کو بوری بند نعشوں، بھتہ خوروں، ٹوٹی سڑکوں، پانی حاصل کرنے کی قطاروں، گندگی کے ڈھیروں، بے روزگاروں، گوٹکا خوروں، قاتلوں اور مقتلوں کے سوا کچھ نہ دے سکی بلکہ اُن کی رہی سہی علمی و ادبی شناخت اُن کی تین سو سالہ تہذیب کو برباد کرکے رکھ دیا مہاجروں کی پہچان ڈاکٹر عبدالقدیرخان، شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور، سلیم احمد، قمر جمیل، کرارحسین، رئیس امروہوی سے منتقل ہوکر صولت مرزا، فہیم کمانڈو، ریحان کانا، نعیم شری کو منتقل ہوگئی کوٹہ سسٹم کا نہ خاتمہ ہوسکا نہ اہلیاں کراچی کی جانب سے ٹیکس کی مد میں دیا جانے والے سب سے زیادہ ریونیو کی مناسبت سے وسائل مہیا کئے جاسکے اور نہ ہی محصورین مشرقی پاکستان واپس آسکے بلک ان نعروں پر اپنی فتح کے جھنڈے گاڑنے والی جماعت ایم کیو ایم نے پینتیس سال تک اس شہر کو محصور بنائے رکھا

مہاجروں کے لئے ایم کیو ایم کا وجود ضروری نہیں مہاجروں کے لئے اُن کی کھوئی ہوئی شناخت علم و ادب سے وابستگی، درسگاہوں سے وابستگی، لسانی نہیں قومی سیاست سے وابستگی اور اپنے اجداد کی تہذیب سے وابستگی ضروری ہے۔


ادارہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. دو سو فیصد سچ۔ مہاجر جن کہ ساتھ ہمیشہ زیادتیاں ہوئی پاکستان کے دیگر محروم طبقات کی طرح لیکن اس قوم پر الطاف نامی کالی بلا اور اس کے جلو میں آئی سیاہ آندھی نے جتنا قہر برسایا ہے اس کی مثال دوسری مثال صرف پارٹیشن کے وقت کا قتل عام ہے جس میں لاشیں تو شاید زیادہ گری ہوں لیکن ایم کیو ایم کا ظلم تو اپنوں کا ظلم تھا جب مارنے اور مرنے والا دونوں مہاجر تھے۔ اگر کسی کو وہ تین دن یاد ہوں جب خیل (لانڈہی، جہاں بعد ازاں بیت الحمزہ بنا) پر قبضہ کے لیے آفاق و الطاف کے بھیڑیے باہم دست و گریباں ہوئے، کتنی لاشیں گرائیں گئیں کتنا خوں بہا اس کا حساب نہ کبھی مہاجروں نے رکھا نہ ہی کوشش کی الطاف نامی ایک کتے کو رد کر دیں اور اس جماعت کو کچرے میں پھینک دیں۔ الحمد للّہ اب ہم مہاجروں کو اس بلا سے نجات نصیب ہوئی اللہ کرے کہ اب کوئی اور الطاف اس قوم میں پیدا نہ ہو۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: