عریانی، فحاشی اور متعلقہ معاملات —- ایاز امیر

0
  • 41
    Shares

پاکستانی مرد کی بیچارگی کا اِس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اُس کا سب سے بڑا مسئلہ وجودِ زن ہے۔ معاشرہ ہم نے کچھ اِس قسم کا بنا لیا ہے کہ مرد اور عورتوں کا کھلے عام میل جول تقریباً ناممکن بن چکا ہے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ اِس احتیاط کے باوجود پاکستانی مرد کے اعصاب پہ طرح طرح کی چیزیں سوار رہتی ہیں۔

عورت پردے میں تو چلی گئی لیکن کوئی عورت بازار سے تو گزرے۔ بیشک اُس نے مکمل پردہ کیا ہو۔ سر سے لے کر پاؤں تک ڈھانپی ہوئی ہو۔ حجاب مکمل ہو، صرف آنکھیں دکھائی دے رہی ہوں۔ پھر بھی اس تمام احتیاط کے باوجود سرِ راہ چلتی عورت کو گھور گھور کے دیکھا جاتا ہے۔ ایسی صورتحال شاذ ہی کسی اور ملک یا معاشرے میں دیکھنے کو ملتی ہو۔ ہمارے پڑوس ہندوستان میں خواتین سکوٹر اور موٹر سائیکل چلاتی ہیں، حتیٰ کہ بس اور ٹرک چلاتے بھی اُنہیں دیکھا جاتا ہے۔ دہلی جیسے شہر میں جائیں تو جینز پہنے لڑکیاں اور خواتین ہر جگہ گھوم رہی ہوتی ہیں۔ حجاب کا وہاں کوئی تصور نہیں۔ لیکن کوئی پاکستانی سیاح وہاں جا کے یہ مشاہدہ کر لے کہ فٹ پاتھوں اور سڑکوں پہ عورتوں کو گھور گھور کے ایسے نہیں دیکھا جاتا جیسا کہ ہمارے ہاں کا وتیرہ بن چکا ہے۔

واہگہ بارڈر کے آس پاس ہم پنجابی بیشتر ایک ہی ریشل سٹاک (racial stock) کے ہیں۔ مذہب ہمارے مختلف ہیں لیکن دونوں اطراف کے جاٹ تقریباً ایک ہی ریشل پول (racial pool) سے آئے ہوئے ہیں۔ شکلیں بھی ایک جیسی ہیں، رنگت بھی وہی گندمی قسم کی ہے۔ لیکن بارڈر کراس کرتے ہی یہ واضح فرق نظر آتا ہے کہ سڑکوں پہ عورتیں نظر آئیں گی۔ اُن کا لباس بھی ہماری جیسی عورتوں کا ہے، یعنی شلوار قمیص۔ لیکن اِس موسم میں بانہیں بغیر آستینوں کے ہوں گی جسے انگریزی میں سلیو لیس (sleeveless) کہتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب یہاں بھی ایسا ہی دیکھنے کو ملتا تھا۔ لاہور جیسے شہر کے مال روڈ پہ خواتین آزادانہ گھومتی تھیں اور 1960ء کی دہائی میں بغیر آستین کے قمیصیں پہننا کوئی عجوبہ نہ تھا۔ پردہ بھی اِتنا سخت نہیں ہوا کرتا تھا۔ خواتین برقعہ پہنتیں یا نہ پہنتیں۔ دوپٹہ لیا ہوتا لیکن آج کل والا حجاب‘ جس میں سر اور گردن،دونوں تقریباً باندھے ہوئے ہوتے ہیں‘ یہ رواج تب نہ تھا۔

ظاہری پارسائی ہم پہ بتدریج نازل ہوتی گئی۔ جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں ظاہری پارسائی افسران کی بیگمات کا باقاعدہ فیشن بن گیا۔ اَب تو یہ حال ہے کہ ہماری نوجوان بیٹیاں ائیر فورس میں فائٹر پائلٹ بن جائیں، پولیس میں بھرتی ہوں یا آرمی میں کمیشن لیں، ٹوپی تو یونیفارم کا حصہ ہے، اُس کا پہننا لازمی ہے۔ لیکن خواتین کو ٹوپی کے ساتھ گلے پہ حجاب بھی پہننا پڑتا ہے تاکہ بال کہیں نظر نہ آ جائیں۔

ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہمارا رواج ہے اور ہمارے مذہب کے عین مطابق۔ یہ بات مان لی جائے لیکن پھر بھی پارسائی صرف ظاہری سطح پہ نہیں ہونی چاہیے۔ اگر اتنے پارسا ہیں اور اتنی حفاظتی تدابیر ہم نے اختیار کر لی ہیں تو پھر کیا جواز رہ جاتا ہے کہ عورت سامنے سے گزرے اور ہماری آنکھوں کے ڈیلہے باہر آ جائیں؟ اتنی حفاظت کے بعد تو پاکستانی مرد کو دنیا کا پارسا ترین مرد بن جانا چاہیے۔ لیکن یہاں معاملہ بالکل برعکس ہے۔ تھائی لینڈ میں عورتوں کو کوئی اِس طرح نہیںگھورتا۔ تھائی لینڈ کا نام تو یونہی لے لیا، سوائے مملکتِ خداداد کے تمام ممالک میں ایسی ہی صورتحال ہے۔

ہمارے ہاں پبلک جگہوں پہ اکیلی عورتوں کا جانا تو تقریباً نا ممکن ہے۔ ایک دفعہ میں چند غیر ملکی خواتین جرنلسٹوں کو بری امام کے عرس پہ لے گیا۔ رات کا وقت تھا اور ظاہر ہے آس پاس ہجوم تھا۔ اُن خواتین کا وہ حشر ہوا کہ چند منٹ بعد ہی ہمیں واپس لوٹنا پڑا۔ دوسرے ملکوں میں بھی میلے ہوتے ہیں لیکن ایسی صورتحال وہاں نمودار نہیں ہوتی کیونکہ سڑکوں پہ عورتوں کا چلنا پھرنا کوئی غیر معمولی حرکت نہیں سمجھتی جاتی۔ ہماری پارسائی کے دعوے اور تمام حفاظتی تدابیر ایک طرف، لیکن عورتیں سامنے آئیں تو مرد پھڑپھڑانے لگتے ہیں اور موقع ملتے ہی آپے سے باہر ہو جاتے ہیں۔

ایسے میں خواتین پہ حفاظتی تدابیر ٹھونسنے کی بجائے مرد حضرات احتیاط کے زیادہ حق دار لگتے ہیں۔ عورتوں کو تو پردے میں ڈال دیا‘ لیکن مردوں کی آنکھوں کا کیا علاج ہونا چاہیے؟ انصاف کے تقاضے پورے ہوں تو مردوں کی آنکھوں پہ وہ بلائنڈرز (blinders) لگنے چاہئیں جو تانگے کے گھوڑے کو لگتے ہیں تاکہ گھوڑا صرف سامنے ہی دیکھ سکے۔

پنجاب کے نئے نویلے وزیر کلچر اینڈ انفارمیشن کو ویسے ہی کوسا جا رہا ہے حالانکہ اُنہوں نے میڈم نرگس اور میڈم میگھا کے بارے میںجو کچھ کہا وہ ہمارے بیشتر مردوں کی سوچ کا عکاس ہے۔ اُنہوں نے اپنے الفاظ پہ معافی مانگ لی ہے اور یہ اچھا کیا‘ لیکن جس سوچ کی بنا پہ یہ الفاظ ادا ہوئے وہ تو اپنی جگہ قائم ہے۔ پاکستانی مرد موقع ملنے پہ تماش بینی کا شوق پورا کرتے ہیں لیکن جو تماش بینی کے مناظر پیش کرتی ہیں‘ اُن کو ہمارے معاشرے میں برا سمجھا جاتا ہے۔ یہ جو وزیر موصوف نے کہا کہ میں میڈم نرگس کو حاجن بنا دوں، کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ تمام حج کی سعادت حاصل کرنے والے سب کچھ بھول کے نیک اور پارسا ہو جاتے ہیں؟ حج کی سعادت ایک ذریعہ ہے ایک اور مقام پہ پہنچنے کا‘ لیکن ایسی کوئی بات نہیں کہ جس نے یہ سعادت حاصل کر لی‘ وہ اُس مقام پہ پہنچ گیا۔

یہ بھی کوئی عجوبہ نہیں کہ وزیر صاحب نے حکم صادر کر دیا کہ فلمی اشتہاروں سے عریانی کو نکالا جائے۔ ہمارا اسلام ایسی ہی سطحی چیزوں سے شروع ہوتا ہے اور اِنہی پہ ختم ہو جاتا ہے۔ میں جب 1997ء میں ایم پی اے بنا تو ایک اجلاس میں شریک تھا جس میں پنجاب کے ایک سیکرٹری صاحب نے بڑے سیدھے منہ سے یہ تجویز دی کہ فلمی اشتہارات میں بہت عریانی نظر آ رہی ہے‘ اور ایسے اشتہاروں کو فی الفور ہٹانا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے خوب سر ہلایا اور کہا: بالکل درست تجویز ہے۔ میں نے کہا: جناب جانے دیجیے۔ پاکستان میں دو قسم کی مصوری تو ہوتی ہے، ایک جو ٹرکوں کی سجاوٹ میں دیکھی جاتی ہے اور دوئم وہ فن جس کا مظاہرہ فلمی اشتہاروں میں ملتا ہے۔ ظاہر ہے میری بات سے اتفاق نہ کیا گیا۔

آسان راستے پکڑنا کوئی ہم سے سیکھے۔ وزیر موصوف کلچر منسٹر بن گئے ہیں‘ تو کلچر کا مفہوم سمجھنے کی کوشش کریں۔ دیکھیں کہ فنِ ڈانس اور فنِ موسیقی کی ہمارے گھٹن زِدہ معاشرے میں کیسے ترویج ہو سکتی ہے۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور ہم کن مینڈکوں کے گڑھوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ بجائے اس کے کہ اپنی حالت پہ شرم کریں، چھاتی پھیلائے ہم اپنی تنگ نظری پہ پھولے نہیں سماتے۔

مشکل حالات میں تھیٹر والوں نے تھیٹر اور ڈراموں کو زندہ رکھا ہے۔ یہ لوگ ہماری داد کے مستحق ہیں نہ کہ ہماری اَن پڑھی کا نشانہ بنیں۔ ایسا ضرور ہو گا کہ ہمارے تھیٹر ڈراموں میں ذومعنی باتیں کی جاتی ہوں‘ لیکن پھر اچھے ڈرامے لکھے جائیں، اچھے ڈرامہ نویس پیدا ہوں اور پڑھے لکھے لوگ تھیٹر میں آ کے کام کرنے کو پسند کریں۔ ہمارا حال یہ ہے نہ سائنس میں آگے نہ کسی کلچر نام کی چیز کو ہم پنپنے دیتے ہیں۔ جو آتا ہے نمائشی پارسائی کا محافظ بن جاتا ہے۔ اردو اور انگریزی ہمارے طالب علم صحیح طور پہ پڑھ نہیں سکتے۔ اَب اُنہیں عربی بھی پڑھنا ہو گی۔ یہ کرکے پتہ نہیں کن کن شعبہ جات میں نوبل انعام کے حق دار ٹھہریں گے۔

ہمارا نارمل معاشرہ نہیں ہے۔ اِسے ہم نے ابنارمل بنا دیا ہے۔ اسی لئے پاکستانی مرد سے زیادہ فرسٹریٹڈ (frustrated) جنس پورے کرہّ ارض میں ڈھونڈنے سے نہیں ملے گی۔ اس لئے شاید ضروری ہو کہ نرگس کو حاجن بنایا جائے اور میگھا سے سال میں تین سو روزے رکھوائے جائیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: