سرہانے میر كے ۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد جاوید 3

0
  • 22
    Shares

O

ہنگامہ گرم كن جو دلِ نا صبور تھا
پیدا ہر ایك نالے میں شورِ نشور تھا

’ہنگامہ گرم كن‘ كی تركیب اردو كے لیے نئی ہے۔ سِہ لفظی فاعل خاصہ كُڈھَب اور ناہموار ہو سكتا تھا، میر نے اسے بالكل پانی كر دیا ہے۔ ’دلِ ناصبور‘ وہ دل ہے جو محبوب كے فراق میں مبتلا ہے اور وصال كے لیے تڑپ رہا ہے۔ یہ دل جب اپنے احوالِ فراق اور تمنائے وصال كو یكجان كر كے اظہار دیتا ہے تو ’ہنگامہ گرم كن‘ بن جاتا ہے۔ یعنی اپنی ناصبوری كو اپنے باہر بھی پھیلا دیتا ہے۔ فراق تقدیر ہے اور وصال واحد آرزو ہے، ان دونوں كو حال اور قال میں یكجان كر دینے سے بڑھ كر كون سا دھماكہ ہو سكتا ہے۔ احوال كے positive اور negative كو جوڑ كر دل دھماكے پر دھماكے كیے جا رہا ہے۔ حالتِ فراق اور تمنائے وصال كو ایك حال بنا كر یہ دل اپنی پوری استعدادِ اظہار كے ساتھ ظاہر كرنے پر تُل جائے تو اس اظہار كی ایك ایك لے میں شورِ قیامت ہی برپا ہو گا۔ بلكہ شورِ قیامت بھی اس دلِ ناصبور كے سلسلۂ آہ و فغاں كی ایك كڑی سے زیادہ نہیں ہے۔ شورِ قیامت اس كے سازینے كا محض ایك سُر ہے۔ یہاں ’ہنگامہ‘ ہنگامۂ قیامت ہی ہے۔ یہ رعایتیں ہیں، ’ہنگامہ‘، ’گرم‘، ’نالہ‘، ’شور‘، ’نشور‘، یہ سب آپس میں مربوط الفاظ ہیں۔

پیدا ہر ایك نالے سے شورِ نشور تھا

’پیدا‘ كا مطلب ہے: ظاہر اور دوسرا مفہوم ہے :متولد۔ یعنی وہاں كارخانہ لگا ہوا تھا ’شورِ نشور‘ كو طرح طرح سے اظہار دینے كا، طرح طرح سے جنم دینے كا اور طرح طرح سے ایجاد كرنے كا۔ یعنی یہ’دلِ ناصبور‘ ’شورِ نشور‘ كو تخلیق كر رہا تھا۔ یہ ’دلِ ناصبور‘ ایك كارگاہ ہے جہاں قیامتیں ڈھلتی ہیں۔ یہ ’دلِ ناصبور‘وہ كامل الحال اور قادر الكلام عاشق ہے جو قیامتیں ڈھال كر انہیں اظہار بھی دیتا ہے۔ یہ سب كیفیات ہیں، ان میں معانی بالكل رسمی ہیں۔ لیكن یہ كیفیات ہی اتنی بڑی ہیں كہ ذہن میں ان لفظوں كے جتنے معنی بھی محفوظ ہیں، وہ ان میں سے كسی ایك كیفیت كی بھی برابری نہیں كر سكتے۔ یہ شعر ایسا ہے كہ ذہن كے بڑے بڑے خیالات كو احساس كی تحویل میں دے دیتا ہے۔ جو آدمی خیال كو احساس بنانے پر قادر ہو تو اس كے تخلیقی كمال میں كیا شك رہ جاتا ہے؟

آئیے اب اس شعر كو ذرا سیر كرنے كی كوشش كرتے ہیں۔ ایك عاشق ہے جس میں عشق اپنے تمام حقائق اور احوال كے ساتھ سمایا ہوا ہے۔ اس كا محبوب بھی وہ ہے جس كی ذات اور جمال مابعد الطبیعی context ركھتی ہے۔ یعنی وہ محبوبِ حقیقی ہے جس كا جمال، اصلِ تشبیہ (origin of immanence)ہے اور ذات، مطلق تنزیہ (absolute transcendence) میں ہے۔ عاشق كی دنیا دل ہے جس میں وہ پورا سمایا ہوا ہے اور محبوب كا حوالہ اُس كا جمال ہے جو اُس كی طرف اشارہ تو كرتا ہے مگر اس كا احاطہ نہیں كرتا۔ یعنی عاشق دل سے كم ہے اور محبوب اپنے جمال سے زیادہ۔ دل كی صورتِ حال یہ ہے كہ محبوب تك پہنچنا چاہتا ہے نارسائی كے قدموں سے۔ اس كو معلوم ہے كہ رسائی تقدیر میں نہیں لیكن اُس كا یہ یقینی علم بھی اُس كی حركتِ نارسائی كو روكتا نہیں ہے بلكہ اُس میں مسلسل اضافے كا مستقل سبب ہے۔ دل اچھی طرح جانتا ہے كہ فراق اٹل ہے اور وصال محال، لیكن پھر بھی اُس كی طلبِ وصال ماند نہیں پڑتی۔ اُس كے اندر فراق كا اٹل ہونا جذبۂ وصل كے مستقل ہونے میں ڈھل جاتا ہے۔ یعنی دل كے لیے آرزوئے وصال میں رہے بغیر فراق كا حق ادا نہیں كیا جا سكتا۔ گویا یہ محبوب كے ہجر كا ادب اور تقاضا ہے كہ اُس كے دیدار اور وصال كی مسلسل تمنا میں رہا جائے، اُس وصال كی تمنا جو ہمیشہ كے لیے ناممكن ہے۔ اس دوہری situation میں دل یا عاشق حالتِ فراق سے بھی وفادار ہے اور آرزوئے وصال میں بھی ثابت قدم ہے۔ اس كے لیے غمِ فراق اور جذبۂ وصال ایك ہو گیا ہے، ایك ہی حال میں ڈھل گیا ہے، ایك ہی passion میں جذب ہو گیا ہے۔ اس كا فراق میں رہنا اور طلبِ وصل میں رہنا، اتنا ہم معنی ہو چكا ہے كہ ایك پہلو سے یوں لگتا ہے كہ یہ عین فراق میں احوالِ وصل سے گزر رہا ہے، اور دوسرے رخ سے یہ دكھائی دیتا ہے كہ آرزوئے وصال میں صداقت كی وجہ سے یہ وصال كو گویا تخلیق كرتا رہتا ہے مگر فراق كے ساتھ وفاداری كی بدولت یہ تخلیقی عمل فراق ہی كے substance سے ہوتا ہے۔ یعنی یہ اپنے اندر فراق كے گارے سے وصال كی عمارت تعمیر كرتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے كہ، یا یوں كہہ لیں كہ یہی وہ درجہ ہے جہاں یہ ادراك ہو جاتا ہے كہ محبوب جتنا فراق میں حاضر ہے اتنا وصال میں نہیں۔ كیونكہ فراق محبوب كی تنزیہ (transcendence) كو بھی موجبِ احوال اور ماجرہ خیز بنا دیتا ہے۔ اب ایسا دل یا تضادات میں احوالی وحدت پیدا كر لینے والا یہ عاشق اپنی ساخت میں ’ناصبور‘ ہے۔ ناصبوری ہی اس كا مستقل اور مكمل عنوان ہے۔ ناصبوری كا اصل مطلب یہ ہے كہ یہ دل نہ حالتِ فراق پر قانع ہے نہ جذبۂ وصال پر۔ یہ دونوں كی تكمیل چاہتا ہے جو خود اس كی نظر میں ناممكن ہے۔ اب ہو یہ رہا ہے كہ ’دلِ ناصبور‘ جذبۂ وصال كی طغیانی كے ساتھ ’ہنگامہ گرم كن‘ ہے اور حالتِ فراق میں محصور ہونے كی وجہ سے نالہ كناں ہے۔ اس ہنگامہ زائی اور نالہ و فغاں كا حاصل ایك ہے: قیامت خیزی، حشر انگیزی۔ یعنی اس كی طلبِ وصال شورِ قیامت كی طرح ہے جس میں زور حالتِ فراق نے پیدا كیا ہے۔ یہ ’دلِ ناصبور‘ جس فراق سے گزر رہا ہے وہ كائناتی فراق ہے، اس لیے اس كا اظہار بھی كائناتی انداز كا ہے۔ جس طرح اس دل نے كائناتی فراق كو اپنے اندر سمو ركھا ہے، اسی طرح اس فراق كے اظہار كو بھی كائنات گیر بنا دیا ہے۔ یہ ’شورِ نشور‘ آفاقی معنویت ركھنے كے باوجود انفسی ہے كیونكہ كائنات كو internalize كیے بغیر یہ دل اُن ناممكنات پر ضرب نہیں لگا سكتا جن كے محال ہونے كا بڑا سبب اس كائنات یعنی آفاق كا نظامِ ہستی ہو۔ یہ دل گویا كائنات كو deconstruct كر كے اور internalize كر كے اس كے حدود و قیود كے ہمہ گیر نفاذ كو توڑنے كے درپے ہے۔ تو اب یوں دیكھیں كہ وجود كی ساری المیہ سكت اور تمنائی استطاعت ایك دوسرے میں جذب ہو كر جو ہنگامہ خیزی كر رہی ہیں اُس كا ظرف یہ ’دلِ ناصبور‘ ہے، كائنات نہیں۔ صورِ قیامت اسرافیل نہیں پھونك رہے، كیونكہ اسرافیل كی پھونك آفاقی ہے اور دل كے اندر قیامت برپا كرنے كے لیے ناكافی ہے۔ اور پھر یہ كوئی ایك صور نہیں ہے جس میں دو تین بار پھونك كر قیامت برپا كر دی جائے، یہاں نالوں كی ایك غیر متناہی قطار ہے اور ہر نالہ خود ایك صور ہے جس میں یہ دل ’شورِ نشور‘ پھونكتا ہے۔ ہر قیامت، پچھلی قیامت سے زیادہ اٹھان ركھتی ہے اور ہر حشر، پچھلے حشر سے زیادہ پُر شور ہے۔ قیامتوں كا یہ نامختتم تسلسل بھلا كائنات كہاں سہار سكتی ہے، اس كے لیے تو ایك ہی قیامت كافی ہے۔ یہاں ایك نقطہ ہے، ’شورِ نشور‘ آواز اور اٹھان كا مركب ہے۔ كائنات میں ’شورِ نشور‘ كائناتی موجودات اور خصوصاً انسان تك محدود ہے، لیكن دل میں بلند ہوتا ہوا یہ شور در اصل حریمِ محبوب تك پہنچنے كے لیے ہے، اسی واسطے ایك نہ ختم ہونے والے تسلسل كے ساتھ ہے۔ یعنی آواز كو پے در پے بلند سے بلند تر كیا جا رہا ہے تا كہ وہاں تك پہنچ جائے۔ تو آپ سمجھے ناں كہ یہ قیامت فی الحقیقت خدا كو یعنی محبوبِ حقیقی كو اپنی طرف اتنا متوجہ كرنے كے لیے بپا ہو رہی ہے كہ ’دلِ ناصبور‘ كی طلبِ وصال مقبول ہو جائے۔ ذرا اس بات كا حسن تو محسوس كیجیے كہ ہر ’شورِ نشور‘ در اصل ایك دعائے وصال ہے جسے مرتبۂ قبول تك پہنچانے كی قیامت خیز كوششیں كی جا رہی ہیں۔ یہ ساری تگ و دو اس لیے ہو رہی ہے كہ عاشق فراق كی توہین اور تحقیر كیے بغیر فراق كی قبرسے نكل كر وصال كی جنت تك پہنچ جائے، فراق كی تنگی سے باہر آ كر وصال كے پھیلاؤ تك رسائی حاصل كر لے۔ ’نشور‘ یا ’نشر‘ كا مطلب ہے زندہ كرنا اور پھیلانا یا زندہ ہو كر پھیل جانا۔ اس رعایت سے دیكھیں تو ’شورِ نشور‘ كا مقصد یہ ہے، بلكہ اللہ كو ’شورِ نشور‘ سنانے كا مقصد یہ ہے كہ عاشق كو فراق كی موت سے نجات مل جائے اور وصال كے لامتناہی عالَم میں جینا میسر آ جائے۔ نشور كا حاصل یہی تو ہے كہ ایك عالَم سے دوسرے عالَم میں منتقل ہو جانا! ’نشور‘ كو اگر ’قیامت‘ كے معنی میں لیں، یعنی كھڑا كرنے یا كھڑنے ہونے كے مفہوم میں لیں تو ایك بہت نادر نقطہ ہاتھ آتا ہے۔ فراق كا سبب اور وصالِ محبوب كے لیے نااہلی كی وجہ پستیِ وجود ہے۔ قیامت وجود كی كوتاہ قامتی كا ازالہ كرتی ہے اور اس میں وہ بلندی پیدا كر دیتی ہے جو وصال كی لا محدود رفعتوں سے ہم آہنگ ہونے كے لیے ضروری ہے۔ یہ دنیا اتنی تنگ جگہ ہے كہ یہاں بس لیٹا ہی جا سكتا ہے، كھڑا نہیں ہوا جا سكتا۔ قیامت لیٹے ہوئے كو كھڑا كر دیتی ہے یعنی اس كا عالمِ وجود بدل دیتی ہے اور اس عالَم میں منتقل كر دیتی ہے جہاں كا قانون فراق نہیں ہے۔ گو كہ اس شعر میں فراق سے وصال كی طرف منتقلی كا عمل پورا نہیں ہوا لیكن اتنا ضرور ہے كہ عاشق آفاق كی گھٹن سے انفس كی وسعتوں میں ضرور داخل ہو گیا ہے جہاں آفاق كے برعكس محبوب كا حضور اس كے غیاب پر ایك پہلو سے غالب ہے۔ یہ غلبۂ حضور ایسا ہے كہ غیاب كو زیادہ حقیقی سطح پر محسوس كرواتا اور خود طلبِ وصال میں بھی شدت، صداقت، مزید معنویت اور كمال پیدا كر دیتا ہے۔ تو مختصر یہ كہ ’شورِ نشور‘ جہانِ فراق كے خاتمے اور عالمِ وصل كی نمود كا وہ پیش آہنگ (prelude) ہے جو خود غیر متناہی ہے۔

اور ہاں، اس شعر كا ’شورِ نشور‘ اقبال كا وہ مشہور ترین مطلع یاد لاتا ہے جس میں وہ كہتے ہیں:

میری نوائے شوق سے شور حریمِ ذات میں
غلغلہ ہائے الاماں بت كدۂ صفات میں

اقبال كا شعر بھی بڑا شعر ہے مگر اس كا مضمون ایك فكر سے پیدا ہوا ہے، جبكہ میر كے اس شعر میں مضمون passion سے برآمد ہوا ہے، اس لیے اس میں جمالیاتی وفور بہت زیادہ ہے۔ ’دلِ ناصبور‘ مركزِ وجود اور منبعِ شعور ہے، اقبال كی ’نوائے شوق‘ بھی اسی مرتبے كی ہے مگر ذہن سے بلند ہوئی ہے اور فراق كی المناكی سے خالی ہے۔

میر بڑے شاعر اس لیے بھی ہیں كہ بڑے صناع اور فنكار ہیں۔ لفظ پر ان كی قدرت اردو روایت میں بے مثل اور فارسی روایت میں بھی كمیاب ہے۔ اس لیے اس شعر كے فنی اور تكنیكی در و بسط كو بھی كھولنے كی كوشش ضرور كرنی چاہیے۔ تو پہلے اس شعر میں الفاظ كی باہمی مناسبتیں اور رعایتیں دیكھ لیتے ہیں۔ ’ہنگامہ‘ شعر كے تقریباً تمام لفظوں كے ساتھ مناسبت بلكہ حرَكی مناسبت ركھتا ہے۔ ’دلِ ناصبور‘، ’پیدا‘، ’نالہ‘، ’شورِ نشور‘، ان سب لفظوں میں ’ہنگامے‘ كی روایت واضح طور پر موجود ہے۔ آئیے دیكھتے ہیں كہ كیسے۔ ’دلِ ناصبور‘ ’ہنگامے‘ كا موجب ہے اور ناصبوری خود ایك اظہار نایافتہ ’ہنگامہ‘ ہی ہے، ’پیدا‘ بمعنی ظاہر، ہنگامے كا اظہار ہے افقی حركت كے ساتھ، ’نالہ‘ اپنی اٹھان كے پہلو سے ’ہنگامہ گرم‘ ہونے كی تصویر كھینچتا ہے اور ’ہنگامے‘ كی عروجی حركت كا استعارہ ہے اور ’شورِ نشور‘ میں ’ہنگامے‘ كی افقی اور عروجی دونوں حركت اپنی ایك طرح كی سیال تكمیل تك پہنچ جاتی ہے۔ باقی الفاظ كا بھی یہی معاملہ ہے۔ مثلاً ’پیدا‘كو دیكھ لیں، یہ بھی ہر لفظ سے براہِ راست نسبت ركھتا ہے۔ لفظوں كا ایسا معنوی اور تكنیكی اتحاد خود اپنی جگہ حیران كن ہے۔ اور پھر كسی لفظ كے معنی كو سكیڑا نہیں گیا بلكہ اس كی معنویت میں كچھ نہ كچھ اضافہ ہی كیا گیا ہے اور ان كے درمیان مناسبتوں كو ان میں موجود اور اضافہ شدہ معانی، دونوں كے ساتھ استعمال میں لایا گیا ہے۔ كمال ہے۔ معنوی اضافے كی مثال بھی ’پیدا ‘كے لفظ ہی سے دكھاتے ہیں۔ ’پیدا‘ سے دو كلمے بنتے ہیں، ’پیدائی‘ بمعنی اظہار اور ’پیدائش‘ بمعنی جنم۔ ’پیدائش‘ كی رعایت سے دیكھیں تو صاف نظر آ جائے گا كہ ہر نالہ حاملہ ہے جس كی كوكھ میں ’شورِ نشور‘ پل رہا ہے اور اسی سے جنم لے رہا ہے۔ سبحان اللہ! ’ہنگامہ گرم كن‘ كی تركیب میں ’كن‘ بمعنی ’كنندہ‘ سے ذہن كلمۂ كن كی طرف بھی متوجہ ہو سكتا ہےجیسے كہ میرا ہوا۔ یہ یقیناً التباس ہی ہے لیكن اس سے شعر كے لطف میں اضافہ ہو جاتا ہے بلكہ اس كی معنویت میں بھی ایك نیا جوہر بڑھ جاتا ہے۔ یعنی دنیا كلمۂ كن سے پیدا ہوئی ہے۔ قیامت میں كلمۂ كن كی گونج پوری طرح سما گئی ہے۔ لیكن خیر یہ ایسے ہی ایك بات تھی، اسے بس كھیل ہی سمجھیے۔

O

 پہنچا جو آپ كو تو میں پہنچا خدا كے تئیں
معلوم اب ہوا كہ بہت میں بھی دور تھا

عربی كا مشہور مقولہ ہے: من عرف نفسه فقد عرف ربه۔ جس نے اپنے نفس كو پہچانا، اس نے اپنے رب كو پہچان لیا۔ اس طرح كے اقوال ہر روایت میں ملتے ہیں، وہ روایت چاہے فلسفیانہ ہو یا مابعدالطبیعی اور دینی۔ اسی طرح روایتی شاعری میں اس قول كو طرح طرح سے استعمال كیا گیا ہے اور اس كے نئے نئے context بنائے گئے ہیں۔ میر نے اس مضمون كو جس context میں صرف كیا ہے وہ بالكل نیا تو نہیں لیكن اس میں ایك تازگی سی ضرور محسوس ہوتی ہے۔ پہلا مصرع تو عربی مقولے كا ترجمہ ہی ہے، یعنی ’پہنچا جو آپ كو تو میں پہنچا خدا كے تئیں‘۔ جب میں نے اپنے نفس كی معرفت حاصل كر لی تو مجھے اپنے رب كی معرفت میسر آ گئی۔ اب اس میں تازگی كا پہلو یہ ہے كہ اپنے آپ تك پہنچ كر پتا چلا كہ میں اب تك بہت ہی دور تھا خود سے بھی اور اپنے رب سے بھی۔ یعنی رب سے دوری كا سبب خود سے دوری تھا اور اسی طرح رب سے دوری كی وجہ اپنے سے دوری تھی۔ یہ اس شعر كا مضمون ہے۔ اب دیكھنے كی بات یہ ہے كہ اس مضمون كو كہا كس طرح گیا ہے۔ ’پہنچا جو آپ كو‘ میں ’پہنچا‘ رسائی كے معنی میں بھی ہے اور سمجھنے كے مفہوم میں بھی ہے۔ یعنی پہنچنے میں passivity بھی ہے اور activity بھی۔ یہ پہنچنا ایك ہی منزل تك ہے۔ اس منزل پر پہنچنے والا اگر كہے كہ میں اپنے تك پہنچا، تو بھی ٹھیك ہے اور اگر بتائے كہ میں خدا تك پہنچ گیا، تو یہ بھی غلط نہیں۔ ’معلوم اب ہوا‘، یعنی پہنچنے كے بعد مجھے یہ معرفت میسر آئی ’كہ بہت میں بھی دور تھا‘۔ یہاں ’بھی‘ كا كوئی قرینہ فہمِ عام كے عادی ذہن سے نہیں سمجھا جا سكتا۔ ذرا سوچیے یہاں ’بھی‘ كیوں آیا ہے؟ اگر اتنا كہہ دیتے تو كافی تھا كہ ’معلوم اب ہوا كہ بہت میں تو دورتھا‘۔ ’تو‘ سے وزن بھی پورا ہو جاتا اور بات بھی جلدی سمجھ میں آ جاتی۔ پھر یہاں ’بھی‘ كیوں لائے ہیں بھائی، یہ میر كی كرامت ہے۔ لوگ بڑے بڑے لفظ لا كر اپنی انفرادیت قائم كرتے ہیں، میر حروفِ جار اور نامكمل لفظوں سے قیامت برپا كر دیتے ہیں۔ ’بھی‘ كی معنویت كو اس طرح سمجھیں كہ ’خدا‘ تو مجھ سے ’دور‘ تھا ہی، ’میں‘ بھی اُس سے ’دور‘ تھا۔ دوسرا بلكہ اس سے زیادہ واضح مطلب یہ ہو گا كہ ’خدا‘ تو مجھ سے ’دور‘ تھا ہی، میں خود سے بھی بہت ’دور‘ تھا۔ یعنی میرے لیے ’خدا‘بھی ’دور‘ تھا اور ’میں‘ بھی ’دور‘ تھا۔

وجود كو اگر ایك بیان سمجھیں تو اس بیان كا مركزی مضمون خدا ہے، اور خدا سے نزدیكی اور دوری اس بیان كے كلمات یعنی موجودات كے معنوی مراتب كا تعین كرتی ہے۔ گویا موجود ایك لفظ ہے جس كا حقیقی معنی خدا ہے اور عارضی مطلب ’میں‘ ہے۔ خدا حقیقت ہے اور ’میں‘ تصور۔ لیكن یہ تصور چونكہ موجودیت كی اصل ہے لہذا ’میں‘ نظامِ ہستی كی حركیات(dynamism) میں اساس كی حیثیت ركھتا ہے اور ایك سانچے كی طرح ہے جس میں موجود ہونے كے احوال، حدود اور صورتوں كی ڈھلائی ہوتی ہے۔ اسی لیے موجود ہونے كا مطلب ہی ’میں‘ ہونا ہے، كہیں شعور كے ساتھ اور كہیں شعور كے بغیر۔ پورا كارخانۂ موجودات ’میں‘ كی processing اور reprocessing پر چل رہا ہے۔ وہ ’میں‘ یعنی universal انا انسان كی نسبت سے اعتباری ہے اور خدا كی نسبت سے حقیقی۔ یہاں اعتباری كا مطلب سمجھ لیجیے، یہ وہم اور مفروضہ نہیں ہے بلكہ علم كی ماہیت ہی اعتبار ہے اور ذہن كا سارا نظام اعتبار پر قائم ہے۔ حقیقت ذہن میں آتے ہی اعتبار بن جاتی ہے۔ تو اعتبار كا مطلب یہ ہے جسے حقیقی كہنا غلط ہو گا اور غیر حقیقی قرار دینا اس سے بھی زیادہ غلط۔ كیونكہ اعتبار حقیقت كی ذہنی صورت كو كہتے ہیں۔ یہ صورت حقیقت كے ساتھ ایجابی(affirmative) تعلق ركھتی ہے، سلبی(negative) نہیں، یعنی اعتبار حقیقت كا valid مظہر ہے اور حقیقت سے دوری یا نزدیكی كا تعین اس بات سے ہوتا ہے كہ ہم اس مظہر سے دور ہیں یا نزدیك۔ تو خیر، یعنی ’میں‘ وجود كی خود شعوری(self-consciousness) كا حاصل ہے اور خود وجود كا پہلا تعین ہے۔ وجود كی universality انا ہی كی universality ہے۔ تو میں نے universal انا اس معنی میں كہا ہے۔ تو مطلب یہ ہوا كہ اصل دوری، اپنے آپ سے دوری ہے لیكن بات یہاں پوری نہیں ہوئی۔ پوری بات یہ ہے كہ اصل دوری اپنے آپ سے دوری ہے اور اصل نزدیكی خدا سے نزدیكی ہے۔ خود كو كھو دینے والا خدا كو نہیں پاتا اور خود كو پا لینے والا خدا كو نہیں كھوتا۔ یہ ہے اس شعر كا خلاصہ بلكہ پورا مطلب۔

اس شعر سے ایك بہت باریك بات بھی اخذ كی جا سكتی ہے۔ وجود كا نظامِ خودی (pattern of selfhood) تقسیم اور فاصلے سے بنا ہے۔ یعنی ’میں‘ كی تعمیر غیریت سے ہوئی ہے، عینیت سے نہیں۔ اس شعر میں خودی یعنی اعتبارِ خودی كو اسی سطح پر بیان كیا گیا ہے۔ ’میں‘ میں ’وہ‘ بھی شامل ہے جو ’آپ‘ تك پہنچا، اور وہ ’آپ‘ بھی شامل ہے جس تك پہنچا گیا۔ یہ بات ذہن میں رہے تو شعر كا لطف بڑھ جائے گا۔

O

آتش بلند دل كی نہ تھی ورنہ اے كلیم
یك شعلہ برقِ خرمنِ صد كوہِ طور تھا

اس شعر كا مطلب تو بعد میں دیكھیں گے، پہلے ایك احتجاجی بات كر لیتے ہیں۔ اردو فارسی كی شعری روایت میں تصوف اور صوفیانہ اصطلاحات كی آڑ میں خدا، جبرائیلؑ اور كچھ انبیا علیہم السلام، خصوصاً حضرت موسیؑ اور حضرت عیسیؑ كی طرح طرح سے اہانت كی جاتی رہی ہے۔ اس كی وجہ سے اس روایت كے اچھے خاصے حصے میں ذوقِ جمال، ذوقِ حق اور ذوقِ خیر سے ناقابلِ عبور فاصلے پر نظر آتا ہے بلكہ حالتِ تصادم میں دكھائی دیتا ہے۔ یہ شعر بھى اُسی فضول روایت كا حصہ ہے۔ اس پر غصہ تو آتا ہی ہے، ہنسی بھی آتی ہے كہ ’عطار كے لونڈے‘ سے دوا لینے والا موسی كلیم اللہ ؑ كو حقائقِ قلب اور كمالاتِ عشق سمجھا رہا ہے!! یہی میر جو عیسی اور موسی علیہما السلام كے منہ آتے ہیں، مثال كے طور پہ حضرت علی ؓ سے ذرہ برابر شوخی اور بے تكلفی نہیں دكھاتے۔ اسی سے اندازہ كیا جا سكتا ہے كہ ہماری روایت میں ایك خاص طرح كا ابتذال خود سے نہیں پیدا ہوا بلكہ ایك باقاعدہ منصوبہ بندی سے پیدا كیا گیا ہے۔

تو بہرحال، نعوذ باللہ پڑھ كر اس شعر كی ضروری شرح یہ ہے كہ موسی ؑ سے یہ كہنے كی جسارت كی جا رہی ہے كہ اے كلیم! تم اگر اپنے سوزِ طلب كو كامل كر كے اظہار میں لے آتے تو آتشِ مطلوب بھی اس كے آگے ٹھنڈی ہو جاتی۔ یعنی عاشق كا سوزِ طلب، مطلوب كے حصول كے ہر پہلو سے زیادہ ہے، مطلوب اپنے آپ كو میرے لیے جتنا فراہم كر سكتا ہے میرا دائرۂ طلب اس سے بھی زیادہ وسیع ہے۔ تو اگر میں اپنی طلب كی آتش كو اظہار دے دوں تو مطلوب كی طرف سے بنائے گئے تمام حدود اور لگائے گئے تمام قیود فنا ہو جائیں گے۔ یعنی میری طلب، مطلوب سے زیادہ ہے۔ طور كے واقعے كا حاصل ہی یہ ہے كہ دل میں ابھی وہ ظرف پیدا نہیں ہوا تھا جو محبوب كو اپنے اندر سمو لیتا۔ اگر دل كی آگ بلند ہوتی تو خود كوہِ طور ایك دانہ بن كے رہ جاتا اور اس جیسے دانوں كے سینكڑوں انبار تیار ہو جاتے جو سب كے سب تجلیِ محبوب سے نہیں بلكہ آتشِ دل كے ایك شعلے سے بھسم ہو جاتے۔ پھر كوہِ طور كو جلا دینے والی تجلی موسی ؑ كو بیہوش نہ كر سكتی۔

بس اتنا ہی بہت ہے، آگے بڑھنے سے ڈر لگ رہا ہے۔

جاری ہے۔۔۔

اس مضمون کی قسط 2 اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: