امریکہ اور عالمی ادارہء تجارت ۔۔۔۔۔۔۔ رائو جاوید

0
  • 20
    Shares

امریکہ نے عالمی ادارہ برائے تجارت کو علیحدگی کی دھمکی دی ہے۔ اس پر یورپی یونین نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ عالمی تجارتی ادارہ اپنے معاملات میں خود مختار ہے لیکن امریکہ کی دھمکی کے بعد سے ڈر گیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اسکے معاملات سے علیحدہ ہو گا تو عالمی تجارت کو خاطر خواہ نقصان ہو گا۔ اسکے صدر مالم سٹرام نے بیان دیکر واضح کیا ہے کہ نئے عالمی قوانین نافذ کرنے چاہئیں۔

یورپی یونین نے عالمی تجارتی ادارے میں اصلاحات کیلئے تجاویز تک پیش کر دی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کھلی دھاندلی ہے۔ طاقتور کی دھمکی سے ڈر کر اصلاحات کا واضح مقصد کسی کی دھونس، دھاندلی اور ناجائز طاقت کو تسلیم کرنا ہے۔ ایسا ہی اگر کسی غریب ملک نے کیا ہوتا تو ابتک اس پر پابندیاں لگ چکی ہوتیں۔ دنیا طاقتور کا کھیل بن کر رہ گئی ہے اور اصولوں کی پاسداری کیلئے کسی سے نہیں کہاجاسکتا۔ اس لئے سچائی اور اسکی تلاش کا کوئی مقصد نہیں۔ جب طاقتور پر اصول لاگو نہیں ہوتے تو کسی پر بھی نہیں ہوتے۔ عالمی تجارتی ادارے کے اصول پہلے سے طے شدہ ہیں جن پر تمام ممالک نے دستخط کئے تھے۔ ان اصولوں کے تحت ہی تمام تجارت کی جا رہی تھی۔ اب جبکہ امریکہ نے ان اصولوں کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے تو یہ اصول غلط ثابت نہیں ہوئے۔ یہی اصل مقدمہ ہے۔ اگر تجارتی اصول ناجائز ہیں تو باقی تمام سیاسی و جمہوری اصول بھی غلط ہیں۔ آج تجارتی اصولوں کو ٹھوکر ماری گئی ہے تو کل کلاں سیاسی اصولوں کو بھی ٹھوکر مار دی جائیگی۔ عالمی ادارے کے سربراہ کو اصولی طور پر اس صورتحال میں احتجاج کرتے ہوئے اکثریت کی بنیاد پر امریکہ کو اس ادارے سے نکال دینا چاہیئے تھا تا کہ حق و باطل، درست و نادرست کا فیصلہ ہو سکتا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ جن لوگوں نے انسانوں کو استعمال کیا ہے، انہیں کسی ناجائز طاقت سے نمٹنے کا حوصلہ ہی نہیں۔ ایسے ادارے اور پھر عالمی ادارے انسانیت کی تذلیل ہیں۔ اگر ایسے عہدیداران وسیع تر مفاد میں فیصلے کرتے ہیں اور اصولوں کو پسِ پشت ڈالتے ہیں تو نظامِ دنیا کبھی کامیابی کیساتھ نہیں چلایا جا سکتا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کی 200 ارب ڈالر کی امریکہ کو جانے والی برآمدات پر ٹیکس میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس پر یورپی یونین نے ’’غلط اندازِ تجارت‘‘، ضرورت سے زائد رعائتوں (سبسڈی) اور دوسرے مسائل کے بارے میں تجاویز پیش کی ہیں۔ اس تجارتی ادارے کو امریکہ ہی نے تشکیل دیا تھا۔

یورپی صدر برائے تجارت سیسیلیا مالم سٹرام نے بیان دیا ہے کہ ’’اب عالمی تجارت کا خاتمہ قریب لگتا ہے۔ یہ اس وقت شدید ترین بحران میں ہے‘‘۔ اہم ترین ممالک تجارتی نظام کی مدد نہیں کر رہے۔ بلکہ یہ انفرادی اقدامات کر کے اسے تباہ کر رہے ہیں۔ ہم ان اقدمات کے نتائج کا مکمل ادراک ہے۔ یورپی یونین نے موجودہ اصلاحات میں امریکہ کے تمام اعتراضات کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ اس نے نئے تجارتی اصول بھی وضع کرنے کی سفارش کی ہے تاکہ مسائل کو رفع کیا جا سکے۔ ان مسائل میں ٹیکنالوجی کا بلااجازت استعمال، صنعتی رعائیتیں اور برقی تجارت جیسے اہم مسائل شامل ہیں۔

عالمی تجارتی ادارے کو اس قابل ہونا چاہیئے کہ وہ ممبر ممالک پر نظر رکھ سکے اور شفافیت کو یقینی بنائے۔ اس دارے کو اختیار حاصل ہونا چاہیئے کہ جان بوجھ کر کی جانے والی خلاف ورزیوں پر سزا دے۔ یورپی یونین نے موجودہ بحران کے خاتمے کیلئے تنازع کے حل کے طریقہ کار میں بھی تبدیلیوں کی سفارش کی ہے۔

واشنگٹن اس سے قبل عالمی تجارتی اپیل کمیشن میں افراد کی نامزدگی کو روک چکا ہے۔ اس بورڈ نے تنازعات پر فیصلے صادر کرنا تھے۔ ستمبر تک اس بورڈ میں صرف تین ممبران باقی رہ جائیں گے جہاں کم از کم سات طاقتور ممبر ہونے چاہیئں۔ تین سے کم پر فیصلے صادر نہیں کئے جا سکتے۔ دسمبر 2019 میں دو مزید جج ریٹائر ہو جائیں گے تو یہ ادارہ تنازعات کے فیصلے کے قابل ہی نہیں رہیگا۔ یاد رہے کہ عالمی تجارتی ادارہ 164 ممبران کے اتفاق کے نتیجے میں قائم ہؤا تھا۔ اس میں ہر ممبر کو برابر ویٹو کا حق حاصل ہے۔ اس سے ما قبل زراعت پر رعائتوں کے بارے میں انسانی حقوق کے اداروں نے شور ڈال کر معاملہ رکوا دیا تھا۔ غریب ممالک کا خیال تھا کہ زراعت پر رعائتوں کے بارے میں غریب ممالک کے حق میں فیصلہ دیا جانا چاہییے۔ ایسے ہی خدمات کی تجارت پر بھی ہنوز اختلافات موجود ہیں۔

ٹرمپ نے پہلے سے موجود اختلافات سے ہی فائدہ اٹھایا ہے۔ اس نے تجارتی ججوں کے اختیارات پر سوالات اٹھائے ہیں۔ یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ ترقی پذیر ملک کونسا ہے۔ کیا چین درست اصولوں پر تجارت کر رہا ہے؟ مالم سٹرام کا کہنا ہے کہ چین کو تجارتی اصولوں کی پیروی کرنی چاہیئے کیونکہ اس نے عالمی تجارت نظام کے نتیجے میں ہی ابتک فائدہ اٹھایا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ کے ایسے انداز اختیار کرنے سے قبل عالمی ادارہ سویا ہوا تھا۔ کیا اسکے قوانین اس قدر بودے اور کمزور تھے کہ کوئی ایک ملک ان سے ناجائز فائدہ اٹھاتا رہا اور ادارہ خاموش رہا۔ یا اس کے برعکس کہ کیا چین جیسے ممالک نے تجارتی اصولوں کو اپنا کر فائدہ اٹھایا اور اب جب تمام ممالک بے بس ہو چکے ہیں تو وہ شور مچاکر جائز تجارتی اصولوں میں گڑبڑ کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امیر ممالک نے اپنے لئے تمام اصول و قوانین ترتیب دیکر غریب ممالک کا جینا بھی حرام کر رکھا ہے۔ جب کبھی کوئی ملک غربت سے باہر آتا ہے تو امیر ممالک کووں کی طرح سے شور مچا کر اسے دوبارہ سے غربت و افلاس کی جانب دھکا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی ناانصافی ہے جس سے امنِ عالم خطرے میں ہے۔ اگر نئے قوانین لاگو کئے گئے تو ان سے غریب ممالک مزید غریب ہو کر رہ جائیں گے۔ اس لئے یورپی یونین کو حق اور سچ کا ساتھ دیتے ہوئے امریکہ کو بروقت متنبہ کرنا چاہیئے۔ طاقتور کو ظلم سے روکنا وقت کی ضرورت ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: