مدینہ منورہ ٹریولنگ ٹپس ۔۔۔۔۔۔۔۔ ظہیر تاج

0
  • 60
    Shares

مدینہ منورہ مسلمانوں کے​ مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے اور اس کی وجہ نسبت رسولؐ ہے ۔اسی لئے ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ کم از کم زندگی میں ایک بار ضرور وہ مدینہ منورہ میں روضہ رسول اقدس پر حاضری دے۔ ​

ویزہ​
پاکستانی زائرین کے لئے سعودی عرب کے لئے ویزہ کے چار عمومی زرائع ہیں۔ پہلا ورک ویزہ جس پر مستقل سکونت ملتی اور اقامہ جو ریزڈینسی پرمٹ ہے۔ دوسرا عمرہ کا ویزہ جو تیس دن کا ہوتا، تیسرا حج کا ویزہ اور چوتھا وزٹ ویزہ۔​

عمرہ اور حج ویزہ کی فیس کوئی نہیں البتہ وزٹ ویزہ کی فیس دو ہزار ریال ہے۔ اگر آپ ایک سال میں دوسری مرتبہ عمرہ کے لئے جاتے ہیں تو تب بھی دو ہزار ریال فیس دینی ہوگی۔

عمرہ اور حج کا ویزہ صرف تین شہروں جدہ، مکہ المکرمہ اور مدینہ منورہ تک محدود ہوتا ہے اس کے علاوہ کسی شہر میں جانے کی اجازت نہیں۔ شنید ہے کہ شاید اس سال کے اواخر تک آسانی سے عمرہ کا ویزہ کو ٹورسٹ ویزہ پر منتقل کیا جاسکے گا لیکن فی الحال پابندی برقرار ہے۔ یاد رہے کہ عمرے کا ویزہ پر آپ حج نہیں کرسکتے اور یہی پابندی وزٹ ویزہ پر بھی ہے۔ ​

وزٹ ویزہ ایسے لوگوں کو مل سکتا ہے جن کے شوہر، بیوی، بیٹا، بیٹی، داماد، بھائی سعودیہ میں کام کرتے ہوں اور ان کا پیشہ ایسا ہونا چاہیئے جس پر وزٹ ویزہ کی اجازت ہو مثلاََ ڈاکٹر، انجینئر، پروگرامر۔ (اہم وضاحت کے بھائی اپنے بھائی کا وزٹ ویزہ نہیں نکال سکتا)​

وزٹ ویزہ چھ مہینے سے دو سال تک کا ہوتا ہے۔ چھ مہینے کی فیس دو ہزار ریال جبکہ دو سال کے ویزہ کی فیس آٹھ ہزار ریال ہے۔ چھ مہینے کا ویزہ سنگل انٹری ویزہ یعنی ایک دفعہ آپ سعودیہ سے باہر نکلیں تو ویزہ ختم جبکہ دوسالہ ویزے پر یہ پابندی نہیں۔ ​

وزٹ ویزہ رمضان سے آگے حج کے موسم تک نہیں ملتا سوائے طبی وجوہات کے۔ عموماً حاملہ خاتون کی والدہ یا ساس کو dependent کے طور پر ویزہ مل سکتا ہے۔ میڈیکل ویزہ کا الگ سے پورا ایک طریقہ کار ہے۔طوالت بچنے کے لئے یہ طریقہ بیان نہیں کر رہا۔​

پرواز:​
مدینہ منورہ میں ہوائی اڈہ موجود ہے۔ پاکستان سے پی آئی اے کے علاوہ متعدد پروازیں مدینہ کے لئے جاتی ہیں۔ قطر ائیرویز کے علاوہ باقی تمام گلف ممالک کی ائیرلائنز سے کنیکٹنگ فلائٹ لی جاسکتی ہے۔ ​

ٹرانسپورٹ :​
میری رائے میں سعودی عرب میں ابھی تک پبلک ٹراسپورٹ کے معیاری ذرائع میسر نہیں۔ زائرین کے لئے جدہ یا مکہ سے مدینہ جانے کا ذریعہ بس ہے جو کافی لمبا سفر ہوتا ہے۔ جدہ، مکہ اور مدینہ کے درمیان ریل کے بارے میں بہت سی خبریں ہیں کہ وہ جلد چل جائے گی لیکن یہ خبریں ہی ہیں۔​

مدینہ سے جدہ کے درمیان مقامی ائیرلائنز کی پروازیں بھی چلتی ہیں اور سعودیہ کے باقی شہروں سے بھی لیکن ظاہر ہے یہ مہنگا سفر ہے۔ ​

مدینہ منورہ کے اندر سفر کرنے کے لئے کچھ مقامات و زیارات تک جانے کے لئے بسیں ہیں جن کا کرایہ نہایت مناسب ہوتا ہے لیکن زیادہ سفر ٹیکسی پر ہی ہوتا۔ بہت سے سعودی پرائیویٹ ٹیکسی بھی چلاتے ہیں۔ جب عمرہ یا حج کا پیکج لیا جائے تو بہتر ہے کہ اس میں ٹرانسپورٹ کو بھی شامل کیا جائے تاکہ آسانی رہے۔ ​


اہم مقامات اور زیارات:​
مدینہ منورہ میں سب سے اہم مقام روضہ رسولؐ ہے جو مسجد نبوی کے اندر واقع ہے۔ ​
روضہ رسولؐ پر مردوں کا داخلہ 24 گھنٹے کھلا ہوتا ہے جبکہ باقی مسجد نبوی نماز عشاء کے بعد سے تہجد تک بند ہوتی ہے۔ ​

روضہ رسولؐ پر عورتوں کا داخلہ ممنوع ہے لیکن وہ مسجد نبوی میں عورتوں کے لئے مخصوص دروازوں سے جاسکتی ہیں۔ ​

روضہ رسولؐ کے اندر ہے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی قبور بھی ہیں۔اس کے علاوہ ریاض الجنت جس کو جنت کا ٹکڑا کہا جاتا ہے۔ اس کی پہچان سبز قالین سے کی جاسکتی ہے۔ ​

ریاض الجنت میں عورتوں کے جانے کے لئے اوقات مخصوص ہیں۔ صبح کے وقت اشراق کے بعد اور رات عشاء کی نماز کے بعد عورتیں ریاض الجنت میں نوافل ادا کرسکتی ہیں۔ ​

مسجد نبویؐ کے بعد روضہ رسولؐ کے بالکل ساتھ جنت البقیع ہے۔ جنت البقیع میں حضرت فاطمہؓ، حضرت عائشہ اور حضرت عثمان سمیت کئی جید صحابہؓ کرام کی قبریں ہیں۔ ​

جنت البقیع میں عورتوں کا داخلہ ممنوع جبکہ مردوں کی زیارت کے لئے یہ قبرستان فجر اور عصر کی نمازوں کے بعد کھلتا ہے۔ ​

مدینہ منورہ میں تیسرا اہم ترین مقام مسجد قباء ہے جس کو مسلمانوں کی اولین مسجد بتایا جاتا ہے۔ حدیث کے مطابق اس مسجد میں دو نوافل کا ثواپ ایک عمرے کا برابر ہے۔ ​

پھر مسجد قبلتین یعنی دو قبلوں والی مسجد۔ روایت کے مطابق اس مسجد میں قرآنی حکم پر مسلمانوں کا قبلہ مسجد اقصٰی سے تبدیل ہو کر کعبہ کی طرف ہوا ۔ اس لئے یہ مسجد بھی تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ ​

اس کے بعد مقام احد یا جبل احد جہاں پر غزوہ احد برپا ہوا۔ یہاں پر سید الشہداء امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبر ہے۔ ​

سات مساجد جو مختلف صحابہ کرام سے منسوب ہیں۔ اسی جگہ پر ایک بڑی مسجد، مسجد فتح کے نام بنائی گئی ہے۔ ​

مسجد نبوی کے احاطے کے ساتھ ہی ایک میوزیم ہے جس میں اسلام خطاطی کے بہترین نمونے ہیں۔ ​

مدینہ کا ریلوے میوزیم جو سلطنت عثمانیہ کے دور میں ریل کی یادگار ہے۔ ​

مدینہ کے مضافات میں ایک وادی ہے جسے وادی بیضا کہا جاتا ہے ۔ یہ وادی قدرت کے عجائب میں سے ایک ہے ۔ اس وادی میں ایک سڑک اوپر کی جانب جا رہی ہیں لیکن اس پر گاڑیاں نیوٹرل حالت میں خود بخود بھاگی جاتی ہیں اور پانی کا بہاؤ بھی اوپر کی جانب ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں بہت ساری سائنٹفک تھیوریاں ہیں۔ لیکن ہمارے لوگوں نے اس کو وادی جن کا نام دے دیا ہوا ہے۔​

مدینہ کے قریب اہم مقامات میں خیبر کا قلعہ، بدر جہاں پر غزوہ بدر برپا ہوا اور مدائن صالح جو قرآن میں حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کا مسکن بتایا جاتا ہے، ان تینوں جگہوں پر عمرہ یا حج کے ویزہ پر نہیں جایا جاسکتا۔ مدائن صالح کو یونسکو نے 2008 میں مشترکہ بین الاقوامی تاریخی ورثے میں شامل کیا۔​

رہائش:​
اگر آپ کہیں سے بھی مدینہ منورہ کی طرف سفر کر رہے ہیں تو پہلے سے آن لائن ہوٹل کی بکنگ کروا لینی چاہیے کیونکہ ہوٹل ڈھونڈنا درد سر بن جاتا ہے۔ پاکستانیوں کے لئے ایک سستی اور معیاری رہائش کی جگہ پاکستان ہاؤس کی عمارت ہے۔ لیکن ان کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ وہاں پر ایڈوانس بکنگ نہیں کروا سکتے۔ عموماً رمضان کے علاوہ آسانی سے یہاں کمرہ مل جاتا ہے مگر حج کے دنوں میں یہ عمارت پاکستان سے آئے میڈیکل سٹاف کے لئے بک ہوتی ہے۔ ​

اگر آپ پاکستان سے آرہے ہیں تو پیکج لینا بہتر ہے۔ حرم کے قریب ہوٹل مہنگے ہوتے ہیں اور فاصلے پر سستے۔​

کھانے: ​
اگر آپ پاکستان سے جارہے ہیں تو مدینہ میں پاکستانی کھانے جابجا دستیاب ہیں۔ حلوہ پوری سے پائے، بریانی، نہاری سب کچھ ملتا ہے۔ سفر حرمین کی ایک سوغات البیک کا بروسٹ ہے جو بہت ذائقے والا ہوتا ہے لیکن بہت زیادہ کھانے سے آپ کو معدے کے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مدینہ منورہ میں تمام عربی کھانے، لبنانی، ترکش وغیرہ دستیاب ہیں۔ ​عرب میں جائیں تو شوارما سب سے مشہور اور سستا کھانا ہے۔​

رمضان المبارک کا مہینہ مدینہ منورہ میں سب سے بہترین ہوتا ہے۔ اس مہینے میں مسجد نبویؐ کے دسترخوان وسیع ہوتے ہیں اور میزبان مدینہ منورہ کے ننے منے بچے۔

مسجد نبویؐ میں رسولؐ اللہ کی سنت کے مطابق پیر اور جمعرات کے روز روایتی افطاری کا انتظام بھی ہوتا ہے۔ افطاری میں سعودی قہوہ ،کھجور اور سادہ افطاری جابجا مسجد کے اندر ملتی ہے۔ ​

حرمین شریفین کے قیام کے دوران آپ کو مسلسل مشقت کرنی پڑتی ہے اس لئے کھانے میں احتیاط ضروری، بسیار خوری سے پرہیز کرنا چاہئے، تازہ پھل اور جوس استعمال کرتے رہیں تا کہ معدے کا توازن ٹھیک رہے۔ ​

شاپنگ:​
اگر آپ نے کھجور، تسبیحات اور دیگر تحائف خریدنے ہوں تو مکہ المکرمہ کی بجائے مدینہ کو ترجیح دینا چاہیے۔ کھجور کے لئے حرم کے ساتھ کھجور کی پوری مارکیٹ ہے جہاں پر بہت بھاؤ تاؤ چلتے ہیں اور زیادہ دکاندار پاکستانی ہیں۔ ​عجوہ کھجور خریدنے کے لئے اس کے باغ میں بھی جاسکتے ہیں لیکن وہ باغ حرم سے دور ہے۔​

ٹریولنگ پیکجز: ​
میری رائے میں عمرہ و حج کے لئے پیکج لازمی ہے۔ جس میں ہوٹل، کھانا اور ٹرانسپورٹ کی شرائط لازم ہیں۔ اگر اچھی کمپنی کے ساتھ اچھا پیکج لیتے ہیں تو زندگی آسان ہو سکتی ہے۔​

اہم ٹپس:​
اپنی سفری دستاویز پاسپورٹ وغیرہ کی خصوصی حفاظت کریں بلکہ ان کی کاپی ای میل یا موبائل پکچر کی صورت بھی محفوظ رکھیں۔ ​

اپنے ویزہ کی مدت مکمل ہونے سے پہلے ہر صورت میں نکل جانا چاہئے ورنہ بہت سنجیدہ قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔​

ایئرپورٹ پر ویزہ آفیسر سے ہمیشہ تعاون کریں اور جھگڑے سے ہر حد تک بچنے کی کوشش کریں۔ ​

کیونکہ آپ کو مسلسل مسجد نبویؐ میں پیدل چلنا پڑتا ہے اس لئے اچھی کوالٹی کا جوتا ساتھ رکھنا چاہئیے۔ ​

گرمیوں میں سن گلاسز اور چھتری کا استعمال باقاعدگی سے کریںکیونکہ شدید گرمی میں ہیٹ سٹروک کا خطرہ رہتا ہے۔​

اگر نومبر سے فروری کے درمیان جانا ہو تو گرم کپڑے لازمی ساتھ رکھیں۔ اکثر شدید سردی کی لہر اچانک شروع ہو جاتی ہے۔ ​

روضہ رسولؐ پر اگر حاضری دینی ہو تو نماز کے اوقات کے قریب رش زیادہ ہوتا ہے اس لئے ان اوقات کے علاوہ پروگرام بنائیں۔ عورتیں جب ریاض الجنہ میں نوافل کے لئے جائیں تو گروپ کی صورت میں جانا چاہیے کیونکہ وہاں پر رش بہت زیادہ ہوتا ہے اور دھکم پیل کی صورت میں ایک دوسرے کی ڈھال بن سکتی ہیں۔ ​

اکثر پاکستانی مدینہ میں گم ہوجاتے ہیں اور سمت کا اندازہ نہیں رہتا۔ اس کے لئے ہمیشہ اپنے پاس ہوٹل کا پتہ رکھنا چاہئے اور زیادہ بہتر ہے کہ گروپ کے ساتھ رہیں۔ گم ہونے کی صورت میں مسجد نبویؐ کے اندر صفائی کا عملہ پاکستانی ہے تو ان سے راہنمائی لی جا سکتی ہے۔​

بدقسمتی سے حرمین شریفین کے گرد و نواح میں آپکو ایک سے ایک بھیک مانگنے والے سے واسطہ پڑے گا اور مزید بدقسمتی یہ کہ ان میں زیادہ تعداد پاکستانیوں کی ہوتی ہے۔ وہ آپکو طرح طرح کی لٹنے اور مجبوریوں کی داستانیں سنائیں گے۔ اس لئے آپکی صوابدید ہے کہ آپ کس حد تک ان کہانیوں سے متاثر ہوتے ہیں۔​

اگر گروپ میں آئیں تو اپنے ساتھ بوڑھے اور بیمار لوگوں کا خیال رکھیں۔ ​

سر درد، گلے، پیٹ کی خرابی اور جسم میں درد کی کریم اور بینڈیج ،پلاسٹر وغیرہ ساتھ میں رکھیں اور اگر کوئی بھی بیماری ہے تو اس کی دوا بھی رکھنی چاہیئے۔​

حج کے موسم میں پاکستان ہاؤس میں ڈاکٹرز کا وفد بھی موجود ہوتا ہے جہاں سے دوائیں مفت ملتی ہیں اور چیک اپ بھی مفت ہوتا ہے۔ پاکستان ہاؤس مسجد نبوی کے قریب ہی واقعہ ہے۔​

کسی بھی سفر میں سامان کم سے کم رکھنا چاہیے، زیادہ سامان نقل و حمل میں مشکلات پیدا کرتا ہے۔ شاپنگ کرتے ہوئے وزن کا خیال رکھیں کیونکہ ائیرلائنز پر آجکل بہت سختی ہے اور فالتو سامان کے بہت سارے پیسے بھرنے پڑ سکتے ہیں۔ ​

​دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے تمام مسلمان جو مدینہ منورہ جانے کی خواہش رکھتے ہیں ان کے لئے وسائل کا بندوبست کرے اور ان کے لئے آسانیاں پیدا کرے۔ آمین

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: