سوشل میڈیا کا نسوانی بیان: آخری حصہ — سحرش عثمان

0
  • 17
    Shares

یہ اس سلسلے کی آخری کڑی ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ دوست ختم ہوگئے یا سب ہی کے متعلق خامہ فرساییاں کرچکے ہم۔ ایسا ہے کہ آنٹی لوگ اوفینڈ نہیں ہو رہیں تو ذرا لطف نہیں دے رہی یہ یکطرفہ لڑائی اب کوئی کب تک الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے؟
اب اگر آپ سب اس تحریر میں تاخیر کا سبب پوچھیں تو یقینا ہم پابند ہیں بتانے کے تو یوں ہے کہ ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا۔

وہ یہ کہ آنسہ ایک دو حصے لکھنے کے بعد نیپال چلی جاتی ہیں وہاں شام ڈھلے جب ہوش آتا ہے تو اگلا حصہ لکھنے کے متعلق سوچا کرتی ہیں۔ اس بار شوخیِ تحریر کا اثر تھا یا یونہی ہواؤں میں اڑ رہے تھے ہم کہ ذرا مہیب جنگل میں نکل گئے تھے۔ شام کو جی تو اٹھے تھے لیکن واپسی کا رستہ بھول گئے تھے۔ کسی لہجے کے دشت میں جب پڑاؤ آیا تو سوچے سمجھے بغیر ٹھکانے کی ٹھانی پر پڑاؤ میں روئیے کا ایک سرد خانہ منتظر تھا۔ اب ہم تاثر نہ بھی دیتے ہوں محسوس نہ بھی ہوتا ہو ہیں ہم بھی انسان ہی جو احساسات رکھتا ہے اور وہ زخمی بھی ہوجاتے ہیں۔ لہذا ہمیں واپس پہنچتے کچھ تاخیر ہوگئی۔

خیر جو رائتہ پھیلا بیٹھے ہیں اسے سمیٹنے کی ذمہ داری بھی ہمارے ہی نازک کندھوں پر آتی ہے تو سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں کس قدر کامیاب یا ناکام رہے اس کا قطعی فیصلہ آپ پر چھوڑتے ہیں۔

اگلا تعارف کرانے سے پہلے اگر کہا جائے کہ ان شخصیت کے متعلق ہمارا جاننا ایک کامنٹ سے شروع ہوکر ایک پوسٹ تک ہے تو شائد بے جا نہ ہوگا۔ لہذا ہماری اس رائے کو قطعی ہرگز نہ سمجھا جائے ہم اسے ری وزٹ کرنے میں آزاد ہیں آزاد تو خیر ہم یوں بھی بہت ہیں۔ اتنے نہیں کہ آزادی پر عشق قربان کردیں۔ لیکن ہلکے سے آزادی کے متوالے ہیں۔

تو خاتون کا نام ہے نائلہ صادق پتا نہیں کیا کرتی ہیں اور کیا کیا کرتی ہیں۔ ہم تو بس یہ جانتے ہیں کہ زخموں پر مرہم رکھتی ہیں۔ کچھ لکھتی ہیں تو جی کھول کہ قرطاس پہ بکھیر دیتی ہیں۔ کسی کو سراہنے پر آئیں تو اتنا میٹھا ڈالتی ہیں کہ حلق تک جڑ جاتا ہے۔ گرے ایریاز پر بہت سے پھول اگا رکھے ہیں نہ انہیں چھپاتی ہیں نہ دکھاتی۔ کوئی دیکھ لے تو ڈینائے نہیں کرتیں۔ اور کوئی غور نہ کرے تو ہمدردی نہیں سمیٹتیں، عجیب ہیں۔ خیر ہمارا دوست ہونے کے لیے یہ تو بنیادی کوالیفیکشن ہے۔ نارمل از بورنگ یو نو۔

تحریر میں زیادہ سے زیادہ کوشش کرتی ہیں کہ یہ ظاہر نہ ہونے پائیں۔ بلکہ یوں کہا جائے تحریر کی اوٹ سے لو پروفائل ہونا چاہتی ہیں تو شائد زیادہ مناسب ہو۔ احساس محبت نرمی کو گھول کر بہادری ڈالیں اور اپنے فیصلوں کو اون کرنے کی گارنشنگ کردیں تو یہ بن جاتی ہیں۔ اس گھٹن زدہ سماج میں اپنے لیے اور دوسروں کے لیے راہوں میں دییے جلانے سے بڑی بھی کوئی نیکی ہوگی۔ پہلے بھی یہ جملہ لکھا ہے پھر لکھنا چاہتی ہوں راہیں راہیوں کی مرضی منشا اور پسند ہوا کرتی ہیں۔ ہمارا آپ کا کام صرف جی جلا کر سر راہ رکھنا ہے، سو رکھ دیتے ہیں۔ آپ بھی رکھ دیجئے۔ اندھیرے رستوں کا انتخاب کرنے والوں کے لیے اداس ہوا جاسکتا ہے دعا کی جاسکتی ہے دوا نہیں، آپ بھی رستوں کے مسافروں کے راہیوں کے دکھ نہ پالیں، اداسی کی مقدار ہوا میں پہلے ہی بہت زیادہ ہے، ہم اداسی سے الرجک، لہذا دیئے جلائیے دل نہیں۔ہماری اس تحریر کے بعد اگر آپ کا ہمارے متعلق گفتگو بلکہ بے لاگ تبصرہ کرنے کو جی چاہے تو ہمیں خوشی ہوگی۔ آپ کی گوشہ نشینی کم ہوگی ویسے تو ہمیں گوشہ نشینی پر اعتراض نہیں لیکن ایسے موتی بکھیرنے والی سوچ تو مقید نہیں ہونی چاہیے۔ پہلے ہی سنگ مقید ہیں تو سگ آزاد۔

اگلے تعارف بہت زیادہ تعارف ہیں جو ہمارے دوست ہیں اور بہت خاص ہیں لیکن ہم انہیں کم کم جانتے ہیں یا پھر جن کا ایریا آف ایکسپریشن رائٹنگ نہیں ہے ہماری ان کے بارے میں رائے کسی قدر کم نہیں۔ جیسے ہاجرہ سعید ہیں جو انتہائی سنجیدگی سے لطائف شئیر کرتی ہیں۔ جیسے سمیرا نصرت ہے جو اٹھے ہوئے ہاتھوں میں دعا کی صورت در آتی ہے۔ جس کی بہادری پر کئی تحریریں لکھی جاسکتی ہیں اور جس کی وجہ سے زندگی کبھی کبھی بہت بری لگتی ہے اور کبھی کبھی اتنی ہی پیاری۔ سارہ جمیل ہیں جو ہنستی ہیں تو ہنسنے کا جی چاہتا ہے۔ سنجیدہ گفتگو کریں تو احساس در احساس جملے بنائے جاتی ہیں۔ عمارہ نصرت ہے جو ہیمنگوئے کا کوئی کردار لگتی ہے۔ اکیلے سمندر میں تنہا اپنے لیے زندگی کے اسباب کرتی ہوئی۔ طیبہ اکرم ہیں، صبا فرحت ہیں صبیح گل ہیں۔ جیسے انمول سعدی ہیں جو گھر کا نیپالی بچہ ہیں، جیسے صالحہ سراج ہیں، جیسے حرا یوسف ہیں جو کیک کھلا کھلا کر شوہر کو موٹا کر کے مارکیٹ ویلیو کم کرنے کے مشن پہ تندہی سے عملدرآمد کر رہی ہیں۔ جو پارٹنرز کے لطائف سے بھری فیس بک پر اچانک محبت کا کوئی گیٹ چھیڑ دیتی ہیں، جس کی مدھر لے میں مستقبل کے سارے اندیشے بہہ جاتے ہیں۔ یہ ساری لڑکیاں جن کی والز پہ زندگی اٹھکھیلیاں کرتی ہے۔ تتلیوں کے رنگوں جیسی باتیں کرتیں یہ ساری سہیلییاں بہت پیاری ہیں جن سے تعلق میں ریا لالچ غرض شامل نہیں۔ جو اختلاف رائے کے باوجود ایک دوسرے کو برداشت کئے ہوئے ہیں اور جو اپنی اپنی جنت اپنے ہاتھوں سے تعمیر کررہیں ہیں۔

ان سب کے وجود سے رنگوں کی جو بہار ہے وہ میرے تخیل کو دھنک سا خوشنما بناتی ہے۔ تو ان سب کا تعارف و شکریہ بنتا ہے۔

عزیزہ انجم ہمیں نہیں پتا تھا یہ کون ہیں۔ نہ ہیں۔ ایڈ کرنے کے بعد وال پہ دیکھی تو حساسیت ہی نظر آئی۔
باقاعدہ تعارف مریض بچے کی کہانی سے ہوا۔ جسے پڑھنے کے بعد معلوم ہوا خاتون ڈاکٹر ہیں۔ اب یہاں پر یہ بڑا مسئلہ ہوا انہیں کیا کہہ کر مخاطب کیا جائے۔ اب آنسہ اسقدر بھی بدتمیز نہیں کہ نام ہی سے پکاریں آنٹی نہیں کہہ سکتی اس کی بہت ساری دوسری وجوہ کے ساتھ ایک عدد سالڈ ریزن آگے بیان کی جائے گی۔
خیر ان کو دیکھ کر ریٹائرمنٹ والے تصور پر یقین کمزور ہوا۔ آنسہ جو اگلے دو تین سالوں تک ریٹائرمنٹ کے متعلق سوچ رہی تھیں ان کا خیال بدل گیا۔

ان کے ساتھ دوستی کا بڑا نقصان ہوا ہے انکار مشکل تر ہوگیا ہے۔ پہلے ہی نو کہنا مشکل تھا اب تو انکار کرنے سے پہلے یہ سامنے آجاتی ہیں جیسے دیکھ رہی ہوں۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ یہ کچھ کہیں گی یا شرمندہ کریں گی اس بات پر۔۔مسئلہ ہی تو یہ ہے کہ یہ کچھ کہیں گی نہیں۔ اب ایسی صورت میں انکار کیسے کرے کوئی؟

ایک بچے کو پڑھا کر جو میں سوشل ورک والے بہت سے میڈلز خود ہی خود کو دیتی رہتی تھی اس میں بھی افاقہ ہوا۔خاتون جانے کہاں کہاں درد دل کی دعا اور دوا کرتی ہیں۔ اور وہ بھی خاموشی سے فرض سمجھ کر۔
مائیں مضبوط کیسے ہوتی ہیں اتنی۔ یہ بات شائد ابھی سمجھ نہ آئے لیکن مضبوط مائیں کیسی ہوتی ہیں وہ ان کو دیکھ کر ضرور سمجھ آتا ہے۔ ضروری نہیں آپ چلائیں بچوں میں ایگریشن بھر دیں ان میں سیلف اوبسیشن ڈال دیں۔
آپ نرم لہجے کے ساتھ اپنے حق کے لیے کھڑا ہونا سکھا کر بہت مضبوط ماں بن سکتے ہیں۔ آپ نرمی حساسیت ڈال کر رب سے تعلق کی مٹھاس سے روشناس کراکہ بہت مضبوط ماں بن سکتی ہیں۔

اور آپ درد دل دے کر اپنے بچوں کی صورت ہمیشہ والی نیکی زمین پر رکھ رہے ہوتے ہیں اور آپ نے یہ کیا ہے۔
آپ کی ہر بات میں جس طرح نیکی اور رب سے تعلق نکلتا ہے میری خواہش ہے ایسے ہی میری گفتگو کا مرکزی خیال وہ بن جائے۔ آپ سے نرم لہجہ سیکھنے کی کوشش کروں گی۔ کہ تھوڑی سی سلو لرنر ہوں ابھی تک سیکھ نہیں پائی۔ میری خواہش ہے آپ سے یہ تعلق قائم رہے مضبوط تر ہو۔
ہنجی آجاؤ ہن تسی۔۔۔

پہلا حصہ لکھا تو کسی نے پوچھا صرف عظما کا ذکر “ان” کا کیوں نہیں۔ ہم چپ رہے ہم ہنس دیئے۔
اگلا حصہ لکھنے سے پہلے آپ آگئیں تصور میں۔ تصور کو ڈانٹا تو تحریر پر کمنٹس آئے کہ آپ کہاں ہیں؟ ہر حصے پر کسی نا کسی نے آپ کے متعلق استفسار کیا۔
کیا لوگ آپ کو میری آنکھوں میں پڑھنے لگے ہیں؟

لیکن آنکھیں تو ہیں نہیں ادھر۔ آپ میری تحریر سے جھلکنے لگی ہیں یا پھر میرے لہجے میں آئی یہ نئی نرمی کہاں سے آتی ہے یہ معلوم ہوگیا ہے لوگوں کو؟ اگر یہ سب باتیں ہیں یا ان میں سے کوئی ایک بھی تو یقین کریں مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔ گو میں ایسی لڑکی نہیں😁 لیکن اگر کوئی سمجھتا ہے تو ٹھیک ہے سمجھتا رہے۔
ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے۔
دشنام تو نہیں یہ اکرام ہی تو ہے۔

جی چاہ رہا ہے یہاں ہی بات چھوڑ دوں ادھوری اور مسلمانوں کو تکے لگانے دوں۔
لیکن میں آپ نہیں ہوں نا کہ ایسی کوئی تحریر ادھوری چھوڑ دوں تو بھی لوگ ادھر ادھر چہ مگوئیاں کرنے کی بجائے دھڑا دھڑ شئیر کرنے لگیں کہ صاحبہ نے لکھا ہے تو یقینا کچھ اچھا ہی لکھا ہوگا۔

خاتون ایسی ہی ہیں وال پر ایک نکتہ ڈال دیں تو یار لوگ کئی نقطے نکال لیں اس میں سے۔ شعر کا ش لکھ دیں تو لوگ اس پر دیوان کہہ دیتے ہیں۔ شاعروں کے تخیل جیسی ہیں یعنی انھے واہ اچھی۔ اگر مجھے لکھنا آتا ہوتا تو ان کو اپنے ناول کا مرکزی کردار بناتی۔ ایک عدد فٹ سا ہیرو ڈالتی اور اسے ان کی محبت میں کھجل ہوتا دیکھتی۔ وہ فراز کی غزلیں سنایا کرتا تو یہ کبھی اے حقیقت منتظر “گا گا کر محبت کے۔مفہوم بدلنے پر مجبور کرتیں اسے۔
جو وہ مائل بہ رہبانیت ہوتا تو یہ شب وصل بھی ہے حجاب اسقدر کیوں سے شوق وصل کو مہمیز کرتیں۔
پر ہائے افسوس لکھنا نہ آیا ہمیں۔

زندگی میں اگر کبھی سنجیدگی سے کچھ لکھا تو اس کی ہیروئن آپ ہی ہوں گی۔ چاہے اس افسانے ناول داستاں میں ہیرؤین کی۔ضرورت نہ بھی ہوئی تو بھی۔ڈالی جائے گی۔
کیونکہ آپ محبت ہیں اور محبتیں کبھی بھی غیر ضروری نہیں ہوتیں۔

میرے پاس ایک شیطانی یاداشت ہے۔ پر اب یاد نہیں آرہا آپ کب سے دوست ہیں اور کب سے اتنی گہری دوست ہیں۔ یوں لگتا ہے بچپن کی سہیلی ہیں آپ میری طرف سے تو یہ ہی ہے۔آپ البتہ ہر دوسری وال پہ ایسے ہی “دوستیاں” کرتی نظر آتی ہیں۔ فیس بک کے شرق و غرب میں کوئی ایسی لڑکی نہیں جو ان کے شر سے محفوظ ہو۔ ہر لڑکی کو اپنی سہیلی بنانے کا شوق ہے انہیں۔ اسی شوق میں ایک بار سرخ دوپٹہ اوڑھے بکری کے پیچھے گھر سے بہت دور نکل گئی تھیں۔ پھر انکل واپس لے کر آئے تھے۔

خیر خاتون بہت خطرناک بھی ہیں صرف اچھائی ہی نہیں۔خطرناکی بھی ختم ہے ان پر۔
سائکالوجسٹ ہیں آپکو سائکو تھیرپیز دینے میں ہمہ وقت تیار۔ ان سے بات چیت میں انتہائی احتیاط کا مشورہ ہے کہ یہ اپنی ہلکی سی اداسی کا ذکر چھیڑ کر آپ کی بے پایاں اداسی کا نامحسوس علاج کر جاتی ہیں اور آپ کہہ دینے کی افسردگی کا شکار ہوسکتے ہیں۔
یہ ڈپریشن کا ذکر چھیڑ کر آدھا گھنٹہ مریضوں کی باتیں کرتی ہیں اور جانے سے پہلے آپ کو پتا چلتا ہے آج انہوں نے بیس نہیں اکیس مریض دیکھے ہیں۔
آپ کے مرض کا علاج کرتے ہوئے تاثر بھی نہیں آنے دیں گی کہ آپ کے مرض کی بات ہورہی ہے۔۔
بہت دن آپ کچھ لکھیں نہیں تو کہنے لگتی ہیں رائِنگ بلاک ہے کیا کروں۔
کہیں نظر نہ آئیں آپ تو پوچھیں گی یاسیت سی ہے جل بتاؤ۔
چپ ہوں تو اداسی کا نام لے کر آجائیں گی۔
اور آپ الٹے سیدھے مشورے دیتے کب اپنی نبض تھام لیتے ہیں معلوم نہیں پڑتا۔
مجھے نہیں پتا کب پہلی بار غم دل سے گھبرا کر انہیں پکارا تھا۔

اب تو بس یہ یاد ہے میری سکیچ بک کا سب سے رنگین و دلچسپ سکیچ ان کا ہے۔ کیونکہ نا مکمل ہے میں دانستہ اسے مکمل نہیں کرتی۔۔رابطے اور تعلق کی یہ صورت ٹوٹے مجھے قبول نہیں۔
خیر میٹھا زیادہ نہ ہوجائے بتائے دیتی ہوں۔ فون پر دو سو چالیس بلکہ اسی کی سپیڈ بولتی ہیں۔ اور بولنے کے وقفوں کے درمیان اگلے کو بہت بولنے کا طعنہ مار جاتی ہیں۔ اگر کسی مسئلہ پر بات کرنے کے لیے فون کرنا چاہیں تو ہرگز مت کریں کیونکہ ان کا فون ون وے ہوتا ہے۔ فریق ثانی کو صرف سننے کی سہولت میسر ہوتی ہے۔ لہذا سنجیدہ گفتگو کرنے کے لیے میسج کیجئے۔ وہ بھی اجازت طلب کر کے۔

بلا اجازت میسجز پہ آپ کو ایک لا ابالی بے فکر مصروف ترین ڈاکٹر تو مل سکتا ہے جویریہ سعید نہیں۔ یوں تو اس تعارف کے بعد نام لکھنے کی حاجت نہیں تھی لیکن معلوم تھا نام نہیں لکھا تو یہ یوں ہی پرٹینڈ کریں گی کہ یہ وہ نہیں۔
لہذا ہم نے فرار کی ہر راہ مسدود کردی۔
کچھ اور بھی لکھنا چاہتی ہوں بلکہ بہت کچھ لکھنا چاہتی ہوں۔ لیکن آپ پر لکھنا بہت ہی مشکل کام ہیں۔ بس یوں سمجھ لیجئے۔ آپ میرے کینوس کو سب سے بولڈ سٹروک ہیں۔ جس کے شارپ ایجز بھی اتنے ریفائن ہیں کہ کوئی بھی ذی روح ذی شعور ان سے محبت کر بیٹھے۔
آپ جسطرح کہانی میں مخلوق کو خالق سے جوڑ دیتی ہیں میری خواہش ہے میرے جنت والے ٹری ہاؤس کی ایک شاخ ایسے آپ کے ٹیرس پر گرتی ہو۔ جس کے پار آپ سے خاموش گفتگو ہوا کرے۔
البتہ ایموشنل بلیک میلنگ نہیں کیا کریں۔ ایکٹنگ بھی اچھی نہیں کرتیں آپ۔

اب چلتی ہوں اگر کوئی جوابی کاروائی کرئے گا تو یقین کریں اس کوخوش آمدید کہا جائے گا۔
امید ہے پیاری خواتین نے برا نہیں مانا ہوگا۔
اوہ شٹ ایک بات تو بتانا بھول گئی جب بھی کوئی خاتون اپنی دوست کو پیارا کہے تو اسے ہرگز پیارا مت سمجھیے۔
خیر تو پیاری خواتین آپ نے برا نہیں۔مانا ہوگا۔
لیکن اگر برا مانا ہے تو یقین کیجیے ہماری اس کے سوا کوئی برانچ نہیں۔
آج آنسہ مائل بہ کرم ہیں تو جاتے جاتے قاری کو بھی نصیحت کئے دیتی ہیں کہ ہم اپنے کہے کہ ذمہ دار ہیں کسی کے سمجھے کے نہیں۔اپنی نیت خیالات اور ان کے مطالب صرف ہم واضح کرسکتے ہیں۔
شکریہ

اس سلسلہ کی پچھلی تحریر اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: