صاحب تو صاحب، صاحب کا کتا بھی —– عطا محمد تبسم

0
  • 20
    Shares

صاحب تو صاحب، صاحب کا کتا بھی اب اتنا مقبول ہے کہ آئے دن اس کی خبریں اور تصاویر اخبارات اور چینلز کی اسکرین پر نظر آتی ہیں۔ کتے روتے تو ہیں، راتوں کو روتے ہیں، اور منہ اٹھا اٹھا کر روتے ہیں، لیکن ان کے آنسو کسی کو نظر ہی نہیں آتے تھے، بھلا ہو بشری بی بی کا انہوں نے کچھ اس طرح سے موٹو کے آنسو دکھائے کہ بہت سے لوگوں کے آنسو نکل پڑے۔

وزیر اعظم ہاؤس انسانوں ہی سے نہیں جانوروں سے بھی پہچانا جاتا ہے۔ صدقے کے بکرے تو بیچارے قربانی کے لیے ہی یہاں لائے جاتے ہیں، لیکن گھوڑے وہ بھی بادام پستے کھانے والے بہت عرصے وزیر اعظم ہاؤس میں اپنی آئینی مدت گزار کر جاچکے ہیں۔ ہمارا وزیر اعظم ہاؤس بھی خوب ہے یہاں کے مکینوں کے ساتھ یہاں بھانت بھانت کے جناور آتے جاتے ہیں۔ ا

ب پچھلے دور ہی کو لے لیجئے، دوتین بھینس کو بھی یہاں اپنی زندگی کے خوشگوار لمحات کا موقع مل گیا۔ یہ بھینس جانے کونسا اسپیشل چارہ نوش کرتی ہوں گی، ان کا دودھ بھی شہد سا میٹھا اور خوشبو میں بسا ہوگا، جو انھیں وزیراعظم ہاؤس میں استراحت کے لیے چنا گیا۔ یوں بھی ہمارے موجودہ وزیر اعظم نہایت زیرک، دور اندیش ہیں، انھوں نے ایسی جگہ جہاں گھوڑے، بھینس، بکرے رہتے ہوں اپنے رہنے کے لیے پسند ہی نہ کی۔ ورنہ یہاں اب کتوں کا بھی بسرا ہوتا۔

کتے دور اندیش ہوتے ہیں، اپنا مقام پہچانتے ہیں۔ اس لیے عموما گھر کے باہر ہی دربان بنے بیٹھے رہتے ہیں، جیسے اصحاب کے کہف کا کتا غار کے دروازے پر ہی بیٹھا رہا۔ کتوں کو اپنی اوقات کو بھی پتہ ہوتا ہے، کب مالک ناراض ہوجائے اور دھوبی کے کتے کی طرح گھر کا رہے نہ گھاٹ کا۔ صاحب نے اپنے پالتو کتے کو گھر سے نکالنے کے حوالے سے میڈیا پر آنے والی خبروں کی سختی سے تردید کی اور پالتو کتے شیرو کو گھر سے نکالنے کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”میرا شیرو تین سال پہلے مر چکا ہے، اب ایک موٹو اور دو ین کتے میرے پاس ہیں“۔ موٹو اب شہرت کی بلندیوں پر ہے، موٹو کو بشری بی بی کے انٹرویو کے بعد بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی ہے، انٹرنیشنل میڈیا موٹو کے انٹرویو کے لیے لائین لگا کر کھڑا ہے۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ موٹو چینلز کے اینکرز کو منہ نہ لگائے، لیکن فوٹو سیشن پر آمادہ ہوجائے۔ آن لائن انسائیکلوپیڈیا نے تو صاحب کے پالتو کتے کے لئے ایک صفحہ بھی مختص کردیا ہے۔ اور اس کی تصدیق کرتے ہوئے یہ جواز بھی دیا ہے کہ صاحب کا کتا کافی عرصے سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کے لئے وکی پیڈیا نے خصوصی صفحہ مختص کیا۔ وکی پیڈیا میں امریکی صدور کے پالتو جانوروں کو تو پہلے ہی جگہ دی جا چکی ہے۔ پچھلے دنوں میڈیا میں کئی مہینوں سے یہ بھونچال آیا ہوا تھا کہ بشریٰ بی بی نے موٹو کو گھر سے نکال دیا ہے۔ لیکن بشریٰ بی بی نے یہ کہ کر ان کی امیدوں پر اوس ڈال دی ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ دور نمائی میں اپنی رونمائی کے پہلے انٹرویو میں بشریٰ بی بی جو واقعہ بیان کیا ہے، اس نے موٹو کو کتوں کی صف سے نکال کر اشراف اور نجیب کے زمرے میں داخل کردیا ہے۔ خر عیسی کی طرح اب یہ بھی تاریخ میں مقام پائے گا۔ بشری بی بی نے موٹو کی آنکھوں میں آئے آنسو اور بہتے پانی کا ایسے دلگذار بیان فرمایا کہ موٹو کی قسمت پر رشک آتا ہے۔ کہتی ہیں”ایک دن میں جائے نماز پر بیٹھی تھی کہ شیرو میرے قریب آگیا۔ میں نے سوچا کہ یہ کہیں میری جائے نماز پر آکر نہ بیٹھ جائے۔ میں نے اسے ہاتھ کے اشارے سے پیچھے کر دیا۔ وہ خاموشی سے صوفے کے پیچھے بیٹھ گیا۔ جب میں نے اٹھ کر اسے دیکھا تو وہ صوفے کے پیچھے چھپ کر رو رہا تھا۔ مجھے اس دن احساس ہوا کہ یہ بھی ہمارے جیسا ہے، اس کے بھی جذبات اور احساسات ہیں۔ اس دن سے میں شیرو کا خیال رکھتی ہوں۔ اب میں جہاں جاتی ہوں وہ میرے ساتھ جاتا ہے۔ اب پتہ نہیں مزارات پر جاتے وقت موٹو کس درجہ پر شمار ہوگا۔

کتے بہت حساس ہوتے ہیں، اپنے مالک کی پسند نا پسند کا خیال رکھتے ہیں اور اپنے شب روز ان کی دلچسپی کے مطابق ڈھا ل لیتے ہیں۔ ارجنٹائن کے کپتان اور بارسلونا کے فاروڈ پلیئر میسی خود تو بہت اچھی فٹبال کھیلتے ہیں لیکن ان کا کتا بھی بہترین کھلاڑی ہے۔ جنرل مشرف کا بھی کتوںکا ساتھ تھا۔ انہوں نے دو پالتو کتوں کو تھامے ہوئے ایک تصویر کھینچوائی تھی، لیکن ان کی قسمت خراب تھی، ان کے پیٹی بند اس باب میں ایک پیج پر نہ رہے۔ جس کی وجہ سے انہیں کافی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

کتے کتے ہوتے ہیں، ان کا کام بھونکنا ہی ہوتا ہے، اس لیے سر ونسٹن چرچل کا قول یاد رکھیں کہ آپ کبھی اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکتے اگر آپ راستے میں آنے والے ہر کتے کو پتھر مارنا شروع کر دیں۔ اور واقعی ہر کتے کو پتھر مارنے سے سوائے منزل کھوٹی ہونے کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اس لئے کتوں کو بھونکنے دیتے رہنا چایئے۔ کیونکہ انکا تو کام ہی بھونکنا ہے۔ کبھی کسی پر اور کبھی کسی پر۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: