امکانِ علم اور پاکستانی کلچر —– محمد دین جوہر

0
  • 400
    Shares

مولانا ایوب دہلوی علیہ رحمۃ اپنے ایک لیکچر میں فرماتے ہیں:

میں نے لوگوں کو دیکھا ہے، اور سنا ہے کہ جن لوگوں کو کچھ آتا تھا، ان کو جتنا آتا تھا، انہوں نے اپنے شاگردوں کو اتنا نہیں بتایا۔ یہ روایت مجھے پہنچی۔ اس کا مجھے پورا علم ہے کہ ایسا ہوتا چلا آ رہا ہے۔ میں اس کے خلاف تھا، اس لیے میں بالکل بے تکان بیان کر دیتا ہوں۔ روکنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہر شخص جس کو خدا تعالیٰ فائدہ پہنچا دے، پتہ نہیں کون سی چیز خدا تعالیٰ کو پسند آئے۔ اس لیے میں اس کو کچھ نہیں روکتا۔ اکثر اوقات ایسی عجائب و غرائب باتیں آ جاتی ہیں، جو کسی کتاب میں بھی نہیں ہیں۔ میں ضرور ان کو بھی بیان کر دیتا ہوں اور یہ آپ سنتے ہیں۔ ہر تقریر میں ضرور ایک نہ ایک بات نئی آ جاتی ہے جو قطعی [کسی] کتاب کے اندر نہیں ہے۔ لیکن مجھے اس میں کوئی [تامل] نہیں ہوتا، میں اسے کبھی نہیں چھپاتا۔ چونکہ مجھ پر یہ گزر چکی ہے۔ میں یہ سمجھا کہ یہ ہمارے ہاں استادوں کا سلسلہ اوپر سے یونہی چلا آ رہا ہے۔ میں نے ایک کو دیکھ کے باقی کو اس پر قیاس کیا۔

اب میرے ساتھ جو استاد کا طرز عمل رہا، میں سمجھا کہ ان کے استاد کا بھی ان کے ساتھ یہی طرز رہا ہو گا، اور ان کے استاد کا ان کے ساتھ بھی یہی طرز عمل رہا ہو گا۔ [لیکن] ایک اختلاف سے یہ امکان پیدا ہو گیا، [کیونکہ] اس [اختلاف] سے شبہ پیدا ہو گیا۔ شبہے کا جو فائدہ ہے وہ آپ کو معلوم ہے۔ وہ [میرے استاد] بہت معمولی معمولی باتوں کو چھپایا کرتے تھے۔ اُن [باتوں] کے جانچنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ اتنی اہم نہیں ہوتی تھیں۔ اور اہم کا تو کوئی ذکر ہی نہیں، کچھ قید ہی نہیں، [کیونکہ] وہ سینوں ہی میں رہ گئیں! انہوں نے کتاب میں بھی نہیں لکھیں۔ کچھ باتیں کتاب کے اندر لکھیں بھی تو اس بری طرح لکھیں کہ سمجھ نہ آ سکیں۔ یہ طرز رکھا۔ طرزِ بیان ایسا رہا کہ ہر ایک کی سمجھ میں نہ آئے۔ اب جو ان کی اطاعت کرے، اور بہت خدمت کرے، اس سے وہ خوش ہوں، تو شاید مرتے وقت اس کو بتائیں۔ پانچ چھ سو برس سے یہ طرز رہا [ہے]۔ جو دور اس سے پہلے کا ہے، ان کے ہاں سب ظاہر ہے۔

یہ مجھے یوں پتہ چل گیا کہ وہ مضامین ان لوگوں کو چونکہ ملے نہیں، اس لیے ڈر گئے اور گھبرا گئے کہ یہ بند ہیں۔ وہ اگلی جگہ، اوپر جا کر بالکل کھلے ہوئے ہیں، بالکل صاف [ہیں]۔ انہوں نے کوئی چیز باقی نہیں رکھی۔ پانچ، سات سو سال کا جو پہلا دور ہے، اس زمانے کے عالم نے کوئی چیز نہیں چھپائی، اور ظاہر کر دی۔ پھر بیچ میں وقفہ پڑ گیا۔ اور دوسرا جو دور چلا انہوں نے چھپانا شروع کیا، اور اختصار کرنا شروع کیا۔ یہانتک کہ اب یہ تیسرا جو دور آیا ان کے سامنے ان سے اوپر کا دور رہا، بالکل اوپر کا دور [سامنے] نہیں [رہا]۔ ورنہ کوئی دقت ہی نہیں تھی۔ ان کو بیچ میں سے نکال ہی دینا چاہیے تھا، ان کی کچھ حاجت ہی نہیں۔ کوئی چیز ہی باقی نہیں [رہی]۔

دنیا میں کوئی اعتراض ایسا نہیں ہے جو اوپر [پہلے دور میں] نہ ہوا ہو، کوئی بدعت ایسی نہیں ہے جو اوپر نہ ہوئی ہو، کوئی گمراہی ایسی نہیں ہے جو نہیں گزری، کوئی ہدایت ایسی نہیں جو اوپر نہیں۔ طریقہ کار میں اختلاف ضرور رہا، ہدایت کے ادا کرنے میں اختلاف ضرور رہا، اس میں کثرت قلت ضرور رہی، لیکن سب چیزوں کا جواب دے دیا گیا، کوئی شبہ باقی نہیں رہا۔ کیونکہ ہدایت کا کرنا تو خدا کا کام ہے، اس لیے خدا کی کتاب میں ہدایت کے پورے ذرائع موجود ہیں۔ جتنے بھی شبہے ہو سکتے تھے وہ اصولاً سب اس میں نقل کر دیے، ہر شبہ اس اصول کی فرع ہو گا۔ اس لیے خدا نے ہر اصولی شبے کا اصولی ہدایت سے جواب دے دیا۔ جو ہدایت یافتہ لوگ تھے، انہوں نے اس کی تفصیل کر کے قوم کو بتا دی، اور سب کو سمجھا دیا، اور بالکل عام کر دیا۔
بحوالہ لیکچر مولانا محمد ایوب رحمۃ اللہ علیہ، بعنوان ”ذکر اللہ“۔

مولانا ایوبؒ کی مندرجہ بالا گفتگو سے جائز طور پر مندرجہ ذیل نتائج نکالے جا سکتے ہیں کہ:

(۱)۔ تمام روایتی پیشوں اور علوم مثلاً طب، تدریس، زباندانی، سلوک، عرفان وغیرہ کی طرح، متاخر زمانے میں ہماری کلامی روایت میں بھی استاد اور شاگرد کے تعلق میں بہت بنیادی تبدیلی آئی۔ یہ تعلق کسی روایت، پیشہ وارانہ اخلاقیات یا کسی مذہبی اخلاقیات وغیرہ کا پابند نہیں رہا تھا، بلکہ صرف استاد کے خاص تصورِ ذات کا پابند ہو گیا۔ واقعاتی صورت حال سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تصورِ ذات ازحد موضوعی، خودپرستانہ، ذات مرکز، بیمارانہ داخلیت کا شکار، اور انسان دشمن ہے۔

(۲)۔ مزید واضح ہے کہ یہ تعلق استاد کی ذات میں ایک ایسے بخل کو ظاہر کرتا ہے جو روایتِ علم اور تعلیم دونوں کے لیے مہلک رہا ہے اور بتدریج ثقہ روایت اور معیاری تعلیم کے خاتمے کا باعث بنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس رویے نے ہمارے کلچر میں استاد اور شاگرد کی نارمل شخصیت اور ان کے تہذیبی تعلق ہی کا خاتمہ کر دیا۔

(۳)۔ ایک اہم استنباط یہ بھی ہے کہ ’فیض‘ کا تعلق استاد کی خدمت سے ہے، اور خدمت کا یہ چیستانی تصور کسی مذہبی یا غیر مذہبی اخلاقیات پر مبنی نہیں ہے بلکہ استاد کی ترجیحات سے متعین ہوتا ہے اور سراسر یک طرفہ اور انسانیت کُش ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ’فیض‘ اس وقت تک جاری نہیں ہوتا جب تک شاگرد میں حمیتِ انسانی ہی کا مکمل خاتمہ نہ ہو جائے۔ ہمارے کلچر میں پائی جانے والی آفاقی بے حمیتی کا بڑا سبب اس چشمے کا خشک ہو جانا ہے۔ خوئے حمیت انسان کے شخصی احوال میں تعلق کے راستے جڑ پکڑتی ہے۔ ہماری تعلیم و تعلم میں اس کا بیج ہی باقی نہ رہا۔ اب ہماری روایتی مستری سازی، تعلیم، تدریس، طب، سلوک، عرفان اور کلام وغیرہ میں ہنرمندی یا روحانی ’فیض‘ کا کوئی تعلق حمیتِ انسانی سے نہیں رہا ہے۔ ایسی تعلیم، ایسا علم، ایسا فیض ہمارے معاشرے کے لیے جو جو ہلاکتیں لے کر آیا ہے، وہ ہمارے روزمرہ تجربے میں ہے۔ اس صورت حال کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ خدمت تو ابھی بھی جاری ہے، بلکہ چاکری اور غلامی میں ڈھل گئی ہے، لیکن فیض بحرِ جنوبی کی طرح بالکل ہی منجمد ہے، اور جس سے اب سر ہی پھوڑا جا سکتا ہے۔

(۴)۔ ہمارے ہاں شاگرد یا طالب علم یا مرید میں حمیتِ انسانی کا یہی خاتمہ ہے، جو فرقہ پرستی، شخصیت پرستی، ذہنی غلامی اور انتہاپسندی کی صورت میں ظاہر ہوا ہے، کیونکہ یہ سب علم یا تعلیم کے ثمرات نہیں ہیں، بلکہ بیمار تعلق کی فروعات ہیں۔ ہمارے ہاں جدید استعماری پیراڈائم کی طرح، روایتی پیراڈائم بھی اپنے امکانات ختم کر چکا ہے۔ حمیت کی اساس علم پر نہیں ہوتی، بلکہ عرفانِ ذات یا آج کی زبان میں ایک ایسے تصور انسان پر ہوتی ہے جو فرد کے اندر متحقق ہو جائے۔ یہ تحقق (actualization) تعلق کا ثمر ہے، علم کا نتیجہ نہیں ہے۔ مولانا ایوب رحمۃ اللہ علیہ نے جو صورتحال واضح کی ہے، وہ کسی خاص شعبے تک محدود نہیں ہے، بلکہ ہمارے معاشرے اور کلچر میں امر عام کا درجہ رکھتی ہے۔

علم کی کوئی بھی سرگرمی یا کارگزاری خود آگہی اور خود شعوری کے بغیر شروع نہیں ہو پاتی، یعنی کوئی علمی کام حالتِ انکار (state of denial) میں رہتے ہوئے ممکن نہیں ہوتا۔ فروغِ علم کی کوشش کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ حالتِ انکار سے نکلنا علمی روایت اور انسانی شعور کا اتنا بڑا مسئلہ ہے کہ اس میں کامیابی کا امکان بہر کم ہوتا ہوتا ہے۔ مثلاً، یہ ہماری قومی اور علمی حالت انکار ہی ہے، جو موجودہ علمی صورتحال کا ادراک نہیں ہونے دیتی۔ علم کے لیے ثقہ موضوعات، مشترک طرز استدلال اور عمومی اشتراک ضروری ہیں۔ اور ہمارے ہاں علمی مباحث ابھی تک ذاتی رائے سے آگے نہیں بڑھ سکے ہیں۔ گزارش ہے کہ ہمیں اس صورتحال کو ذمہ داری اور سنجیدگی سے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ قوموں کی تہذیبی اور مادی بقا میں علم ایک بنیادی ترین وسیلہ ہے۔

یہ بات بالکل بدیہی ہے کہ اس وقت ہمارے ہاں مذہبی، سیاسی اور سائنسی علوم کے بارے میں دو باتیں سو فیصد یقین سے کہی جا سکتی ہیں۔ لیکن ہمارا قومی اور علمی شعور ان کو قبول کرنے سے قطعاً انکاری ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں موجودہ اور متداول مذہبی علوم ہماری تہذیبی اور علمی روایت کے تسلسل سے پیدا نہیں ہوئے۔ دوسری بات یہ کہ ہمارے ہاں موجودہ اور متداول جدید علوم کسی مغربی یا خود زائدہ جدید روایت کا تسلسل بھی نہیں ہیں۔ اس بات کو ایک دوسرے انداز میں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہر تہذیب اپنی روایت علم میں رہتے ہوئے شرائطِ علم معروف معیارات پر طے کرتی ہے۔ ہمارے تمام موجودہ اور متداول مذہبی اور جدید علوم ہماری اپنی روایت کی طے کردہ شرائط علم پر یا جدید مغرب کی طے کردہ شرائط علم پر پورا نہیں اترتے۔ اٹھارویں صدی کے اوائل سے ہم جن چیزوں کو علم سمجھ کر سینے سے لگائے بیٹھے ہیں ان کی حیثیت محض تشریحات اور تعلیمی توضیحات وغیرہ کی ہے، علم کی نہیں ہے۔ علم کے زمرے میں انہیں بالمعمو ’جعلی علوم‘ کہا جا سکتا ہے۔

علم کی گفتگو میں ایک التباس کا پیدا ہونا لازمی ہے، اور وہ دینی تعلیم کے بارے میں ہے۔ دینی تعلیم کا استناد منقولی ہے اور روایت سے ہے، معقولی نہیں ہے اور نہ سیاسی ہے۔ مثلاً بطور مسلمان ہم اپنے بچوں کو ایمانیات، عبادات، مکارم الاخلاق وغیرہ کی تعلیم دیتے ہیں، ان کی بنیاد منقولی استناد ہے نہ کہ معقولی۔ لیکن علم کی واحد بنیاد عقلی ہوتی ہے، خواہ یہ کلامی ہو یا جدید معنوں میں سائنسی اور ریشنل۔ ہمارے ہاں علم کا خاتمہ اس معنی میں ہوا ہے کہ ہم عقلی استدلال کی کسی منہج سے بھی اب کوئی تعلق نہیں رکھتے، اور ہم نے مذہبی متون کی عام فہم جدید صحافتی تشریحات کو ’عقلی علوم‘ قرار دے رکھا ہے۔ ہمارے ہاں ایمانیات اور سیاسیات میں پرانے علمی مباحث ختم ہو گئے اور جدید مغربی مباحث سے براہ راست واقفیت کے فقدان نے صحافتی تشریحات کو اس حد تک فروغ دیا کہ ہمارے ہاں علم سے موانست ہی کا خاتمہ ہو گیا۔ صحافتی توضیحات و تشریحات اور شروحات میں استاد اور شخصیت اہم ہوتی ہے، اور علم میں موضوع اور استدلال اہم ہوتا ہے۔ مثلاً ایمانیات میں ہم وحی کا دفاع صرف اس صورت میں کر سکتے ہیں جب جدید علمیاتی مسائل سے واقفیت براہ راست ہو، ورنہ ہم منکرین وحی کو محافظین وحی بنائے رکھیں گے جو اب تک ہمارا وطیرہ چلا آتا ہے۔

روایت میں علوم کی درجہ بندی اور ان کا طریقۂ کار، ان میں عقلی اور نقلی استناد کے ذرائع معلوم و معروف ہیں۔ وہ علوم جنہیں اصول سے تعبیر کیا جاتا ہے ان میں عقل کو ایک تنظیمی اصول کی حیثیت حاصل ہے، جبکہ ان علوم کی اساسی محتویات کا استناد منقولی ہی رہا۔ جدید علوم میں میں تنظیمی اصول اور محتویاتِ علم دونوں عقلی ہیں۔ تنظیمی اصول کے عقلی ہونے کی وجہ سے انکاری عقل کی جارحانہ پیشرفت پر قدغن لگانے میں زبردست مدد ملی۔ تاریخی اور ثقافتی تبدیلی کے باعث کلام اور اصولِ فقہ نسیاً منسیاً ہو گئے، اور اس کی وجہ بالکل واضح ہے۔ کلام نئی علمیات کے روبرو حالتِ انکار کی وجہ سے برباد ہو گیا۔ جبکہ اصول فقہ مسئلہ اجتہاد پر دادِ سخن کی سطحیت سے فنا ہوا، اور یہاں حالت انکار زیادہ گہری ہے۔ فقہ، اصولِ فقہ اور مبحثِ اجتہاد جدید معاشروں کی بنیادی praxis کا کسی بھی سطح پر کوئی ادراک نہیں رکھتے۔ نئے افکار نے کلام اور نئے افعال و اعمال نے اصول فقہ اور فقہ پر جھاڑو پھیر دیا۔

دوسری طرف، تصوف الگ سے ایک عرفانی روایت کا حامل رہا ہے جس کا طریقۂ کار نہ معقول ہے اور نہ منقول۔ اشغالِ سلوک، نفس انسانی کے ایک مبسوط اور normative بیان پر مبنی رہے ہیں، اور اسی کو بنیاد بناتے ہوئے تزکیے اور فروغِ فضائل کے طریقے بنائے اور برتے گئے۔ یہاں بھی جھاڑو پھر گیا۔ جس طرح نئے تصورات و افکار سے اصولِ دین کی روایت نبردآزما نہ ہو سکی، اور نئے افعال و اعمال کے ظہور سے اصولِ فقہ، مبحثِ اجتہاد، اور فقہ بکھر کر رہ گئے، اسی طرح جدیدیت کے پیدا کردہ نئے احوالِ انسانی کے ظہور اور ان کے عدم ادراک سے ہمارا تصوف بھی فنا ہو گیا۔ نئے انسانی احوال میں نہایت اساسی نوعیت کے غم ناکی (melancholy)، انفکاکیت (alienation)، احساس کمتری (inferiority complex)، دبیلیت (depression)، نرگسیت (narcisism)، تنہائی (loneliness)، عدم تحفظ (insecurity)، بے معنویت (absurdity) وغیرہ ہیں۔ (جدید احوال کی فہرست اور ان پر تفصیلی گفتگو الگ سے کریں گے، کیونکہ ان میں ’جنسی آزادی‘ سے پیدا ہونے والے خوفناک وجودی احوال بھی شامل ہیں)۔ انسانی احوال کا روایتی نقشہ رذائل و فضائل پر مبنی اور اخلاقی نوعیت کا تھا۔ جبکہ جدید احوال صرف جزواً اور ضمناً اخلاقی ہیں، اور ان کی نوعیت وجودی ہے جس میں نفس، ارادہ اور شعور سب شامل ہیں۔ ہمارا تصوف و سلوک ان کے سامنے گھگیا کر حجرے کے طاقچے کے چراغ کے پیندے کے نیچے گھس گیا۔

ہمارے روایتی علوم میں صورتحال اس قدر افسوسناک ہے کہ کسی کلاسیکی موضوع، کسی کلاسیکی مبحث یا کسی کلاسیکی متن پر کوئی کام کی تحریر بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے کلام، فقہ اور تصوف کی کلاسیکی روایت زندہ تسلسل میں باقی نہیں ہے، اور کلاسیکی تناظر میں بدقت قابلِ رسائی اور قابل فہم ہے۔ اس میں افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جدید علوم اور ہم عصر تاریخی صورتحال سے ان کی نسبتیں ثقہ طور پر معلوم نہیں۔

جدید علوم کے حوالے سے بھی ہماری صورت حال بھی کچھ تسلی بخش نہیں اور زبردست اشکالات سے پر ہے۔ برصغیر کا مسلم معاشرہ جن جدید علوم سے ’فیص یاب‘ ہوا، وہ بنیادی طور پر استعماری تھے۔ ’استعماری‘، جدید ہونے کی ایک خاص ہیئت کا نام ہے۔ مثال کے طور پر سائنسی اور سماجی علوم کو مغرب میں جس فکری اور تہذیبی پس منظر، انسانی اور تعلیمی تناظر میں پڑھایا جاتا رہا ہے اور آج بھی پڑھائے جا رہے ہیں، ان کا کوئی سراغ ہماری استعماری تعلیم اور استعماری علوم میں نہیں ملتا۔ جدید مغربی علوم اصلاً حمیّت انسانی اور حریّتِ فکر کا اظہار ہیں، اور مغربی انسان کی پوری آدمیت کا اظہار ہیں۔ ابھی ان علوم کے حق و باطل سے بحث نہیں۔ جبکہ برصغیر میں جدید علوم استعماری حکمرانوں کے White Man›s Burden کا حصہ تھے، اور مقامی لوگوں کو بخشیش اور خیرات کے طور پر دیے گئے۔ جدید علوم سے مغربی انسان کو جو تہذیبی ادراک اور حریّت انسانی نصیب ہوئی اس کا یہاں کوئی امکان بھی استعماری علوم میں قابل تصور نہیں۔ جدید مغربی علوم تجلیلِ انسانی کا ہیکل اعظم ہیں، جبکہ استعماری تعلیم اور علوم تذلیل انسانی کا مرگھٹ ہیں۔ یہاں بھی جدید علوم کی گھٹی شکست کی چارپائی اور غلامی کی لوری کے ساتھ دی گئی۔ یہاں استعماری حکمران استاد بن کر بے حمیتی ہی کا راتب پکاتا اور کھلاتا رہا ہے۔

برصغیر میں اصول کی روایت کے خاتمے اور جدید علوم کی اساسی حریت سے عدم واقفیت نے ایک ایسی ثقافتی اور تعلیمی صورتحال پیدا کر دی جس میں نہ روایتی علوم ممکن رہے اور نہ جدید علوم کا امکان پیدا ہو سکا۔ اصولی مباحث کے خاتمے سے ذہن کا خاتمہ ہوا لیکن دہن باقی رہا۔ جبکہ جدید تعلیم کی بخشیش و عطا نے ہمارے پوری وجودی احوال ہی کو بدل دیا۔ اس صورتحال میں کچھ مذہبی متون اور کچھ جدید سائنسی خلاصے ہماری دسترس میں رہے اور ان کی تعبیرات و تشریحات بغیر کسی اصول کے سامنے آتی رہیں اور صحیح غلط کی اصولی بے شعوری میں سب کچھ ہاتھ سے جاتا رہا۔

اس صورت حال کا واحد حل صرف ایک ہے کہ معروف شرائط پر عقلی علوم کی طرف مراجعت کر کے حالتِ انکار (state of denial) سے باہر آنے کی کوشش کی جائے۔ احیا و بقا کے افسانے چھوڑ کر اول مرض کا علاج ضروری ہے، اور اسی کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: