پانی پر عدل۔ بر صغیر میں امن قائم کرنے کا واحد طریقہ (قسط ۔ ۱) ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمان علی خان

3
  • 14
    Shares

امن کی آشا اور بیک چینل ڈپلومیسی کے پرچم بلند کرنے والوں سمیت یہ بات برصغیر کے دانشور اور امن سے محبت کا دعویٰ کرنے والے تمام حلقوں کو سمجھ لینا جلد از جلد ضروری ہے کہ برصغیر کا مستقبل اور یہاں ترقی یا تباہی، سب کچھ پاکستان کے دریائوں اور کشمیر کے مستقبل سے وابستہ ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ نیوکلیئر جنگ ہوئی تو ہم پڑوسی کے فقط چند شہر ہی تباہ کر پائیں گے جب کہ وہ ہمیں مکمل طور پر صفحہ ھستی سے مٹا دے گا، میرے تھیسس کے مطابق اگر ایسی نوبت آئی، جو ان دریائوں کے پانی اور کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہونے کی صورت میں آ سکتی ہے، تو ایسی صورت میں پورا برصغیر مساوی طور پر برباد ہو گا۔ میں آئندہ قسطوں میں وہ سیناریو بیان کروں گا جو پاک و ھند کے درمیان ایک بہت خوفناک جنگ کے امکان کے بارے میں ہے اور جس کے نتیجے میں ھندوستان جس مکمل تباہی سے دوچار ہو گا اس کا تصور بھی بر صغیر کی اجتماعی دانش کے لیے محال ہے۔ آپ آئندہ قسطوں کو اگر بصد غور پڑھیں گے تو مجھ سے اتفاق کریں گے کہ اس خطے کی حکومتوں کو، مسائل کو جنگ کی نوبت تک آنے سے پہلے ہی حل کرنے پر مائل کرنا، برصغیر کے دانشوروں کا بنیادی فریضہ کیوں ہے۔

سب سے پہلی بات
مستقبل کی اس ممکنہ جنگ سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ وہی ہے جو میں اپنی سنہ 2014 کی ایک پوسٹ میں لکھ چکا ہوں۔ آج وہ پوسٹ دوبارہ اس لیے یاد آئی کہ انڈین ملٹری کے چیف نے ابھی دو دن پہلے ہی پاکستان کے خلاف کاروائی کرنے کی دھمکی دی تھی اور کچھ ٹی وی چینلز کی رپورٹ کے مطابق اس کے فوراً بعد کل ھندوستان نے اچانک پاکستان کے دریاؤں میں پانی کا بہت بڑا ریلہ چھوڑ دیا۔ اس طرح ایک بار پھرھندوستان نے ہمیں جتلا دیا ہے کہ وہ اس تزویراتی پوزیشن میں آچکا ہے کہ جب چاہے ہمارا پانی مکمل روک کر ہمیں قحط سالی میں مبتلا کر دے اور جب چاہے پاکستان کے دریاؤں میں پانی چھوڑ کر ہمیں سیلاب کی تباہی سے دوچار کر دے۔

ابھی چند ماہ پہلے ہی جنگی بخار میں مبتلا ھندوستان کے کچھ دانشوروں، لیڈروں اور میڈیا کی شخصیات نے یہ مطالبہ بہت بلند آہنگ سے اٹھایا تھا کہ ھندوستان کی حکومت کو سندھ طاس معاہدے کو ’’سکریپ‘‘ کر کے پاکستان کو سبق سکھانے کا آغاز کرنا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے دریاؤں، مثلاً جہلم اور چناب پر ڈیمز تعمیر کر کے، ھندوستان نے خود ہمارے لیے بھی سندھ طاس معاہدے کی موجودگی کی کوئی خاص ضرورت رہنے نہیں دی بلکہ اس کے برعکس، ہم مسلسل اس معاہدے کے حوالے سے عالمی عدالتوں کے فریادی بنے رہنے اور مقدمے ہارنے کے علاوہ اس معاہدے سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا رہے ہیں۔ میں نے سنہ 2014 کی پوسٹ میں اسی بنا پر تجویز پیش کی تھی کہ ہمیں خود ہی اس معاہدے کو سکریپ کرنے کا اعلان کردینا چاہئے۔

باشعور پاکستانی اس پر آواز اٹھانے کا حق رکھتے ہیں۔ کیونکہ سوال یہ ہے کہ اگر ہم کچھ ڈیمز بنالیں اور بگلیہار ڈیم کا مسئلہ بھی ہمارے حق میں حل ہو جائے تو کیا ہماری خشک سالی اور سیلاب سے تباہیوں کی کنجی انڈیا کے ہاتھ سے نکل جائے گی؟ ہرگز نہیں۔ لہٰذہ ضروری ہے کہ عوام کو یہ تاثر دیا جانا بند کیا جائے کہ ہم نے اگر وہ ڈیمز جن کے چندوں کی مہم چلائی جارہی ہے، بنا لئیے تو ہمارے پانی، بجلی کے مسائل حل ہو جائیں گے۔

سندھ طاس معاہدہ انسانی تاریخ کا ایک عجیب و غریب معاہدہ ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر کِن مقاصد کے حصول کے لیے ایک ملک بغیر کسی جنگ کے اپنے تین دریاؤں، راوی، ستلج و بیاس کے پانی پراپنا حق، ہمیشہ ہمیشہ کیلئِے ہار گیا؟ اور ان دریاؤں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے جغرافیے سے خارج کر دیا؟ اس معاہدے کے معذرت خواہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ اگر یہ معاہدہ نہ کیا جاتا تو ھندوستان سے مسلسل تناؤ کی کیفیت رہتی اورھند کی جارحانہ حکمتِ عملی کی وجہ سے دونوں ملکوں میں جنگیں ہوتیں۔ فرمایا جاتا ہے کہ تب پاکستان، ھندوستان کے ساتھ جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ سنۃ 1960 میں اس معاہدے پر دستخط ہوئے اور سنہ 1965 میں پاکستان اور ھندوستان میں پہلی بڑی جنگ ہوئی اور سنہ 1971 میں ہم نے آدھا ملک بھی گنوا دیا۔ یعنی درحقیقت یہ معاہدہ جنگ سے بچنے کے لیے کیا ہی نہیں گیا تھا اور نہ ہی ایسا کوئی معاہدہ کرنے کے لیے جس قسم کی قومی رائے سازی کی ضرورت ہوتی ہے اور بیداری شعور و قومی مباحثے کے لیے جس قدر وقت درکار ہوتا ہے اس واسطے ایسی کسی قومی حکمتِ عملی کا کوئی اہتمام ہی نہیں کیا گیا۔ یہ معاہدہ بظاہر جس ہنگامی سرعت کے ساتھ کیا گیا تھا اس کی پشت پر محض ھندوستان سے جنگ نہ ہو جائے، یہ خوف انتہائی بھونڈی منطق ہے جو ہمارے آج کے دانشور الاپتے رہتے ہیں۔ ارے بھائی کیا تب کی سیاسی قیادت میں اتنی صلاحیت بھی نہیں تھی کہ وہ ھندوستان کو آئندہ پانچ دس سال تک، پانی کی تقسیم پر بات چیت کے مرحلے ہی میں انگیج رکھتی؟ بلکہ کہیں جنگ نہ ہو جائے اس خوف کی آڑ میں؛ خزانے کے مخصوص مشیروں اور ورلڈ بنک میں مخصوص اثر و رسوخ رکھنے والے پاکستانیوں کی پڑھائی ہوئی پٹیوں کے مطابق چند سو ملین ڈالرز لے کر اپنے تین دریاؤں کا پانی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بیچ کھایا گیا۔ جلدی اتنی تھی کہ باقی رہ جانے والے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ جاری رکھنے کی بھی کافی ضمانتیں نہیں لی گئیں۔

راوی اور بیاس و ستلج، جو ہم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بیچ کھا چکے ہیں، ان کے ساتھ جب جہلم اور چناب کا پانی پنجاب میں بہتا تھا تو انہی پانچ دریاؤں کے پنجاب میں بہنے کی وجہ سے پنجاب، تاریخی طور پر ’’پنج آب‘‘ کہلاتا ہے لیکن اب پاکستانی پنجاب، فقط ’’دو آب‘‘ رہ گیا ہے اور جب یہ پانچوں دریا، دریائے سندھ میں شامل ہوتے تھے تو تب ہی سندھ وہ دریا بنتا تھا تاریخ میں جس کے نام سے سندھ کی وادی اور انڈیا کی تہذیب جانے جاتے ہیں۔

کبھی دریائے سندھ کے سمندر میں گرنے کے علاقے کا جائزہ لیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ کروڑوں سال سے بنا ہوا قدرت کا یہ فنامینا کیسے برباد ہوا ہے اور کیسے اس دریا کے پاٹوں میں سمندری پانی کے چڑھ آنے سے فطرت اور زراعت کا نظام تباہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: اے وطن! کتنے آنسو ترے صحراؤں کو گلزار کریں؟ —– نعمان علی خان

 

آج کے نئے پاکستان میں، میں اس بات سے مکمل متفق ہوں کہ کالاباغ ڈیم اور باقی دوسرے ڈیم بننا بے حد ضروری ہیں اور پانی ذخیرہ کرنے کے لیے ہمارے پاس مزید ڈیمز ہونا چاہئیں لیکن اگر صرف ڈیمز ڈیمز کا میڈیا پر شور تو کیا جاتا رہے، لیکن اپنے بیچ کھائے بوئے دریائوں کا نہ صرف ماتم نہ کیا جائے بلکہ اپنے مسائل کا حل فقط نئے ڈیم بنانے کو قرار دیا جائے اور بٹوین دا لائنز، یہ کہا جاتا رہے کہ اپنے بیچ کھائے دریائوں پر مٹی پائو؛ تو باشعور پاکستانی اس پر آواز اٹھانے کا حق رکھتے ہیں۔ کیونکہ سوال یہ ہے کہ اگر ہم کچھ ڈیمز بنالیں اور بگلیہار ڈیم کا مسئلہ بھی ہمارے حق میں حل ہو جائے تو کیا ہماری خشک سالی اور سیلاب سے تباہیوں کی کنجی انڈیا کے ہاتھ سے نکل جائے گی؟ ہرگز نہیں۔ لہٰذہ ضروری ہے کہ عوام کو یہ تاثر دیا جانا بند کیا جائے کہ ہم نے اگر وہ ڈیمز جن کے چندوں کی مہم چلائی جا رہی ہے، بنا لئیے تو ہمارے پانی، بجلی کے مسائل حل ہوجائیں گے، ھندوستان سے جنگ کا خطرہ بھی ٹل جائے گا اور یہ بھی ثابت ہوجائے گا کہ راوی، ستلج و بیاس کا پانی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے فروخت کر دیا جانا درست تھا۔ میں قارئین کو دعوت دوں گا کہ سندھ طاس معاھدہ خود پڑھئیے اوراس میں ڈھونڈئیے کہ ہم نے کیا اہتمام رکھا ہوا ہےکہ انڈیا جہلم اور چناب پر بند نہیں بناسکتا۔ میری نظر میں ہمیں اب صرف یہ کرنا چاہیئے کہ اعلان کر دیں کہ چونکہ سنہ دو ہزار دس سے ھندوستان ہم پر سیلابی پانی چھوڑ کر ہمارے لوگوں کو برباد اور ہماری معیشت کو مفلوج کر کے بار بار بتلا رہا ہے کہ وہ ہمارا پانی ہمارے ہی خلاف جنگی حکمت عملی کے طور پر استعمال کرنے کی پوزیشن میں آگیا ہے اس لیئے، ہم سندھ طاس معاھدے کو سکریپ کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ اب انڈیا کے ساتھ ایک نیا کمپریھینسو واٹر اینڈ پیس معاھدہ ہونا ناگزیر ہے۔ امن صرف پاکستان کی نہیں ھندوستان کی بھی ضرورت ہے۔

اس ملک کے دانشوروں کو اکٹھا کر کے پوچھا جائے کہ ہم جو اپنے دریائوں کا تمام کنٹرول انڈیا کے ہاتھ میں دے کر اپنی ذراعت، ترقی اور عوام کے تحفظ کو گروی رکھ چکے ہیں، دانشور اس صورتحال کا حل کیا تجویز کرتے ہیں؟

واضح ہو کہ چند ڈیمزبنا لینا، اپنے بیچ کھائے ہوئے دریائوں کی بے برکتی کا حل نہیں۔ کچھ لوگ صرف چند ڈیمز بنانے کے نعرے میں دریائوں کو فروخت کردئیے جانے کو چھپانا چاہتے ہیں۔ دوسرے ڈیمز ضرور بننا چاہئیں لیکن ہمارے تمام دریائوں کا پانی ہمیں واپس ملنا ہے، یہ ہمارا قومی عزم ہونا چاہیئے۔

اس تمام صورتحال میں، میری نظر میں، پاکستان اور ھندوستان دونوں کی ترقی اور امن کیلئیے، بہترحل یہ ہے کہ ھندوستان پر واضح کر دیا جائے کہ سنہ ساٹھ میں ہونے والا سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے اندرونی دشمنوں نے کیا تھا۔ اور ہم اسے سکریپ کرتے ہیں۔

پاکستانی دریائوں کا پانی ہمارے دریائوں میں واپس لوٹائے بغیر، برصغیر میں باہمی امن اور ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔

سب سے اہم نکتہ
بر صغیر میں امن کی فضا قائم کرنے کے حوالے دے کر ھندوستان کے ساتھ بین الاقوامی امن ایجنسیوں اور یو این او کے تعاون سے ایک نیا آبی معاہدہ کیا جائے۔ اس معاہدے کی بنیاد یہ ہو کہ ھندوستان ہمارے دریائوں پربنائے اپنے کسی بھی ڈیم میں پانی لبالب نہیں بھرے گا۔ دنیا بھر کے آبی ذخائر کے ماہرین کو اکٹھا کر کے ان کے مشورے سے یہ حساب لگایا جائے کہ ھندوستان نے جو ڈیم ہمارے دریائوں پر بنا لئیے ہیں ان میں کتنی گنجائش سارا سال اس سے رکھوائی جائے کہ جب مون سون اور سیلابی سیزن آئے تو فاضل پانی کا بیشتر حصہ ڈیموں کی اس خالی گنجائش میں جذب ہو جائے۔ نئے معاہدے کے مطابق، بھارت کواپنے ڈیمز میں یہ گنجائش رکھنے پہ مجبور کرنے کا ہمیں یہ فائدہ بھی ہو گا کہ ایک تو ہمارا پڑوسی ہم پر آبی حملہ نہیں کر سکے گا دوسرے ہم ہر سال آنے والے اور بیشتر ھندوستان اورامکاناً افغانستان کی جانب سے ہم پر مسلط کئیے جانے سیلابوں سے محفوظ رہ سکیں گے۔ پانی کی ایک مخصوص سطح اپنی جانب کے ڈیمز میں خالی رکھنے کی بنا پرانڈیا سارا سال فاضل پانی کو ہمارے دریائوں میں ڈمپ کرنے پر مجبوررہے گا۔ اور ہمارے دریائوں میں پانی سارا سال ذراعت اور بجلی کی پیداوار کے لیئے موجود رہے گا۔ انڈیا کو بھی یہ فائدہ ہوگا کہ جو پانی وہ سارا سال ہمارے دریائوں میں ڈالیں گے پہلے اس سے بجلی پیدا کریں گے۔ جو ان کے ڈیموں کا اصل مقصد ہے۔

ھندوستان سے تجارتی تعلقات اور اپنے تجارتی مقاصد کے لیے کچھ بنیاد ذہنیت سیاستدانوں نے امن کی آشا کا جو ڈھکوسلہ شروع کیا تھا اس کی بجائے فوری طور پر مندرجہ بالا خطوط پر ایک نئے آبی معاھدے کیلیئے بات چیت شروع کردی جائے اور انڈیا سے تجارت اور بر صغیر میں امن کی ضمانت کو اس نئے معاہدے سے مشروط کر دیا جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ہمارا پڑوسی ہمیں اسی طرح، ’’آسمانی‘‘، ’’زمینی‘‘ اور انسانی آفات میں مبتلا کرکے کمزور کرتا رہے گا۔ ہمارے پڑوسی کی کھلی سوچ یہ ہے کہ عمران خان صاحب کی نئی حکومت جیسی اگر حکومتیں چلتی رہیں تو پاکستان ترقی کی دوڑ میں ان سے آگے نکل سکتا ہے۔ اور وہ جانتے ہیں کہ اگر ہم نے اپنے جاگیرداری نظام اور پانی اور انرجی کے مسائل سے نجات حاصل کرلی تو پھر وہ شاہراہ ترقی پر ہماری گرد بھی نہ پاسکیں گے۔ اور ہمیں موجودہ مسائل میں مبتلا رکھنا ہی اندرونی اور بیرونی دشمنوں کا مقصد ہے۔ چنانچہ ہمارے وطن دوست دانشوروں کوبرصغیر کے باقی تمام دانشوروں اور سیاستدانوں کو پاک بھارت کشیدگی کی اصل نوعیت اور اس کے تباہ کن مضمرات کا احساس دلانا ہوگا اور انہیں یقین دلانا ہو گا کہ ایک ترقی یافتہ پاکستان خود ھندوستان کی ترقی کیلئیے بھی ضروری ہے اور اس برصغیر کے امن کیلئیے بھی۔

Leave a Reply

3 تبصرے

  1. اارشد محمود on

    آنے والے دنوں میں دنیا میں بالعمعم اور برصغیر میں بالخصوص آبی ضرورت و اہمیت, پاکستانی معاملہ ناعاقبت اندیشی و بھارتی جارحیت کا عمدہ احاطہ کیا ہے نعمان بھائ. آپ بلا شبہ کافی عرصہ سے اس ضمن میں باقائدہ اسکا اظہار کرتے رہتے ہیں. پاکستان ہندوستان ہی کیا دنیا کے بیشتر ممالک کے بیچ پانی پرجنگوں کی پیشن گوئیاں سننے کو ملتی رہتی ہیں. تاہم میری اس ضمن مین گزارش اتنی ہے کہ جارح فرد, قوم یا ملک کو پانی ہی ایک اہسا بہانہ ضروری نہیں جس پر وہ کسی بھی کمزور فرد, قوم یا ملک کو خوف, عدم استحکام یا بقاء کے خطرہ سے دوچار کر سکتا ہے.
    سروائیول کی جنگ میں بہ زعم خود مہذب ترین فرد قوم و ملک کا رویہ کسی جنگل کے قانون کو فالو کرنے والے جنگلی جانور سا تھا, ہت اور شاید تب تک رہے گا جب تک انسان انفرادی اور اجتماعی طور پر یہ نہیں جان اور سیکھ لیتا کہ وہ نہ تو زمین سے انسانی ضرورت کے لیے وسائل کا خاتمہ ہونا ہے اور نہ کسی کی ایک فرد, قوم یا گروہ کی طرف سے وسائل پر تسلط سے کسی دوسرے فرد, قوم یا گروہ کا مکمل ختم کیا جا سکتا یے. نقصان اور کولیٹرل ڈیمج کو جمع کر کے انسانیت کا اجتماعی خصارہ کسی فرد, قو م یا ملک کے فائدہ سے زیادہ رہے گا. اس ضمن مین تمام ذرائع کو بروئے کار لانے کی اشد ضرورت ہے. جس میں ترتیب یوں ہو کہ پہلے پرامن طور پر فریق ثانی کو باور کرایا جائے جسکی ایک کڑی دانشور طبقہ کی طرف سے علاقای سطج پر ایسےمضامین کے ڈریعے شعور اجاگر کرنے کی مہم ہے. سفارتی سطح پر موثر حکمت عملی اور عالمی عدٹلت میں اپنے موقف کا بھرپور اظہار و دفاع ہے. البتہ جنگی حکمت عملی میں دشمن کی ممکنہ چالوں کاوثر دفاعی پلان بھی ناگرزیر ہے. جسکے لئے چھوٹے بڑے آبی ذخائر تعمیر کرنا از حد ضروری ہے.
    جنگ ہماری خواہش نہیں ہونی چاہیے البتہ اس سے فرار اسے روکنے کا موثر ہتھیار کبھی نہ ثابت ہو گا. یہ بھارت سمیت ہر باقتور ملک کو باور کرنا چاہیے کہ دوسرے کی سالمیت کو خطرہ میں ڈال کر اپنی سالمیت کو محفوظ نہیں بنایا جا سکتا.

    • ارشد بھائی آپ کے تبصرے کو ترتیب وار نکات میں تقسیم کیا تو بہت سے خون جلانے والے سوالات نے جنم لیا۔ میں نکات وار وہ سوالات لکھ رہا ہوں۔ کسی وقت اطمینان سے انشااللہ ان پر گفتگو کریں گے۔
      1: “جارح فرد, قوم یا ملک کو پانی ہی ایک اہسا بہانہ ضروری نہیں جس پر وہ کسی بھی کمزور فرد, قوم یا ملک کو خوف, عدم استحکام یا بقاء کے خطرہ سے دوچار کر سکتا ہے”
      سوال: آپ کی نظر میں چونکہ پاکستان کے خلاف صرف پانی ہی کے ذریعئیے جارحیت نہیں کی گئی ہے اس لئیے پانی والی جارحیت کو بھول کر باقی دوسری ممکنہ جارحیتوں سے بچنے کی ترکیبیں سوچی جائیں؟ یعنی سندھ طاس معاہدے کے بلنڈر کو نظرانداز کرکے آگے کی فکر کی جائے؟

      2: “جب تک انسان انفرادی اور اجتماعی طور پر یہ نہیں جان اور سیکھ لیتا کہ نہ تو زمین سے انسانی ضرورت کے لیے وسائل کا خاتمہ ہونا ہے اور نہ کسی کی ایک فرد, قوم یا گروہ کی طرف سے وسائل پر تسلط سے کسی دوسرے فرد, قوم یا گروہ کا مکمل ختم کیا جا سکتا یے”.
      سوال: آپ کی نظر میں چونکہ پاکستان کے دریاؤں کا کنٹرول انڈیا کے ہاتھ میں آجانے کے باوجود نہ تو پاک سر زمین کے وسائل میں میں کوئی کمی آئے گی اور نہ ہماری منفرد قومیت اور گروہی حیثیت کا خاتمہ ہوسکے گا اس لئیے سندھ طاس معاہدے کے بلنڈر کو نظرانداز کرکے آگے کی فکر کی جائے؟

      3: “نقصان اور کولیٹرل ڈیمج کو جمع کر کے انسانیت کا اجتماعی خصارہ کسی فرد, قو م یا ملک کے فائدہ سے زیادہ رہے گا”۔
      سوال: آپ کی نظر میں پاکستان کے دریاؤں کا کنٹرول انڈیا کے ہاتھ میں آجانے اور نتیجتاً پاکستان کو ہونے والے نقصان اور کولیٹرل ڈیمیج کے باوجود چونکہ انسانیت کا اجتماعی خصارہ، ملک کے فایدے سے زیادہ رہے گا اس لئیے سندھ طاس معاہدے کے بلنڈر کو نظرانداز کرکے انسانیت کے خسارے کی فکر کی جائے؟

      4: “اس ضمن مین تمام ذرائع کو بروئے کار لانے کی اشد ضرورت ہے. جس میں ترتیب یوں ہو کہ پہلے پرامن طور پر فریق ثانی کو باور کرایا جائے جسکی ایک کڑی دانشور طبقہ کی طرف سے علاقای سطج پر ایسےمضامین کے ڈریعے شعور اجاگر کرنے کی مہم ہے.
      سوال: یہ مہم کب سے چل رہی ہے اور دانشور طبقے میں اس بابت شعور کب سے پیدا ہوا ہے؟

      5: ” سفارتی سطح پر موثر حکمت عملی اور عالمی عدٹلت میں اپنے موقف کا بھرپور اظہار و دفاع ہے”.
      سوال: یہ سفارتی سطح اور عالمی عدالتوں میں اپنے موقف کا بھرپور اظہار اور دفاع کب اور کیسے کیا گیا ہے اور کیا جائے گا؟

      6: “البتہ جنگی حکمت عملی میں دشمن کی ممکنہ چالوں کاوثر دفاعی پلان بھی ناگرزیر ہے. جسکے لئے چھوٹے بڑے آبی ذخائر تعمیر کرنا از حد ضروری ہے”.
      سوال: “چھوٹے بڑے آبی ذخائر تعمیر کرنا” کیا واقعی آپ اسے “جنگی حکمتِ عملی” کہہ رہے ہیں؟؟

Leave A Reply

%d bloggers like this: