بھکاری پن: وباء، لت یا شوق؟ —- ڈاکٹر فرحان کامرانی

0
  • 100
    Shares

ہمارے وطن کے ٹی وی چینلوں پر ایسے گیم شوز بہت کثرت سے آتے ہیں کہ جن میں کچھ کھیلوں، کچھ سوالوں کے جوابات اور کچھ ہنسی مذاق کے بدلے تحفے تحائف بانٹے جاتے ہیں، ان پروگراموں کا شجرہ نسل نکالیے تو یہ سلسلہ پاکستان ٹیلی ویژن کے ’’نیلام گھر‘‘ سے شروع ہوا تھا۔ یہ پروگرام آج کے دن تک جاری ہے، اس پروگرام میں تحائف کسی مقابلے کے بعد ہی ملتے ہیں اور عموماً سستے قسم کے ہوتے ہیں۔ اگر گاڑی یا موٹر سائیکل وغیرہ کسی کو ملتی ہے تو اس کے لئے بہت سخت مقابلہ ہوتا ہے۔ مگر جب نجی چینلز کا اجراء وطن عزیز میں ہوا تو ابتداء رمضان میں یہ سلسلے شروع ہوئے۔ اب تحائف کی بھرمار تھی اور ان کے لئے کسی نوع کے مقابلے کی ضرورت نہ تھی۔ بس میزبان آپ کو کسی بھی وجہ سے کوئی تحفہ دے سکتا ہے۔ عامر لیاقت حسین صاحب ’’ایک جیسے کپڑے‘‘ پہنے افراد کو بھی انعامات دے دیتے تھے۔ بس پھر یہ سلسلہ رمضان سے نکل کر عام دنوں تک بھی پھیل گیا اور عامر لیاقت صاحب کے علاوہ بھی نت نئے چہرے ایسے پروگرامز کرنے لگے۔ رفتہ رفتہ یہ پروگرامز بھکاریوں میں راشن بانٹنے کے سے مظاہرے میں تبدیل ہو گئے۔ ایک بھکاریوں کا ٹولہ اپنی بے عزتی کروا کر سامان ’’لوٹ‘‘ رہا ہوتا اور ایک دوسرا بھکاری ٹولہ ان پروگراموں میں قیمتی چیزوں کے یوں ملنے پر رال ٹپکا رہا ہوتا۔ حال ہی میں ایک نجی چینل نے (جو ہر بات میں خود کو پاکستان کا ہر لحاظ سے سب سے بڑا چینل باور کرانے پر مصر رہتا ہے) اپنے اسی نوع کے پروگرام کی تشہیر میں انتہائی مہنگی اشیاء بانٹنے کا دعویٰ کیا اور پھر بانٹ کر بھی دکھائیں۔ لوگ ایسے پروگراموں کو دیکھ کر جیسے مدہوش ہونے لگتے ہیں۔ اس معاشرے میں ہزاروں لوگ یہ شکوہ کرتے ملتے ہیں کہ ان کی ایسے کسی ’’گیم شو‘‘ تک رسائی نہیں۔ کئی لوگ ان شوز میں سخت محنت سے شرکت کا راستہ نکال کر جاتے ہیں اور بعد میں ہمیشہ روتے ہوئے ہی ملتے ہیں کہ انہیں شو میں جا کر بھی موقع نہ مل سکا یا اتنا موقع نہ مل سکا کہ جس کا انہوں نے خواب دیکھا تھا۔

مگر آخر ان پروگراموں میں مسئلہ کیا ہے اور ہم کیوں اپنا دل جلا رہے ہیں؟ ذرا باریک بینی سے اپنے پڑوسی ملک بھارت کے ٹی وی چینلوں پر تحقیق کیجئے کہ وہاں ایسے کتنے شو آتے ہیں؟ دس کا دم، کون بنے گا کروڑ پتی، سب سے اسمارٹ کون، کیا آپ پانچویں پاس سے تیز ہیں وغیرہ۔ ان سب ہی شوز میں کبھی بھی اس طرح تحائف یا انعامات نہیں بانٹے جاتے۔تحائف یا انعامات صرف کسی سخت ذہنی آزمائش یا کسی کھیل کے بعد ملتے ہیں اور کبھی بھی اس میں تحقیر یا تذلیل کا پہلو نہیں ہوتا۔ یعنی بھارت کے گیم شوز دراصل مفت خوری اور بھکاری پن کی عمومی ترویج نہیں کرتے بلکہ مقابلے اور آزمائش کی روح کے ساتھ ہوتے ہیں اور کسی بھی حال میں حاضرین یا مقابلے کے شرکاء کی توہین نہیں کی جاتی۔ اب اس کا مقابلہ اپنے وطن کے گیم شوز سے کر لیجئے۔

youtube پر ڈھونڈیں گے تو ان گنت ایسے مناظر مل جائیں گے جب کسی نے حاضرین میں سے میزبان سے اپنی مجبوری بتا کر کوئی چیز (جیسے موٹر سائیکل) طلب کی اور میزبان بس چور کو اس کے گھر تک پہنچانے پر لگ گیا اور مانگنے والے کی خوب توہین کر دی۔ عامر لیاقت کے ایسے کئی کارنامے مقبول ہیں۔ پھر بہت سے پروگراموں میں انعام کے طلب گار شخص سے میزبان ناچنے یا کچھ گانے کی فرمائش کر دیتا ہے۔ ہر قسم کے لوگ یوں اپنی توہین کروا کر انعام لینے پر راضی ہو جاتے ہیں، حاضرین میزبان کے لئے پوسٹر یا رنگ برنگے خط بنا کر لاتے ہیں کہ جس کے عوض وہ کوئی تحفہ طلب کرتے ہیں۔عجیب بات ہے کہ ہم اپنے پڑوسی بھارت سے اس صفت میں مختلف ہیں، یعنی یہ ہمارا کوئی خاص اجتماعی مزاج ہے جس کا تعلق ہمارے کسی نوع کے قومی کردار سے ہے۔

غور کیجئے تو یہ سارا ہی رویہ بھکاری پن کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ بھکاری ہونے کے بارے میں یہ تاثر بہت عام ہے کہ غربت انسان کو بھکاری بنا دیتی ہے۔ یہ بات جس قدر عام ہے اتنی ہی غلط ہے۔ بھکاری پن ایک فطرت ہے جس کا کوئی خاص تعلق غربت سے ہے ہی نہیں۔ راقم الحروف ایک مستند ذریعہ سے ایک ایسے بینک منیجر کو جانتا ہے کہ جو اکثر اپنے اہل خانہ کو لے کر حج اور عمرہ وغیرہ پر چلا جاتا ہے اور وہاں اپنے خاندان کے ساتھ بھیک مانگتا ہے۔ راقم الحروف کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ایک ایسے افسر کو بھی جانتا ہے کہ جو 18 گریڈ پر فائز ہے مگر دفتر جاتے ہوئے راستے میں لوگوں سے بھیک مانگتا ہے اور دفتر میں تنخواہ کے علاوہ اوپر کی آمدن اتنی ہے کہ بعض دن ایک ایک لاکھ تک رشوت مل جاتی ہے۔ راقم الحروف اس کے علاوہ ایسے دو تین خاندانوں کا بھی مشاہدہ کر چکا ہے کہ جو اپنے گھر کی شادیوں میں اپنے بیرون ملک مقیم رشتے داروں سے غربت کا ڈرامہ رچا کر لاکھوں روپے اینٹھ لیتے ہیں اور جس بچے بچی کے نام پر یہ امداد لی جاتی ہے اسے اس میں سے ملتا بہت ہی کم ہے۔ یہ تمام مظاہر یہی ظاہر کرتے ہیں کہ بھکاری پن دراصل ایک فطرت، ایک مزاج ہے، اس کا تعلق غربت سے اگر ہے بھی تو محض دور کا۔ مگر پھر سوال وہیں کا وہیں ہے کہ بھکاری پن ہمارا قومی مزاج آخر کیوں؟

اس کا ایک ممکنہ جواب یہ ہے کہ ہمارے ملک میں دولت کے بارے میں ایک عمومی تاثر یہ ہے کہ جسے بھی ملی ہے وہ بس اتفاق سے ہی مل گئی ہے۔ یہاں جو بڑے بڑے جاگیردار ہیں انہیں دولت انگریزوں کی غلامی کرنے پر ملی۔ جو سرمایہ دار ہیں انہوں نے اسمگلنگ کر کے، ٹیکس چوری کر کے پیسے کمائے۔ جو سرکاری ملازمین ہیں وہ بھی چوری ڈکیتی سے ہی پیسے والے بنے ہیں۔ اس پورے تناظر میں دولت اس معاشرے میں اخلاقی گراوٹ اور نیچ پن کا ہی منطقی نتیجہ نظر آتی ہے، اسی لئے جس کے پاس ہے اسے اس کی کوئی قدر نہیں اور وہ دکھاوے کی بدترین صورتوں کو اختیار کیے ہوئے ہے۔

اسلام آباد کا ایک ظفر سپاری نام کا کردار ہمارے سماجی میڈیا پر بلکہ نیوز چینلوں پر ایک خاصے کی چیز (Sensation) بن گیا تھا۔ کیونکہ یہ شخص لاکھوں روپے شادی میں وار کر ڈھیر کر رہا ہے یا سونے کے بے پناہ لاکٹ اور کنگن پہنتا ہے یا اسی نوع کے دکھاوے کرتا ہے۔ کسی نے اس شخص سے یہ سوال کبھی کسی فورم پر نہیں پوچھا کہ صاحب یہ دولت کن ذرائع سے آپ نے حاصل کی۔ اس معاشرے میں حرام خوری سے دولت حاصل کرنے والے عموماً بھیک بہت بانٹتے ہیں۔یوں وہ اپنے گناہ کی نفسیاتی تلافی کر لیتے ہیں اور انا بھی تگڑی ہو جاتی ہے۔ ہر نیچ پن سے دولت بنانے کے بعد بھیک میں کچھ حصہ بانٹ کر ان لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ ان بھکاریوں سے تو برتر ہیں ہی۔ اس نوع کے ’’دیالو‘‘ لوگوں نے اپنی بھیک سے معاشرے کے بہت بڑے طبقے کو ایک قسم کی پیراسائٹ، ایک آکاس بیل بنا دیا ہے۔ ہم ایک ایسے ڈاکو سے بھی مل چکے ہیں جو بڑے فخر سے کہتا ہے کہ ڈکیتی کے بعد وہ اپنے مال کی ’’بچی ہوئی پتی‘‘ (یعنی ایک حصہ) کسی مستحق کو ضرور دیتا تھا۔ جب ڈاکو تک اس معاشرے میں اپنی لوٹ سے بھیک بانٹ رہے ہیں تو سوچئے کہ سماج میں کتنا بڑا حصہ محض بھیک پر پیراسائٹ بن کر جی رہا ہو گا؟ پیراسائٹ ہونا یا دوسروں کی بھیک پر جینا ہمارے معاشرے میں ایک سماجی نمونہ یعنی ماڈل بن چکا ہے۔ عوام اپنے رہنماؤں اور حکمرانوں سے بھی کرداری نمونے اخذ کرتے ہیں اور ہمارے حکمرانوں نے سابق ستر سال میں دنیا سے بھیک مانگنے اور اقوام عالم میں ایک بے وقار مقام کو ’’انجوائے‘‘ کرنے کے علاوہ کیا ہی کیا ہے؟

انہی سب تجربات کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں بھکاری پن ایک وبا ء بھی ہے، لت بھی ہے اور ایک شوق بلکہ ایک جنون بھی۔ ایک ایسا جنون جو ہمارے سماجی مظاہر میں اس قدر نمایاں ہو چکا کہ کسی نامعلوم طریقے سے ہر ہر ٹی وی چینل پر ان گیم شوز اور رمضان کے پروگراموں میں بھی ظاہر ہونے لگا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ اس ملک کے لوگوں کے ساتھ ہوا کہ جس ملک کا خواب دیکھنے والے علامہ محمد اقبال نے فرمایا تھا۔

اے طائر لاہوتی، اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو، پرواز میں کوتاہی

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: