سرہانے میر كے ۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد جاوید 2

0
  • 27
    Shares

اس مضمون کا پہلا حصہ اس لنک پہ دیکھئے


آئیے اب كلیات میر كی پہلی غزل پڑھتے ہیں۔

 غزل 1

تھا مستعار حسن سے اس كے جو نور تھا
خورشید میں بھی اس ہی كا ذرہ ظہور تھا

كچھ چیزوں پر غور كر لیا جائے تو یہ شعر بڑی حد تك صاف ہو جائے گا۔ ’مستعار‘ ہونے سے كیا مطلب ہے، ’حسن‘ كا كیا مطلب ہے، ’نور‘ كیا ہے، ’ظہور‘ سے كیا مراد ہے، اور’خورشید‘ كا كیا مفہوم ہے۔ یہ ایك بھر ا پرا شعر ہے، اس گھر كی طرح جس كے سبھی لوگ سربراہِ خانہ ہیں۔ شعر كا مضمون روایتی ہے بلكہ رسمی ہے۔ یعنی كائنات میں جو كچھ ظاہر ہے، ظہورِ حق كا حصہ اور نتیجہ ہے۔ كائنات كے اظہار كا پورا نظام در اصل اللہ كے نظامِ ظہور كا دوسرا نام ہے۔ اس نظامِ ظہور میں مظاہر كے وجود كا بھی اثبات ہوتا ہے بلكہ انہیں موجود ہونے كی سند فراہم ہوتی ہے۔ لیكن یہاں چیزیں محض اپنا اظہار نہیں كرتیں، ایك حتمی غلبے كے ساتھ خدا كو بھی ظاہر كرتی ہیں۔ یہاں جو بھی اظہار ہے اس میں مظہر كی حیثیت ایك حوالے كی سی ہے، اس اظہار كی تكمیل ظہورِ حق پر ہی ہوتی ہے۔ تصوف كی اصطلاح میں یہ ظہورِ كونی ہے جس میں مظاہر اپنا اظہار تو كرتے ہیں لیكن یہ اظہار ایك بڑے اور مستقل دائرۂ ظہور كا ایسا حصہ ہوتا ہے جس كا اثبات بھی ضروری ہے اور نفی بھی لازم ہے۔ اس عالمِ ظہور میں مظاہر كا مادۂ اظہار، ظہور حق كے سوا كچھ نہیں ہے۔ یہاں ہر چیز اپنے منتہائے اظہار پر اپنی اصل اور حقیقت كو ظاہر كرتی ہے، وہ حقیقت جو اس كے اندر نہیں ہے، اس سے متصل نہیں ہے۔ شے كا اظہار اس كے اخفا پر تمام نہ ہو تو ایسا اظہار بے اصل اور بے معنی ہے۔ آپ دیكھیں تو سہی كہ شے كا وجود اتنا ہی حقیقی ہے جتنا اپنی معدومیت پر دلالت كرتا ہے۔ تو واضح ہو گیا ناں كہ یہ عالمِ ظہور ہے جس میں مجھے بھی اپنے اظہار كی ایك وقتی اجازت ہے لیكن اس شرط كے ساتھ كہ میرا ہر اظہار، ظہورِ حق میں صرف ہو جائے میری آمیزش كے بغیر۔ ظہور بس مخفی كا ہے، اس اسكیم میں جو objects ظاہر ہیں وہ بھی اس نظامِ ظہور سے كامل انفعالی ہم آہنگی ركھنے كی وجہ سے اپنے وفورِ اظہار میں بھی اپنی نفی كرتے جاتے ہیں اور اظہار كی حركت ان كے لیے گویا وجود سے عدم كا فاصلہ طے كروانے والی حركت ہے۔ كیونكہ اظہار كا زیادہ تعلق ناظر كے شعور اور ادراك سے ہے لہذا ناظر كا نظامِ دید اور مزاجِ ِنگاہ اگر ظہورِ حق كی اساس پر نہ ہو تو چیزیں اپنے اخفا اور اپنی نفی تك نہیں پہنچتیں۔ ہماری روایت میں شعور اگر آنكھ ہے تو اس آنكھ نے دیكھنا ہی ظہور ِحق سے سیكھا ہے، اس پر حق كا انكشاف پہلے ہوا ہے، خلق كا بعد میں۔ یہ آنكھ عادی ہے كہ چیزوں كے اظہار سے خود اُنہیں منہا كر كے اپنے ذوقِ دید كو حالتِ تسكین میں ركھے۔ امام العارفین سیدنا ابو بكر صدیقِ اكبرؓ كا ایك قول تو یہ ہے كہ میں كسی چیز كو نہیں دیكھتا مگر اس كے خالق كو دیكھنے كے بعد۔ اور اسی طرح آپ ؓ نے یہ بھی ارشاد فرمایا كہ ادراك كا اپنے ہی ادراك سے عاجز رہ جانا، اصل ادراك ہے۔ یہ دونوں اقوال ہمارا پورا عرفانی ورلڈ ویو بیان كر دیتے ہیں، اور ان میں شعور و وجود كی اس فعال عینیت كا اظہار ہو جاتا ہے جس كا locale شعور سے بھی ماورا ہے اور وجود سے بھی۔ گو كہ اس شعر كی تشریح میں جنابِ صدیقِ اكبرؓكے ان اقوال كو استعمال كرنا بے ادبی كی بات ہے لیكن كیا كِیا جائے، وجود اور شعور كے مشترك حقائق كی طرف اگر كہیں رسمی اشارہ نظر آتا ہے تو یہ دونوں قول شدت سے یاد آتے ہیں۔ میر عارف شاعر نہیں ہیں مگر ایك تہذیبی سیاق و سباق میں ان كی شاعری میں عارفانہ مضامین كا پایا جانا كوئی تعجب كی بات نہیں ہے۔ میر چونكہ بہت بڑے شاعر ہیں اس لیے كسی بھی مضمون كو قدرتِ كلام اور حسن اظہار كے ساتھ باندھ دیتے ہیں، چاہے انہیں اُس مضمون سے ضروری واقفیت نہ ہو۔ اس شعر میں بھی بس ایك بڑا مضمون ہی باندھا گیا ہے، اس مضمون كی گہرائیاں سیر كرنے كا مظاہرہ نہیں كیا گیا۔

تو خیر، ہم اس شعر كو اچھی طرح سمجھنے كے لیے اس شعر كے بینادی الفاظ پر غور كر رہے تھے۔ ‘ظہور‘ پر كچھ بات ہو گئی، اب ‘نور‘ كو دیكھے لیتے ہیں۔ ’نور‘ كا ایك مطلب ہے، ظاہر ہونا۔ یعنی اظہار۔ دوسرا مطلب ہے حق كا ظہور اپنے ادراك كے ساتھ۔ جمالیات میں حسن كی ایك تعریف یہ كی گئی ہے كہ حسن، اظہار ہے۔ Beauty is all presence ہم اس بات كو یوں كہ سكتے ہیں كہ حسن اظہار ہے اور اس اظہار كا حقیقی منبع جمالِ حق ہے۔ اس كائنات میں جو كچھ بھی ظاہر ہے وہ حق كے ظہور كی وجہ سے ہے، یعنی یہاں ہر شے حسین ہے اس كے جمال كی بدولت، اس كے جمال كی نسبت سے۔ جمالِ حق كی نسبت میسر نہ ہوتو كچھ بھی حسین نہیں ہے۔ تو اب دیكھیں، ظہور اور نور كی جہت سے اس دنیا كا مركز ‘خورشید‘ ہے۔ دنیا سورج سے روشن ہے لیكن دیكھنے والا دیكھ لیتا ہے كہ خود یہ سورج بھی ایك گرد بادِ ظہور كے كسی ذرے كا نام ہے۔ پورا نظامِ عالم گویا ظہور كا ایك بگولا ہے، اور جس كو تم سورج كہہ كر ممنونیت كے ساتھ سراہے چلے جا رہے ہو، یہ بھی اس گھومتے ہوئے بگولے كا محض ایك ذرہ ہے۔ اس مضمون كی تفصیل میں ہم نہیں جاتے كیونكہ بالكل روایتی ہونے كی وجہ سے وہ تفصیل عام ہے اور اسے یہاں بیان كر بھی دیا جائے تو بھی اس شعر كے مرتبے میں كوئی اضافہ نہیں ہو گا۔ ہاں، لفظی محاسن ضرور دیكھنے ہوں گے۔

تھا مستعار حسن سے اس كے جو نور تھا

س مصرعے میں ’جو نور تھا‘ كا ٹكڑا یہ بتاتا ہے كہ دنیا میں نور ایك نہیں ہے یا دنیا ساری نورانی نہیں ہے۔ پہلی تعبیر كے مطابق یہاں حسن اپنے objects كے ساتھ كئی طرح كی نسبتیں ركھتا ہے اور وہ سب نسبتیں جزوی اور عارضی ہیں۔ حسن اپنی اصل میں واحد ہے لیكن اعتبارات مىں كثیر ہے۔ یہ دنیا، یہ عالمِ كثرت كئی طرح كے مظاہرِ جمال كا مجموعہ ہے۔ جو لوگ ان مظاہر كی حقیقت نہیں سمجھتے، وہ حسن اور حسین كی نسبت كو بوجھنے میں غلطی كرتے ہیں۔ انہیں دنیا میں انوار كی كثرت اندھیرے میں جھونك دیتی ہے۔ تو جو شخص بھی سورج كو نور كا سرچشمہ اور انوار كی اصل سمجھتا ہے، وہ گویا اپنے آپ كو اندھیرے كی دلدل میں دھنسا چكا ہے۔ وہ یہ جانتا ہی نہیں كہ اس كی اصل سے منقظع كر دیا جائے تو سورج اندھیرا پھیلائے گا، روشنی نہیں۔ خود سورج كو روشن ماننے كا لیے یہ ضروری ہے كہ پہلے یہ مانا جائے كہ اس سورج كی ساری روشنی ایك ما فوقِ كائنات نظامِ ظہور كے بس ایك جز سے مستعار ہے۔ اور ذرا دیكھو تو سہی كہ خود سورج كا یہ عالم ہے كہ اپنے ساتھ محتاجی كی نسبت ركھنے والی دنیا میں بھی ہر ہر چیز پر چمكنے سے قاصر ہے۔ بلكہ یوں كہہ لیں تو بھی ٹھیك ہو گا كہ دنیا میں جو روشنی بھی ہے وہ سورج ہی كی وجہ سے ہے، لیكن اس كے باوجود سورج كی روشنی دنیا كے بس ایك حصے تك ہی پہنچتی ہے، یعنی اس كی سطح تك محدود ہے، اس كے باطن تك رسائی نہیں ركھتی۔ جو روشنی سب كو روشن نہ كر سكے، وہ بھلا كہاں كی روشنی ہے۔ اس پہلو سے دیكھیں تو ’جو‘ كا حرف بھی بہت بامعنی ہو جاتا ہے۔ اسے جیسا كے مفہوم میں بھى لیا جا سكتا ہے اور جتنا كے مفہوم میں بھی۔ یعنی اس حرف میں ’نور‘ كے كیف و كم دونوں كا احاطہ ہو گیا ہے۔ اور اس بھی بڑی بات یہ ہے كہ میر نے اس انتہائی معمولی حرف میں لفظ و معنی كی دو متضاد اصولی حالتوں كو اكٹھا كر دیا ہے۔ لفظ سے نكلنے والے معنی یا تو تخصیص ((particularizationكے اصول پر ہوتے ہیں یا تعمیم (generalization)كے۔ كلام كی مراد یا تو خاص (particular/individual) ہوتی ہے یا عام  (universal/general)۔ تخصیص ہو گی تو تعمیم نہیں ہو گی اور تعمیم ہو گی تو تخصیص نہیں ہو گی۔ یہ سامنے كا قاعدہ ہے۔ اب دیكھیے كہ میر نے ایك طرح سے یہ قاعدہ توڑ دیا اور وہ بھی ایك ذرہ سے حرف میں۔ اس شعر میں ’جو‘عام بھی ہے اور خاص بھی۔ اسے ذرا پھیلا كر پڑھیں تو تعمیم كی كیفیت پیدا ہو جائے كی اور تیزی سے پڑھ جائیں تو تخصیص كی۔ یہ كمالِ اظہار ہے، یہ منتہائے اظہار ہے۔ یہ گویا تعمیم كی زمین پر تخصیص كے structures كھڑے كرنے كا عمل ہے جو ایك بڑا شاعر ہی كر سكتا تھا۔ تو واضح ہو گیا ناں كہ ’جو‘ كے حرف كو جیسا كے مفہوم میں لیا جائے تو اس سے پتا چل جاتا ہے كہ اس دنیا میں نور ایك نہیں ہے، كئی ہیں۔ اور اس حرف میں پوشیدہ تعمیم كے عنصر كو كام میں لایا جائے اور ’جو‘ كو جتنا كے معنی میں سمجھا جائے تو یہ ظاہر ہو جاتا ہے كہ یہ دنیا ساری كی ساری روشن نہیں ہے۔ آپ كو معلوم ہے كہ ’نور‘ كی نسبتاً معیاری تعریف كیا ہے؟ میں عرض كرتا ہوں، ’نور‘ وہ ہے جو خود بھی ظاہر ہو اور دوسرے كو بھی ظاہر كر دے۔ اب یہاں سے دیكھیے كہ حسن كا بھی یہی حال ہے، خود بھی ظاہر ہے اور اپنی نسبتوں كے فیضان سے دوسروں كو بھی ظاہر كر دیتا ہے۔ اس مرحلے پراتنا خیال ضرور ركھیں كہ حقیقی نور اور حقیقی حسن ظاہر تو ہے مگر اس كا اظہار ادراك كے احاطے سے باہر ہے۔ تو اصل نور حق كا نور ہے۔ اس كا نور، اپنے غیر كو بھی ظاہر كر دینے كی جہت سے جمال ہے۔ یعنی نورِ حق جہاں غیر سے متعلق نہیں ہے وہاں جلال ہے اور جہاں اپنے غیر كو بھی ظاہر كر دیتا ہے وہاں جمال ہے۔ تو یہ كائنات گویا اللہ كے ظہورِ جمال كا ایك phase ہے۔ یہاں سب چیزیں مظاہرِ جمال ہیں بس ایك فرق كے ساتھ ’خورشید‘ اس كا بلا واسطہ مظہر ہے اور باقی دنیا بالواسطہ۔

اسی طرح ’ذرہ ظہور تھا‘ كا بھی تجزیہ كیا جائے تو معلوم ہوتا ہے كہ ’ذرہ‘ ’ذرا‘ كے معنی میں بھی ہے ویسے تو سادہ سی بات ہے كہ خورشید میں بھی اسی كے ایك ذرے كا ظہور تھا یا ذرا سا ظہور تھا۔ لیكن اس سادگی میں بھی خاصی پركاری ہے’ذرہ‘ كو ذرے ہی كے مفہوم میں ركھیں تو اس میں كائنات كی مادی ساخت كی طرف پورا اشارہ ہو جاتا ہے اور زمین كے ساتھ اس كی مناسبت تو واضح ہے ہی۔ اور اگر ’ذرہ‘ كو ’ذرا سا‘ سمجھیں تو یہ مطلب ہو گا كہ یہ غیر محدود اور نامتناہی كائنات حق كے ظہورِ كونی كا ایك مسلسل اندرون بیرونی بڑھوتری كا حال ركھنے والا مظہر ہے، حق كا ظہورِ كونی ہی كائنات كی ہستی كی فعال اصل ہے، تو اس غیرمتناہی كائنات میں ہمارے نظامِ شمسی كے سورج كی جو حیثیت ہو گی، ظہورِ حق بھی اسی حیثیت كے مطابق ہو گا۔ یا یوں كہہ لیں كہ ہمارا سورج حق كی كائناتِ ظہور میں ایك ذرے سے زیادہ مرتبہ اور وقعت نہیں ركھتا۔ ہم تقریباً یقین سے جانتے ہیں كہ میر كے زمانے كا علمِ كائنات ایسا نہیں تھا كہ ہماری اس شرح كا متحمل ہو سكے لیكن اعلی درجے كی قدرتِ كلام اور حسنِ بیان كی یہ دائمی خاصیت ہے كہ علم میں توسیع اور معنی كی ساخت میں تبدیلی كے باوجود كلام كی معنویت ایك relevance كے ساتھ برقرار اور نمو پذیر رہتی ہے۔ یہ كوئی كم خلاقی ہے كہ لفظ كو ایسی جامعیت كے ساتھ استعمال میں لایا جائے كہ ذہن علم اور تجربے كی تبدیلی كے نتیجے میں پیدا ہونے والی بالكل نئی situations میں بھی اس كے لیے جگہ نكالی جا سكے۔ لفظ كا تخلیقی استعمال اسے كسی بھى فضا میں اجنبی اور فرسودہ نہیں ہونے دیتا۔ یہاں بھی یہی ہوا ہے۔ پرانی كونیات كا ایك مسلمہ جدید فزكس كے لیے بھی بے تكلفی كے ساتھ قابلِ قبول ہو گیا۔ اور پھر یہ بھى ہے كہ بڑا شاعر معنی كا آغاز كرتا ہے اختتام نہیں۔ یہاں قاری كی ذہنی اور طبعی اُپج كے لیے میدان كھلا ہے۔

اور ہاں، ایك اہم بات تو رہ گئی۔ ’حسن‘ اور ’نور‘ كا تلازمہ بھی یہ واضح كر دیتا ہے كہ یہ شعر ایك ما بعد الطبیعی سیاق و سباق میں ہے اور ایك باضابطہ عرفانی روایت كے ایك مقبولِ عام تصور كا بیان ہے۔ ’ظہور‘ كا لفظ تو سارے كا سارا ایك الٰہی معنویت ركھتا ہے، اس پر ہم شروع ہی میں گفتگو كر چكے ہیں۔ لیكن ’حسن ‘اور ’نور‘ میں یہ دلالت اور معنویت قدرے پوشیدہ اور كچھ پہلؤوں سے باریك اور دقیق ہے۔ یعنی ’حسن‘ اور ’ظہور‘ میں جو دلالت كا تعلق پایا جاتا ہے وہ قطعی اور براہِ راست ہے جبكہ ’حسن‘ اور ’نور‘ میں یہ دلالت قطعی تو ہے مگر بالواسطہ ہے۔ پہلی نظر میں یہ بات عجیب لگے گی كیونكہ جمالِ الہی سے ’نور‘ كا تعلق ’ظہور‘ كے مقابلے میں زیادہ قریبی ہے۔ ’نور‘ اور ’حسن‘ میں عینیت كا تعلق ہے جو ’حسن‘ اور ’ظہور‘ میں نہیں ہے۔ مطلب، ’نور‘ ’ظہور‘ سے پہلے ہے، اگر پہلے كا لفظ استعمال كیا جا سكے لیكن ابھی ہمیں ’نور‘ اور ’ظہور‘ كے امتیازات پر بات نہیں كرنی، اس وقت تو یہ دیكھنا ہے كہ ’حسن‘ اور ’نور‘ كے تلازمے سے جو تصورِ جمال پیدا ہوتا ہے، وہ كیا ہے؟ ’ظہور‘ اور ’نور‘ كا متحد اصل امتیاز مختصراً یہ ہے كہ ’ظہور‘ پر شعور كا نظام چل رہا ہے اور ’نور‘ پر وجود كا۔ اس سے آگے كی تفصیلات میں نہیں جاتے ورنہ شعر پیچھے رہ جائے گا۔ تو بات یہ كہنی تھی كہ اس شعر میں ’حسن‘ كو ’نور‘ كہا گیا ہے مگر اس میں یہ رعایت ركھی گئی ہے كہ ’نور‘ ہونے كے باوجود ’حسن‘ فقط ’نور‘ نہیں ہے، اس سے كچھ زیادہ بھی ہے۔ دوسری طرف ’خورشید‘ فقط ’نو ر‘ ہے مگر یہ ’نور‘ مستعار ہے اور جزوی۔ یعنی جو ’نور‘ صورت كا قوامِ وجود ہے وہ اُس كا نہیں ہے كیونكہ ’نور‘ ’خورشید‘ میں ہونے كے باوجود اس سے زیادہ ہے۔ ’خورشید‘فنا ہو جائے گا مگر ’نور‘ باقی رہے گا۔ اس پہلو سے ’نور‘ ’خورشید‘ سے زیادہ ہے اور مستعار بھی ہے یعنی اس كے ساتھ ذاتی اور مستقل نسبت نہیں ركھتا، دونوں ایك دوسرے كے لیے لازم و ملزوم كی حیثیت نہیں ركھتے۔ خیر، یہ بات تو بیچ میں آگئی، آپ ذرا اس نقطے پر غور كریں كہ ’حسن‘ ’نور‘ ہے كا مطلب یہ ہوا كہ حسن كو براہِ راست اور اس كی اصل شان كے ساتھ نہیں دیكھا جا سكتا۔ جب’خورشید‘ كو دیكھنا مشكل ہے تو اس كی اصل یعنی’حسن‘ كا نظارہ تو محال ہوا۔ ’حسن‘ آنكھ كو مكمل كر دیتا ہے مگر منظر كو ادھورا اور بالواسطہ ركھتا ہے۔ اس بات كو اگر theorize كر لیا جائے تو اس سے ایك نظریۂ جمال كی، جمالیاتی theory كی تشكیل ممكن ہے۔ یعنی ’حسن‘ اظہار ہے مگر اخفا كے جوہر كے ساتھ۔

’حسن‘، ’نور‘ اور ’ظہور‘ كی واقعاتی تدریج كے اظہار كے ساتھ ساتھ اس شعر كی ردیف ایسی ہے جو اِس تدریج كو زمانی نہیں رہنے دیتی۔ ’تھا‘ كا حرف یہاں ایك غیر زمانی پن ركھتا ہے۔ یہ ماضی سے زیادہ ماضی ہے، حال سے زیادہ حال ہے اور مستقبل سے زیادہ مستقبل ہے۔ یعنی وقت كی معروف تقسیم كو اپنے اندر سمیٹے ہوئے اُس آنِ مطلق كی طرح ہے جس كا تجزیہ نہیں كیا جا سكتا، جس كی تقسیم ممكن نہیں ہے۔ ’خورشید‘ كے حوالے سے جو زمانی تناظر بنتا ہے، اگر اس میں ركھ كر دیكھیں تو یہاں ’تھا‘ ہے كے معنی میں بھی ہے تھا كے مفہوم میں بھی ہے اور ہو گا كا مطلب بھی ركھتا ہے۔ بس ہمیشہ كو سابقہ بنا لیں، یعنی ہمیشہ سے تھا، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ لیكن یہ خیال رہے كہ اس ہمیشگی سے ’خورشید‘ خارج ہے، اس كا تعلق صرف ’نور‘ سے ہے۔

اب خیال آ رہا ہے كہ ’ظہور‘ كا ایك مطلب غلبہ بھی ہے۔ یعنی ’حسن‘ كے ’نور‘ كا ایك ’ذرہ‘ بھی ایسا ہے كہ اس نے ’خورشید‘ كو مغلوب كر ركھا ہے۔ اس پہلو سے دیكھیں تو شعر كی ایك اور خوبی سامنے آ جاتی ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: