اقبال کا تصورآخرت اورسزا۔۔۔ عماد بزدار

0

اقبال کے خطبات زیرمطالعہ ہیں۔پتہ چلا نثر کے اقبال شاعر اقبال سے مختلف شخصیت کے مالک ہیں۔ میرے لئے ان خطبات میں اب تک کی جو حیرت انگیز بات تھی وہ یہ تھی کہ اقبال کے ہاں جنت جہنم کا تصور ہماری ہاں کی روایتی مذہبی تصور سے متصادم ہے۔اقبال کیا کہتے ہیں اس بارے آیے دیکھتے ہیں۔ ۔ ’’قرآن مجید کی تعلیمات اس باب میں بہرحال یہ ہیں کہ بعث بعد الموت ہر انسان کی بصارت تیز ہو جائے گی(50:21)(149)، وہ اپنی گردن میں خود اپنی تیار کردہ قسمت کا حال آویزاں پائے گا۔(150)جنت اور دوذخ اس کے احوال ہیں مقامات یعنی کسی جگہ کے نام نہیں ہیں (151)  چنانچہ قرآن پاک میں ان کی جو کیفیت بیان کی گئی ہے اس سے مقصود بھی یہی ہے کہ ایک داخلی کیفیت، یعنی انسان کے اندرونی احوال کا نقشہ اس کی انکھوں میں پھر جائے۔جیسا کہ دوزخ کے بارے میں ارشاد ہے “اللہ کی جلائی ہوئی آگ جو دلوں تک پہنچتی ہے”(152)با الفاظ دیگر وہ انسان کے اندر بہ حیثیت انسان اپنی ناکامی کا درد انگیز احساس ہے،جیسے بہشت کا مطلب ہے فنا اور ہلاکت کی قوتوں پر غلبے اور کامرانی کی مسرت۔ . اسلام نے انسان کو ابدی لعنت کا مستحق نہیں ٹھرایا(153)چنانچہ قرآن مجید نے لفظ “خلود”کی تشریح بھی دوسری آیات میں اس طرح کر دی ہے کہ اس سے مراد محض ایک مدت زمانی(23:78)(154) ہے۔یوں بھی انسانی سیرت کا تقاضا ہے کہ جوں جوں زمانہ گزرے اس میں سختی اور پختگی پیدا ہوتی جائے،لہٰذا سیرت اور کردار کی تبدیلی کے لیئے بھی وقت کی ضرورت ہو گی۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو جہنم بھی کوئی ھاویہ(155)نہیں جسے کسی منتقم خدا (156)نے اس لیے تیار کر رکھا ہے کہ گناہگار ہمیشہ اس میں گرفتار ِ عذاب رہیں۔(157) وہ در حقیقت ایک تادیب کا ایک عمل ہے تا کہ جو خودی پتھر کی طرح سخت ہو گئی ہے (158)وہ پھر رحمت خداوندی کی نسیم جاں فزا کا اثر قبول کر سکے۔‘‘ . 

۱۔اقبال صاف صاف الفاظ میں بتا رہے ہیں کہ جنت اور جہنم کوئی مقام نہیں بلکہ کیفیت ہیں۔ گو کہ ہماری رویتی مذہبی سوچ کے لیے یہ بات قبول کرنا بھی آسان نہیں لیکن اس تشریح بارے کم از کم اتنا تو کہا جا سکتا ہے کہ اقبال سزا کو مانتے ہیں چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو۔ ۲۔دوسری بات جو اقبال اپنے خطبات میں کر رہے ہیں اس کے مطابق’ اسلام نے انسان کو ابدی لعنت کا مستحق نہیں ٹھہرایا‘قابل غور بات یہ ہے کہ اقبال لفظ ’انسان‘استعمال کر رہا ہے نہ کہ مسلمان۔یعنی ہر انسان مخصوص ذہنی کیفیت سے گزر کر جہنم سے باہر آتا ہے چاہے وہ مسلمان ہو عیسائی ہو ہندو ہو یہودی ہو۔ یہ ایک بہت بولڈ سٹیٹمنٹ ہے۔ ۔ یہاں ایک اور بات کا ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا کہ اقبال کی یہ سوچ حیرت انگیز طور پر ہمارے ہاں پروپیگیٹ نہ ہو سکی اس کے برعکس اقبال کی شاعری ہر دم قوال و نعت خواں، استاد و شاگؔرد،پیروجواں مجاہدو ملا کی زباں پر ہوتی ہے۔اس کی وجہ یہی ہو سکتی ہے کہ نثر کا اقبال ضرورت سے زیادہ باغی ہے اور شاعری میں اس نے عام آدمی کے جذبات کی ترجمانی کی۔شاید اسی لیے اقبال نے کہا تھا کہ ۔

 مجموعہ اضداد ہے ، اقبال نہيں ہے دل دفتر حکمت ہے ، طبيعت خفقانی ۔ 

خیر دوبارہ موضوع کی طرف آتے ہیں کہ کیا وجہ ایسی بات ہمیں کسی تفسیر ترجمے یا احادیث میں نظر نہیں آتی یا کم از کم مجھے نظر نہیں آئی۔ سورہ ہود کی ایک آیت کے ترجمے سے لگتا ہے شاید عذاب ابدی نہ ہو ۔ ’’تو وہ جو بد بخت ہیں وہ تو دوزخ میں ہیں وہ اس میں گدھے کی طرح رینکیں گے۔وہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین رہیں مگر جتنا تمھارے رب نے چاہا بیشک تمھارا رب جو چاہے کرے۔اور وہ جو خوش نصٰب ہوئے وہ جنت میں ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین رہیں مگر جتنا تمھارے رب نے چاہا یہ بخشش ہے کبھی ختم نہ ہو گی ‘‘ . لیکن سورہ بقرہ کی آیت کا ترجمہ اگر دیکھیں تو باالکل الٹ بات نظر آتی ہے۔ ترجمہ پڑھیں ۔ ہم نے فرمایا کہ تم سب یہاں سے اتر جاؤ جب تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت پہنچے تو (اس کی پیروی کرنا کہ) جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ﴿۳۸﴾ اور جنہوں نے (اس کو) قبول نہ کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، وہ دوزخ میں جانے والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے ﴿۳۹﴾ ۔ یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وجہ جنت جہنم جیسے اہم مسئلے کو اگر میرا جیسا عام آدمی سمجھنے کی کوشش کرے تو معاملہ سمجھتے سمجھتے مزید کنفیوژ ہو جائے۔قرآن کی دو آیتیں ایک دوسرے کی متضاد کیوں نظر آتی ہیں۔علم حساب علم طبیعات کی صداقتوں بارے اگر ایک متفقہ رائے قائم ہو سکتی ہے تو آخر کیا وجہ مذہب کے معاملے میں انتہائی اہم مسئلے بارے ہمیں مختلف رائے سننے کو ملتے ہیں۔ جنت جہنم ایک عام مسئلہ نہیں ایک ایسا مسئلہ جس پر انسان کی لا متناہی زندگی کا دارو مدار ہے اس کے بارے ہمیں متفقہ رائے سننے کو نہیں ملتی۔ اہل علم سے رہنمائی کی درخواست ہے. 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: