پارلیمنٹ میں بیہودہ گوئی مناسب نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی

0
  • 45
    Shares

کالم نگاروں، تجزیہ کاروں اور لکھاریوں کا کام غلط باتوں کی نشاندھی کرنا، حکمراں یا مخالف غلط کام کریں تو انہیں بہتری کے مشورے دینا، غلط کو غلط صحیح کو صحیح کہنا ہے۔ پاکستان کی سیاست گزشتہ دو سال سے انتہائی غیر اخلاقی، غیر پارلیمانی، بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ بیہودہ گوئی کا اعلیٰ نمونہ بنی ہوئی ہے۔ پاناما لیکس سے اس کا آغاز ہوا۔ اس وقت نون لیگ برسر اقتدار تھی اس لیے نون لیگ کے بعض لیڈروں نے اخلاقیات کی تمام حدود کو پیرو تلے روندھا جس کے نتیجے میں عدالتوں نے انہیں طلب کیا، سرزنش کی، بعض کو سزائیں بھی ہوئی، نا اہلی ہوئی، یہاں تک کہ جیل کی ہوا بھی کھانا پڑی لیکن وہ پھر بھی اپنی بیہودہ گوئی سے بعض نہ آئے۔ یہی حال تحریک انصااف کے بعض لیڈروں کا تھا ایک سیر تو دوسرا سوا سیر تھا۔ انہوں نے بھی نون لیگیوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔ میاں صاحب نا ہل پہ نا اہل ہوئے، یہاں تک کہ عدالت سے سزا ہوئی ، اعلیٰ عدالت سے اب ان کی ضمانت ہو چکی۔ تحریک انصاف کی سیاست کسی حد تک کامیاب رہی ، نون لوگ کو عوام کی اکثریت نے نا منظور کر د یا جس کے نتیجے میں تحریک انصاف مرکز میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی ، وہ تن تنہا ایسا نہیں کر سکتے تھے، حکومت سازی کے لیے انہیں ان سیاسی جماعتوں کے دروازے پر بھی جانا پڑا جن کے بارے میں وہ سخت سے سخت زبان استعمال کر چکے تھے۔

لیکن اس کے سو ا کوئی چارہ نہ تھا۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو اور نون لیگ اور پیپلز پارٹی باہم مل جاتے تو تحریک انصاف کے لیے حکومت بنانا ممکن نہ ہوتا۔ لیکن اقتدار ایک ایسا پھل ہے کہ جو وقت آنے پر سخت سے سخت مخالفین کی دہلیز پر سلامی دینے پر مجبور کر دیتا ہے۔ تحریک انصاف نے جو کچھ کیا کوئی نئی بات نہیں تھی۔ ماضی میں پیپلز پارٹی اور نون لیگ بھی ایسا کرتی رہی ہیں۔ سندھ کے جس لیڈر پر آج سیاست کے دروازے بند ہیں، تقریر و بیان پر پابندی ہے، قطعہ نظر اس کے کہ اس کا عمل صحیح تھا یا غلط کون حکمراں اس کے در پر نہیں گیا۔ کون تھا جو بھاگ بھاگ کر لندن کے چکر لگایا کرتا تھا۔ ہمارے ملک میں سیاست اسی چیز کا نام رہ گیا ہے۔ اقتدار کے لیے عزت نفس کی بھی پروا نہیں کرتے، کل تک جس کو لعن طعن کرتے تھے، بد کلامی، بیہودگی، لغویت ، خرافات اور بازاری زبان کا استعمال کیا کرتے تھے، اقتدار حاصل کرنے، اسے قائم و دائم رکھنے کے لیے اسی کے در پر کھڑے گڑ گڑاتے نظر آتے ہیں۔

بات ان دنوں پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینٹ میں وفاقی وزیر اطلاعات اور مخالف جماعت کے سینیٹر اور سینئر مشاہد اللہ خان کی غیر اخلاقی گفتگو، فخریہ انداز سے تمسخر اڑانا فخر سمجھا جا رہا ہے۔ یہی کچھ سندھ اسمبلی میں حکمراں جماعت اور مخالف جماعت کے لیڈروں کا ہے۔ کسی قسم کی شرمندگی نہیں، اقتدار کا مطلب، وزیر بن جانے کا مطلب یہ تو نہیں کہ آپ عقلِ کل ہو گئے، مادر پدر آزاد ہو گئے، جس کو جو چاہوں کہوں، کسی شخص واحد کی عزت کا جنازہ نکال دو، فرد واحد کیا پوری قوم کا جنازہ نکال دو، کونسی قوم جس نے پاکستان کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیاہو، اس کا کردار مثالی رہا ہو، ان کے بارے میں معلوم کرنا ہے تو اپنے بزرگوں سے معلوم کرو، اپنے بڑوں سے معلوم کرو۔ وزیر اطلاعات فواد چودھری نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکوں کے احتساب کی بات کریں تو اپوزیشن واک آوٹ کرجاتی ہے۔

انہوں نے سینیٹر مشاہد اللہ خان کے بھائیوں کو پی آئی اے میں بھرتی کرانے کی بات کی، انہوں نے ریلوے میں سعد رفیق کا نام لے کر ریلوے میں غیر قانونی بھرتیاں کرانے کی بات کی۔ اگر ایسا ہوا تو حکومت کو چیلنج کرنا چاہیے، عدالت چلی جائے، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔ اس طرح پارلیمنٹ میں بغیر ثبوت کے گفتگو کرنا کسی بھی طرح مناسب نہیں۔ تحریک انصاف کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ انہیں حکومت کر نے کا تجربہ نہیں، نون لیگ اور پیپلز پارٹی حکومت کرنے میں ماہر ہیں۔ دونوں اس شعبہ میں طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ جب بھی کوئی بات ادھر ادھر دیکھتے ہیں تو فوری طور پر اپنی توپوں کا رخ تحریک انصاف کی جانب کر دیتے ہیں۔ اس سے تحریک انصاف کو حزیمت اٹھانا پڑتی ہے۔

کئی فیصلے ایسے سامنے آ چکے ہیں کہ حکومت نے کہاں ہم یہ کریں گے، پھر عوامی دباؤ اور ان دونوں سیاسی جماعتوں کے واویلا کرنے سے اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں کبھی نون لیگ بھی اور پیپلز پارٹی بھی اس دور سے گزر چکے ہیں۔ میاں صاحب پیدائشی وزیر اعظم نہیں تھے، زرداری صاحب پیدائشی صدر مملکت نہیں تھے۔ انسان تجربے سے سیکھتا ہے۔ رفتہ رفتہ تحریک انصاف کی حکومت بھی پختگی کا مظاہرہ کرنے لگے گی۔

مسائل اور مشکلات بے شمار ہیں ا س کے مقابلے میں انہیں حل کرنے والے تعداد میں کم اور تجربہ بھی نہیں رکھتے۔ بات وزیر اطلاعات کی تقریر کی کررہا تھا ۔ ان کی تقریر پر اپوزیشن نے واک آوٹ کیا ، وہ ان کا حق تھا،فواد چودھری نے کہا کہ ’ ڈاکوؤں کو ڈاکو نہ کہیں تو اور پھر کیا کہیں‘، یہاں انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا لیکن اپوزیشن نے ایسا کرنا مناسب سمجھا۔

اب اس کے مقابلے میں نون لیگ کے سینیٹر مشاہدا للہ خان جو بڑے جوشیلی تقریر کرنے کے ماہر ہیں، ٹی وی شوز میں نون لیگ کا دفاع بھر پور انداز سے کرتے ہیں۔ البتہ ان کی زبان بھی پٹری سے اتری ہوئی ہوتی ہے۔ انہیں اشعار خوب یاد ہیں اور برمحل ان کا استعمال بھی کرتے ہیں۔ یہاں تک جذبات میں آکر اوور ہو جاتے ہیں اور ضرورت سے زیادہ بول جاتے ہیں۔ انہیں تو غصہ اس بات کا بھی تھا کہ وزیر موصوف نے ان کا نام لے کر ان پر الزام لگایا ۔ سینٹ میں فواد چودھری کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے جناب مشاہد اللہ خان پر ایک رنگ آ رہا تھا ایک رنگ جا رہا تھا۔ خوب گرجے اور خوب برسے۔ اس عمر میں انسان کو اس قدر جذباتی نہیں ہونا چاہیے۔ انسان کے اعصاب کمزور پڑ جاتے ہیں، اقتدار آنی جانی چیز ہے، نون لیگ طویل عرصہ سے اقتدار میں تھی، موجودہ صورت حال رفتہ رفتہ ہضم ہو گی، برداشت کی عادت میں کچھ تو وقت لگے گا۔ پیپلز پارٹی کے پاس تو پھر بھی صوبہ سندھ کی حکومت کی باگ ڈور ہے پر نون لیگ تو بالکل ہی فارغ ہو چکی۔ اس لیے اس کا غم، درد اور دکھ جائز ہے۔ مشاہد اللہ خان صاحب نے فواد چودھری کو آڑے ہاتھوں لیا، ان کا کہنا تھا کہ فواد چودھری نے الزامات ثابت نہ کیے تو نانی یاد دلا دونگا، وزیر اعظم عمران خان کو انہیں خود وزارت سے نکالنا پڑے گا۔ انہوں نے فواد چودھری کے خلاف تحریک استحقاق جمع کرائی اور کہا کہ آپ مدینہ کی ریاست کے وزیر ہیں کہ رنگیلا شاہ کی۔ یہ جملے گھسے پٹے ہیں جو وہ دھراتے رہتے ہیں۔ سینیٹر موصوف نے اپنے دلی جذبات کا اظہار ذیل کے اشعار سے کیا۔ جالبؔ نے یہ شعر آج کے حکمرانوں کے لیے نہیں کہے تھے۔ یہ اگلے پچھلے تمام اس قسم کے حکمرانوں پر فٹ بیٹھتے ہیں۔

کمینے جب عروج پاتے ہیں
اپنی اوقات بھول جاتے ہیں

حکمراں ہو گئے کمینے لوگ
خاک میں مل گئے نگینے لوگ

کتنے کم ظرف ہوتے غبارے
چند پھوکوں سے پھول جاتے ہیں

مشاہد اللہ خان کو جالبؔ کا یہ شعر یاد نہیں آیا

کہاں قاتل بدلتے ہیں فقط چہرے بدلتے ہیں
عجب اپنا سفر ہے، فاصلے بھی ساتھ چلتے ہیں

چیئر مین سینٹ نے یہ شعر کارروئی سے حذف کرنے کو کہا جس پر مشاہد اللہ نے سینٹ چیرٔمین سے کہا کہ اگر یہ شعر حذف ہوئے تو پھر پوری نظم سنائوں گا۔ مشاہد اللہ خان کا مشاہدہ اور تجربہ بہت گہرا اور وسیع ہے۔ انہوں نے حبیب جالبؔ کے جو اشعار سنائے یہ موجودہ حکمرانوں کے لیے نہیں تھے۔ ہماری تو عمر گزر گئی ایسے سیاستدانوں اور ایسے حکمرانوں کو دیکھتے دیکھتے۔ ہم نے تو جالبؔ کو لاکھوں کے مجمعے میں شعر سناتے سنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اطلاعات الزامات ثابت کریں ورنہ ایوان میں آکر معافی مانگین ، انہوں نے دھمکی دی کہ اگر فواد چودھری نے معافی نہ مانگی تو اجلاس نہیں چلنے دونگا۔ وہاں صاحب اس قدر طاقت اور یہ غرور، قبلہ آپ اتنے ہی ترم خان ہوتے تو میاں صاحب نے آپ کو نکال باہر کیا، چپ کر کے کونہ پکڑا آپ نے، میاں صاحب پر کیا کچھ ظلم نہیں ہوا اس قدر طاقت ور تھے تو انہیں اس مشکل سے بچا لیتے ۔ یہ ہوائی باتیں انسان کو نہیں کرنی چاہیے۔ تکبر ، گھمنڈ اللہ کو پسند نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اطلاعات کے ماموں سابق گورنر پنجاب چودھری الطاف اچھے انسان تھے لیکن گندے انڈے بھی تو نکلتے ہیں اور بعض انڈے تو ایسے ہوتے ہیں، ان میں غلاظت بھری ہوتی ہے۔ حکومت کی جانب سے قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے مشاہد اللہ خان سے معافی مانگی۔ خوبصورت بات یہ تھی کہ مشاہد اللہ خان کے بالکل پیچھے رحمٰن ملک بیٹھے تھے اور مشاہد اللہ نے جو اشعار پڑھے ان پر خوب قہقہے لگاتے رہے۔

سندھ اسمبلی میں جو کچھ ہوا مختصر بتایا تفصیل مکمل کالم کی متقاضی ہے۔ موجودہ سیاست داں کوئی نئی بات نہیں کرر ہے۔ ماضی میں بھی یہ سب اسی طرح ایک دوسرے کی چھترول کرتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک دوسرے کو مختلف جانوروں سے تشبیح دیتے رہے ہیں۔ ایک طرف شدید تنقید دوسری جانب کبھی ایک جماعت میں تو کبھی دوسری جماعت میں، سب کچھ بھول جاتے ہیں کہ ابھی چند دن قبل ہم زرداری ، عمران خان، نواز شریف کو برا بھلا کہہ رہے تھے ان میں سے کسی نے چمکارا، سبز باغ دکھایا ہو لیے اسی کے ساتھ۔ مشتاق احمد یوسفی نے راشی، زانی اور شرابی کے لیے کہا تھا کہ آپ ’’انہیں ہمیشہ خوش اخلاق، ملنسار اور میٹھا پائیں گے کیونکہ وہ نخوت، سخت گیری اور بدمزاجی افورڈ ہی نہیں کر سکتے ‘‘۔

اسی طرح سیاستدانوں کی اکثریت کو ہمیشہ موقع شناس، مخالفین کو انتہائی برا بھلا کہہ کر معذرت کر لینا، اقتدار میں ان کے لیے کشش ہوتی ہے، اس لیے یہ لوگ بغیر پروٹوکول کے زندہ رہ ہی نہیں سکتے۔ اقتدار کے بغیر اگر یہ کہیں رہ سکتے ہیں تو وہ شہر ہیں دبئی، امریکہ اور لندن ہیں۔ وہاں یہ بغیر وزارت کے، بغیر سفارت کے خوشی خوشی رہتے ہیں، کبھی مصلحت کے تحت خود کو بیمار کر لیتے ہیں۔ ہمارے کتنے ہی سیاستداں آج دبئی، لندن اور امریکہ میں خوش و خرم ہیں، ظاہر میں بیمار، آج حکومت میں شمولیت دکھائی دے جائے دوڑے چلے آئیں گے، کیسی بیماری، کہاں کی بیماری، بس اقتدار اور اقتدار۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: