سندھ اور پیپلز پارٹی‎ —- عبدالسمیع

0
  • 7
    Shares

اگر آپ خدانخواستہ سندھی ہیں اور آپ کا ملک کے دیگر صوبوں کے لوگوں کے ساتھ انٹرایکشن ہے تو ایک بات جو آئے دن کسی طعنے کی طرح آپکو سننا پڑے گی وہ ہے تمام تر کرپشن اور بیڈ گورننس کے باوجود بھی پیپلز پارٹی کو بار بار منتخب کرنا۔ میں 2011 میں پہلی بار سندھ سے باہر نکلا تھا اور تب سے لیکر آج تک یہی سنتا آرہا ہوں کہ بھئی تم تو سندھی ہو تمہارا کیا تم لوگوں کا تو بھٹو زندہ ہے بس بھٹو کے نام پر ووٹ دے دو گے۔ کچھ جو زیادہ خیر خواہ ہوتے ہیں وہ دوچار قدم آگے بڑھاتے ہوئے سندھیوں کو بطورِ قوم جاہل اور سیاسی شعور سے عاری قرار دے دیتے ہیں کیونکہ سندھی پیپلز پارٹی کو منتخب کرتے ہیں۔

اگر شعور کی بنیاد پیپلز پارٹی کو ووٹ نا دینا ہے تو شائد یہ جان کر آپکو حیرانی ہوگی کہ سندھ کے ان ووٹرز کی تعداد تقریباً دوگنا ہے جنہوں نے پیپلز پارٹی کو منتخب کرنے کے بجائے مسترد کیا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ نتائج کے مطابق 2018 کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے 3854411 ووٹ حاصل کئے۔ جبکہ دوسری طرف گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس نے 1489607 پاکستان تحریک انصاف نے 1450379 متحدہ قومی مومنٹ پاکستان نے 774905 آزاد امیدواروں نے 739717 متحدہ مجلس عمل کے امیدواروں نے 611853 تحریک لبیک پاکستان 415019 پاکستان مسلم لیگ نواز 243755 اور پاک سرزمین پارٹی کے امیدواروں نے 161860 ووٹ حاصل کئے کُل جنکے 5887095 ہوتے ہیں۔ یہ صرف ان پارٹیوں کے حاصل کردہ ووٹ جمع کئے گئے جنکی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے اسکے علاوہ تیس کے قریب پارٹیاں ایسی ہیں جنکے ووٹ ہزاروں سے شروع ہوکر موو آن پاکستان کے 19 ووٹوں تک جاتے ہیں۔ تو گویا ان اعداد و شمار سے ایک بات تو واضح ہوگئی کے اگر سیاسی شعور کی بنیاد پیپلز پارٹی کو ووٹ نا دینا ہے تو پھر تو بحثیتِ مجموعی سندھ کا ووٹر سیاسی طور پر خاصہ باشعور ہے۔

اب آتے ہیں اس پر کہ آخر بار بار پیپلز پارٹی ہی کیوں انتخاب ٹھہرتی ہے۔ اور ہر دفعہ نشستوں کی تعداد پچھلی دفعہ سے زیادہ کیوں ہوتی ہے۔

پہلی وجہ تو یہی ہے کہ زرداری صاحب اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے الیکشن سے قبل تمام اضلاع میں سیاسی خاندانوں اور الیکٹیبلز کے اختلافات کو ختم کرتے ہیں اور انہیں کسی نا کسی طرح پیپلز پارٹی کے جھنڈے تلے جمع کرلیتے ہیں۔ مثلاً اس بار الیکشن سے پہلے ہالا کے مخدوم خاندان کے پیپلز پارٹی کو چھوڑ جانے کے واضح امکانات تھے جی ڈی اے کی قیادت سے ملاقاتیں بھی ہوچکی تھیں لیکن پھر سننے میں آیا کہ زرداری صاحب نے مخدوموں کو سندھ کی متوقع وزارتِ اعلیٰ کا لالچ دے کر رام کرلیا۔

اس طرح باقی اضلاع میں بھی مختلف سیاسی خانوادوں کی صلح صفائی کرائی گئی۔ خیرپور میں وسانوں اور سیدوں میں بھی بڑے دھیان سے ٹکٹوں کی تقسیم کی گئ۔ الغرض یہ کہ بساط پر تمام مُہرے ناپ تول کر رکھے اور آگے پیچھے کئے جاتے رہے۔

دوسری اور شائد اہم وجہ سندھ کی اپوزیشن پارٹیوں کا غیرسنجیدہ اور غیر عوامی رویہ ہے۔ شروع کرتے ہیں فنکشنل لیگ کے سربراہ پیر پگارا کی سربراہی میں قائم کئے گئے کثیر الجماعتی اتحاد جی ڈی اے سے کہ جو کہ مجموعی طور پر حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد کے حساب سے دوسرے نمبر پر رہے۔

جی ڈی اے ایک ایسا بھان متی کا کنبہ ہے کہ جس میں سندھ کے مختلف علاقوں میں موجود پیر اور وڈیرے اپنے اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لئے اکٹھے ہوئے تھے۔ اگر انکے حاصل کردہ ووٹوں کو آپ دیکھیں تو شائد یہ اتنے ہی ہوں جتنا کو ان کے مریدین کا تناسب ہے۔ ان سیاسی پیروں اور وڈیروں کا طرزِ عمل ایسا ہے کہ جس کی وجہ سے انکے مریدین اور مزارعین تو انہیں ووٹ دے سکتے ہیں لیکن وہ کبھی بھی ایک عام ووٹر کے لئے پیپلز پارٹی کا متبادل نہیں ہوسکتے۔
یہ موسمی پرندوں کی طرح الیکشن سے چند مہینے قبل منظرِ عام پر آتے ہیں اوطاقیں آباد ہوتی ہیں اور ڈرائنگ روموں میں بیٹھ کر سندھ کی سیاسی بساط پلٹنے کی تدبیریں کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں حلقہ جاتی سیاست میں امیدوار کا حلقے میں رہنا، لوگوں کے ساتھ تعلق اور انکے تھانے کچہری کے کام کرکے انکو اپنے زیرِ اثر رکھنا بہت ضروری ہے۔ یہ کام پیپلز پارٹی اپنی تنظیمی سٹرکچر کی وجہ سے باآسانی سرانجام دیتے آئی ہے اور اب تو انہیں گزشتہ ایک دہائی سے انتظامی سپورٹ بھی حاصل ہے۔

الغرض یہ کہ پیپلز پارٹی کے لوگ عام لوگوں میں موجود ہوتے ہیں جس طرح کے لوگوں کے کام ہوتے ہیں وہ اپنے انتظامی اور سیاسی اثرو رسوخ سے کرواتے رہتے ہیں۔ اس کے برعکس ان سیاسی پیروں کا رویہ عام ووٹر کے ساتھ بھی وہی ہوتا ہے جو کہ انکا عموماً اپنے مریدین کے ساتھ ہوتا ہے۔ جہاں ہونا تو یہ چاہئیے کہ یہ الیکشن کے بعد بھی حلقے میں موجود ہوں اور اہنےووٹر کے کام آئیں وہاں یہ کراچی اور بیرونِ ملک رہنے کو ترجیع دیتے ہیں۔ انکا ووٹر انہیں اوطاقوں پر تلاش کررہا ہوتا ہے اور یہ کہیں اور ہوتے ہیں۔ اس رویے کی وجہ سے انکے پاس اب ووٹر کی شکل میں صرف اپنے اپنے مریدین ہی بچے ہیں۔ حالیہ انتخابات میں بھی بہت سارا ووٹر انکے اسی رویے کی وجہ سے پیپلز پارٹی کی طرف چلا گیا۔ ایک عام ووٹر یہی سوچتا ہے کہ جب صاحب نے یہاں موجود ہی نہیں ہونا اور نا ہی ملنا ہے تو پھر کیوں نا ووٹ ہی انہیں دے دیا جائے کہ جو یہاں موجود بھی ہیں اور اگر ضرورت پڑے تو کام بھی آسکتے ہیں۔

اب آتے ہیں تیسرے نمبر پر زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی پاکستان تحریکِ انصاف کی طرف۔ گوکہ پی ٹی آئی نے سندھ میں 1450379 ووٹ حاصل کئے اور سندھ اسمبلی میں نشستوں کے حساب سے دوسری بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی لیکن ان میں زیادہ تر نشستیں وہ ہیں جو کراچی سے پی ٹی آئی کے ہاتھ آئی ہیں۔ تحریک انصاف بھی دیہی سندھ کے ووٹر کو جو کہ پیپلز پارٹی کی اصل قوت ہے اپنی طرف کھینچنے میں ناکام رہی۔ اسکی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن اسکی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ تحریکِ انصاف سندھ کی قیادت نے دیہی سندھ کو وہ توجہ نہیں دی جس کی ضرورت تھی۔ حلیم عادل شیخ ہی کبھی کبھار نظر آتے رہے دیگر لوگوں نے کراچی تک ہی اکتفاء کیا اور اس بات کا شکوہ سندھ قیادت سے شاہ محمود قریشی بھی کرتے نظر آئے۔

تیسرے نمبر پر آتی ہے متحدہ قومی مومنٹ نا ہی انہوں نے کبھی دیہی سندھ کے ووٹر کو اپنا سمجھا اور نا ہی انکی لسانی شناخت کی وجہ سے دیہی سندھ کے ووٹر نے کبھی انہیں بطورِ پیپلز پارٹی کے متبادل سمجھا۔

اس ساری صورتحال میں ووٹر کے پاس جو ایک واحد آپشن بچتا ہے وہ پاکستان پیپلز پارٹی ہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ تو پھر سندھ سے پیپلز پارٹی کے اقتدار کا خاتمہ کیسے ہوسکتا ہے؟ میرے پاس تو اسکا واحد جواب یہی ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں اپنے تنظیمی انفراسٹکچر کو بہتر بنائیں۔ انکے امیدواران حلقہ جاتی سیاست میں مستقل اپنا کردار ادا کریں تاکہ وہ ووٹر کے لیے ایک حقیقی متبادل کے طور پر سامنے آئیں۔ اس طرح شائد پیپلز پارٹی کے اقتدار کا سورج غروب ہوپائے ورنہ بھٹو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: