قائد اعظم کی عائلی زندگی پر ایک منفرد کتاب ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعیم الرحمٰن

0
  • 38
    Shares

بھارت کی مشہور صحافی شیلا ریڈی کی قائد اعظم محمد علی جناح اور رتی جناح کی شادی کے بارے میں کتاب ’’مسٹر اینڈ مسز جناح‘‘ کے نام سے اوکسفرڈ پریس نے شائع کیا ہے۔ جس کا بہت عمدہ اردو ترجمہ امتیاز پراچہ نے کیا ہے۔ ان کے ترجمے میں تخلیق کا رنگ جھلکتا ہے۔ قائداعظم کی عائلی زندگی بارے میں یہ ایک منفرد کتاب ہے۔ جس کے ٹائٹل پر تحریر ہے ’’ہندوستان کی ایک حیران کن شادی۔‘‘ عمدہ کاغذ، اوکسفرڈ کی معیاری طباعت کے ساتھ چارسو اسی صفحات کی کتاب کی قیمت نوسو پچیانوے روپے ہے۔

کتاب کی مصنفہ شیلا ریڈی پینتیس سال سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ اس طویل سفر میں ان کی بے شمار تخلیقات منظر عام پر آئیں۔ معروف بھارتی انگلش نیوز میگزین ’’آؤٹ لک‘‘ میں انہیں سوانحی خاکے تحریر کرنے اور دنیا بھر کے مشہور و معروف افراد سے انٹرویوز کا بھی موقع ملا۔ ان کی تخلیقات ادبی رسائل میں بھی شائع ہوتی رہی ہیں۔ جن کے کئی مجموعے بھی اشاعت پذیر ہو چکے ہیں۔ ان کی پہلی کتاب خوشنونت سنگھ کے مضامین اور خاکوں کی تالیف پر مبنی تھی۔ وہ دلی میں مقیم ہیں۔

’’مسٹر اور مسز جناح‘‘ کے لیے شیلا ریڈی نے رتی جناح اور ان کے قریبی دوستوں کے خطوط کے علاوہ ان کے معاصرین کی تحریروں سے بھی استفادہ کیا ہے، جس میں انہوں نے ہمدردانہ اور دانشورانہ انداز میں اس شادی کی تصویر کشی کی ہے، جس نے پورے ہندوستانی معاشرے کو حیران کر دیا۔ رتی نے اٹھارہ برس کی عمر میں دگنی عمر کے محمد علی جناح سے شادی کر لی۔ لیکن جیسے ہی ہنگامہ خیز سیاسی دور آغاز ہوا تو قائد نے اپنی پوری توجہ اس جانب مبذول کر لی اور رتی خود کو الگ تھلگ اور تنہا محسوس کرنے لگیں۔ اسی عالم میں رتی جناح صرف انتیس سال کی عمر میں اپنی بیٹی دینا اور دل شکستہ شوہر کو چھوڑ کر دارِ فانی سے کوچ کر گئیں۔ ان کی وفات کے بعد قائد اعظم نے دوبارہ کبھی شادی نہیں کی۔ یہ کتاب گہری اور باریک بینی سے کی گئی تحقیق کے علاوہ دہلی، بمبئی اور کراچی میں مختلف ماہرین اور متعلقہ افراد سے کی گئی گفت گو کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔ کتاب میں مصنفہ نے حسرت زدہ اور تنہارتی اور غلط فہمی میں مبتلا اور گوشہ نشین محمدعلی جناح کو زندہ کرداروں کی شکل میں قارئین کے سامنے پیش کیا ہے۔ یہ کتاب ان تمام لوگوں کو ضرور پڑھنی چاہیے جو سیاست، تاریخ اور ایک ناقابلِ فراموش داستانِ محبت میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ کتاب سے قائداعظم کی زندگی کے چند نئے گوشے بھی سامنے آتے ہیں۔ اور ان کی ذاتی زندگی کو قومی جد و جہد پر قربان کرنے کا بھی علم ہوتا ہے۔

قائد اعظم کا ارادہ تھا یا نہیں مگر رتی جناح کا اسلام قبول کرنا ان کے سیاسی سفر میں نہایت اہم ثابت ہوا۔ خصوصاً انیس سو پینتالیس کی انتخابی مہم کے دوران جب ان کے حریف کھل کران کے مسلمان رہنما ہونے پر سوال اٹھاتے رہے۔ انیس سو تینتیس میں اسلام قبول کرنے والے کے ایل گابا لاہور کاسمو پولیٹن کلب ممبران کے ردِعمل کے بارے میں کہتا ہے۔ ’’ایسا لگتا تھا کہ میں نے معاشرتی اورسیاسی خودکشی کر لی ہو۔‘‘

شیلا ریڈی کتاب کے بارے میں کہتی ہیں کہ ’’کتاب کی تکمیل میں چار سال لگے، جس میں کئی دوستوں کا تعاون شامل ہے۔ جن میں پدماجا نائیڈو کاجذبہ اور لگن اور ان کی دور اندیشی اور تخیل جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے گھرانے کے بے شمار زندگی سے بھر پور خطوط جمع کر کے محفوظ کیے۔ یہ ایک بھرپور تحقیقی ماخذ ثابت ہوئے۔ جو انہوں نے نہرو میموریل لائبریری کے منتظمین کے سپرد کیے تھے۔ پاکستان میں امینہ سید نے ایک ماہ شاندار مہمان نوازی کی اور تحقیقی قیام کو پُرلطف اور کار آمد بنایا اور مجھے ہر اس شخص اور وسیلے تک رسائی دلائی جو جناح جیسے پیچیدہ موضوع کی جستجو میں درکار تھے۔ مجھ پر افراد اور کتابوں کی بھرمار کر دی۔ بمبئی میں سائرس گزدر نے انتھک محنت سے پارسی برادری میں ان شخصیات کو ڈھونڈ نکالا جو ہاتھ نہیں آتی تھیں اور ایسی جگہوں تک رسائی دلائی جہاں کے دروازے میرے لیے بند تھے۔ سائلو متھائی نے رتی کے خاندان کے شجرہ نسب اور پس منظر پر روشنی ڈالی۔ کاما اورینٹل انسٹیٹیوٹ کے لائبریرین نے بیش بہا مدد سے پارسی مواد تک رسائی دلائی۔‘‘

کڑی تحقیق اور جستجو کے بعد لکھی جانے والی ’’مسٹر اینڈ مسز جناح‘‘ ناصرف قائد اعظم کی عائلی زندگی کے بارے میں اہم ترین ماخذ ہے بلکہ اس کے ذریعے حیاتِ قائد کے چند ایسے گوشے بھی سامنے آئے ہیں جو لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے ہیں۔ پہلے باب کے آغاز میں شادی اور اس بارے میں قائداعظم کے کردار اور مستقل مزاجی کی جھلک واضح ہے۔

’’دو سال تک دنیا کو قیاس آرائیوں میں مبتلا رکھنے کے بعد، اپریل انیس سو اٹھارہ کی ایک گرم شام کو محمدعلی جناح نے رتی پٹیٹ سے شادی کر لی جو ایک امیر پارسی بیرونیٹ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ وہ بیالیس سال کے ٹھنڈے مزاج کے ایک سنجیدہ آدمی تھے، جنہوں نے اب تک اپنی زندگی اپنے محتاط انداز سے بنائے ہوئے منصوبے کے تحت گزاری تھی اور دو دہائیوں کی سخت محنت کے بعد عین اس مقام پرپہنچے تھے جہاں وہ خود کو دیکھنا چاہتے تھے۔ ملک کے ایک سب سے زیادہ معاوضہ پانے والے وکیل، وائسرائے کی امپیریل لیجسلیٹیو کونسل کے منتخب ممبر، مسلم سیاست کے سب سے بلندقامت قائد جو کانگریس کے سب سے اہم لیڈربننے کی جانب گامزن تھے۔ ان کے اب تک کے منصوبوں میں شادی شامل نہیں تھی۔ وہ بھی ایک ایسی امیر سوسائٹی گرل سے جو ان سے نصف عمر کی تھیں۔ لیکن ایک مرتبہ رتی سے شادی کا فیصلہ کر لینے کے بعد، وہ اپنی مخصوص پرعزم مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے ارادے کی تکمیل کی جانب چل پڑے۔ وہ تضحیک اور تحقیر آمیز تنقید کا سامنا کرتے، مہارت کے ساتھ اپنے راستے میں بچھائی گئی رکاوٹوں کو عبور کرتے اور ہر قدم اپنی زیرک منصوبہ بندی سے اٹھاتے رہے۔‘‘

رتی کے والد اور خاندان کی دولت مندی اور مقام اور قائداعظم سے ان کے مراسم کے بارے میں تحریر ہے کہ ’’رتی کے والد سر ڈنشا پٹیٹ، جناح کے ہم عمر اور وسیع جائیداد کے وارث تھے۔ وہ تعطیلات میں اپنے اہلِ خانہ کوبیرون ملک لے جاتے، لندن یا فرانس، جہاں فرنچ رویرا پر ایک بڑی جاگیر کے مالک تھے۔ پہلی جنگِ عظیم کے آغاز پر وہ بیرون ملک سفر نہ کر سکے اور گرمیوں میں رتی اور ان کے تین چھوٹے بھائیوں اور نوکروں کی فوج کے ساتھ پہاڑوں پر چلے گئے۔ مالا بار ہل میں سمندر کے سامنے ان کا محل نما مکان تھا۔ وہ جناح کو رتی کی پیدائش سے پہلے سے جانتے تھے اور ان کے معترف تھے۔ ان کی باوقار بیگم بھی ایسی ہی تھیں۔ غالباً پہلی مرتبہ جناح نے پٹیٹ گھرانے کی دعوت قبول کی۔ سر ڈنشا، جناح کے دلدادہ تھے، جو اپنے ہم عصروں میں اپنی پر اثر شخصیت اور جرات مندانہ قوم پرستی کی وجہ سے نہایت مقبول تھے۔ سر ڈنشا بائیس برس کے تھے توان کے والد کا انتقال ہو گیا اور ان پر والد کا خلا پُر کرنے کی ذمہ داری بھی آن پڑی۔ صرف چھ سال بعد انہیں اپنے دادا کے خطابات بھی حاصل ہو گئے اور ان کے کئی چچا زاد وراثت کی دوڑسے باہر ہو گئے۔ اس سے ان کو بے شمار دولت کے علاوہ اپنی اہمیت کے ادراک کے ساتھ ایک مستقل احساسِ عدم تحفظ بھی ملا۔‘‘

سر ڈنشا نے ہی جناح کو عدالتِ عالیہ میں پہلی پیشی کا موقع بلا واسطہ فراہم کیا۔ جس سے انہیں ابھرنے کا موقع ملا اور بجائے وہ موکلوں کے پیچھے بھاگتے، موکل ان کی تلاش میں پھرنے لگے۔ اس صورتحال نے جناح کے طبعی احساسِ برتری میں اضافہ کیا اور سر ڈنشا کے پرانے متمول خاندانی پس منظر کے باوجود وہ مقبولیت میں ان سے آگے نکل گئے۔ اس قسم کی معلومات پہلی بار اس کتاب کے ذریعے وضاحت سے سامنے آئی ہے۔

اسی دوران رتی اور جناح ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئے۔ زمانے کی رسم و رواج کے مطابق جناح، سر ڈنشا کے پاس رشتہ لے کر پہنچ گئے اور اپنی دوستی اور سر ڈنشا کا ذہنی سکون کو ہمیشہ کے لیے داؤ پر لگا دیا۔ اس پیغام کا امکان بھی سر ڈنشا کے وہم و گمان میں نہ تھا۔ حالانکہ ان کی خوبصورت بیٹی نے ساری گرمیوں کی تعطیلات جناح کے ساتھ گھڑ سواری کرتے، کتابیں پڑھتے اور سیاست پرگفت گو میں گزاری تھیں۔ جناح نا صرف رتی سے چوبیس سال بڑے تھے بلکہ وہ اسے بچپن سے جانتے تھے اور اپنے دوست کی، زندگی سے بھرپور بیٹی کے لیے کبھی بھی بزرگانہ شفقت کے سوا کسی جذبے کا اظہار نہیں کیا تھا۔ انہوں نے سر ڈنشا کو رام کرنے کے لیے اپنی وہ مہارت آزمائی جو وہ عدالت میں گواہوں پر جرح کے لیے استعمال کرتے تھے۔ سر ڈنشا سے سوال سے بات شروع کی۔ بین المذاہب شادیوں کے بارے میں ان کے کیا خیالات ہیں؟ سر ڈنشا نے اپنا موقف دُہرایا کہ اس سے قومی یک جہتی میں قابلِ ذکر بہتری آ سکتی ہے۔ تب جناح نے بڑے سکون کے ساتھ ان سے کہا کہ وہ ان کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ ’’سر ڈنشا بھونچکے رہ گئے!‘‘ بمبئی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس سر ایم سی چھاگلہ کے مطابق ’’سر ڈنشا نے بہت ہتک محسوس کی اور کسی ایسی تجویز کی تائید کرنے سے انکار کر دیا جو ان کی نظر میں بے تکی اور عجیب تھی۔‘‘

ان دو افراد نے اس گفت گو کے بارے میں کسی سے کبھی بات نہیں کی۔ لیکن جناح کی بمبئی واپسی پر یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی تھی اور آنیوالے برسوں میں اس نے افسانوی شکل اختیار کر لی اور نصف صدی تک دوہرائی جاتی رہی، یہاں تک کہ چھاگلہ کی یادیں Roses in December شائع ہوئی۔

رشتے سے انکار پر جناح اور رتی کی کوئی ہمت شکنی نہ ہوئی۔ نہ توانہوں نے اپنے جذبات چھپانے کی کوشش کی اور نہ ہی ایک دوسرے سے نظریں بچانے کی، جس کی وجہ سے وہ سب کی توجہ کا مرکز بن گئے۔

جناح کراچی سے مفلس بمبئی آئے تھے۔ وہ ایک ناکام بیوپاری کے سات بچوں میں سب سے بڑے تھے۔ دو دہائیوں کی انتھک محنت سے ترقی کی منازل طے کر کے وہ شہرکے مشہور اور امیر ترین وکیل بن گئے۔ سیاست کا روشن ستارہ ہونے کے ساتھ وہ اپنی پرتعیش گاڑیوں اور فیشن ایبل لباس سے پہچانے جاتے تھے۔ رتی ایک اعلیٰ ترین اور متمول خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ ان کی شادی کی امید سب کے لیے انتہائی دلچسپی کا موجب بن گئی۔ ایک ایسے وقت میں جب متنوع معاشرے کے کسی فرد میں یہ جرات نہ تھی کہ وہ ہندو، پارسی یامسلمانوں کی باہمی شادیوں کی متعین اور رائج حدود کو پار کر سکے۔ یہ متوقع رشتہ ہر محفل میں موضوع بحث بن گیا۔ بمبئی، پونا، حیدر آباد کے بے شمار طالب علم رتی کی پرکشش اور پروقار شخصیت کے پرستار تھے۔ جب انہیں پتہ چلا کہ جس نوخیز حسینہ کی وہ پوجا کرتے ہیں۔ اس نے خود کو ایسے شخص کے قدموں میں ڈال دیا ہے جو مسلمان ہونے کے ساتھ نا صرف اپنی سرد مزاجی اور سنجیدگی کی وجہ سے مشہور تھا بلکہ اس کے والد کے عمر کا تھا۔ یہ بات مایوس کن ہی نہیں ششدر کر دینے والی تھی۔

جناح کو قریب سے جاننے والی سروجنی نائیڈو کے لیے یہ سمجھنا اتنا مشکل نہیں تھا کہ ایک رومان پسند اور جلد متاثر ہونے والی نوجوان لڑکی، جناح کی محبت میں کیسے گرفتار ہو سکتی ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ ’’طویل قامت، باوقار لیکن فاقہ کش ہونے کی حد تک دبلے، عادات میں پُرسکون اور پُرتعیش محمدعلی جناح کے ظاہری نفیس خول کے اندر ایک غیر معمولی قوت ِبرداشت ہے۔ کسی حد تک تکلف اور رکھ رکھاؤ والے، لوگوں سے فاصلہ رکھنے والے، فاخرانہ اور رئیسانہ اندازکے پیچھے، جو لوگ انہیں جانتے ہیں وہ ایک معصومانہ اور پرجوش انسانیت، ہمدردانہ، لطیف، خوش مزاج اور بچوں کی سی دل کو موہ لینے والی طبیعت، بنیادی طور پر منطقی اور باعمل، محتاط اور زندگی کو پرکھنے اور قبول کرنے میں جذبات سے آزاد، ان کی ظاہری عقل اور دنیاوی دانش بھر پور طریقے سے پردہ پوشی کرتی ہے۔ ان کی خاموش اور شاندار آئیڈیلزم کو جو ان کی شخصیت کا نچوڑ ہے۔‘‘

یہ تمام باتیں قائد اعظم اور رتی جناح کو ایک نئے منفرد رومانی جوڑے کے روپ میں پیش کرتی ہیں۔ رتی نے یہ محبت خاموشی سے بارہ تیرہ سال کی عمرسے دل میں بسا رکھی تھی۔ جناح ان کے والدسے صرف تین سال چھوٹے، لباس اور اطوارمیں وکٹورین طرز کے حامل تھے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ جناح پر رتی کا کونسا جادو چل گیا۔ وہ کبھی خواتین کی محفل میں زیادہ کھُلنے کے عادی نہیں رہے تھے اور جس ماحول میں پلے بڑھے تھے اس میں خاندان کے سوا، خواتین سے واسطہ کم ہی رہتا تھا۔ سر ڈنشا نے جناح کے خلاف عدالت میں کیس بھی دائر کیا لیکن اس سے وہ کچھ حاصل نہ کر سکے۔ صرف یہ فرق پڑا کہ رتی نے اٹھارہ سال عمر ہونے کا خاموش انتظار شروع کر دیا۔

کتاب میں قائد اعظم کی ابتدائی زندگی معاشی مشکلات اور ان کے والد جناح بھائی کا انہیں گراہمز ٹریڈنگ کمپنی کے جنرل منیجرکی زیر سرپرستی تین سالہ تربیت کے لیے لندن بھیجنے کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ جن سے علم ہوتا ہے کہ قائد کن حالات میں لندن گئے اور انہوںنے وہاں کس قدر جد و جہد کے بعد کوئی مقام بنایا۔ لندن میں ان کی مصروفیات بھی کافی دلچسپ اور معلومات افزا ہیں۔

رتی اور جناح کی شادی کی تفصیلات بھی بے حد دلچسپ ہیں۔ بیس اپریل انیس سو اٹھارہ کو سرڈ نشا پٹیٹ نے ناشتہ کی میز پر اپنا پسندیدہ اخبار ’’بمبئی کرانیکل‘‘ کھولا اور صفحہ آٹھ پر ایک کالم ان کی نظر سے گزرا۔ اور وہ وہیں میز پر ڈھیر ہو گئے۔ آفیشل اور پرسنل کی سرخی کے ساتھ ایک مختصر خبر یوں تھی۔ ’’معززایم اے جناح کی شادی مس رتی پٹیٹ، دختر معزز سر ڈنشا پٹیٹ اور لیڈی پٹیٹ سے گذشتہ شام انجام پائی۔‘‘ اخبار نے خبر غیر اہم انداز میں اندرونی صفحات پر دی تھی۔ کیونکہ دولہا نا صرف اخبار کے بورڈ آف ٹرسٹیز میں شامل تھا بلکہ شائد ان محتاط جملوں میں خبر کا خالق بھی وہی تھا۔ ایک دوسرے اخبار میں خبر اس اضافے کے ساتھ شائع ہوئی۔ ’’رتن بائی، ممتاز پارسی بیرونیٹ، سر ڈنشا پٹیٹ کی اکلوتی بیٹی نے کل اسلام قبول کیا اور آج ان کی شادی معزز ایم اے جناح سے ہو رہی ہے۔‘‘

جس چیز کو کوئی نہیں سمجھ سکا وہ یہ تھی کہ کس طرح رتی دو دن لگاتار گھر سے غائب ہوئیں، پہلے اٹھارہ اپریل کو جناح کے ہمراہ جامع مسجد جا کر مذہب تبدیل کرنے کے لیے اور پھر اگلی شام اپنے والدین کی چوکس نظروں سے بچ کر پیدل ماؤنٹ پلیزنٹ روڈ پر جناح کے بنگلے تک گئیں، جہاں جناح ایک مولوی اور درجن بھر مرد گواہوں کے ساتھ انتظار کر رہے تھے، پھر رات بھر کے لیے غائب ہو گئیں اور ان کے اپنی خوابگاہ میں نہ ہونے کا کسی کو علم نہ ہو سکا، جبکہ والدین صبح اخبار کی خبرسے ان کی شادی سے آگاہ ہوئے۔ پٹیٹ ہال سے ان کے اس ڈرامائی فرار کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ رتی صرف دو ماہ قبل اٹھارہ سال کی ہوئی تھیں۔ لیکن کس خاموشی سے انہوں نے سب منصوبہ بندی کی کہ کسی کو کانوں کان خبرنہ ہو سکی۔

رتی نے ایک ابھرتے ہوئے لیڈر کو تسخیر کر لیا۔ جس کی عمرکچھ بھی ہو۔ وہ ایک ایسا مرد جو پرکشش تھا، طاقتور، باوقار، ایک مخصوص حسِ مزاح کا حامل جس نے ہر اس عورت کی توجہ کو رد کیا، جس نے اس کے قریب آنے کی کوشش کی۔ اب اتنے واضح انداز میں اس کا دیوانہ تھا۔ جسے انہوں نے کسی سے چھپانے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے اپنے چہر ے کو بھی تبدیل کر لیا، اسے خوش کرنے کے لیے، اپنی بھاری مونچھوں کو صاف کر کے، بالوں کو لمبا اور پیچھے طرف بنانے لگے۔ کیونکہ رتی نے ان کے رشتے کو قبول کرنے پر یہ شرط عائد کر دی تھی۔ انہوں نے فوری تعمیل کی اور مونچھوں کو منڈوا دیا۔

شادی سے صرف دو روز قبل پوری شام ہوم رول ساتھیوں کے ساتھ ملکر برطانوی حکومت کے لیے جناح نے پیغام کامسودہ تیار کیا۔ اس نوع کی مصروفیات کو دیکھتے ہوئے، سر ڈنشا یہ فرض کرنے میں اکیلے نہیں تھے کہ اب سیاست کی خاطر جناح کے سر سے رتی کا بھوت اتر چکا ہے۔ ان کی قریب ترین ساتھی ان کی بہن فاطمہ کوبھی کسی قسم کاشبہ نہیں ہوا کہ وہ کوئی خاص منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ لوگوں کے لیے وہ ایک مثالی جوڑا تھا، باوجود چوبیس سال کے فرق کے حاضر جواب، ذہین اور فیشن ایبل۔

صرف تین شاموں کے بعد رتی کا جناح کے ساتھ اپنے والدین سے سامنا ہوا۔ ٹاؤن ہال میں پروونشل وار کانفرنس میں انہیں گورنر نے ذاتی طور پر برطانیہ سے غیر متزلزل وفاداری پر ذاتی طور پر مدعو کیا۔ دونوں ہال میں موجود لوگوں کی نظروں کا مرکز بنے ہوئے تھے۔ سر ڈنشا نے مختصر تقریر میں بادشاہ سے وفاداری کی قرارداد کی حمایت کی۔ بہر حال دونوں میاں بیوی اس مشکل مرحلے سے بھی گزر گئے۔

جناح نے رتی سے تمام تر محبت کے باوجود سیاست اور قوم کے لیے مسلسل کام کو ترجیح دی۔ رتی نے گاڑی چلانا نہیں سیکھی مگر پھر بھی ڈرائیور کے ساتھ جانا اور واپسی پر جناح کے ساتھ پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر گھر آنے کا اپنا لطف تھا۔ جس پر جناح کو بھی کوئی اعتراض نہ تھا۔ وہ انہیں ہر جگہ ساتھ لے جاتے۔ تب بھی جب وہ دیگر وکلاء کے ساتھ میٹنگ کے دوران بغیر اطلاع کے پہنچ جاتی تھیں۔ سی ایم چھاگلہ جو سیاست اور قانون میں جناح کو اپنا گرو مانتا تھا۔ بیگم جناح کے اس نامناسب رویہ پر معترض تھا۔ وہ لکھتاہے کہ ’’ایک ایسے لباس میں جو ماڈرن لوگوں کے لیے بھی کچھ زیادہ قابلِ قبول نہ تھا،وہ آ کے جناح کی میز پر ٹانگیں لٹکا کر بیٹھ گئیں اور کانفرنس ختم ہونے کا انتظار کرنے لگیں تا کہ دونوں ساتھ گھر جا سکیں۔ کوئی بھی شوہر اس رویے پر برہم ہو جاتا مگرچھاگلہ کے مطابق جناح نے کوئی ردِعمل نہیں دکھایا۔‘‘

مسٹر اور مسز جناح سے یہ بھی واضح ہوا کہ قائداعظم نے اپنے عظیم قومی مقصد، سیاست اور جدوجہد پر ذاتی زندگی اور اپنی محبت بھی قربان کر دی۔ وہ اپنی مصروفیات میں رتی جناح کو وقت نہ دے سکے۔ اور ایک بڑے خاندان کی ناز و نعم میں پروردہ رتی تنہائی کا شکار ہو کر کئی جسمانی اور نفسیاتی عوارض کا شکار ہو گئی۔ وہ کئی بار اسپتال میں داخل ہوئی۔ اور کئی بار صحت یاب۔ وہ نشے کی بھی عادی بنی اور خراب سوسائٹی میں بھی اس نے پناہ ڈھونڈی۔ سروجنی نائیڈو کے گھر کو اپنی پناہگاہ بنایا اور کئی بار ان کے گھر سارا سارا دن گزار دیا۔ لیکن قائد کی قومی جدوجہد ان کے لیے وقت نہ نکال سکی۔ کانجی دوار کاداس لکھتے ہیں کہ ’’رتی اگرچہ ان سے اتنی چھوٹی تھیں، مگروہ انہیں احساس دلائے بغیر ان کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔‘‘

جناح نے بھی رتی کی چھیڑ چھاڑ، ضد پر اپنی محتاط عادات سے باہر نکلے۔ وہ اخبارات ترک کر کے گھڑ سواری اور لمبی ڈرائیو کی جانب راغب ہونے لگے۔ انہوں نے اپنے مزاج کے برخلاف کوشش ضرور کی۔ باغیچے میں رتی کی خواہش پر اپنی محبت کی نشانی ایک پودا بھی لگایا۔ مگر دوستوں کی مبارک باد کے پیغامات کا جواب دینے پر راضی نہ ہوئے۔ سیاسی مصروفیات میں جناح بچے کی پیدائش کوبھی نظر انداز کر کے بحری جہاز پر لندن روانہ ہو گئے۔ لیکن وہ مشکل فیصلہ کرتے ہوئے رتی کو ساتھ لے گئے۔ جس سے رتی بہت خوش ہوئیں۔

جناح مصروفیات سے بچی کے لیے بھی وقت نہ نکال سکے۔ نہ رتی کو اس پرتوجہ دینے کی فکر تھی۔ رتی کی دوست پدماجا اپنی بہن کو لکھتی ہیں کہ ’’میں رتی کا رویہ سمجھنے سے قاصر ہوں، میں اوروں کی طرح انہیں موردِ الزام نہیں ٹھہراتی۔ لیکن جب اس ننھی کھوئی اور سہمی ہوئی بچی کا سوچتی ہوں جو ایک زخم خوردہ جانورکی طرح لگتی ہے تو مجھے رتی سے نفرت سی محسوس ہوتی ہے، حالانکہ میں انہیں بہت چاہتی ہوں۔‘‘

رتی، شوہر کی شدید مصروفیات کے دوران فرانس میں شدید بیمار ہو گئیں۔ جناح اس وقت ڈبلن میں تھے۔ اطلاع ملنے پر فوری طور پر پیرس روانہ ہو گئے۔ اگرچہ انہیں شک گزرا کہ یہ انہیں بلوانے کا بہانہ تو نہیں۔ جناح نے ایک ماہ سے زیادہ چوبیس گھنٹے رتی کی تیمارداری میں صرف کیے، حتٰی کہ کھانا بھی وہی کھاتے جو رتی کھاتیں۔ اس سے بھی بڑھ کر قربانی ان کے مقصد کی تھی۔ ہندوستان میں ان کی کمی محسوس کی جا رہی تھی۔ سروجنی، چھاگلہ اور موتی لال کی منت سماجت بھی جناح کو رتی کو نازک حالت میں چھوڑ کر پیرس سے لوٹنے پر قائل نہ کر سکی۔ لیکن رتی اچانک اپنی ماں کے ساتھ جناح کو چھوڑ کر چلی گئیں۔ جہاز میں سوار ہوتے ہی رتی نے جناح کو خط تحریر کیا۔ ’’اگر میں تم سے ذرا سی بھی کم محبت کرتی، تو ہو سکتا ہے میں تمہارے ساتھ رہ جاتی۔ میں نے پیرس میں تمہیں خط لکھا تھا روانگی کے بعد ارسال کرنے کے لیے۔ مگر میں نے اسے تلف کر کے دوبارہ لکھنے کا فیصلہ کیا ہے جو دل کی گہرائیوں سے قلم بند کر رہی ہوں۔ جیسے میں نے تم سے محبت کی ہے وہ بہت کم مردوں کے حصے میں آتی ہے۔ میں التجا کرتی ہوں ہمارے جس سانحے کی ابتدا محبت سے ہوئی تھی، اس کا اختتام بھی محبت سے ہو۔ خدا حافظ رتی۔‘‘

بیس فروری انیس سو انتیس کو اپنی انتیس ویں سالگرہ کے دن رتی جناح وفات پا گئیں۔ کوئی سرکاری طبی ریکارڈ موجود نہیں جس میں موت کا سبب بیان کیا گیا ہو۔ مگر نصف صدی بعد کانجی دوار کاداس نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ ’’رتی نے خود اپنی جان نیند کی گولیاں نگل کر لی تھی۔ جس کے لیے انہوں نے اپنی سالگرہ کا دن منتخب کیا۔‘‘

قائد اعظم محمد علی جناح نے قومی جدوجہد کی خاطر اپنی بیماری کو چھپانے کے علاوہ اپنی محبت کی قربانی اور بیٹی سے دوری بھی برداشت کی۔ ’’مسٹر اور مسز جناح‘‘ تقسیم ہند اور اس کے لیے قائد اعظم کی پیہم کاوشوں اور کئی نئے پہلو اجاگر کرتی ہے۔ اس کا مطالعہ ہر اس شخص کو کرنا چاہئے جو قیام پاکستان کی تاریخ میں دلچسپی رکھتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: