’’ایم کیو ایم کا وجود کیوں ضروری ہے ؟‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔ گل ساج

0
  • 488
    Shares

میں ذاتی طور پہ ’’مہاجر‘‘ کو غلط اصطلاح سمجھتا ہوں تقسیم کے وقت انڈیا سے پاکستان ’’منتقل‘‘ ہونےوالے ’’پاکستانی‘‘ اگر خود کو اس ملککی بنیاد رکھنے والے کہتے ہیں تخلیق کنندہ و تشکیل دہندہ کہتے ہیں تو وہ اس ملک میں مہاجر کیسے ہو سکتے ہیں؟

ایسا نہیں کہ یہ لوگ جنگ شورش ریشہ دوانی فساد خوف یا کسی اور نامعلوم وجوہات کی بِنا پہ ایک ملک سے دوسرے ملک عارضی طور پہ ہجرت کر کے آئے ہیں بلکہ اِنہوں نے جان و مال کی قربانی دے کے اپنے لئیے ایک گھر تعمیر کیا درحقیقت یہ لوگ اپنے گھر اپنے ’’وطن‘‘ میں ’’منتقل‘‘ ہوئے تھے انتقال کو ’’ہجرت‘‘ کہنا چہ معنی؟

یہ ’’مہاجر‘‘ تو نہیں یہ تو مالک ہیں اس گھر کے پاکستان کے جو انکے خون سے سینچا گیا
تقسیم کے وقت انڈیا اور پاکستان کے درمیان باقاعدہ انتقالِ آبادی و انتقالِ جائداد کا فارمولہ اور معاہدہ طے پایا تھاجسکی رُو سے انڈیا سے ہجرت کر کے آنے والوں کو پاکستان میں یہاں سے انڈیاجانے والےہندوؤں کی متروکہ جائداد زمینوں مکانات و املاک کا مالک و مُختار بنایا جائے گا اسی طرح پاکستان سے انڈیا جانے والے اس پار مسلمانوں کی چھوڑی ہوئی جائداد و املاک کے مالک ہونگے اس فارمولے کے تحت اخلاقاً قانوناً مہاجرین متروک جائداد کے مالک ہیں
یہ ہر گز مواخاتِ مدینہ والی صورتحال نہیں تھی کہ پاکستان میں لوکل کمیونٹی نے ایثار و قربانی کے جذبے کے تحت مہاجرین کو سپورٹ کیا ہو بلکہ المیہ یہ ہے کہ ہندوؤں کی چھوڑی ہوئی بیشتر زمینوں اور جائداد پہ مقامی لوگ قابض ہو گئے پاکستان منتقل ہونے والے زیادہ تر ’’پاکستانی‘‘ اپنے حق سے محروم کر دئیے گئیے۔ اگر آج بھی سروے کرا لیا جائے تو ثابت ہوگا کہ مقامی لوگوں کی بہت بڑی تعداد ہندو متروکہ جائیداد کی مالک بنی بیٹھی ہے جو اصولاً مہاجرین کا حق ہے۔

اس حق تلفی کے باوصف تہی دست ہونے کے باوجود مہاجرین نے اپنی انتھک محنت لگن جذبے سے ترقی کی۔ یاد رکھئیے اگر کسی مہاجر کو پاکستان میں زمین مکانات الاٹ بھی ہوئے ہیں (جو چھوڑی گئی جائداد کا عشرِ عشیر بھی نہیں) تو وہ مقامی آبادی کی زمین جائداد سے نہیں بلکہ اس جائداد میں سے ہے جو ہندو چھوڑ گئے انہوں نے کسی کا حق غضب نہی کیا نہ ہی کسی مقامی نے انہیں اپنی جائداد زمین میں شریک کیا
یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان بننے سے پہلے مقامی لوگ ہندو بنئیے کے استحصال کا شکار تھے انکی نسلیں تک سود در سود بنئیے کے شکنجے میں جکڑی ہوئیں تھیں قیامِ پاکستان کے طفیل انہیں اس نسل در نسل قرض و سود کے جال سے نجات ملی۔ انڈیا سے منتقل ہونے والے پاکستانی نہ صرف تعلیم یافتہ تھے بلکہ عظیم تہذیب وتمدن اور ثقافت سے بہرہ مند بھی تھے یہ جہاں بھی گئیے انہوں نے مقامی لوگوں میں تعلیم ترقی اور اپنے حقوق کا شعور بھی اجاگر کیا۔

اس طویل تمہید کے بعد اس امر کا جائزہ لیتے ہیں کہ موجودہ حالات میں
’’ایم کیو ایم کا وجود کیوں ضروری ہے‘‘؟

اردو سپیکنگ صرف کراچی میں نہیں بلکہ پاکستان کے کسی بھی کونے میں ہو خواہ جنوبی پنجاب کے دور افتادہ گاؤں قصبے میں موجود ہو ایم کیو ایم کے وجود سے تقویت محسوس کرتا ہے۔

پاکستان مختلف قبیلے قوم برادریوں گروہوں زبانوں پہ مشتمل ملک ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمیشہ اکثریت اپنی تعداد کے بل بوتے پہ اقلیت کے حقوق غضب کرنے انہیں دبا کے رکھنا چاہتے ہے اسی دباؤ کے ردِعمل کے نتیجے میں اقلیتیں حقوق حاصل کرنے کے لئیے طاقت اور بعض اوقات تشدد کا راستہ اختیار کرتی ہیں اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لئیے جارحانہ طرزِعمل اپناتی ہیں۔ جِن معاشروں جس قوم میں جس ملک میں اکثریت کا رویہ تعصب زدہ ہو وہاں یہ رویہ آفاقی سچائی بن کے ابھرتا ہے

اگرچہ پنجاب میں مہاجروں نے یہ بات غلط ثابت کی ہے۔

(میں لفظ مہاجر کہنا پسند نہیں کرتا مگر بات سمجھانے کے لئیے فی الوقت یہ اصطلاح استعمال کرنے پہ مجبور ہوں)

پنجاب میں مہاجروں نے تشدد قوم پرستی لسانیت کا راستہ اپنائے بغیر محرومی ظلم جبر اکثریتی تعصب نسلی امتیاز و تفریق کا واویلا کئیے بغیر معاشرے میں اپنا مقام بنایا ترقی کی منازل طے کیں اور مہاجر یا پناہ گزین کا لاحقہ لگائے بغیر یر قسمی احساسِ کمتری کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے مقامی آبادی کے ساتھ باہمی احترام محبت و یگانگت کا عملی مظاہرہ پیش کیا اسے اپنے طرزِ عمل سے ثابت کیا

میں کون ہوں؟
مجھ سے کئی احباب نے یہ پوچھا میں فیسبک پہ ہی نہیں عملی زندگی میں بھی سرائیکی کہلواتا ہوں سرائیکی حقوق کی بات کرتا ہوں فیسبک کے احباب مجھے سرائیکی ہی سمجھتے ہیں ہاں میں سرائیکی ہی ہوں ہم سرائیکی بولتے ہیں اہلِ زبان سے زیادہ ُشستہ اور کلاسک سرائیکی زبان بولنے پہ قادر ہیں۔

ہم سرائیکی پہناوا زیب تن کرتے ہیں اجرک پہنتے ہیں سندھی ٹوپی لیتے ہیں پاوؤں میں کھیڑی چپل ڈالتے ہیں کاندھے پہ سلارا رکھتے ہیں ہم سرائیکی فوک میوزک کے دلدادہ ہیں۔

عطاللہ عیسی خیلوی اور منصور ملنگی اللہ دتہ لونے والا احمد نواز چھینہ کو سنتے ہیں پٹھانے خان تو ہمارے ضلع مظفر گڑھ سے ہی تھا۔

غرض پنجاب میں آ بسنے والے مہاجرین نے اپنی تہذیب و تمدن رسم و رواج کو ترک کئیے بغیر مقامی ثقافت کو اپنایا حزرِ جاں بنایا اس درجہ کے کہ گھروں میں بھی سرائیکی بولی جانے لگی سرائیکیوں میں رشتہ داریاں ہو گئیں فقیر کے ایک چچا اور ماموں سمیت کئی عزیزوں کی سرائیکی خاندانوں میں قرابت داری ہے۔

مقامی آبادی سے اپنائیے گئے خلوص اور یکجہتی کی انتہا یہ ہے کہ یہی مہاجر تختِ لاہور سے آزادی کا نعرہ اور حقوق کی بازیابی کی جدوجہد میں مقامی آبادی کے نہ صرف ساتھ کھڑے ہیں بلکہ کئی جگہ پہ کمان بھی انہی کے ہاتھوں میں ہے اور سرائیکی ان پہ اعتماد بھی کرتے ہیں۔

جنوبی پنجاب میں بسنے والے مہاجر پنجابی بعد میں پہلے سرائیکی کہلواتے ہیں
یہ سب ہونے کے باوجود خیر سگالی کے حددرجہ جذبے انتہائی غیر متعصب ہونے کے باوجود یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ مقامی افراد کی اچھی خاصی تعداد اپنی نجی محفلوں میں تحقیر سے انہیں ’’مہاجر‘‘ ہی کہتی ہے۔

سرائیکستان کی بات کرنے والے چند رہنما تو مہاجرین کو علاقہ بدر کرنے کی بات بھی کرنے لگے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پنجابی مہاجرین میں کہیں نہ کہیں کسی درجے میں ابھی تک ایک عدم تحفظ کا احساس موجود ہے۔

میں ایک چھوٹے سے قصبہ نما شہر میں رہتا ہوں یہاں شہری آبادی مہاجرین اور سرائیکی تقریبا برابر ہے البتہ مظافات سب سرائیکی سپیکنگ ہیں۔ اسی تعصب سے جُڑا عرصہ پہلے کا ایک تلخ واقعہ ابھی بھی حافظے میں محفوظ ہےکہ کسطرح راجپوت لڑکوں اور مقامی بااثر حکمران سادات کے نوجوانوں کے درمیان معمولی جھگڑے نے ’’سرائیکی مہاجر‘‘ ایشو کی شکل اختیار کر لی تھی۔

دیہات سے مسلح سرائیکی افراد مقامی وڈیروں سرداروں کے ڈیروں پہ اکٹھا ہونا شروع ہو گئیے ردعمل کے طور پہ ہنگامی بنیادوں پہ مہاجر اتحاد قائم ہوا ’’راجپوت ایکشن گروپ‘‘ نامی تنظیم بھی وجود میں آ گئی جسمیں تمام قومیت کے افراد شامل تھے
شہر کی فضا نفرت خوف عدم تحفظ کے سے مسموم ہو کے رہ گئی تھی۔ بات وہی کہ مقامی سرائیکی اکثریت میں تھے انہوں نے شہر کی مہاجر آبادی کا گھیراو کر لیا مہاجر سخت سراسیمہ اور تقریبا نہتے تھے۔

ایسی صورتحال میں مہاجر کمیونٹی کے کچھ بڑوں نےایم کیو ایم کراچی سے رابطہ کیا اور صورتحال بتائی اسوقت ایم کیوایم ’’مہاجر قومی مومنٹ‘‘ کے نام سے کام کر رہی تھی اور کراچی میں اسکا طوطی بولتا تھا۔ ایم کیو ایم نے فوراً رسپانس دیا۔ شہر میں غلغلہ مچ گیا کہ ایم کیو ایم کراچی سے اسلحہ اور افرادی قوت پہنچ رہی ہے اس بات نے سرائیکی قوم پرستوں کو گھیرائو ختم کرنے باہم مذاکرات سے معاملات حل کرنے پہ مجبور کر دیا۔

یعنی 11 سو کلومیٹر دور رہنے والے مہاجروں نےجنوبی پنجاب میں اپنی کمیونٹی کا تحفظ کیا۔

آج بھی دور افتادہ مہاجر خواہ وہ سندھ میں ہو پنجاب یا کے پی کے بلوچستان میں مقیم ہو اسکے ذہن کے کسی گوشے میں یہ بات موجود ہے کہ اگر مجھے مجبور کر دیا گیا تومیں کراچی ’’اپنے شہر‘‘ اپنی کمیونٹی میں چلا جائوں گا۔

پاکستان میں اگر بلوچ کا بلوچستان پختون کا کے پی کے سندھی کا سندھ ہے تو مہاجر کا کراچی ہےحیدرآباد ہے اب ’’مہاجر‘‘ ایک گالی تحقیر کمتر فرد کا نام نہیں بلکہ پاکستان کی ایک قابل فخر شناخت کا نام بن چکا ہے۔

کراچی میں مہاجروں کو پوری قوت اقتدار پوری طاقت سے موجود رہنا چاہئیے انکی قوت قائم رہنی چاہئیے اور یہ اسی صورت میں ممکن یے جب مہاجر کمیونٹی میں اتحاد اتفاق ہو جماعت خواہ کوئی بھی ہو نام خواہ کوئی بھی ہو مٹھی بند رہنی چاہئیے تبھی ’’مکا‘‘ کہلائے گی انگلی تو کاٹ دی جائے گی۔

انکی اسی نا اتفاقی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند ناعاقبت اندیش سیاستدان اپنے مفاد سیاسی مرگ کو زندہ کرنے کے لئیے لسانی منافرت پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں انکا یہ طرزِعمل مہاجروں کو راست اقدام کرنے پہ مجبور کر رہا ہے بعید نہیں مہاجر اپنے لئیے علیحدہ صوبے کا مطالبہ کر دیں جو کسی ناخوشگوار سانحے پہ منتج ہو۔

اسلئیے میں سمجھتا ہوں
’’ایم کیو ایم کا وجود ملکی سالمیت کے لئیے ضروری ہے‘‘۔

یہ بھی پڑھیے: ضلع مظفرگڑھ ایک بار پھر لاڑکانہ ثابت ہوا — گل ساج

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: