مثالیت پرستی، عملیت پسندی اور ادارے —– راو جاوید

0
  • 15
    Shares

پچھلے دو دہائیوں کو دیکھا جائے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ملک میں انتشار کو فروغ دیا گیا ہے۔ مقاصد کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔ بے مقصدیت کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔ سیاست میں سے مقاصد کی بجائے مفادات کو اولیت حاصل ہوئی ہے۔ انفرادی گروہوں نے خود کو پاکبازی کا اعلیٰ ترین درجہ دیکر باقی تمام گروہوں اور قوم کو کو رگید دیا ہے۔ تمام سیاسی گروہ ناکام ہوئے ہیں۔ کوئی ایک کامیاب بھی ہؤا تو جزوی طور پر۔ یہی جمہوریت کا سب سے غریب پہلو ہے۔ اس بے طور سیاست میں باکردار شخص بدنام ہو سکتا ہے اور بدکردار احتساب سے بچ کر باہر نکل سکتا ہے تاآنکہ سب پر قیامت بیت جاے۔ بامقصد سیاست دان اور ضروری قومی اتحادات ختم ہوگئے۔ وقتی مفادات حاصل کرنے والے سیاست باز ابھرے ہیں۔ یہیں سے بامقصد گروہ واپسی کی راہ اختیار کرتے ہیں یا لاتعلق ہوجاتے ہیں۔ جھگڑے باز جیت جاتے ہیں۔ اسی لئے سیاست میں اداروں کی ضرورت محسوس ہوئی اور سپریم کورٹ میدان میں اتر آئی۔ لیکن ابھی اداروں کو سیاسی حقیقت کی سمجھ ذرا دیر سے آئیگی۔

اس پر طرفہ تماشہ یہ کہ بامقصد کو غیر ضروری مثالیت پرست بنا دیا گیا۔ اس سے مقصدیت کو بے لچک کر دیا گیا۔ اب مثالیت پرستوں کو کام کے قابل رہنے ہی نہیں دیا گیا۔ ایسے میں کہاں فکر و عمل اور اسلامیان و بااثر افراد کا مجموعہ “اسلامی جمہوری اتحاد” یا اسکے بالمقابل سیکولروں کا اکٹھ اور کہاں موجودہ مفاداتی اتحادات یا انکی نشریات یا منشور و منشورات۔ ایم آر ڈی (تحریک بحالئی جمہوریت) اصول پرستوں کا اکٹھ تھی جسے بی بی نے بکھیر کر رکھدیا اور پھر پی پی بھی زوال پذیر ہوگئی۔ متحدہ مجلسِ عمل میں سے سیاسی و معاشرتی تعلق غائب نہیں تو کم ضرور ہؤا ہے۔ یوں سیاسی عمل کی بنیاد موجود ہونے کے باوجود کمزور ہے۔ اسلئے یہ متحدہ مجلسِ علم و بحث ہے۔ دنیا میں خالص آئیڈیلزم کامیاب نہیں ہوتا۔ مثالیت پرست، بھلے سیکولر ہوں یا مذہبی، دنیا کے معاملات کو سنبھالنے کی بجائے تباہ کرنے میں زیادہ وقت صرف کرتے ہیں۔ یہ تمام منفی توانائیاں ہیں جن سے عوام سہم جاتے ہیں۔ پاکستانی معاشرہ بدقسمتی سے ایک ایسی تہذیب ہے جہاں مقاصد پر اتفاق نہ ہو تو یہ کچھ بھی نہیں۔ نہ یہ پنجابی نہ سندھی یا پشتون و بلوچ معاشرہ ہے اور نہ ہی یہاں یک فرقی ایرانی یا سعودی مذہبی گروہ غالب ہے۔ اس لئے اسے مقاصد سے وابستہ کرنا اور پھر ان پر متفق کرنا اور بعد ازاں کامیابی کیساتھ متفق کئے رکھنا ضروری ہے۔ لیکن اس کیلئے قربانیوں کی ضرورت ہے۔ جنہوں نے اسلامی تہذیبات کا وسیع تر مطالعہ کیا ہو، وہ جانتے ہیں کہ عملی میدان میں پاکستان جیسی تہذیب کو سنبھالنا کس قدر مشکل ہے۔ ایسی ہی تہذیب اسپین کی تھی جہاں عرب، افریقی اور یورپ کے نومسلم عجمی اکٹھے تھے۔ جہاں نظریات و فرقہ وارانہ بحوث و فتاویٰ کی ایسی ہی بھرمار تھی۔ طرہ یہ کہ صبح و شام آپس میں اور نصرانیوں کیساتھ مارا ماری بھی تھی۔ نتیجہ اس تمام کا وہی ہؤا جیسے کہ ہونا تھا۔ تمام ایک دن تنگ آکر واپس اپنے مراکز کو لوٹ گئے۔ افریقی افریقہ میں، عرب شام کی جانب اور بچے کھچے مقامی کلیسا میں یا قبروں میں جاپہنچے۔ اب بھی صوفیاء کو پاکستان سے (کم از کم) یہی خطرہ ہے (اسپین کے ہوے سے ڈراکر امن پسند مغربی ہماری مسلم تہذیب کی شدت پر توپیں داغتے ہیں)۔ مثالیت پسندی نہیں بلکہ مثالیت پرستی اپنے عروج کو چھو رہی ہے۔ عملیت پسندی گم ہوچکی۔ باہمی رواداری کا اختتام ہے۔ حالات کا دھارا بے قابو ہے۔ اور ساتھ میں معجزوں کی امیدیں بڑھتی جارہی ہیں۔ خدا خیر کرے۔ میدان والے کی بجائے سائیڈ لائن کے کھلاڑی بلکہ باہر کے تماشائی زیادہ اہم ہوگئے ہیں۔ بہتری سے قبل ہونے والی ابتری شدید تر ہوسکتی ہے۔ ہمارے کچھ دانشور اس تمام کا علاج متناسب نمائندگی میں ڈھونڈ رہے ہیں۔ متناسب نمائندگی ایک بڑا اور مکمل موضوع ہے جسے پھر کسی وقت پر اٹھا رکھتے ہیں۔

جنہوں نے میرے چند سابق کالم پڑھے ہونگے تو حکومت کی جانب ذرا سا جھکاؤ نوٹ کیا ہوگا۔ ساتھ میں بے وقت کی انقلابیت پر تنقید بھی موجود ہے۔ دراصل پاکستان میں وزیرِ اعظم اور اسکی پارٹی کو کام سے ہمیشہ روکا گیا ہے۔ اس سے معاشرہ مشکلات کا شکار ہؤا ہے۔ مقابلے میں ہمسایہ تہذیبیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ ہماری فیصلہ کن قوتوں نے حکومتی پارٹی کو رگڑنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ یہ بے وقت کا کھیل غیر ضروری مثالیت پرستی کا نتیجہ ہے۔ ملک میں یکدم انقلاب نہیں آسکا لیکن ایسے انقلاب کی توقع کہیں زیادہ تھی۔ عملا” اسکے بالکل برعکس ہؤا ہے۔ جہاں کہیں مناسب سا کوئی مثالیت پسند انقلابی ملتا ہے، اسے اٹھا کر پھینک دیا جاتا ہے۔ سیکولر قوتوں میں سے بھٹو جبکہ مذہبی قوتوں میں سے ضیاء الحق کامیاب اور عملی مثالیت پرست تھے۔ دونوں رخصت ہوئے تو انکی مثالیت پرستی کو کسی نے نہیں اپنایا۔ خود انکی اولاد تک نے نہ اپنایا۔ پاکستانی مثالیت پرستی کا عالمی مثالیت پرستی سے کوئی جوڑ ہی نہیں۔ پھر عرب اسلامی مثالیت پرستی بالکل مختلف ہے۔ مقامی سیاست کا رخ ہی نرالا ہے۔ یہ رخ مثالیت پرستوں کی موت ہے۔ فزوں یہ کہ جس کسی سے درست کام کی امید تھی، اسکا ناکام ہونا لکھ دیا گیا۔ قوم سیکولر سے مذہبی ہوجاتی ہے یا واپس سیکولر بن جاتی ہے۔ یہ موڑ مڑتے مڑتے تمام فوائد ضائع ہوجاتے ہیں۔ اگر ضیاء الحق صاحب کا اسلام جاری رکھا جاتا تو آج ہم سمرقند و بخارا تک متحرک اسلامی خطہ بن چکے ہوتے۔ لیکن اس کیلئے کسی کو الزام لینا تھا اور آگے بڑھکر بوجھ برداشت کرنا تھا۔ لیکن معصوم بچے اور چھوٹے ادارے کچھ بھی نہیں کرتے اور نہ ہی بے سمت معاشرے کچھ طے کرتے ہیں۔ اس لئے ایسے بے مقصد معاشرے درست، بااصول اور حقیقی جدوجہد کے نتیجے میں کسی منزل تک نہیں پہنچتے بلکہ مفاداتی گروہوں کے ہاتھوں میں گھل گھل کر حقیر سے دشمن کے سامنے ترنوالہ بن جاتے ہیں۔

پاکستان میں عرب کے اہلِ حدیث انقلاب یا ایرانی خمینی انقلاب کا واہمہ پالنا ہی نہیں چاہیئے۔ مقامی دیوبندی اسلام بھی تنہا اقتدار حاصل نہیں کرسکتا۔ اقتدار کی ہوا لگتے ہی اور وسائل کا ذرا سا جھونکا پاکر ان تینوں اقسام کے کارکنان و قائدین اس تیزی سے مثالیت پرست ہوجاتے ہیں کہ معاشرہ کہیں دور پیچھے رہ جاتا ہے اور مقامی سیاست یا عالمی حالات کوسوں دور۔ کمیونسٹ انقلاب بھی کسی کروٹ نہیں بیٹھے گا کیونکہ کامیاب چینی کمیونزم کو لیبر یونین نے پاکستان میں ہضم نہیں کیا۔ خالص کمیونسٹون نے اسے چینی و پاکستانی بیوروکریٹ کی جھولی کا بچہ قرار دیا اور عالمی حقیقت سے آنکھیں بند کرلیں۔ وہ شاید نئے باغی شاعر پیدا کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہیں لینن اور ژیاؤپنگ جیسے باعمل کی ضرورت ہرگز نہیں۔ حقیقی جمہوریت بھی مکمل طور پر نافذ نہیں ہوگی کیونکہ پارلیمان کبھی بھی کارکردگی کی بنیاد پر مکمل اختیارات حاصل نہیں کرپائے گی۔ دراصل یہ اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھے گا اور اسی لئے انتشار جاری رہیگا۔ یہ دنیا کا مشکل ترین معاشرہ ہے کیونکہ اسکا کوئی واضح اور واحد مقصد نہیں جس پر یہ ہر حال میں قائم رہ سکے۔ اس لئے معاشرے کے مقابلات و مشکلات تصور سے کہیں زیادہ ہیں۔ جس مسئلے کا حل ملکی عینک سے درست نظر آتا ہے، وہ عالمی تناظر میں بالکل غلط ثابت ہوتا ہے۔ یہ سب مثالیت پرستی کا نتیجہ ہے۔ پھر ایک کی مثالیت پرستی دوسرے کی مثالیت پرستی کے عین برعکس ہے۔ ایسے میں کوئی بھی مثالیت پرست میدان مارلے تو دوسرا ناکام کرنے پر تل جاتا ہے۔ یہ ایک دفعہ نہیں بار بار کیا گیا۔ دنیا کو عملیت پسندوں سے خطرہ کم اور مثالیت پرستوں سے زیادہ ہے۔ طیب اردگان عملیت پسند ہے لیکن مثالیت پرست دکھائی دیتا ہے۔ عملی مثالیت پرست کامیاب ہوسکتے ہیں۔ سو فیصد مثالیت پرستوں کو شکست ہوئی ارو بار بار ہوئی اور جگہ جگہ ہوئی۔ اب مزید تجربات سے پرہیز ضروری ہے۔ جہاں جیسا کام کیا جاسکتا ہے، ویسا ضرور کیا جائے۔

کسی ایک نظرئیے کے حاملین کی بھی درست طور پر قومی اہداف کی روشنی میں تربیت نہیں ہوئی۔ عالمی اصول و قوانین کا درست قومی تناظر سرے سے مفقود ہے۔ اگر کچھ ہے بھی تو اسے فقط شدت پسندی کہاجاسکتا ہے۔ اس سے مسئلہ مزید پیچیدہ ہوجاتا ہے۔

اس کیلئے اداروں کو مثبت کردار ادا کرنا چاہیئے تھا۔ لیکن ایسا بالکل نہیں ہؤا۔ اداروں کو اس صورتحال میں تدریجی عمل پر زور دینا چاہیئے تھا لیکن ادارے یکدم اور بعض اوقات بالکل انتہائی اقدامات اٹھانے لگ گئے۔ انہیں سمجھنا ہوگا کہ پاکستان بہت سی بے اعتدالیوں میں گھری ایک اعتدال کی ریاست ہے۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اداروں نے انتہائی اقدامات کیوں اٹھائے؟ اگر اداروں کی معیاری تعریف “رولز آف گیم” (کھیل کے اصولوں) کو اداروں کی بنیاد مان بھی لیا جائے تو ایک ادارے کے اصول دوسرے کے خلاف ہیں۔ رولز آف گیم میں سے بڑے اصول کا فیصلہ ہی نہیں ہوا اور کسی بھی سطح پر نہیں ہؤا۔ چونکہ تمام نظریات کے ادارے موجود ہیں اور عملا کام کررہے ہیں اس لئے ایسا کوئی فیصلہ ہو بھی نہیں سکتا۔ کسی ایک نظرئیے کے حاملین کی بھی درست طور پر قومی اہداف کی روشنی میں تربیت نہیں ہوئی۔ عالمی اصول و قوانین کا درست قومی تناظر سرے سے مفقود ہے۔ اگر کچھ ہے بھی تو اسے فقط شدت پسندی کہاجاسکتا ہے۔ اس سے مسئلہ مزید پیچیدہ ہوجاتا ہے۔ اس لئے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ کب کونسے اصول کا اطلاق کیا جائیگا اور کس اصول کو یکدم اٹھا کر باہر پھینک دیا جائیگا۔ آپ ایک ادارے کے اصول کو اپنائیں گے تو دوسرے کی بالضرور مخالفت کریں گے۔ یک جہت مکمل قانون موجود ہی نہیں اس لئے بے سمتی عین ظاہر و باہر ہے۔ اس لئے اداروں کو ادارے قرار دینا ہی غلط ہے۔ پارلیمان اداروں کی ماں کا کردار ادا ہی نہیں کرسکتی۔ یہ رولز آف گیم ہی نہیں ہیں۔ رولز آف گیم ایک دوسرے سے جب تک ٹکراتے رہیں گے، معاشرتی گروہ ایک دوسرے سے لڑتے رہیں گے۔ یہ نہ ختم ہونے والی جنگ ہے جسے جاری رکھنا درد سری کے سوا کچھ بھی نہیں۔ دوسرا یہ کہ اداروں کے قائدین رخصت ہوں تو دوسرے قائدین نئی پایسی اختیار کرلیتے ہیں گویا پچھلے قائد نے سرارسر غلط حکمتِ عملی اپنائی تھی۔ چھوٹے ممالک کے ہمیشہ سے یہی طور طریقے رہے ہیں کیونکہ نیا آنے والا کسی پرانے کو گھاس ہی نہیں ڈالتا اور کسی کے درست اقدام کی تائید و ترویج بالکل جرم ہے یا ناجائز۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: